عابد حسین

موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  نے 1978 میں پاک آرمی جوائن کی اور 29 نومبر 2016  کو ملک کے دسویں آرمی چیف کی حثیت سے ذمہ داری سنبھالی تھی۔ 29 نومبر 2019 کو انکی مدت ملازمت پوری ہوگئی۔ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت ماہ نومبر میں پوری ہونی تھی  لیکن وزیراعظم عمران خان صاحب نے 19 اگست کو ہی ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا تھا۔ اس طرح باجوہ صاحب کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کردی گئی۔ یعنی نومبر 2022  تک وہ آرمی چیف رہیں گے۔ کابینہ کے 25 ارکان میں سے 11 نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی سمری پر دستخط کیۓ تھے اور سمری صدرمملکت کو منظوری کے لیئے بھیج دی گئی تھی۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف جیورسٹ فاؤنڈیشن نے اپنے وکیل ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ کے ذریعے ایک پٹیشن دائر کی جس میں درخواست کی گئی کہ آرمی چیف کو توسیع دینا آئین شکنی ہے اور سپریم کورٹ حکومتی فیصلے کو معطل کرے۔ 26 نومبر کو اگرچہ جیورسٹ فاؤنڈیشن کے وکیل حنیف راہی کی طرف سے دی گئی پٹیشن کو واپس لیا جارہا تھا لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ پر مشتمل تین رکنی بینچ جس نے مذکورہ پٹیشن کی سماعت کی، نے پٹیشنر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے کو قومی معاملہ قرار دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت پٹیشن کو سوموٹو میں تبدیل کردیا۔  جبکہ نومبر میں ہی کیس کی سماعت کرتے ہوئے وزیراعظم کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وزیراعظم کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار نہیں ہے اور یہ اختیار صرف صدرمملکت کو ہے کہ وہ سروسز چیف کو تعینات یا مدت ملازمت میں توسیع کرے۔ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت، وزارت دفاع، صدر پاکستان و وزیراعظم اور آرمی چیف کو نوٹسسز بھی جاری کیئے اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو فریق بناتے ہوئے جواب طلبی بھی کی۔ اٹارنی جنرل سے استفسار کرتے ہوئے سپریم کورٹ بنچ نے کہا کہ کیا وزیراعظم کو آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کا اختیار ہے؟

چیف جسٹس نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ سمری پر کابینہ کے تمام ممبران کے دستخط  موجود نہیں ہیں اور صرف صدر کو ہی مدت ملازمت توسیع کا اختیار ہے۔ سپریم کورٹ بنچ نے اٹارنی جنرل کو تمام قانونی تقاضے پورا کرنے کو کہا۔ بنچ ممبر جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل کو یہ بھی کہا کہ دوبارہ سمری  صدر کو منظوری کے لیئے بھیجنا بھی غلط ہے۔ نومبر ہی میں سپریم کورٹ کے نوٹسسز کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ ہنگامی اجلاس میں نئی سمری مرتب کی گئی۔ کابینہ کے تمام ارکان کے دستخط لیئے گئے اور صدر مملکت کو سمری منظوری کے لیئے بھیج دی گئی۔ اجلاس میں آرمی ریگولیشن نمبر 255 میں ترمیم منظور کرتے ہوئے “توسیع” کا لفظ شامل کردیا گیا۔ جسکی رو سے سربراہ مملکت  سروسز چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مجاز ہوگا۔ نومبر میں ہی جب سپریم کورٹ آف پاکستان کے فاضل بنچ نے جسٹس کھوسہ کی سربراہی میں کیس کی سماعت کی تو سماعت کے حکومتی وکیل فروغ نسیم نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم اور کابینہ سے منظوری کے بعد سمری صدر کو بھیجی گئی ہے اور قانونی خامیاں دور کرنے بعد ہی توسیع کا اعلامیہ جاری ہوگا جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے سوالات اٹھائے کہ حکومت نے آئین کی کس شق  کے تحت آرمی رولز میں ترمیم کی؟ جس کے جواب میں حکومتی وکیل نے کہا کہ کابینہ نے آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت یہ ترمیم کی ہے۔ جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مذکورہ آرٹیکل ریٹائرڈ یا نکالے گئے آرمی ملازمین کے متعلق ہے جن کو دوبارہ تعینات کیا جاسکتا ہے جس میں ایکسٹینشن کا کوئی ذکر نہیں ہے۔   

