مہناز اختر

’’یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘‘  پی ٹی ایم کے   بعد وکلاء نے بھی ایک نعرہ بلند  کردیا ہے ’’یہ جو نیب گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘‘  جو بات پاکستان میں دبی دبی زبان میں ڈھکے چھپے انداز میں کی جاتی تھی اب کھلے عام کی جارہی ہے۔

تھوڑی دیر کے لیے ماضی کے مارشل لاز اور طالبان کی تاریخ ایک طرف رکھ کر پاکستانی سیاست میں  فوج  کے اثررسوخ اور نفوذ پر تحقیق کی جائے تو سب سے پہلے پاکستان کی  عدالت عظمٰی کا فیض آباد دھرنہ کیس فیصلہ ہماری آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ اس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک انتہائی حساس مذہبی معاملے پر تحریک لبیک کو استعمال کرکے فوج  2018 کے الیکشن کے نتائج پر اثرانداز ہوئی اور میڈیا کو کنٹرول کرکے عوامی رائے  کو تبدیل کیا گیا۔

اس فیصلے میں لکھا ہے ”  پاکستان میں پریس کی آزادی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پورے پاکستان میں ریاستی اداروں کی جانب سے غیراعلانیہ سینسرشپ لاگو کردی گئی ہے، جبر اور اشتہارات کی بندش، ہراسانی، حتٰی کہ صحافیوں پر حملے کے ذریعے۔ خاص طور پر جرنلسٹس اور مجموعی طور پر پورا معاشرہ مسلح افراد اور نام نہاد مذہب کے ٹھیکے داروں سے خوفزدہ ہے۔ کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹر  میڈیا پر “جبر“ کا الزام لگا چکی ہے کہ مخصوص حلقوں کی جانب سے جرنلسٹس اور ایڈیٹرز پر اپنے کام پر سیلف سینسر لگانے کا دباٶ ڈالا جاتا ہے۔ ایسے میں ریاستی اور غیرریاستی عوامل کو غیرآئینی اقدامات کی ترغیب ملتی ہے۔ ظاہر اور پوشیدہ سینسرشپ غیرآئینی اور غیرقانونی ہے۔ مبہم چالیں جیسے سیلف سینسرشپ کا مشورہ، آزاد نقطہ ہائے نگاہ کی حوصلہ شکنی کرنا، مخصوص و معین خیالات کو پھیلانا اور یہ ہدایت دینا کہ کسے ادارے میں رکھنا ہے اور کسے باہر نکالنا ہے، یہ سب غیرقانونی ہے۔  یہ عدالت ان عناصر کو تنبیہ کرچکی ہے جو ماضی میں ایسی شاطرانہ حرکتوں میں ملوث پائے گئے تھے۔  کوئی شخص، حکومت، محکمہ یا انٹیلیجنس ایجنسی آئین کے آرٹیکل 19 سے باہر جاکر آزادی اظہار رائے اور تقریر کے بنیادی حقوق میں تخفیف نہیں کرسکتی/کرسکتا۔ ایسے لوگ جو گمراہ کن نظریات کے زیر اثر یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی شاطرانہ چالوں سے مخصوص فواٸد حاصل کر سکتے ہیں، خود فریبی میں مبتلا ہیں۔

پاکستان ائیرفورس کے  مرحوم ائیرمارشل اصغر خان اس بات پر فکر مند تھے کہ کچھ ISI اور آرمی آفیسرز سیاسی ایجنڈا پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے اس فکر کا اظہار سپریم کورٹ کے سامنے کیا تھا اور کورٹ نے اس معاملے پر آئین کے آرٹیکل (3) 184 کے تحت توجہ دی تھی کیونکہ یہ بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے عوامی اہمیت کا معاملہ تھا۔ اس کورٹ کا فیصلہ ”مسلح افواج“ کے حلف کا حوالہ دیتا ہے کہ مسلح افواج کے تمام اراکین ”پاکستان کی وفاداری اور آئین کی بالادستی“ کا حلف اٹھائیں گے اور یہ کہ ”میں خود کو کسی بھی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں کرونگا/کرونگی“ ۔ ائیرمارشل اصغرخان کیس کا فیصلہ بیان کرتا ہے کہ سیکرٹ ایجنسیاں جیسے ISI، MI، IB وغیرہ کے آفیسرز یا اراکین کے انفرادی یا اجتماعی طور پر کسی غیر قانونی اقدام میں ملوث پائے جانے پر سخت کاروائی کی جائے گی، حلف شکنی کرنے یا غیرقانونی فعل میں ملوث ہونے پر ان کے ساتھ آئین کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔

