شیزا نذیر

جیسے بالی ووڈ میں کہا جاتا ہے “وہ بندہ ہی کیا جو ناچے نہ گائے” ویسے میں یہ کہوں گی کہ “وہ بندہ ہی کیا جو گھومے نہ پھرے”. منی بیگم کی طرح بولوں تو “آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہئے”، غلام علی بولیں تو “یہ دل یہ پاگل دل میرا… آوارگی‘‘

’’آوارگی” میرا مطلب ٹورزم میرا پسندیدہ مشغلہ. 2016 سے پہلے کسی نہ کسی وجہ سے سفر کا بہت کم شغل فرمایا لیکن شکریہ ہمراہی ٹورزم کا جس کی وجہ سے لگتا ہے کہ اب جی رہی ہوں زندگی۔

مارچ کے آخری ہفتے میں ہمراہی کے ساتھ پہنچی پنجاب کی خوبصورت سویک جھیل دیکھنے. میں جب کسی جگہ جاتی ہوں تو جانے سے پہلے گوگل ضرور کرتی ہوں. سویک لیک کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں. جو معلومات ملیں وہ یہ کہ سویک یعنی کہ کھنڈوعہ جھیل صوبہ پنجاب، ڈسٹرکٹ چکوال، تحصیل کلر کہار میں واقع ہے. اس جھیل کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے، جیسے کہ نرومی جھیل، سویک جھیل اور کھنڈوعہ جھیل۔

کھنڈوعہ چکوال کے اس چھوٹے سے گاؤں کا نام ہے جہاں یہ جھیل واقع ہے.کھنڈوعہ پنجابی زبان کا لفظ کھنڈ یعنی کہ مٹھاس سے نکلا ہے. یوں کھنڈوعہ جھیل کا مطلب میٹھے پانی کی جھیل ہے۔

ہم لاہور سے کھنڈوعہ پہنچے تو جھیل کی طرف جانے کے لیے ہمیں کئی بار مقامی لوگوں سے پوچھنا پڑا. یوں تو مقامی لوگوں کی زبان پنجابی ہی ہے لیکن پنجابی کا لہجہ لاہوری نہیں اس لئے ہمیں سمجھنے میں تھوڑی مشکل ہوئی. بالآخر ہمیں جلیبی چوک نظر آ گیا جہاں سے ہمیں سویک جھیل کی طرف جاتی ہوئی سڑک ملی۔

جلیبی چوک پر ڈرائیور نے بتایا کہ یہاں سے ہی کچھ کھانے کی چیزیں لے لیں، جھیل پر کچھ نہیں ملنے والا. لہٰذا ہم سب نے وہاں سے پکوڑے، سموسے اور چائے پی. میں نے چائے نہیں پی لیکن باقی لوگوں نے بتایا کہ یہاں گڑ والی چائے بہت مزے دار تھی. اتنی مزے دار کہ ہمراہی واپسی بھی وہاں سے چائے پینا چاہتے تھے لیکن ہمارے پاس وقت کم تھا اس لیے ہم نے واپسی وہاں قیام نہیں کیا. جلیبی چوک میں ہم نے سوچا کہ پینے کے لیے پانی بھی لے لیا جائے. دکان دار نے ہمیں فریج میں منرل واٹر کی بوتلیں نکال کر دیں. پانی کی بوتل پر جب غیر معروف کمپنی کا نام دیکھا تو دکان دار سے جانی پہچانی کمپنی کے پانی کا کہا۔ دکان میں ایک نو عمر لڑکا شیلف میں پڑی الماری کے اوپر والے حصے سے بوتل نکالنے کی کوشش کرنے لگا۔

