ماریہ رضوی

چھوڑیے صاحب! جنگوں میں کیا رکھا ہے ۔۔۔ انسان بس ایک زندگی جیتا ہے، اور وہ بھی اپنی۔کیا امیر، کیا غریب ۔۔۔ یہ زندگی مشکلات سے بھرپور ہوتی ہے۔کچھ حالت ایسے بھی آتے ہیں جس میں انسان چاہے بھی تو کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ بس قسمت کا اسرا ہوتا ہے ۔ان ہی سوچوں میں مگن، “ابھی نندن” پر نظر پڑی۔

بدقسمتی سے پندرہ لاکھ کی فوج میں آپ ہی کو دشمن کے علاقے میں بھیجا جاتا ہے۔ پھر بدقسمتی سے تین جہازوں میں آپ کے جہاز کو میزائل لگتا ہے۔ جہاز تباہ ہوجاتا ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے آپ جب بچا کر نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے آپ دشمن کے علاقے میں گرتے ہیں لیکن خوشقسمتی سے بارڈر سے دور، سنایپرز سے بچتے ہوئے بغیر خراش کے لینڈ کر جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے آپ لینڈ کر کے زمین کی بجاے درخت میں اٹک جاتے ہیں اور مقامی لوگوں کو نظر آجاتے ہیں، لیکن خوشقسمتی سے آپ کے پاس اپنا سروس پسٹل ورکنگ فارم میں موجود ہوتا ہے۔بدقسمتی سے آپ چھے فائر کر کے گولیاں مکا دیتے ہیں لیکن خوشقسمتی سے وہ فائر کسی کو نہیں لگتے اور آپ ارتکاب جرم سے بچ جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے لوگ آپ کو درخت سے اتار کر خوب پٹائی کرتے ہیں لیکن خوش قسمتی سے جونہی پٹائی شروع ہوتی ہے، اوپر سے فوج آپ کو بچانے آجاتی ہے۔ بدقسمتی سے آپ ایسی فوج کے ہتھے لگتے ہیں جو ہاتھی کو گھنٹے دو میں چوینٹی بنا لیتے ہے، لیکن خوش قسمتی سے آج انکا موڈ آپکو چائے بسکٹ کھلانے کا ہے۔

بدقسمتی سے آپ کا ملک آپ کو لینے کے لیے مزید بدمعاشی پر اتراتا ہے، لیکن خوش قسمتی سے آپ کو پکڑنے والے چوبیس گھنٹے میں اعلان کرتے ہیں کہ آپ کو اگلے ہی دن واپس کیا جائے گا۔ بدقسمتی سے آپ کا ملک کسی بھی ویلکم جیشچر کو مسترد کرتے ہوئے سکیلبل پلان کی دھمکی دیتا ہے لیکن خوش قسمتی سے دشمن ملک کا وزیر اعظم بضد ہے کہ جو بھی ہو آپ کو نہیں رکھنا۔

دیکھا جائے تو بدقسمتی سے آپ اپنے مشن میں مکمل طور پر فیل ہوئے، لیکن خوش قسمتی ایسی کہ آپ کو اس ساری جنگ میں اپنے ملک کاسب سے بڑا ہیرو دکھایا جاتا ہے۔

اب اگر ہر بات پر یوٹرن لینے والے عمران خان بدقسمتی سے یوٹرن نہ لے لیں، ابھی نندن کی انگلیاں مکھن میں اور سر کیک میں۔

پتا نہیں یہ ماں کی دعا ہے یا بیوی کی ۔۔۔ بس الله ایسی قسمت ہر کسی کو دے!!!