ائیرمارشل اصغرخان کیس کے فیصلے کے مطابق ISI یا مسلح افواج کے آفیسرز یا اراکین کی سیاست اور میڈیا میں مداخلت یا کسی اور ”غیرقانونی“ اقدام میں شمولیت یا مداخلت کو روکا جانا چاہیے۔ اس کے برعکس جب TLP دھرنے کے مظاہرین وردی والے سے نقد رقم وصول کررہے تھے تو اس معاملے میں بھی  انکی شمولیت کا تاثر ملا۔  ڈی جی ISPR بھی سیاسی معاملے میں بیان دے چکے ہیں ” تاریخ ثابت کرے گی کہ 2018 کے جنرل الیکشنز شفاف تھے“۔ مسلح افواج اور ایجنسیاں مسلح افواج کے اہلکاروں کے ذریعے چلائی جاتیں ہیں بشمول ISI، ملٹری انٹیلیجنس MI اور ISPR پاکستان کی خدمت کرتے ہیں، سب پاکستان کے شہری ہیں۔ انہیں کسی مخصوص سیاسی جماعت یا اسکے کسی دھڑے کی ہرگز حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ اگر مسلح افواج کا کوئی رکن میڈیا کے خلاف/یا اسکے ذریعے جوڑتوڑ کرتا ہے یا اسکے ساتھ  سیاست بازی کرتا ہے تو وہ مسلح افواج کی دیانت اور پیشہ وارانہ مہارت کو مجروح کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 245 میں مسلح افواج کی ذمہ داری کو واضح طور پر بیان کردیا گیا ہے ”مسلح افوج، وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت، بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کے خلاف پاکستان کا دفاع کریں گی اور  قانون کے تابع شہری حکام کی امداد میں، جب ایسا کرنے کے لیے طلب کی جائیں، کام کریں گی“۔ ہمیں ایسے افراد کو ہرگز یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ اپنے غیرقانونی اقدامات کی وجہ سے ان اہلکاروں کی عزت اور وقار کو مجروح کریں  جو بے لوث دوسروں کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دیتے ہیں”۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کی ایک انگریزی ویب سائٹ پر ایک  “نام نہاد” سندھی نوجوان  ایکٹیوسٹ ڈاکٹر فہیم احمد ابڑو کی کہانی پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس انگریزی میڈیا گروپ نے یہ کہانی فہیم کی فیس بک پوسٹ کا حوالہ دے کر لکھی تھی۔ فہیم اپنی پوسٹ میں اردو میں لکھتے ہیں ” پاکستان آرمی نے مجھے اپروچ کیا بہت دیر پہلے انہوں نے میرے ڈفرنس آف اوپینن پر مجھ سے بات کی میری پوسٹس پڑھتے رہے مجھے پتا بھی نہیں چلا۔ اک دن ان کی کال آئی اور بات ہوئی کچھ ان کی سنی کچھ ہم نے سنائی۔ میں نے اپنی کچھ سوچ سنائی انہوں نے میرے مس پرسیپشن کو دور کیا۔ سندھ کے نوجوان بھی پاکستان آرمی سے پیار کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے با عزت طریقے سے جی ایچ کیو میں مہمان بنا کے بلایا اور کہا ڈی جی صاحب اور پاکستان آرمی پاکستان کے ہر فرد سے پیار کرتی ہے۔ مجھے وہاں فل پروٹوکول کے ساتھ بلایا گیا۔  ڈی جی صاحب کو میں نے سندھی ٹوپی اور اجرک پیش کیا اور ڈی جی صاحب نے 15 منٹ تک بڑے بھائی کی طرح ہنس کے پیار سے بات کی اور میری امی ابو بھائیوں کے لئیے گفٹس دیے۔ انہوں میری لنڈن میں ایم ایس یورالاجی کا خرچہ لیا ہے۔ سندھ کے نوجوان کو متحد رکھنے اور پاکستان آرمی اور ڈی جی صاحب کے پیار کا پیغام دینے کے لئیے مجھے سندھ کے نوجوانوں کے ساتھ رہنے کا کہا ہے۔ ابھی میں پاکستان فورسز سے محبت کے لئیے پوری سندھ کے نوجوانوں کا گروپ بناؤں گا اور کراچی میں سیمینار کروانے لگا ہوں “( یہاں میں نے فہیم ابڑو کے الفاظ کو بلاترمیم و تصحیح نقل کیا ہے)

