عاطف توقیر

ہمارے ہاں یادداشت یا تو بے حد مختصر دورانیے کی ہوتی ہے اور یا پھر ہمارے ہاں باقاعدہ تربیت یافتہ افراد سوشل میڈیا پر بٹھائے جاتے ہیں، جن کا واحد کام یہ ہوتا ہے کہ وہ جہاں کوئی سنجیدہ گفت گو ہوتے دیکھیں، تو جعلی آئی ڈیز کے ذریعے وہاں فضول جملے کس دیں، تاکہ لوگ اس تحریر یا گفت گو کے موضوع پر بات کرنے اور کچھ سیکھنے سکھانے کی بجائے، اس جملے کے ذریعے کہیں اور نکل جائیں۔

پچھلے کئی برسوں سے مجھے ایک جملہ سننے کو ملتا رہا کہ آپ پاکستان سے فرار ہو کر آئے ہیں۔ بہت سوں کو بتایا بھی کہ میاں مجھے پاکستان چھوڑے کوئی بارہ برس ہو چکے ہیں اور میں جن حالات میں پاکستان سے جرمنی پہنچا تھا وہ گھریلو نوعیت کے تھے اس لیے فرار ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر فرار ہونے کی ضرورت ہوتی، تو میں جرمنی سے قبل آسٹریلیا اور انگلینڈ میں بھی رہ چکا تھا، وہاں کیوں نہ اٹک گیا؟

پھر کہیں کہیں یہ جملہ سننے کو ملتا تھا کہ آپ دور بیٹھ کر بات کرتے ہیں، پاکستان آ کر دکھائیں نا۔ گو کہ میں جرمنی منتقل ہونے کے بعد تواتر سے پاکستان آتا رہا ہوں، مگر پچھلے تین برسوں سے میں پاکستان نہیں آ پایا۔ اس کی بنیادی وجہ بہت سے دوستوں اور احباب کے میری سلامتی کے حوالے سے شکوک و شبہات تھے۔ میں نے جب بھی پاکستان جانے کا سوچا، ان احباب کا مشورہ ہوتا تھا کہ میں خواہ مہ خواہ کا خطرہ مول نہ لوں۔ میری نظم ’مشورہ‘ ایسے ہی دوستوں کے نام لکھی گئی ایک نظم تھی۔ ’’مشورہ ہے مجھے میرے احباب کا۔‘‘

گو کہ اس بار بھی پاکستان جانے کا سوچا تو ایسے ہی بہت سے پیغامات مجھے اپنے ان دوستوں سے سننے کو ملتے رہے، مگر ظاہر ہے جب کہیں ڈر پیدا ہو جائے، تو اسے ایک نہ ایک بار توڑنا ضروری ہوتا ہے۔ اس بار میں نے اپنے ان دوستوں کو کوئی جواب نہ دیا اور نکل پڑا۔

کچھ دوستوں کا یہ مشورہ بھی تھا کہ خاموشی سے پاکستان جاؤں اور پھر خاموشی سے واپس نکل آؤں۔ مگر اس میں مسئلہ یہ تھا کہ ڈر اپنی جگہ قائم رہتا بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ میں نے ڈر کو قبول کر لیا ہے۔ اس لیے یہاں سے جانے سے قبل تمام دوستوں کے منع کرنے کے باوجود میں نے فیس بک پر اپنی تصویر کے ذریعے ’کبھی پاکستان آئیے نا‘‘ والے دوستوں کو بھی مطلع کرنا ضروری سمجھا، تاکہ وہ آئندہ کم از کم یہ جملہ بول کر کسی سنجیدہ گفت گو کی راہ نہ موڑیں۔

