عاطف توقیر

کئی برس تک جاری رہنے والی پہلی عالمی جنگ کے اثرات سے جرمن قوم بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ سال ہا سال گزر جانے کے باوجود یہاں شدید غربت اور پس ماندگی تھی اور اتحادی طاقتوں کی جانب سے جرمنی پر عائد کردہ جرمانوں کی وجہ سے ایک ایک شخص متاثر ہو رہا تھا۔ معاشرے میں پائے جانے والے اسی اضطراب کا فائدہ انتہائی قوم پرست نازی پارٹی اور اس کے سربراہ ہٹلر نے اٹھایا اور وہ بلآخر سن 1933 میں انتخاب جیت کر جرمنی کا چانسلر منتخب ہو گیا۔ اور اس کے بعد جرمنی نے دنیا کے بھیانک ترین مظالم اپنی سرزمین پر شروع کر دیے، جس میں سب سے بڑھ کر نسل پرستی کی بنیاد پر انسانوں کے درمیان تفریق تھی۔

چانسلر منتخب ہونے کے بعد ہٹلر نے اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو خاموش کروا دیا یا مروا دیا اور ایک ایک کر کے جرمنی کی تمام سیاسی جماعتیں ختم ہو گئیں، وہاں اگر کوئی پارٹی بچی، تو وہ تھی ہٹلر کی نازی پارٹی۔ ہٹلر اور اس کی جماعت پر تنقید کرنے والے جو بچ گئے، وہ اپنی جان بچا کر دیگر ملکوں کی جانب فرار ہو گئے۔

نصابی کتب سے لے کر ملکی میڈیا تک تمام تر ریاستی اداروں اور مشنری کا کام صرف اور صرف نسل پرستی پر مبنی پروپیگنڈا مواد نشر کر کے یہ ثابت کرنا بنا دیا گیا کہ جرمن کتنی عظیم قوم ہیں اور دنیا کے دیگر ممالک اور اقوام کتنی گھٹیا ہیں۔ اس تمام عرصے میں عام جرمن شہریوں کا ایک طرح سے دنیا بھر سے تمام تر رابطہ منقطع ہو گیا اور ان تک پہنچنے والی ہر ایک بات نازی پروپیگنڈا نظام سے ہو کر پہنچتی رہی۔
جرمنی میں خصوصاﹰ یہودی برادری کو نشانہ بنایا گیا اور لاکھوں انسانوں کو ان کے نظریات اور نسل کے فرق کی بنیاد پر ریاستی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بھیانک تشدد، صعوبتوں، عقوبتوں اور قتل گاہوں کا شکار کیا گیا۔

پھر جرمنی نے جنگ چھیڑ دی اور جس جس جانب بھی اس کی فوجوں نے رخ کیا، وہاں وہاں کیمیائی ہتھیاروں، حیاتیاتی ہتھیاروں اور تباہ کن مواد کا استعمال کرتے ہوئے مشرق، مغرب شمال اور جنوب ہر طرف آگ ہی آگ برپا کر دی۔ جرمن فوجیں شمالی افریقہ سے سائیبریا تک کے خطوں تک پہنچ گئیں اور وہاں انسانوں کو اس برتاؤ کا سامنا کرنا پڑا، جس کی نظیر انسانی تاریخ میں کم کم ملتی ہے۔ لوگوں کو جلا کر راکھ کرنا، انہیں کسی مقام پر بند کر دینا اور بھوک سے مرتے دیکھنا، مردہ جسموں کی توہین کرنا اور ہر وہ شرم ناک کام کرنا، جس کا خیال بھی کسی انسان کو اندر تک تکلیف اور اذیت سے دوچار کر دے، اس ملک کی فوج نے نسل پرستی کے جنون میں انجام دیا۔

مگر پھر ایک طرف سے سوویت یونین کی ریڈ آرمی اور دوسری جانب سے اتحادی فورسز نے مل کر اس عفریت کی راہ روکی اور پھر یہاں اس بھیانک انداز کی بمباری کی گئی کہ آج تک جرمن سرزمین سے پرانے بم ملتے نظر آتے ہیں۔ کئی جرمن شہر مکمل طور پر راکھ کا ڈھیر بن گئے۔ لاکھوں افراد لقمہء اجل بنے اور یہ ملک مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ ہٹلر خود تو اپنے خفیہ تہہ خانے میں خودکشی کر کے مر گیا، مگر اس کے ملک کے ٹکڑے ہو چکے تھے۔ اس تمام عرصے میں جرمن قوم کو یہی بتایا جاتا رہا کہ جرمنی جنگ جیت رہا ہے اور پروپیگنڈا کی حالت یہ تھی کہ آخر دم تک عوام کو کہا جاتا رہا کہ جرمنی کا پلڑا بھاری ہے، یہاں تک کہ اتحادی فورسز اپنے ٹینکوں اور فوجیوں کے ساتھ جرمن سڑکوں پر دکھائی دینے لگیں۔ جرمن باشندے اس بات پر بھی سکھ کا سانس لیتے دکھائی دیتے ہیں کہ شکر ہے یہ جنگ ختم ہو گئی، ورنہ ایٹم بم جاپان کے ساتھ ساتھ جرمنی پر بھی گرتا۔