جج نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ حکومتی اعلامیے میں صرف عرصہ لکھا گیا ہے جس سے وقت کا تعین نہیں ہوتا۔ جس پر وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے جواب دیا کہ تکنیکی غلطیاں دور کرکے جوابی کاپی عدالت میں جمع کردی جائے گی۔ عدالت نے اپنے ریماکس میں کہا کہ 1947 سے غلط فیصلے ہوتے آرہے ہیں جن کو روایت کا نام دیا جاتا ہے۔ عدالت نے حکومتی جوابات غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سماعت کو اگلے روز تک ملتوی کردیا۔ جبکہ دوسری جانب عدالت کے باہر جب جیورسٹ فاؤنڈیشن کے وکیل اور کیس کے پٹیشنر حنیف راہی ایڈوکیٹ سے صحافیوں نے سوال کیا کہ آپ کیوں کیس کو واپس لینا چاہتے ہیں تو اس پر پٹیشنر نے خاموشی اختیار کی لیکن جب ایک صحافی نے یہ پوچھا کہ کہیں آپ کو کوئی ڈرا یا دھمکا تو نہیں رہا؟ تو اس پر حنیف راہی کا کہنا تھا کہ میری فوج سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ میں نے ملکی مفاد اور آئین کی پاسداری کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پٹیشن دائر کی تھی پر ان کے چہرے صاف ظاہر تھا کہ وہ ذہنی دباؤکا شکار ہیں۔

  خیر یہ تو مذکورہ پٹیشن کی بات تھی۔ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ آرمی چیف کو ایکسٹینشن ملتی ہے یا نہیں۔ ہاں اس کیس میں عدالتی کردار قابل تعریف وستائش ہے کہ جس طرح عدالت نے حکومت سے جواب طلبی کی اور قانونی اور فنی خرابیوں کو دور کرنے اور آئینی خلاف ورزی پر بات کی ہے اس کے لیئے انہیں سراہا جانا چاہیے۔ اگر دیکھا جائے تو اس کیس میں عدالت نے بھرپور طریقے سے اور صحیح معنوں میں قانون کی تشریح کی ہے۔ اب آتے ہیں حکومتی کردار کی طرف، 26 نومبر کی رات کو کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد جب وفاقی وزراء شفقت محمود اور شیخ رشید نے پریس کانفرنس میں یہ کہا کہ وزیراعظم صاحب نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں اس لیئے توسیع کا فیصلہ کیا ہے کہ ایک تو چیف صاحب جمہوریت کے حامی ہے دوسرا ملک کے موجودہ صورتحال کے تناظر میں فیصلہ کیا گیا ہے۔ 1973 کے بعد بھارت نے پہلی دفعہ پاکستان کی حدود کراس کرنے کی کوشش کی ہے اور ملک سنگین دور سے گزر رہا ہے۔ ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے، جنرل باجوہ قابل ترین سپاہ سالار ہیں اور وغیرہ وغیرہ۔   

لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا قمر باجوہ کے بعد آنے والے جنرلز اس فوج کا حصہ نہیں ہیں یا وہ باجوہ صاحب کی طرح پروفیشنل سولجر نہیں ہیں؟  

کیا باجوہ صاحب کے بعد آنے والے چیف صاحبان ملکی حالات سے واقفیت نہیں رکھتے یا وہ محب وطن نہیں ہیں؟ 

کیا نیا آنے والا چیف جمہوریت کا حامی نہیں ہے؟ 

کیا باجوہ صاحب  کے ایکسٹینشن سے آنے والے کی حق تلفی نہیں ہوگی؟

کیا حکومت پرانی روایات کو برقرار کھنا چاہتی ہے؟  

کیا کیس دائر ہونے اور عدالت کے نوٹس کے بعد حکومت کو نہیں چاہیے تھا کہ اپنا فیصلہ واپس لے اور آرمی چیف ریٹائرڈ ہوکر نئے آنے والے کو فوج کی کمان سنبھالنے دے؟  

کیا اس فیصلے سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر فوج کی بد نامی نہیں ہوئی ہے؟  

کیا دنیا کو یہ پیغام نہیں ملا کہ  پاکستان کی اتنی بڑی فوج میں صرف ایک ہی شخص اتنا قابل ہے کہ اس کا نعم البدل کوئی اور نہیں ہوسکتا؟  

کیا جنرل قمر باجوہ کی اخلاقی ذمہ داری نہیں بنتی تھی کہ وہ خود ہی ہاتھ اٹھا لیتے اور ایکسٹینشن لینے سے منع کردیتے؟  

کیا فوج کے سینئیرز بھی اپنے جونئیرز کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور ان کی حق تلفی کرتے ہیں؟

جس طرح عدالت نے حکومتی کوتاہیوں کا ذکر کیا اور ان کی غلطیوں کو پوائنٹ آوٹ کیا اور قانون کی تشریح کی اچھی مثال قائم کی اس کے بعد ہمیں قطعا ً اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ آرمی چیف کو ایکسٹینشن ملے یا نہ ملے عدالت کا فیصلہ ایک آدھ روز میں آجائے گا یوں دودھ کا دودھ  اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔  

وفاق عدالت میں تمام قانونی تقاضے پورا کرتے ہوئےجنرل صاحب کو ایکسٹینشن دلائی جاتی ہے  یا باجوہ صاحب گھر چلے جاتے ہیں دونوں صورتوں میں یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ اس صورتحال میں ایکسٹینشن والی روایت، حکومتی جلد بازی، ریاستی بے بسی، قابل پرفیشنلز کی حق تلفی اور طاقتور کا ساتھ دینے کا جو پیغام جا رہا ہے وہ ملک وقوم کے تشخص کے لیئے کسی صورت مناسب نہیں ہے۔