اس ہمت کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ نےکوئی جرم نہ کیا ہو اور آپ کا دل مکمل طور پر صاف ہو، تو حوصلہ خود بہ خود بڑھ جاتا ہے۔ میں یہاں سے نکل رہا تھا، تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ مجھے پاکستان جاتے ہوئے سلامتی کے حوالے سے کچھ چیزیں بھی ذہن نشین کرنا پڑیں۔ جرم تب ہوتا ہے جب آپ دھرتی کا کوئی قانون توڑتے ہیں جب کہ میں نے تو پوری زندگی بات ہی دھرتی کے قانون کو بالا رکھنے کی کی ہے۔ دوسرا خوف آپ کو تب ہو سکتا ہے جب آپ نے ملک کو کوئی نقصان پہنچایا ہو، جب کہ میں نے تو پوری زندگی بات ہی پاکستان میں بسنے والے تمام افراد کو عزت، امن اور تحفظ دینے کی کی ہے۔ پاکستان میں پھیلی نفرتوں اور مختلف قوموں، مذاہب اور مسالک کے درمیان مکالمت شروع کرنے اور بھائی چارے اور بقائے باہمی سے رہنے کی ترغیب دی ہے۔

لیکن سب سے اہم بات میرا کام ایک لکھاری کا ہے۔ میں نہ انسانی حقوق کا کوئی کارکن ہوں، نہ میں کوئی سیاسی رہنما ہوں، نہ میرا کسی جماعت، تنظیم یا گروہ سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی میرا کام اس دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے یا اپنے آس پاس پھیلے استحصالی معاشرے کو درست کرنے کا ہے۔ میرا کام صرف اور صرف ایف آئی آر لکھنے کا رہا ہے اور وہی ہے۔ جہاں کہیں ظلم ہوا، جہیں کہیں مجھے استحصال نظر آیا، وہاں میں نے ایف آئی آر لکھ دی۔ اس حوالے سے نہ میں نے کبھی کوئی قوم دیکھی، نہ مذہب دیکھا، نہ مسلک دیکھا اور نہ زبان۔

محرر کا کام نہ تفتیش کا ہوتا ہے، نہ مجرم پکڑنے کا، نہ انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کا اور نہ انہیں سزا دینے کا۔ محرم کا واحد کام یہ ہوتا ہے کہ جب اس کے سامنے کوئی مظلوم پیش ہو، تو وہ نہایت سچائی سے اس کی ایف آئی آر درج کر دے۔ ایک ایسی ایف آئی آر جس میں مظلوم مظلوم رہے اور ظالم ظالم۔ لکھاری بھی اپنے دور کا محرر ہوتا ہے، جس کا کام ایسی ہی ایف آئی آر درج کرنے کا ہوتا ہے تاکہ اس وقت کے لوگ یا بعد میں آنے والی نسلیں ظالم اور مظلوم کا فرق جان سکیں۔

یہی وجہ ہے کہ مجھ سے محبت کرنے والوں کا تعلق پاکستان کے ہر خطے سے ہے۔ میں ابھی کراچی میں تھا، تو وہاں کولاچی ہوٹل میں داخل ہوا تو وہاں ایک کام کرنے والا مجھے دیکھ کر جذباتی انداز سے گلے آن ملا۔ کہنے لگا میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ وہاں کئی پشتون ملے، کئی سندھی ملے، کئی مہاجر ملے، کئی بلوچ ملے، خواتین ملیں، اقلتیوں سے تعلق رکھنے والے افراد ملے اور وہ سب مجھ سے فقط اس لیے محبت کرتے نظر آئے کہ میں نے ان کے زخموں کی داستان لکھنے میں کبھی کوتاہی نہیں کی۔

مجھے یہ جملے اپنے آس پاس ایک طویل عرصے ہی سے سننے کو ملتے رہے ہیں کہ انسانوں کی بجائے مجھے اپنے فائدے کا سوچنا چاہیے۔ کبھی کبھی تو اپنے ہی بے حد قریب کے لوگ یہ مشورہ تک دیتے رہے ہیں کہ سب پر ’لعنت‘ بھیج کر مجھے اپنے زندگی جینا چاہیے کیوں کہ ’میرے بولنے سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔‘‘