کئی برس جاری والی یہ لڑائی پہلی عالمی جنگ سے بھی بے انتہا بھیانک تھی۔ قریب ہر جرمن گھر اس جنگ سے متاثر ہوا تھا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جرمن قوم اب کسی جنگ کا سوچ کر بھی خوف کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس جنگ کے بعد جرمنی نے نیا دستور بنایا۔ انسانوں کو نسل کی بنیاد پر ریاستی سرپرستی میں قتل عام اور نسل کشی کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا، انسانیت سے معافی مانگی، متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہی کیا اور ان کی اعانت کا اعلان کیا اور اپنے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے آئندہ ایسی تباہ کن غلطی نہ دوہرانے کا عزم کیا اور طے کر لیا گیا کہ اب میڈیا پر کسی بھی طرح سرکار کا اثرورسوخ نہیں ہو گا اور اسے پروپیگنڈا کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ جرمنی کے دستور کی بنیاد آزادی اظہار رائے پر استوار کی گئی ہے، تاکہ تمام تر نکتہ ہائے نظر معاشرے میں موجود رہیں۔

جنگ کا خوف اور دکھ ہی ہے کہ دنیا کی اس اتنی بڑی اقتصادی قوت کی مجموعی فوج ایک لاکھ سے بھی کم ہے۔
نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود عراق جنگ کے لیے امریکا سلامتی کونسل میں قرارداد منظور نہ کروا سکا اور اس نے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر عراق پر چڑھائی کا اعلان کیا، تو جرمنی یہ کہہ کر اس جنگ سے الگ رہا کہ نیٹو دفاعی اتحاد ہے اور برلن حکومت کسی جارحانہ جنگ میں امریکا کا ساتھ نہیں دے گی۔ اس جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے والا صرف برطانیہ تھا، جس پر اب خود برطانوی حکومت اور اس وقت کے وزیراعظم ٹونی بلیئر تک پشیمان دکھائی دیتے ہیں۔

افغان جنگ میں بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی وجہ سے جرمن فوج کو شامل ہونا پڑا، مگر وہاں بھی اس کا مشن حربی نہیں بلکہ دفاعی اور معاونانہ تھا۔ شامی تنازعے میں بھی جرمنی براہ راست شامل نہیں اور داعش کے خلاف بننے والے بین الاقوامی اتحاد میں بھی وہ فقط جہازوں کی ری فیولنگ (ایندھن بھرنے) اور دیگر طرز کی مدد تو فراہم کر رہا ہے، مگر اس کی فوج اس جنگ کا حصہ نہیں۔

جرمنی جیسا انتہائی ترقی یافتہ ملک جس کے ہاں کئی جوہری بجلی گھر ہیں، ٹیکنالوجی، سائنس دان اور انجنئیرز بھی موجود ہیں، مواد اور پرزے بھی ہیں، لیکن ایٹم بم بنانے کا کوئی تصور نہیں۔ بلکہ یہاں جوہری بجلی کے خلاف بھی عوامی تحریک اس حد تک مضبوط چلی کہ جرمن حکومت کو یہ پلانٹ تک بند کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔ جوہری ہتھیاروں کا تو خیر تصور ہی دور کی بات ہے، یہاں موجود تمام جوہری بجلی گھر بھی اگلے چند برسوں میں مکمل طور پر بند کر دیے جائیں گے اور توانائی کے متبادل اور ماحول دوست ذرائع کو بروئے کار لا کر توانائی کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔

اس ملک میں آپ کو کسی حکومتی یا ریاستی عمارت پر جرمنی کا پرچم دکھائی دے تو دے، نہ کسی رہنما کے سینے پر کسی بیج کی صورت میں ملکی پرچم نظر آئے گا، نہ کسی گاڑی پر۔ جرمنی کا پرچم عام افراد کے ہاتھوں میں نظر آئیں، تو سمجھ لیجیے کہ فٹ بال کا کوئی میچ یا عالمی کپ چل رہا ہے۔ اور مزے کی بات کہ عالمی مقابلوں کے خاتمے کے چند روز بعد بھی کچھ گاڑیوں پر پرچم لگے رہے، تو یہاں ایک تمام ٹی وی چینلز پر یہ بحث ہونے لگی کہ کہیں ہم ایک بار پھر قوم پسندی کی جانب تو نہیں بڑھ رہے؟

