مہنازاختر

دنیا جنس کی منڈی ہے، عورت بکنے والا مال جس کے تمام تر آجرانہ و تاجرانہ حقوق مرد کے پاس ہیں۔ دنیا میں عورت کی خرید وفروخت کے دو طریقے رائج ہیں۔ ایک باالواسطہ یا بلاواسطہ جسم فروشی کا اور دوسرے قسم کا کاروبار “وائٹ کالر کرائمز” کی طرح نسبتاً مہذب کہلاتا ہے۔ دوسری قسم کا کاروبار قدیم سماجی “بارٹرسسٹم” ہے۔ اس میں بہنوں یا بیٹیوں کا منظم سماجی تبادلہ ہوتا ہے۔ یہاں مرد شوہر بن کر یا بیٹی پیدا کرکے اس بہن، بیٹی یا بیوی نما مخلوق کے تمام تر مالکانہ حقوق حاصل کرلیتا ہے۔ عورت کو ملنے والی تمام تر عزت حتٰی کے زندگی کی مہلت بھی مرد کے قبضہِ قدرت میں ہے۔  

ہمالیہ سے اونچے مگر کھوکھلے معاشرے میں کچھ روز پہلے ایک نوعمر بچی گل سماء  کو اس کے مالکانہ حقوق رکھنے والے مردوں نے پتھر مار مار کر غیرت کے نام پر قتل کردیا۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ سنگساری کی سزا صرف عورت سمجھی جانے والی نوعمر بچی کو ملی اور غیرت کے نام پر ساتھ کوئی مرد قتل نہ کیا گیا۔ عورت پر مرد کی حاکمیت اور مالکانہ حقوق کے سماجی تصور کی ایک مثال اس وقت بھی سامنے آئی تھی جب خاموشی سے “دھندہ” کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پالنے والی فوزیہ نے قندیل بلوچ بن کر خود کو ظاہر کرنا شروع کیا اور بولنے لگی تو عزت والوں کو کھٹکنے لگی۔ فوزیہ عرف قندیل بلوچ جب تک شرفاء کی خلوتوں میں اپنے کپڑے اتارتی رہی تب تک ہردلعزیز اور کماؤ پوت سمجھی جاتی تھی لیکن جیسے ہی اسنے اپنے گاہکوں اور طلبگاروں کے کپڑے اتارنے شروع کیئے اسکے بھائیوں سمیت پوری قوم کی غیرت جوش میں آگئی اور غیرت کے نام پر اس کا قتل کرکے سماج کا فرض کفایہ ادا کیا گیا اور کیوں کہ مرنے کے بعد وہ اہل وعیال کے لیۓ “دوٹکے” کی بھی نہ رہی تو اسکے والدین نے اپنے تئیں  “مال مفت دل بے رحم” کے مصداق غیرت مند قاتل بھائیوں کو معاف بھی کردیا۔ قندیل بلوچ قتل والے معاملے میں بھی اس مرد کا نام کہیں سامنے نہیں آیا جس نے قندیل بلوچ کو “بے غیرتی” پر اکسایا اور پہلی بار دعوت “گناہ” دی۔

ڈرامہ سیریل  ” میرے پاس تم ہو” میں ماہ وش کا کردار روایتی بے وفا عورت کا ہے۔ اس ڈرامے میں ایک دوٹکے کے مرد کے لیۓ ایک دوٹکے کی عورت نے محبت کے رشتوں کو ٹھکرا کر دولت کے رشتے کو قبول کرلیا۔ پر اس میں نیا کیا ہے؟ کہانیاں، لوک داستانیں اور فلمیں ہمیشہ سے ہی وفا اور بے وفائی، بدلہ یا دھوکے کا بیان ہوتی ہیں۔ اس ڈرامے کے حوالے سے جس طرح کی سماجی ہلچل دیکھنے کو ملی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایک طرف تو  “دوٹکے کی عورت” والا طعنہ زبان زد وعام ہوا تو دوسری طرف زنگ زدہ روایت پسند معاشرے کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ اس ڈرامے میں مغربی ممالک کی طرح “لیوان ریلیشن شپ” کو بے غیرتی سے پرموٹ کیا گیا ہے۔ پر ڈرامے کا سب سے اہم پہلو جس پر زیادہ بات نہیں کی گئی اور جو پہلو ہمیں ایک مثبت پیغام دیتا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں دانش کے کردار کو تشدد پسند نہیں دکھایا گیا۔ مہوش اور دانش نے دو ذہنی بالغ افراد کی طرح بغیر تشدد اور گالم گلوچ کے اپنے راستے جدا کرلیۓ۔ اب ایسے میں ہمیں یہ فکر لاحق ہوئی کہ دانش کو کم ازکم ازروۓ شریعت بیوی کو زدکوب کرنے کا حق تو استعمال کرنا چاہیے تھا۔ دنیا کی نظر میں دانش لاکھ بزدل ٹہرا لیکن میرے ذہن میں فوراً یہ خیال آیا کہ دانش نے صبر کرکے سنت کی پیروی کی کیونکہ جب عائشہ صدیقہؓ کے کردار پر الزام لگایا گیا تو جناب رسالت مآبﷺ نے بہ حیثیت شوہر اور شارع ایسا کوئی کام نہ کیا جسے آج عورت کی تذلیل کے لیۓ شرع سے ثابت کیا جاتا ہے۔ چپ رہے، صبر کیا حتیٰ کے آیات برات نازل ہوئی۔ 

