عابد حسین

اکتوبر کی 30 تاریخ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 60 صفحوں پر مشتمل ایک تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ جس میں دہشت گردی کی تشریح کی گئی ہے کہ دہشت گردی کیا ہے اور قانون کے مطابق دہشت گرد کسے کہا جاسکے گا۔ جسٹس کھوسہ  نے دہشت گردی کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 

١۔ سیاسی مقاصد کے لیئے خوف و ہراس کی فضا قائم کرنا یا کرنے کی کوشش کرنا دہشت گردی ہوگی۔  

٢۔ مذہبی و نظریاتی بنیادوں پر افراتفری پھیلانا دہشت گردی زمرے میں آئے گا۔ 

  ٣۔ کسی کی زندگی کو نقصان پہنچانا دہشت گردی ٹہرائی جائے اور  املاک کو نقصان پہنچانے پر دہشت گردی کی دفعات لگائی جاۓ۔

  ٤۔ صحافیوں پر منصوبہ بندی کے تحت حملہ دہشت گردی کہلائےگی۔ 

  ٥۔ تاجروں اور کاروباری افراد پر حملہ دہشت گردی ہوگی۔ 

٦۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ دہشت گردی قرار پاۓ گی۔  

  ٧۔ کسی کو ذاتی جھگڑے، پیسوں یا جائیداد کے لیئے قتل کرنا دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آئے گا۔

سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو تجویز بھیجی ہے کہ دہشت گردی کی تعریف کو نئے سرے سے بیان کیا جائے۔ جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا ہے کہ حکومت کے سیاسی، مذہبی اور نظریاتی مقاصد  کے حصول کو دہشت گردی کے زمرے میں ڈالا جائے۔ سپریم کورٹ کے مطابق اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997 میں درج تعریف پر نظرثانی کرکے دہشتگردی کی نئی تعریف وضع کی جانی چاہیے۔ اگرچہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں بہت سی مثبت باتیں ہیں لیکن مجموعی طور پر  دہشت گردی کی نئی تعریف کی وجہ سے بعض بنیادی انسانی حقوق کی نفی بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سیاسی مقاصد کی اگر بات کی جائے یا ملک کے موجودہ سیاسی تناظر کو دیکھا جائے تو اس وقت اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف اسلام آباد میں اکٹھی ہوئی ہیں اور وزیر اعظم کے استعفٰے اور دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کررہی ہیں تو اگر ایک سیاسی جماعت اپنی جمہوری اور آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے احتجاج کررہی ہے لیکن سپریم کورٹ کے مطابق اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیئے آواز اٹھانا بھی دہشتگردی ہوگی۔ ایک مذہبی سیاسی جماعت حکومت کے خلاف نکلی ہے۔ سپریم کورٹ نے تو تشریح وضع کردی لیکن اگر حکومت چاہے تو اپنے سیاسی مخالفین اور سیاسی انتقام کی وجہ سے مظاہرین کو دہشتگرد قرار دے کر انہیں احتجاج سے روک سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کسی کے زندگی کو نقصان پہنچانا دہشت گردی کے زمرے میں آئے گا لیکن آگے جاکر اس فیصلے کی خود نفی کی جاتی ہے کہ ذاتی جھگڑے، پیسوں اور جائیداد کے لیئے کسی کو قتل کرنا دہشت گردی نہیں ہوگی۔ ایک طرف کہا جاتا  ہے کہ کسی کی زندگی کو نقصان پہنچانا دہشت گردی ہے لیکن اگر کوئی کسی کو قتل کری تو یہ دہشت گردی نہیں  ہوگی۔ املاک کو نقصان پہنچانا دہشت گردی ہوگی اور ہونی بھی چاہیئے کہ کوئی کسی کی املاک کو نقصان نہ پہنچائے۔  صحافیوں پر حملہ دہشتگردی کے زمرے میں آئے گا۔ یہ اچھا فیصلہ ہے لیکن دوسری جانب دیکھا جائے تو مملکت خداداد میں سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ آکر بہ زورِبازو صحافیوں کو ڈکٹیٹ کرتے ہیں تو کیا یہ دہشتگردی نہیں ہے؟ کاروباری افراد کو تحفظ دینا اچھی بات ہے لیکن مزدور کو بھی تحفظ ملنا چاہیئے۔ اگر چہ اس قانون کے کچھ مثبت اثرات بھی مرتب ہونگے لیکن مجموعی طور پر اس نئی تشریح سے مقتدر قوتوں کو چھوٹ مل جاۓ گی۔ ایسے ہی ایک مذہبی جماعت جو مذہب کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے اور پاکستان چونکہ اسلامی جمہوریہ ہے تو لازمی طور پر ایک مذہبی جماعت اپنے مطالبات منوانے نکلے گی، احتجاج ہوگا تو ہر طرح کے حالات پیش آسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کو اپنے مذکورہ فیصلے پر نظر ثانی کی اس لیئے بھی ضرورت ہے کیونکہ دہشت گردی کی نئی تعریف کی رو سے  آپ نے مذہبی جماعت اور سیاسی مظاہرین کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے لیکن ان قوتوں کو بھی لگام دینی چاہیے جو کسی کے گھر پر چڑھائی کر کے بغیر وجہ بتائے  لوگوں کو غائب کردیتی ہیں۔ تو کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے؟ مزید یہ کہ پارلیمنٹ کو بھی مذکورہ تجاویز کو قانون کا حصہ بنانے سے پہلے اس کی خامیوں کو دور کرنا چاہیے تاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے جانبداری اور لاعلمی کا تاثر نہ ملے۔