مہناز اختر

کہا جاتا ہے کہ پارلیمان، عدلیہ، فوج اور میڈیا یہ چار بنیادی ستون یا ادارے ہیں جو کسی بھی جمہوری ریاست کو متوازن رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ جب تک یہ چاروں ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوۓ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے رہیں گے ریاست خوشحال رہے گی۔ ماضی میں ریاست کے چار ستونوں میں سے ایک کے اختیارات کا توازن کئی مرتبہ بگڑا ہے۔ ہم یہ نہیں بھول سکتے کہ آمرجنرل ضیاء الحق نے ایک مظبوط جمہوری پاکستان کے روشن مستقبل کو خطرے میں ڈال کر امریکی مفادات کی جنگ کے لیۓ ہمارے فوجی ادارے کو فروخت کردیا اور ملک میں ایک خاص قسم کی مذہبی انتہا پسندانہ بیانیے کو تقویت دی۔ اپنے اہداف کے حصول کے لیئے دین اور تصورجہاد کو استعمال کیا۔ تاریخ کی اسی فاش غلطی کا نتیجہ ہے کہ آج ستر ہزار جانیں گنوا کر بھی ہم دنیا کی نظر میں مذہبی شدت پسند اور دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والی ریاست اور قوم کے طور پر پہچانے جارہے ہیں۔

کل پہلی مرتبہ مجھے بہ حیثیت پاکستانی فخر محسوس ہوا جب پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی طرف ایک مرتبہ پھر امن اور صلح کا ہاتھ بڑھایا اور خیر سگالی کے طور پر بھارتی ونگ کمانڈر ابھینندن کی رہائی کا اعلان کیا۔ اس کانفرنس کا سب سے خوبصورت لمحہ وہ تھا جب ہم نے دیکھا کہ اس اعلان پر اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی ارکان نے ڈیسک بجا کر وزیراعظم کی تائید کی۔ ہم جانتے ہیں کہ حزبِ اختلاف اور حکومت کے درمیان بیشتر معاملات میں انتہائی اختلافات موجود ہیں۔ لیکن پلوامہ حملے کے بعد سے آج تک جس طرح حزب اختلاف کی جانب سے حکومت کا ساتھ دیا گیا ہے یہ انتہائی قابل تعریف بات ہے۔

اب ایک نظر بھارت کی سیاست پر ڈالتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ پلوامہ حملے کے فوراً بعد بھارت نے صرف ایک ویڈیو کی بنیاد پر پاکستان کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دے دیا نتیجتاً دنیا کی توجہ کشمیر کے حالات سے ہٹ کر پاکستان اور جیش محمد کی طرف مبذول ہوگئی۔ یہاں تھوڑی دیر کے لیۓ جہادی تنظیموں کی پاکستان میں موجودگی اور سرپرستی کے پہلو کو ایک طرف رکھتے ہوۓ یہ فرض کرلیتے ہیں کہ آٹھ دس روز پہلے کسی بڑی کاروائی کی انٹیلیجنس معلومات حاصل ہونے کے بعد جان بوجھ کر بھارتی حکومت نے یہ حملہ ہونے دیا تاکہ اسکے ذریعے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھارتی حکومت اپنے سیاسی مفادات حاصل کرسکے۔