میں نظریاتی نرگیست کا شکار نہیں ہوں اور نہ غیر ضروری طور پر جدت پسندی یا قدامت پسندی کی طرف مائل ہوں لیکن جدت پسندی اور روایت پسندی کے تصادم میں انسانی اقدار کے زوال کو محسوس ضرور کررہی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ میں جس جانب اشارہ کررہی ہوں وہ معاشرے کا کُل نہیں بلکہ جُز ہیں۔ حاشیے پر بسنے والے وہ عناصر جو تھوڑی سی تعداد میں ہوتے ہیں لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ اکثر حاشیے پر موجود سرخی ہی مکمل خبر یا تصویر بن جاتی ہے اور جملہ حقائق اور تفصیل پر توجہ جاتی ہی نہیں۔ جس طرح ایک مچھلی پورے تالاب کو گندا کردیتی ہے بالکل اسی طرح حاشیے پر موجود عناصر پورے معاشرے کو نہ صرف گندا کردیتے ہیں بلکہ معاشرے کا تعارف بھی بن جاتے ہیں۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ پاکستانی معاشرے کے مسائل خصوصاً خواتین کے مسائل کا حل نہ روایت پسند پیش کرپارہے ہیں اور نہ جدت پسند۔ اس نظریاتی بے عملی یا ناکامی کی بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ دونوں اطراف کے نمائندے پاکستانی خواتین کے مسائل کی نبض پکڑنے کے اہل نہیں ہیں۔ یہ رسہ کشی کے مقابلے میں حصہ لینے والی دو مخالف ٹیمیں ہیں جو ہمیں اپنی اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ ایک ٹیم کہتی ہے اپنے مسائل کے حل کے لیۓ پیچھے دیکھو، دوسری ٹیم کہتی ہے کہ آگے بڑھنے والوں کے پیچھے پیچھے چلو۔ اس دھکم پیل میں مجھ جیسا کنفیوژ ذہن مزید کنفیوژ ہوجاتا ہے۔ 

میں صنفی مساوات وعدل کی انتہائی حامی ہونے کے باوجود پاکستان میں شہرت پانے والی “نیو فیمن ازم” کی تحریک سے خائف صرف اس وجہ سے ہوں کہ یہ تحریک اب نیچرازم نما لبرل ازم اور اینٹی اسلام ازم سے متاثر ہوکر ایک نیا “ازم” بنتی جارہی ہے، زور پکڑتی جارہی ہے۔ پدرشاہی کی مرد شاہی کے مماثل، مقابل اور بظاہر ردعمل کے طور پر ابھری “عورت شاہی” کی تحریک جو مردوں کی برابری میں اپنے پستانوں کی نمائش کرنے کو ہی مساوات کی علامت ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان میں اسکی حالیہ جھلک رابی پیرزادہ اسکینڈل کے وقت دیکھنے کو ملی جب رابی کی سپورٹ میں پاکستانی لبرل+فیمنسٹ+اینٹی اسلام  مشروم خاتون ایکٹیوسٹ نے ایک لایعنی قسم کی سوشل میڈیا تحریک شروع کی اور پاکستانی لبرلز کی غیرت کو للکارتے ہوۓ انہیں اپنے “اثاثہ جات” کی تصاویر اپلوڈ کرکے رابی پیرزادہ کو سپورٹ کرنے کی دعوت دی۔ بعد میں خود رابی پیزادہ نے اپنی ویڈیو میں اپنے ان ناکردہ گناہوں کو لاشعوری طور پر قبول کرلیا جس کا انکار انہوں نے خود کیا اور پھر سر پر سیاہ ڈوپٹہ اوڑھ کر قرآن کی آیتوں میں پناہ تلاش کرلی اور پستانوں کی نمائش کرنے والوں اور والیوں سے مکمل دستبرداری کا خاموش اعلان کردیا۔ 