اس بات میں لیکن ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مجھے اپنے قلم کا حساب دینا ہے۔ خود کو بھی اور خدا کو بھی۔ قلم میرا مان اور فخر رہا ہے اور میں نے نہ کبھی اپنا قلم بیچا ہے اور نہ بیچ سکتا ہوں، کیوں کہ میرا ایمان یہ رہا ہے کہ اگر میرا پورا وجود بھی گناہ کی دلدل میں دھنس جائے اور میرے ہاتھ میں قلم ہو، تو بھی میں خدا کے حضور کم از کم اس معاملے میں سرخ رو رہوں گا۔

کچھ دوستوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو باتیں آپ باہر بیٹھ کر کرتے ہیں، وہ باتیں پاکستان میں آ کر کریں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی گالیاں تو دیتا نہیں، بلکہ میرا واحد کام یہ ہے کہ کسی بھی معاملے میں جہاں کہیں کوئی خرابی دیکھوں یا جہاں کہیں کوئی ایسا عمل دیکھوں، جسے سے انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہو یا استحصال کا راستہ نکل رہا ہو، مگر کام اس کی ایف آئی آر لکھنے کا ہے۔ جو میں نے ہمیشہ نہایت ایمان داری سے لکھی ہے۔ اس لیے پاکستان میں گیا اور وہاں ٹی وی چینل نے بلایا، تو وہاں بیٹھ کر بھی میں نے وہی بات کی، جو جرمنی میں بیٹھ کرتا ہوں۔ وہاں ایک عوامی بیٹھک ہوئی، جس میں درجنوں افراد شریک ہوئے اور ان کی جانب سے سوالات کیے گئے، تو ان کا میں نے وہی جواب دیا، جو جرمنی میں ہوتا تو دیتا۔

تاہم یہ بات بھی میں واضح انداز سے بتا دوں کہ پاکستان میں مجھے نہ تو کسی فوجی یا دیگر باوردی شخص سے سامنا ہوا، نہ ہی کسی بھی طرح کی بالواسطہ یا بلاواسطہ ملاقات کے ذریعے مجھے پریشان کرنے یا ڈرانے کی کوشش کی گئی۔ اس کی وجہ جو بھی ہو، مگر مجھے پاکستان میں کسی بھی قسم کی پریشانی نہیں ہوئی اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہاں میرے کئی بہترین دوست سائے کی طرح میرے ساتھ رہے اور ایسا بہت کم ہوا کہ میں کسی بھی جگہ تنہا رہا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ مجھے وہاں سم کارڈ تک نہیں خریدنا پڑا، کیوں کہ ہر لمحہ کوئی نہ کوئی شخص میرے ساتھ ہوتا تھا اور اسی کا فون زیادہ تر استعمال کرتا رہا۔

وہاں جانے سے پہلے فیس بک پر بتانے، وہاں موجودگی کے حوالے سے آپ کو مسلسل مطلع کرنے اور پھر وہاں سے واپس آتے ہوئے کراچی کے ہوائی اڈے سے آپ کو اطلاع دینے میں کسی بھی عمل میں مجھے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہوتا تو تو بھی بتا دیتا۔