یہ کہانی فہیم احمد ابڑو اور میجر جنرل آصف غفور کی ملاقات کی تصاویر کے ساتھ شائع ہوئی۔ فہیم ابڑو کی پوری فیس بک ٹائم لائن اسی پراپگینڈا کا حصہ نظر آرہی ہے جس کی بابت تشویش کا اظہار پاکستان کے سنجیدہ سیاسی حلقوں کی جانب سے کیا جارہا ہے۔ فہیم احمد ابڑو جی ایچ کیو سے  تحائف، مراعات اور ایک عدد  “ٹاسک”  لے کر لوٹے ہیں۔ انہوں نے SPY  “سندھ پیٹری اوٹک یوتھ ” کے قیام کا اعلان کیا ہے. وہ اس ٹاسک کے تحت زیادہ سے زیادہ سندھی نوجوانوں کو فوج کی وفاداری کا سبق پڑھائیں گے۔ جی ایچ کیو ہمیشہ اسی طرز پر عوامی رائے پر براہ راست اثرانداز ہوتا چلا آیا ہے۔ ورنہ کیا کسی بھی حقیقی جمہوری ریاست میں عسکری ہیڈ کواٹر میں کسی عام شہری کو بلواکر نوجوانوں کی عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک تنظیم بنانے کا کام سونپا جاسکتا ہے؟

پورے پاکستان سے پختون، ہزارہ، پنجابی ، بلوچ، مہاجر اور سندھی نوجوان عسکری جبر اور لاپتا افراد کے حوالے سے سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں پر ان کی سنوائی نہیں ہوتی بلکہ ان کے خلاف ریاستی مشینری استعمال کرکے پراپگینـڈا کیا جاتا ہے۔ خود سندھ میں  سندھی نوجوان  سندھی لاپتہ افراد کے حوالے سے پاکستانی ایجنسیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں لیکن  انہیں جی ایچ کیو سے فہیم احمد ابڑو جیسا  کوئی دوستانہ دعوت نامہ موصول نہیں ہوا  بلکہ انہیں غائب کرواکر مستقل مہمان بنالیا جاتا ہے۔  بیس سالہ سندھی نوجوان عاقب چانڈیو مارچ 2018 سے لاپتہ ہے۔  ایک اور سندھی نوجوان اللہ وڈایو مہر بھی لاپتہ ہے۔ سندھی نوجوان جگہ جگہ ان دو نوجوانوں اور دیگر سندھی لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بلوچستان کا علی حیدر بلوچ  2013  سے  گیارہ سال کی عمر سے  اپنے والد رمضان بلوچ کی  بازیابی  کے لیے احتجاج کررہا تھا۔ کل ایک افسوسناک خبر آئی کہ گمشدہ والد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کرنے والے علی حیدر کو بھی لاپتا افراد کی فہرست میں شامل کردیا گیا ہے۔ سیاسی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں یا عسکری اشرافیہ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کی گمشدگی پاکستان میں “ڈیپ اسٹیٹ” کے تاثر کو مزید مضبوط  کررہی ہے۔ ان حالات میں جی ایچ کیو  “آئی ایس پی آر اسپانسرڈ”  ملی نغموں یا سائبر ڈیفنس سوشل میڈیا ٹیم یا  صدارتی نظام، امیرالمومنین، ریاست مدینہ، “سب سے پہلے پاکستان” یا  پھر ففتھ جنریشن وار کے کھوکھلے تصورات اور نظریات کے ذریعے حقیقی انقلاب کو روک نہیں سکتی۔ ریاستی ادارے خود اپنی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دراصل اس تشویشناک صورت حال میں جی ایچ کیو  کو “اسپائی” کی نہیں  “گڈ وِل ایمبیسیڈر” کی ضرورت ہے۔ جو ناراض پاکستانی نوجوانوں سے ملاقات کرے اور انہیں بھرپور اور دوستانہ تعاون کا یقین دلائے۔