وقاص احمد

ایک بے وقوف انسان بیٹھا ماچس کی تیلیاں جلا رہا تھا۔ جو تیلی آگ پکڑ لیتی اسے فوراً بجھا کر سائیڈ پہ رکھی ڈبی میں سنبھال لیتا اور جو تیلی جل نا پاتی اسے کوڑے دان میں پھینکتا جاتا۔ کسی راہ گیر نے دیکھا تو پوچھا کہ  تم یہ کیا کر رہے ہو؟ بے وقوف شخص بولا کہ لوڈشیڈنگ کے ٹائم پر ماچس جلانے میں بہت دقت ہوتی ہے کچھ دیا سلائیاں جلتی ہیں اور کچھ نہیں جلتیں۔ بس اسی لیئے میں ایڈوانس میں ہی چھان پھٹک کر وہ دیا سلائیاں سنبھال رہا ہوں جو آگ پکڑ لیتی ہیں تاکہ اندھیرے میں مصیبت نا ہو”

اگر آپ کو یہ لطیفہ سمجھ آگیا ہے اور آپ ہنسنے ہی والے ہیں تو ذرا رکیئے! اس لطیفے کے ساتھ ایک حقیقہ بھی سن لیجئے تاکہ اکٹھا ہنس سکیں “مرحوم پیپلز پارٹی کے ان لواحقین نے جو بے نظیربھٹو کی وفات کے بعد تحریک انصاف کے یتیم خانے میں داخل ہوگئے تھے انہوں نے حال ہی میں نوازشریف کے علاج کی غرض سے ملک سے باہر جانے پر پھبتی کستے ہوئے کہا “وہ جا رہا ہے ووٹ کی عزت والا ڈرامے باز۔ اگر اتنا ہی اصول پرست اور جمہوریت پسند تھا تو ذرا بھٹو کی طرح مر کر تو دکھاتا”  صاحبان! اگر آپ کو وہ جلی ہوئی دیا سلائی سنبھال رکھنے والے بے وقوف اور مرے ہوئے انسان کو لیڈر و رہنما بنانے کے خواہش مندوں کی عقل میں کوئی فرق ملے تو خاکسار کو اطلاع کیجئے کیونکہ میرے خیال میں تو جو دیا سلائی جل چکی ہے وہ دوبارہ نہیں جل سکتی اور جو لیڈر مر گیا وہ دوبارہ رہنمائی نہیں کرسکتا۔ غالباً سابقہ جیالوں کا مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ “ویلیج آفیسرز” کا لیڈر بھی ان کے لیڈر کی طرح جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو وہ بھی ان کی طرح تحریک انصاف کے یتیم خانے میں لنگر کی روٹیاں کھائیں (حاسد کہیں کے)۔

مملکتِ بے وقوفستان میں بے وقوفوں کی کمی نہیں ہے۔ آپ ایک ڈھونڈنے نکلو ہزار ملتے ہیں اور بہت سستے ملتے ہیں۔ سچ میں  ٹماٹر اور کھیرے کی حکومتی قیمت سے بھی سستے۔ کچھ باوردی بے وقوف باورچی ہیں جو کہ یہاں عشروں سے دودھ میں نمک ڈال کر میٹھی کھیر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر ہر دفعہ کھیر نمکین بنتی ہے اور ہر دفعہ یہ بے وقوف باوردی باورچی بھینس پر الزام لگا دیتے ہیں کہ اس کا دودھ نمکین ہے اور ان کی ریسپی بالکل ٹھیک ہے۔ گھر کے مالکان باورچی کے بہانے کو اس لئے درست تسلیم کر لیتے ہیں کیونکہ بھینس بول نہیں سکتی۔ اگر بھینس بول سکتی تو ان کے منہ پر چماٹ رسید کرکے بولتی “ابے گدھو! میرا دودھ ٹھیک ہے، تم ہی ہر دفعہ نمک سے میٹھی کھیر بنانے کی کوشش کرتے ہو” اسی لیے ہر دفعہ تجربہ ناکام ہوتا ہے۔ گھر کے مالکان بھی عمدہ قسم کے بے وقوف ہیں۔ کوئی سوال ہی نہیں کرتا کہ بھائی صاحب کبھی نمک کی جگہ چینی ڈال کر دیکھی ہے؟ چند ایک سرپھرے جو یہ سوال کرتے ہیں انہیں خود گھر والے ہی گالیاں نکال کر خاموش کروا دیتے ہیں۔ تو ہوتا کچھ یوں ہے کہ ہر دفعہ بھینس بدلی جاتی ہے لیکن باورچی وہی رہتا ہے۔ ہربار نئی بھینس کے دودھ کے ساتھ باورچی وہی سلوک کرتا ہے اور ہر دفعہ کھیر نمکین بنتی ہے۔ یوں مملکتِ بے وقوفستان کے بے وقوف باوردی باورچی ایک ناکام تجربے کو دہرا دہرا کر نئے اور مختلف نتیجے کی تلاش میں سرگرم رہتے ہیں۔ بقول اقبال “لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ”