میں ایسے ہر نظریے پر تنقید کو اپنا بنیادی حق جانتی ہوں جو مجھے میری سوچ کے دروازوں پر تالا لگا کر اپنی پیروی کرنے کو کہے۔ انگریزی کا ایک لفظ offend میرے جذبات و خیالات کے اظہار کے لیۓ انتہائی موضوع ہے۔ میں بہ حیثیت “عورت” آزاد کشمیر کی جامعہ کے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے اس اعلامیے سے کہ  جس میں طالبات کے لیۓ عبایہ پہننے یا سر ڈھکنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے اتنی ہی آفینڈ ہوئی ہوں جتنی “نوبرا ڈے” یا رابی پیرزادہ کی سپورٹ میں اپنے سینے کی نمائش کرنے والوں کے عمل سے ہوئی تھی کیونکہ دونوں ہی میری آزادی اور مرضی کے حق پر قدغن لگاتے ہیں۔ ایک نظریات کے نام پر مجھے کپڑوں سے سر تا پیر ڈھکنا چاہتا ہے اور دوسرا  کپڑے اتارنے کو میری آزادی بتاتا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ اگر میں قدامت پسندوں پر تنقید کروں تو لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ آپ کو کیا معلوم کہ اصل اسلام کیا ہے اور اگر اصل اسلام پاکستان میں نافذ کردیا جاۓ تو تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ دوسری جانب حالیہ مصنوعی جدت پسند رجحان پر بات کرو تو فیمنسٹ دوست کہتے ہیں کہ آپ کو کیا معلوم فیمن ازم کیا ہے؟ جس دن دنیا میں صحیح  فیمن ازم آگیا اس دن دنیا دنیا نہیں رہے گی “جنت” بن جاۓ گی۔

  میں نے چند ہفتوں سے سوچنا اور لکھنا قصداً ترک کردیا تھا لیکن اب بہ حیثیت لکھاری مجھے اپنی خاموشی گناہ محسوس ہوئی۔ ان دنوں ملک میں تین، چار، سات اور گیارہ سال کی بچیاں یوں کچلی گئیں کہ جیسے واقعی “دو ٹکے” کی ہوں۔ جیسے کہ یہ دنیا کے بازار میں بکنے والی حقیرترین اور  “ڈسپوزایبل” شۓ ہوں۔ دو واقعات میں تو بچیاں اپنے سگے ماموں اور چچا کے ہاتھوں جنسی حظ کا سامان بنیں اور استعمال کے بعد یوں قتل کردی گئی جیسے ٹشوپیپر استعمال کے بعد ناقابل استعمال جان کر کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔ آج گل سماء کی سنگساری کی خبر پڑھنے کے بعد ان پتھروں کی چوٹ کو کہیں نہ کہیں میں نے اپنی روح پر محسوس کیا، خود کو دلگرفتہ پایا۔ سنگساری کی اس خبر کے تناظر میں فریقین اپنے اپنے نظریات پھر سے سماج کی رگوں میں انڈیل رہے ہیں اور میں سوچ رہی ہوں کہ اگر واقعی میں اصل اسلام اور اصل فیمن ازم صرف کتابوں کی زینت بن گۓ ہیں اور حقیقت میں انکا اطلاق ناممکن ہے تو نظریات کے پرچارکوں کو اب اپنا منہ بند کرلینا چاہیے کیونکہ نظریات ہمارے کسی کام کے نہیں اگران کا اطلاق معاشروں پر نہ کیا جاسکے۔ حقیقت تو بس یہ ہے کہ جس طرح دو جمع دو ہمیشہ چار ہوتے ہیں اسی طرح پاکستان میں فی الحال عورت کا بھاؤ صرف “دو ٹکا” ہے۔