ایک بزرگ جو کہ غالباً دکان کا مالک تھا، نے کہا کہ وہ پانی ٹھنڈا نہیں جس پر میں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہمیں گرم ہی دے دیں. کیونکہ گرمی زیادہ نہی تھی کہ ٹھنڈا پانی ہی پیا جاتا. جب مالک نے دیکھا کہ ہم جانی پہچانی کمپنی کا گرم پانی لینے پر بھی مان گئے تو اسے کہنا پڑا کہ نہیں وہ بس ڈسپلے کے لیے رکھا ہوا ہے، بیچنے کے لیے نہیں. ہم نے ایک دو بار اصرار کیا کہ شاید خواتین کا لحاظ رکھتے ہوئے ہمیں یہی پانی مل جائے لیکن یہاں خواتین کارڈ نہ چلا. دراصل ہوتا یوں ہے کہ ایسے دور دراز علاقوں میں دکان داروں کو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں زیادہ دکانیں تو ہیں نہی اس لیے وہ نل سے پانی بھر کر اسے مہنگے داموں بیچتے ہیں اور ڈسپلے کے لیے جانی پہچانی کمپنیوں کے پانی بھی رکھے ہوتے ہیں. اکثر گاہک بس ڈسپلے میں لگی بوتل دیکھتے ہیں اور جو ان کو پیش کی جاتی ہے اس کو نہی دیکھتے. یا پھر گاہک کو مجبوراً وہی پانی لینا پڑتا ہے. ہمارے ساتھ بھی یہی ہونے والا تھا اور ہم دوسری دکان پر چلے گئے. اب میں اپنی ہوشیاری پر نازاں تھی کہ دیکھا میں نے تو بوتل پر سے کمپنی کا نام پڑھ لیا ورانہ تو باریش بزرگ ہمیں دھوکا دینے ہی والے تھے لیکن مجھے کیا معلوم کہ ہر دکان میں یہی سین تھا یعنی کہ وہاں تین سے چار دکانیں اور لوکل پانی کو مہنگے داموں بیچ رہے تھے. پھر ہم نے اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ یہ پانی ضرور موٹر پمپ کے ذریعے زمین سے نکالا گیا ہو گا تو اچھا ہی ہو گا. میں اکثر سوچتی ہوں کہ ستر روپے کی بوتل پر اپنا ایمان بیچنے والی قوم کہتی ہے کہ ہمارے اخلاق سے متاثر ہوا جائے۔  

جلیبی چوک سے جب آگے بڑھے تو تھوڑی دیر بعد ہی کھنڈوعہ گاؤں کی کچی تنگ سڑک شروع ہو گی اور گاؤں کے چند لڑکے ہماری کوسٹر کی جھیل کی طرف راہنمائی کرنے کے لیے گاڑی کے آگے ہو لئے. راستہ کچا تھا اور ہمارا ڈرائیور چاہتا تھا کہ بس ہم یہیں اتر جائیں اور آگے پیدل جائیں لیکن ہم بھی ڈھیٹ بن کر بیٹھے رہے کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ گاؤں کے پاس پارکنگ ہے اور پارکنگ میں جیپس ہیں. جہاں سے ہمیں جھیل تک کچھ جیپ میں اور کچھ ہائکنگ کر کے سفر کرنا ہو گا۔

تنگ اور کچے راستے سے ہوتے ہوئے ہم کھنڈوعہ گاؤں کے ایک کھلے میدان میں پہنچے جو کہ پہاڑوں کے درمیان تھا. گاڑی سے نیچے اترے تو نہایت دل کش ہوا نے ہمارا استقبال کیا. لاہور سے تین ساڑھے تین گھنٹے کے سفر کی تھکان ہوا کے چند جھونکوں سے دور ہو گئی. پہاڑ کی ایک طرف بلندی پر بکریاں چر رہی تھی. میں نے نظر اٹھا کر دیکھا اور اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ میں وہاں تک ہائکنگ کرنا چاہتی ہوں جہاں بکریاں چر رہی ہیں تو ایک مقامی نے میری توصیح کی کہ یہ بکریاں نہیں بلکہ گائے بھینسیں ہیں جو بلندی پر ہونے کی وجہ سے بکری کے سائز کی لگ رہی تھیں.

ہم جیپ پر بیٹھ کر سویک جھیل کی طرف چل دئیے. راستہ کافی پتھریلا تھا کہ مجھے ایک دم یوں لگا جیسے ہم سری پایہ کے ٹریک پر ہیں. ہماری جیپ میں ایک پانچ سالا بچہ بھی تھا کہنے لگا “ماما میں تو ہل ہل کر تھک گیا ہوں”. پتھریلے راستے کی وجہ سے جیپ بری طرح ہل رہی تھی کہ ہم سب ایک بار پھر تھکن محسوس کرنے لگے۔ پندرہ منٹ کے بعد ہمیں پیدل چل کر جھیل تک پہنچنا تھا. تو ہم  نے ہائکنگ شروع کی. زیادہ تو نہیں لیکن تھوڑا خطرناک راستہ تھا. ان لوگوں کے لیے یہ ایڈونچر سے کم نہیں جنہوں نے لاہور میں صرف شملہ پہاڑی پر ہی ہائکنگ کی ہے۔