طویل جنگیں لڑنے والی قومیں اس تباہ کن اور تخریبی سرگرمی کے نقصانات جانتی ہیں۔

اسے ہماری خوش قسمتی کہیے یا بدقسمتی کہ ہم نے کبھی طویل جنگ نہیں لڑی اور نہ حقیقی معنوں میں اس کی تباہ کاریوں سے ہم واقف ہیں۔ 65 کی لڑائی میں 15 دن بعد پاکستان اور بھارت کی حالت یہ تھی کہ ان دونوں کے پاس نہ جہازوں کا ایندھن بچا تھا اور نہ ہی ایک دوسرے پر گرانے کے لیے بم دستیاب تھے۔ ہماری تاریخ کی تمام جنگیں سرحدوں پر لتی گئیں اور ہندوستان یا پاکستان کا کوئی شہر تاراج نہیں ہوا نہ بہت بڑی تعداد میں عام شہری کسی جنگ کا لقمہ بنے۔

پلوامہ میں دہشت گردانہ حملے میں چالیس سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد ایک بار پھر پاکستان اور بھارت پر جنگ کے سائے منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ بھارتی حکم ران آئندہ انتخابات میں اپنی شکست اور اس واقعے کے اثرات سے بچنے کی کوشش میں سخت انداز کی جملے بازی میں مصروف ہیں، ٹی وی چینلز زہر اگل رہے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ بھارتی عوام بھی اسے جذباتیت کا شکار ہو کر جنگ اور انتقام کے نعرے لگا رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی میڈیا اس واقعے میں جیش محمد کے ذمہ داری قبول کرنے، اس تنظیم کی پاکستان میں موجودگی، اس کی تاریخ اور ریاستی اداروں کی پشت پناہی جیسے معاملات پر دھول ڈال کر اس واقعے کو بھارت ہی کا شاخسانہ قرار دے رہا ہے۔ پاکستان کے سابقہ ریٹائرڈ جرنیل ٹی وی پر بیٹھ کر بھارت کو چیلنج دے رہے ہیں کہ جنگ ہو گی تو اسے کس طرح مزہ چکھایا جائے گا اور عام افراد بھی جذباتی نعرے لگا کر “نئی دہلی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے” کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔

اس درمیان ایک اہم معاملہ جو پاکستان اور بھارت کے حکم رانوں اور عوام کو سمجھنا چاہیے، فقط ہٹ دھرمی کی نظر ہو رہا ہے، وہ ہے کشمیر۔ لاکھوں فوجی بھارت اور پاکستان کے زیرانتظام منقسم اور متنازعہ خطے کشمیر میں موجود ہیں اور انسانی حقوق کی پامالیاں کہیں ٹھہرنے کا نام نہیں لے رہیں۔ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں پیلٹ گنز عام شہریوں کا نابینا اور مستقل معذور بنا رہی ہیں اور طاقت کے زور پر علاقے پر قبضے کی ضد ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ ادھر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشمیریوں کی رائے جاننے پر اصرار کی بجائے “کشمیر بنے کا پاکستان” کی ضد عوام میں نعروں کی صورتُ میں ڈالی جا چکی ہے۔ پلوامہ حملے کے بعد جس انداز کی جنگی صورت حال پیدا ہوئی ہے، گو کہ وہ نئی نہیں، مگر اس بار اس کے خطرناک نتائج اس لیے نکل سکتے ہیں، کیوں کہ عوام میں جنگی جنون اس حد تک انڈیلیا جا چکا ہے کہ اب اگر نریند مودی کچھ نہیں کرتے تو ان کے سیاسی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف بھی بالادست طبقے اور اشرافیہ کو فائدہ جنگی حالت قائم رہنے اعر جنگ کے بادلوں کی وجہ سے موجود عدم استحکام ہی میں ہے۔ ایسی صورت میں کوئی معمولی غلطی ایک بھیانک جنگ جنم لے سکتی ہے اور اس وقت جنوبی ایشیا میں بااعتماد اور مدبر قیادت کا بھی فقدان ہے، جو سیاسی مفادات کی بجائے اگلی نسلوں کے مستقبل کی فکر کرے اور وہ راستہ اپنائے جو دائمی امن کا ہو۔

اب یہ دونوں ممالک جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں اور خدا نہ کرے اب اگر ایسا کوئی معرکہ پیش آیا، تو اس کا نتیجہ کروڑوں انسانوں کی ہلاکتوں اور اس پورے خطے کی مکمل تباہی کی صورت میں نظر آئے گا۔اس معرکے کے بعد شاید دونوں ممالک ہمیشہ کے لیے جنگ سے توبہ کر لیں، مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ جنگ لڑی گئی تو کچھ باقی نہیں بچے گا اور جنگ نہ لڑی گئی تو یہ روز روز کے ڈرامے اور جذباتی بیانات ایک مستقل عدم استحکام کا مؤجب بنتے رہیں گے۔ یہ خطہ دونوں صورتوں میں استحصال ہی جنم دیتا رہے گا۔ علاج اس کے علاوہ تاہم کوئی نہیں کہ سنجیدہ انداز سے مسائل حل کیے جائیں اور جنگ کی بجائے امن زندہ باد کے نعرے اور ان کے فوائد عوام کو بتائے جائیں۔