مگر اس سفر کے دوران مجھے کئی دوستوں سے ایک سوال سننے کو ملا کہ آپ ایک وقفے کے بعد پاکستان پہنچے ہیں، آپ نے کیا فرق دیکھا۔ یقین مانیے کے مجھے کسی بھی شعبے میں کوئی زیادہ فرق دکھائی نہیں دیا، سوائے اس کے کہ وہاں ہر شخص کے خوف میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگ جا بہ جا کہتے نظر آتے ہیں کہ امن لوٹ آیا ہے، مگر ایک عجیب خوف اور وحشت ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس تحریر سے کہیں یہ مطلب نہ نکلے کہ ملک میں لاپتا یا قتل ہونے والے افراد کے گم ہونے یا قتل کر دیے جانے کی وجہ یا ان کے خوف کی وجہ ان کا کوئی جرم ہے۔ ہزارہا لوگ صرف اس لیے لاپتا ہیں یا قتل کیے گئے ہیں کہ ان کا جرم فقط عزت سے زندہ رہنے کا حق مانگنے کا تھا۔ اور غالباً یہی وجہ ہے کہ ایک خوف اب ہر دل میں بس چکا ہے۔ کچھ بولتے ہوئے اپنے ہی اندر گونج پڑنے کا خوف، کسی کو آواز سنائی دے دینے کا خوف، کسی کے سن لینے کا خوف اور کچھ ہو جانے کا خوف۔ قانون کی بالادستی کی ریاست میں جو خوف کسی مجرم کو ہونا چاہیے، وہ خود ہماری ریاست میں عام شہریوں کے دل کے اندر پہنچ چکا ہے اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اب پاکستان میں ہر شخص یہ بھی جانتا ہے کہ اسے خوف اور خطرہ کس سے ہے۔ تاہم اس خوف کا شکست دینا بھی ضروری ہے۔ یہ خوف اس وقت تک قائم رہے گا، جب تک ہمارے ہاں مجرم بے خوف پھریں گے اور معصوم شہری انہیں مجرم کہنے سے ڈرتے رہیں گے۔

اور آخر میں ایک بار پھر اس عہد کی تجدید کہ پاکستان کی سرزمین کے لیے مضبوط قوم اور ریاست کی ضرورت ہے۔ ایک ایسے ریاست جہاں انسان معتبر ہوں، جو امن اور بہتر معیار زندگی کے لیے کام کرتی ہو، جو تعلیم، صحت اور بہبود کو ہر فرد کا برابر حق سمجھتی ہو اور جہاں مضبوط ادارے ایک دستور کے نیچے اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کرتے ہوں اور ان کا واحد مقصد قوم کی ترقی اور سربلندی ہو۔ پاکستان کی ترقی اور کام رانی کی راہ صرف اور صرف قوم کی ترقی اور کام رانی سے جڑی ہے۔ انسان زندہ باد ہو جائیں گے، تو ملک خود بہ خود زندہ و پائندہ باد ہو جائے گا اور اگر انسان زندہ باد نہ ہوئے، تو ہم چاہے جتنا مرضی زور سے چیخ چیخ کر زندہ باد کے نعرے لگا لیں، ہم زندہ باد سےکوسوں دور ہی رہیں گے۔

یہ عین ممکن ہے کہ میری کہی کئی باتیں غلط ہوں، کیوں کہ میں کوئی پیمبر یا فرشتہ نہیں، مگر ایک بات یقینی ہے اور وہ یہ کہ میں نے آج تک جو کچھ لکھا ہے وہ نہایت سچی نیت اور کھرے دل کے ساتھ لکھا ہے اور وہ میں اس وقت تک لکھتا رہوں گا، جب تک میں لکھ سکتا ہوں۔ یہ بھی سمجھ لیجیے کہ میری لڑائی پاکستان سے نہیں پاکستان کے لیے ہے یا میرا جھگڑا فوج یا کسی دوسرے ادارے سے نہیں، اس ملک کے اداروں کی مضبوطی کے لیے ہے۔ یہ ادارے مضبوط ہونا چاہیئں اور یہ مضبوطی صرف تب آئے گی، جب اس ملک میں دستور اور قانون کی بالادستی ہو گی۔ یہ بات بھی ذہن نشین کر لیجیے کہ اس میں ایک طویل عرصہ لگے گا۔ پاکستان ایک جمہوری ریاست اور قانون کی بالادستی والا ملک ضرور بنے گا، لیکن اس کے لیے لمبا وقت درکار ہو گا۔ وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں بہتر ہوں گی۔ اس کے لیے لیکن ضروری ہے کہ سب لوگ اپنے اپنے حصے کی شمع جلاتے رہیں۔ مختلف قومیتوں کے ساتھ مکالمت کی فضا بنائیں اور زیادہ سے زیادہ کتب کا مطالعہ کریں۔ ملک کے نوے فیصد سے زائد مسائل کی وجہ، میری نگاہ میں معیاری تعلیم کا نہ ہونا اور معاشرے میں علم اور مباحث کا کال ہے۔