مملکتِ بے وقوفستان میں آج کل غلغلہ ہے کہ اگر “جمہوریت ایک دفعہ پھر” ناکام ہوتی ہے تو پھر مارشل لاء لگے گا تاکہ مملکت بے وقوفستان کو بچایا جاسکے۔ غلغلہ مچانے والے حضرات وہی ہیں جن کے غلغلوں کی بدولت پچھلی منتخب حکومت کی رخصتی اور موجودہ سلیکٹیڈ سیٹ اپ کی تعیناتی ممکن ہوئی تھی لیکن یہ عامی یہ بات نہیں سمجھ پا رہا ہے کہ جس مارشل لاء کی “تڑیاں” ہمیں لگائی جا رہی ہیں وہ مارشل لاء لگ کر نیا کیا کرے گا؟ ذرا مارشل لاء کے لوازمات ملاحظہ فرمائیے اور پھر جواب دیجیۓ۔

مارشل لاء میں:

1- پورے پاکستان سے ابن الوقت، ضمیر فروش، کرپٹ اور مضبوط حلقوں والے جاگیردار اور سیاستدان ایک چھتری کے نیچے جمع کیۓ جاتے ہیں تو کیا ابھی ایسا انتظام نہیں ہے؟

2- حکومتی وزارتوں میں “ٹیکنوکریٹس” کی آڑ میں منظور نظر اور “امپورٹڈ” وزراء اور مشیروں کی تعیناتی ہوتی ہے تو کیا ابھی ایسا نہیں ہے؟

 3- عدلیہ پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے تو کیا ابھی ایسا نہیں ہے؟

4- میڈیا کی مکمل زبان بندی ہوتی ہے تو کیا ابھی ایسا نہیں ہے؟

5- جعلی مقدمات اور گرفتاریوں کی بھرمار ہوتی ہے تو کیا ابھی ایسا نہیں ہے؟

6- کارہائے حکومت میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجیوں کا عمل دخل بڑھتا ہے، کیا ابھی ایسا نہیں ہے؟

7- ایک ربڑ اسٹیمپ کی طرح کا بے ضرر اور کمزور وزیراعظم ملک کے ایگزیکٹیو ہونے کا الزام سہتا ہے جبکہ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں، کیا ابھی ایسا نہیں ہے؟

8- حکومت اور فوج ایک صفحہ پر ہوتی ہے کیونکہ فوج ہی حکومت ہوتی ہے تو کیا ابھی ایسا نہیں ہے؟

اگر یہ سب کچھ ابھی ہورہا ہے تو مبینہ نیا “مارشل لاء” کیا کرے گا؟ 

سو میرے پیارو! میرے راج دلارو! حقیقت میں کوئی بیک اپ پلان نہیں ہے۔ یہی پلان اے ہے اور یہی پلان زیڈ ہے۔ مارشلائی پٹاری میں جتنے بھی انڈے ہوتے ہیں وہ سب انڈے اسی “مبینہ جمہوری” سیٹ اپ کی ٹوکری میں ڈال دیئے گئے ہیں۔ اس سیٹ اپ کی ناکامی درحقیقت ایک اور مارشل لاء کی ناکامی ہے اور پاکستان کی تاریخ میں ہر ناکام مارشل لاء کے بعد اس کا گند صاف کرنے کوئی جمہوری حکومت ہی آتی ہے۔  سو میری نظر میں اول تو کوئی نیا مارشل لاء نہیں آرہا بلکہ اسی کو آخر تک گھسیٹا جائے گا، دوم اس کے بعد ماضی کے مطابق یقیناً کوئی جمہوری حکومت ہی آنے دی جائے گی تاکہ پچھلی خفت کے زخم بھرے جاسکیں اور لوگوں کی توجہ ناکامی سے ہٹے، سوئم یہ کہ بیک اپ پلان نا ہونے کے مضمرات بصا اوقات بہت ہی مہلک ہوتے ہیں۔ اس لیئے سب مل کر دعا کیجئے کہ موجودہ سسٹم کے مکمل انہدام سے پہلے باورچی کو نمک اور چینی میں فرق معلوم ہوجائے اور گھر والوں کو بھی یہ سمجھ نصیب ہو کہ قصور بھینسوں کا نہیں بلکہ باورچی کا تھا۔