میرے خیال سے ہمیں بھارت اور کشمیر کی صورت حال کو سمجھنے کے لیۓ سب سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ کشمیر کے مسلمان اور بھارت کے مسلمان دو مختلف اکائیاں ہیں۔ بھارتی غیرمسلم بھلے انہیں ایک اکائی کے طور پر دیکھتے ہوں لیکن یہ سیاسی طور پر دو مختلف اکائیاں ہیں۔ کشمیری مسلمان اس وقت زیرعتاب اور بدترین ریاست گردی کا شکار ہیں لیکن اسکے باوجود بھی یہ لوگ اپنی سیاسی شناخت کو برقرار رکھتے ہوۓ اپنے سیاسی حقوق کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ اسکے برعکس بھارت کے مسلمان عام طور پر ہر بار اور خاص طور پلوامہ حملے کے بعد سے خود کو ہمیشہ معذرت خواہانہ دفاعی پوزیشن میں رکھتے ہیں اور کشمیراور کشمیریوں کے مسئلے سے ہاتھ جھاڑتے ہوۓ پاکستان کو لعنت ملامت کرکے خود کو محب وطن ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت کے مسلمان دوسری بڑی اکثریت ہونے کے باوجود بھی بھارتی سیاست پر اپنا اثرورسوخ نہیں ڈال پاۓ ہیں۔

بھارت میں بی جے پی کی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد آرآرایس کے دو قومی نظریے کو پھر سے تقویت مل گئی ہے۔ یہ بڑی دلچسپ صورتحال ہے کہ اس بار بھارت کی اکثریت ایک مذہبی ریاست “ہندوراشٹر” کا خواب دیکھ رہی ہے اور دوسری اقلیتیں سیکولر بھارت کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دئیے کھڑی ہیں۔ آپ صرف بی جے پی سرکار کے دور میں ہونیوالے پارلیمانی اور عدالتی فیصلوں اور فوجی کاروائیوں کو دیکھ لیجیے تو معلوم ہوجاۓ گا کہ حالات کس طرف جارہے ہیں۔ گاۓ کے گوشت کے حوالے سے لگائی جانے والی پابندیاں ہوں یا بابری مسجد کے تصفیہ سے بھارتی عدالت عالیہ کا ہاتھ جھاڑ لینا ہو، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی راۓ کو ایک مخصوص سمت میں موڑ کر اسلام، مسلمان اور پاکستان مخالف جذبات ابھارنے سے لے کر دو سرجیکل اسٹرائیک تک پہنچتے پہنچتے ہمیں یہ دکھائی دینے لگتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ بھارت کے چاروں ستون پارلیمان، عدلیہ، فوج اور میڈیا اس وقت اکثریتی آمریت کے چنگل میں ہیں اور وہ جس طرح چاہتی ہے انہیں استعمال کرتی ہے۔ بھارت میں اس مرتبہ ویسا ہی مذہبی بیانیہ فروغ پارہا ہے جیسا کہ ہمارے یہاں اسّی کی دہائی سے دیکھا جارہا تھا اور جیسا انقلاب ایران سے پہلے ایران میں دیکھا گیا تھا۔

ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ مضبوط جمہورت میں فوج حکومت کے تابع ہوتی ہے لیکن حکومت ایک سیاسی جماعت ہی بناتی ہے۔ تو جس طرح پاکستان کی طاقتور فوج بقیہ تین ستونوں پر اپنی گرفت رکھ کر اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرتی ہے بالکل ایسے ہی ہندوستان کی اکثریتی جماعت نے پارلیمان، عدلیہ، فوج اورمیڈیا پر اپنی گرفت مضبوط کرکے بھارتی جمہوریت کو “جمہوری آمریت” میں بدلنا شروع کردیا ہے۔ آپ جنوبی بھارت کے اداکار، سماجی کارکن اور سیاست دان پَوَن کَلیان کا آج کا بیان “مجھے بی جے پی کے سیاستدان نے دو سال پہلے بتایا تھا کہ 2019 کے لوک سبھا چناؤ سے پہلے بھارت اور پاکستان میں جنگ ہوگی” اور اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کے رہنما، آرآرایس اور بجرنگ دَل کے رہنماؤں کے بیانات دیکھ لیجیے آپ پر یہ بات واضح ہوجاۓ گی کہ خطے میں مسلم عسکری وجہادی تنظیمیں اور ایک غیر جمہوری کمزور ہمسایہ پاکستان “ہندوراشٹر” کے قیام میں سب سے بڑے مددگار ہیں۔ یہی عناصر خطے کے ہندوؤں میں خوف اور عصبیت پیدا کرکے انہیں متحد رکھنے میں مدد دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سمیت سیکولرازم، پلورل ازم اور لبرل ازم بھی آج “ہندتوا” ذہنیت کے نشانے پر ہے۔

