عاطف توقیر

پلوامہ حملے، بھارت کی جانب سے خیبرپختونخوا کے علاقے بالاکوٹ میں بم برسانے اور پھر پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی کے تناظر میں کچھ بنیادی نوعیت کی غلط فہمیاں ہیں، جو ہر جانب دکھائی دیتی ہیں۔ پہلی غلط فہمی تو بھارت میں پائی جاتی ہے، جسے موثر انداز سے اب تک جواب نہیں دیا گیا۔

بھارتی میڈیا میں ماہرین اور مبصرین جن میں خصوصاﹰ سابقہ فوجی حضرات ہیں، بڑے تعجب سے یہ بتاتے پھرتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے عسکری کارروائی تو صرف دہشت گردی کے ایک مبینہ مرکز پر کی گئی تھی تو پھر پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی کیوں کی گئی؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ بارہ بھارتی لڑاکا طیارے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوئے اور بم برسا کر واپس دوڑ گئے۔ دنیا کے ہر قانون کے تحت یہ پاکستانی کی سالمیت، بقا اور خودمختاری کی خلاف ورزی بلکہ توہین ہے۔ اصولی طور پر پاکستان میں داخل ہونے والے ایسے کسی بھی طیارے کو بچ کر نہیں نکلنا چاہیے تھا۔ تاکہ ایک واضح پیغام بھارت اور دنیا کو چلا جاتا کہ آئندہ پاکستان پر جارحیت کی کوئی جرات نہ کرے۔ اگلے روز پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول عبور کر کے مختلف عسکری تنصیبات کو ہدف بنانے مگر بم نہ برسانے بلکہ ایک خالی مقام پر بم گرا کر لوٹنے کی وجہ یہ تھی، کہ یہ واضح ہو کہ کسی دوسرے ملک میں کسی بھی صورت میں داخل ہونا، چاہے خالی مقام پر ہی کیوں نہ ہو، اس قوم کے لئے کیسا ہوتا ہے۔

بھارت میں پچھلے کچھ عرصے میں یہ غلط فہمی بھی پیدا ہو گئی ہے کہ وہ امریکا ہے اور پاکستان عراق یا لیبیا، جہاں وہ کسی بھی وقت حملہ کر پائے گا۔ میں نے بہت سے بھارتی دوستوں کو یہ کہتے سنا کہ روس بھی تو شام میں حملے کرتا ہے۔ امریکا نے بھی عراق اور لیبیا میں اپنے طیاروں سے بم باری کی، تو پھر بھارت پاکستان میں کیوں بم باری نہیں کر سکتا۔

بھارت دوستوں سے گزارش ہے کہ ایسا ہرگز مت سوچیے گا۔ پاکستان اور بھارت کی ایک تاریخ ہے اور خطے میں طاقت کا توازن امریکا اور لیبیا یا روس اور شام والا ہرگز نہیں۔ دو جوہری طاقتوں کے حامل ممالک کو ایک دوسرے کے بارے میں ہرگز یہ غلط فہمی نہیں ہونا چاہیے۔

جہاں تک دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا معاملہ ہے، تو پوری پاکستانی قوم نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس بات پر متفق ہے کہ پاکستانی سرزمین کسی بھی طرح کی دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ آپ کو تحفظات ہیں، تو آپ ضرور پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالیے، مذاکرات کیجیے، خطے کے ممالک کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیجیے، پاکستان پر مالی پابندیاں یا دیگر اقدامات کیجیے، مگر عسکری کارروائی کرنے کا مطلب پاکستانی قوم پر ایک جنگ مسلط کرنا یا ایک جارحیت کرنا تصور ہو گا۔ اور ایسی صورت میں یہ پیغام بالکل دو ٹوک انداز سے سمجھ لیجیے کہ 22 کروڑ عوام کا حامل ملک اپنی بقا، اپنی تکریم اور اپنی حمیت کے تحفظ کی خاطر اپنی آخری سانس تک مقابلہ کرنے کی سکت رکھتا ہے۔

پاکستانی سالمیت پر حملہ یا جارحیت پاکستان کے اندر شدت پسندی اور دہشت گردی میں کمی نہیں بلکہ اضافے کا باعث ہو گی اور بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات اور امن کی آوازوں کو نقصان پہنچے گا، جس کا نتیجہ مستقبل میں مزید دہشت گردی اور مزید نفرت کی صورت میں عام ہو گا۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بھارتی میڈیا کا کردار اس پورے معاملے میں انتہائی منفی رہا ہے۔ جنگی جنون کو جس انداز کی بڑھوتی اور عوام میں نفرت کے جس انداز کے بیج بھارتی میڈیا نے بوئے ہیں، آنے والے وقتوں میں خود بھارت اس شدت پسندی کا نشانہ بنے گا اور خطے کے مجموعی امن کو نقصان پہنچے گا۔

اس پورے دورانیے میں ایک بات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے کہ مودی سرکار اپنے سیاسی مفادات کے لیے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ اب تک کی لڑائی میں ہلاک اور زخمی ہونے والے کون تھے؟

ایک وہ فوجی جو اس گھناؤنی پالیسی یا حکمت علمی کے تحت احکامات پر عمل درآمد ہوتے ہوئے ہلاک یا زخمی ہوئے، دوسرے سرحد اور لائن آف کنٹرول پر بسنے والے وہ افراد جو دونوں جانب سے آگ اگلتی توپوں کا نشانہ بنے۔

ان ہلاکتوں اور زخمیوں کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا وہ سیاسی مداری نہیں، جو کارکردگی پر جواب نہ دینے لائق تھے، تو جنگ کا نعرہ بیچ کر آپ کے جذبات کو ووٹ میں تبدیل کرنے پر بھی آمادہ ہیں؟

یہاں عمران خان اور پاکستان کا کردار نہایت اہم تھا اور اس کی تعریف نہ کرنا نہایت نادرست بات ہو گی۔ پاکستان نے مجموعی طور پر نہایت تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا۔ چند ایک جگت باز صحافیوں یا سیاست دانوں کے علاوہ زیادہ تر رہنماؤں، بہ شمول وزیراعظم عمران خان اور صحافیوں نے نہایت بہتر انداز سے صورت حال کو برتا۔ اس موقع پر جنگی جنون کے جواب میں ایک غلط اقدام اس خطے کی مکمل تباہی کا باعث بن سکتا تھا۔

بھارتی میڈیا پر آگ اگلنے کا سلسلہ ابھی جاری ہے، مگر امید ہے کہ بھارتی دوست خطے میں امن کے لیے اپنی آوازیں اتنی اونچی ضرور کریں گے کہ وہ قوم پرست نعروں کا شور کچھ کم کر پائیں۔