احسن بودلہ

سکول کے زمانے میں اگست کا مہینہ شروع ہونے کی ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی تھی۔ جس کی وجہ چودہ اگست کو آنے والا یومِ آزادی ہوتا تھا۔ جس کے اہتمام کےلیے روز گاوں کے چھوٹے سے بازار میں جاکر کوئی نہ کوئی بیٙج خریدا جاتا تھا۔ دوست کے ساتھ مل کر سبز اور سفید ستاروں سے خود بھی بیٙج بنائے جاتے تھے ۔ جھنڈیاں خود بنا کر پورے گھر کے صحن میں لگا دی جاتی تھیں۔ تیرہ اگست کی رات تک سارے بیجز اور چھوٹے جھنڈے سفید رنگ کی قمیض پر لگا کر پہلے ہی رکھ دیے جاتے تھے تاکہ اگلے دن وقت پر سکول پہنچا جاسکے۔

چودہ اگست کی صبح تیار ہو کر گرمیوں کی چھٹیاں ہونے کے باوجود سکول کی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی جاتی تھی۔ جس میں پاکستان بنانے والے رہنماوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا تھا ۔ جس کے بعد جھنڈے اور جھنڈیاں ہاتھ میں پکڑے،پاکستان کے حق میں اور ہندوستان مخالف نعرے لگاتے ہوئے جلوس کی شکل میں پورے گاوں کا چکر لگایا جاتا تھا۔اس طرح آزادی کےلیے منایا جانے والا یہ جشن پورا ہوجاتا تھا۔

کالج کے زمانے تک آکر بچپن والا جوش تو شاید نہ رہا ،مگر کسی نہ کسی حالت میں یہ دن منانے کا اہتمام ضرور رہا۔ پھر یونیورسٹی میں آکر جب شعور آیا تو پتا چلا کہ یہ کس طرح کی تقسیم تھی جس میں ہزاروں لوگوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنا گھر بار سب ہمیشہ چھوڑ کر  جو ایک لکیر کھینچ دی گئی تھی اس کو پار کر کے دوسری طرف چلے جائیں۔ اس عمل میں ہزاروں لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے ۔ جن میں ہندو ، مسلمان  اور سکھ سب شامل تھے۔ اگر ھندوستان کی طرف مسلمانوں کو مارا گیا تو اِس طرف غدر میں ہندووں اور سکھوں کو بھی مسلمانوں کے ہاتھوں اپنی جانوں سے جانا پڑا۔

یہ کیسی تقسیم تھی جس میں مذہب کو بنیاد بنا کر ایک ملک کے دو ٹکرے کیے گئے۔ جو کہ تب ہی غلط ثابت ہوگیا جب پاکستان میں سب سے پہلے شامل ہونے والے بنگال والوں نے انیس سو اکہتر میں اپنا الگ وطن بنگلہ دیش بنا لیا ۔ کیونکہ جن حقوق کی پامالی کا سامنا ان کو متحدہ ھندوستان میں تھا ، وہ یہاں پاکستان میں بھی جاری رہا۔ اور مجبور ہو کر ان کو یہاں سے بھی علیحٰدہ ہونا پڑا۔

لیکن یہ سب ہو جانے کے بعد بھی ہر دفعہ یہاں یہ نام نہاد آزادی کا جشن منایا جاتا ہے۔ جس میں مختلف جگہوں پر تقریبات میں کیک کاٹے جاتے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر خاص ٹرانسمیشن چلا کر اس حوالے سے پروگرامز کیے جاتے ہیں۔ ملی نغمے چلائے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی سبز اور سفید رنگ کو استعمال کرکے آزادی کے حوالے سے ٹویٹر ٹرینڈ اور فیس بک سٹیٹس دیے جاتے ہیں۔ کئی نوجوان موٹر سائیکل پر ون ویلنگ کر کے اس دن آزادی کےلیے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرتے ہیں۔مگر ان میں سے کتنے لوگوں کوحقیقی آزادی کامطلب بھی پتا ہےاور کتنوں کواس بات کا ادراک ہے کہ آزاد اور خودمختار قومیں کیا ہوتی ہیں؟

سب سےپہلے تو یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ ہم ایک قوم بالکل بھی نہیں ہیں، بلکہ ہم مختلف انواع کے لساّنی ، سماجی، مذہبی ، ثقافتی اور دانشوری گروہوں کا ایک مجموعہ ہیں جن کا اپنا کوئی مشترکہ نصب العین سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ پھر آزاد اور خود مختار قومیں یا ملک ایسے ہوتے ہیں ، جہاں پر اس میں رہنے والوں کو اپنے خیالات اور عقائد کے مطابق اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی اجازت ہو۔

مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کی اس ریاست میں اگر آپ کا تعلق احمدی سمیت کسی اور اقلیت سے ہے، یا آپ کسی مخصوص گروہ کے حقوق کےلیےآواز اٹھاتے ہیں۔ یا آپ یہ مانتے ہیں کہ مذہب ہر فرد کا انفرادی مسئلہ ہے اور کسی بھی ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہونا چاہئیے۔ یا آپ سماجی اور معاشرتی مسائل کی نشاندہی کر کے ان پر بات کرتے ہیں ۔ یا فوج یا عدلیہ جیسے ادارے کی کسی غلط پالیسی یا فیصلہ پرکبھی تنقید کردیتے ہیں اور بھارت یا مغرب کی کسی اچھی پالیسی کی تعریف کردیتے ہیں تو یاتو آپ کافر ہیں اور یا پھر غدار کا تمغہ آپ کو دےدیا جائے گا۔ یہاں پر ان سب باتوں پر اختلافِ رائے تک رکھنے کی آزادی نہیں ہے۔

یہاں پر اگر آپ مذہبی رہنماوں ، فوجی اسٹیبلیشمنٹ اور سیاستدانوں کی اسٹیٹس کو کے مروجہ اصولوں کے مطابق زندگی گزارسکتے ہیں تو آپ کو ایسی آزادی کی خوشیاں منانے کا حق بھی حاصل ہے ۔ اس لیے آپ کو جشنِ آزادی مبارک ہو، بس آپ ، مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی ، غربت ، بچوں کے ساتھ زیادتی اور خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات، ریاستی سنسرشپ ، جنگی جنون ، ناکام اندرونی اور بیرونی پالیسیوں پر توجہ نہ دیں ۔