پلوامہ حملے کے خودکش بمبار کی ویڈیو منظر پر آنے کے فوراً بعد ناعاقبت اندیش کشمیری اور پاکستانی اسے مجاہد قرار دے کر ایک دوسرے کو اسکی شہادت کی مبارک باد دینے لگے۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ کہیں ایک غریب اور جذباتی کشمیری کسی جعلی جہاد کی بھینٹ تو نہیں چڑھا دیا گیا۔ اسکے اعترافی ویڈیو کو غور سے دیکھیے اور فیصلہ کیجیے کہ اسمیں کہی گئی باتیں کشمیریوں کی ترجمانی کررہی ہیں یا پھر اسلام اور جہاد کے بارے میں عین وہی مؤقف دہرایا جارہا ہے جسے ہندو انتہا پسند روز دہراتے ہیں۔ پوری ویڈیو میں کشمیر کے حالات پر کم اور جہاد پر زیادہ بات کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ غزوہ ہند کا ذکر باربار کیا گیا ہے اور بھارت کے غیرمسلموں کو دہرا دہرا کر “مشرک” کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔ تاکہ اس ویڈیو کے منظر پر آنے کے بعد غیرمسلموں میں خوف اور اشتعال کو بڑھاوا دیا جاسکے۔ یہ عوامی دباؤ تھا یا میڈیا ہاؤسزز کی مانگ یا مودی سرکار کی سیاسی چال کہ بھارت کو بالاکوٹ، پاکستان میں جیش محمد کے خلاف “سرجیکل اسٹرائیک ٹو” کا دعویٰ کرنا پڑا۔ پاکستان کے مطابق انکے طیارے پاکستانی حدود میں گھس آۓ تھے لیکن کوئی نقصان نہیں ہوا لیکن بھارتی دعوے کے مطابق انہوں نے “جیش محمد کے بڑے ٹھکانے پر کاروائی کرکے سینکڑوں کی تعداد میں جہادیوں کو ہلاک کردیا ہے”۔ اب چاہے بھارت کا یہ دعویٰ درست ہو یا نادرست ہو لیکن ایک بات تو طے ہے کہ بی جے پی نے مخصوص مذہبی ذہنیت رکھنے والے ووٹرز کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ ” بھارت سے ادھرمیوں کا ناش کرنے کے لیۓ بی جے پی اور شری نریندر مودی کا دوبارہ الیکشن جیت کر آنا کتنا ضروری ہے”۔

کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح اختیارات سے تجاوز کرنے والا فوجی ادارہ جمہوریت کے لیۓ زہر قاتل ہے بالکل ویسے ہی اگر یہ ادارہ کسی فاشسٹ سیاسی جماعت یا تحریک کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن جاۓ تب بھی جمہوریت کے پاۓ ہلنے لگتے ہیں۔ اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن ہمیشہ برقرار رہنا چاہیے، اسی صورت میں جمہوری ریاست پروان چڑھ سکتی ہے۔ میرے خیال سے اگر اس خطے کی عوام ایک خوشحال مستقبل کا خواب دیکھ رہی ہے تو پھر ہمیں اپنے اپنے ممالک میں آزاد عدلیہ اور غیرجانبدار میڈیا کے ستونوں کو مظبوط رکھنا ہوگا نیز پارلیمان میں حزب اختلاف کے کردار کی اہمیت کو بھی سمجھنا ہوگا ورنہ خطے میں طاقت کا توازن بار بار بگڑے گا اور ہر بار خطے کی عوام تنزلی کے سفر پر گامزن ہوجاۓ گی۔