جھیل سے ہو کر کچھ لوگ اوپر آ رہے تھے. چند لڑکے ہم لڑکیوں کو دیکھ کر روایتی لڑک پن (میں یہاں اِس کو ٹھرکن پن نہیں کہوں گی) کا مظاہرہ کرنے لگے اور آپس میں بلند آواز سے کہنے لگے کہ ’’یہ کیا جھیل ہے، بکواس، اتنا سفر کر کے نیچے جاؤ اور جا کر کیا دیکھو، ایک جوہڑ؟‘‘ لڑکوں کی بھر پور خواہش تھی کہ ہم لڑکیاں یہ سن کر واپس اُنہی کے ساتھ اوپر چلی جائیں۔ لیکن ہم تین گھنٹے کا سفر کر کے اُن کی خواہش پوری کرنے تو آئے نہیں تھے۔ لہذا سفر جاری رکھا گیا۔

سویک جھیل کا ٹریک بہت زبردست ہے۔ چھوٹے بچے یعنی پابچ سال تک کے بھی آسانی سے اِس سفر کو انجوائے کر سکتے ہیں۔ کچھ راستہ نہایت تنگ تھا۔ ایک طرف پہاڑ دیوار کی طرح اور دوسری طرف قد آوار جنگی پودے۔ راستہ اتنا تنگ کہ مجھے مشتاق یوسفی کی بات یاد آ گئی۔ وہ اندرون لاہور کی گلیوں کے بارے میں کچھ یوں لکھتے ہیں کہ لاہور کی گلیاں اِس قدر تنگ ہیں کہ اگر ایک طرف سے خاتون آ رہی ہو اور مخالف سمت سے حضرت تو بیچ میں بس نکاح کی گنجائش ہی بچتی ہے۔ سویک جھیل کا تنگ ٹریک آدھی فرلانگ سے بھی کم ہو گا۔

جب ہم نیچے جھیل پر پہنچے تو ایک دَم تو لڑک پن کرتے ہوئے لڑکوں کی بات ذہن میں آ گئی۔ جھیل بے شک چھوٹی تھی لیکن جوہڑ تو کسی صورت میں نہیں کہا جا سکتا۔ اتنا سبز پانی میں نے اِس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ یوں معلوم ہوا جیسے کسی نے زمرد کا فرش بچھا دیا ہو۔ اِس زمرد کے فرش کو کیمرا بھی فوکس نہ کر پایا جو ہم نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا۔ ہم سب کم گہرے پانی میں چلے گئے جہاں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں بھی پانی میں دیکھ سکتے تھے۔ پانی نہایت شفاف لیکن پینے کے قابل نہیں تھا کیونکہ بہت سے لوگ تیراکی بھی کر رہے تھے۔ پھر ہم کشتی پر بیٹھ گئے اور کشتی بان ہمیں جھیل کی دوسری طرف لے گیا جہاں سے پہاڑ پر سے پانی رس رس کر جھیل میں اکٹھا ہو رہا تھا۔ میں رستا ہوا پانی پیا۔ پہاڑ پر سمندری گھاس اُگی ہوئی نہایت دلکش لگ رہی تھی۔ تین چار فٹ کی ایک غار بھی تھی یعنی پہاڑ کا کچھ حصہ بالکونی کی طرح آگے بڑھا ہوا تھا جو جھیل سے تقریباً دو فٹ تک اونچی تھی۔

کشتی بان سے ہم نے جھیل کی گہرائی پوچھی تو اُس نے بتایا کہ درمیان سے جھیل کی گہرائی چالیس فٹ ہے لیکن کشتی بان کو ٹھیک سے معلوم نہیں تھا کہ گہرائی کتنی ہے۔ انٹر نیٹ پر بھی جھیل کی گہرائی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ کچھ لڑکے تیراکی کر رہے تھے۔ کلف جمپنگ انتظامیہ نے منع کر دی ہوئی ہے کیونکہ چند سال پہلے یہاں کوئی خادثہ ہو گیا۔ کلف جمپنگ کرتے ہوئے کسی نوجوان کا سر جھیل میں کسی چٹان سے جا لگا۔ اور پھر جھیل کے گرد ایک جھنگلا لگا دیا گیا۔

جھیل کی سامنے والی سائیڈ پہاڑ کی چڑھائی بالکل عمودی ہے۔ میرا بڑا دِل کیا کہ میں پہاڑ کے اوپر تک جاوں تاکہ وہ جگہ دیکھوں جہاں سے پانی نیچے کی طرف گرتا ہے۔ کشتی بان نے بتایا کہ ابھی تک چند لوگ ہی پہاڑ تک پہنچ پائے ہیں جن میں سب کے سب گاؤں کے ہی ہیں۔ یا پھر پاکستانی آرمی کے نوجوانوں کی ایک رجمنٹ جو  بہت سال پہلے یہاں اپنی ٹریننگ کرنے کے لئے آئی اور آفیشلی اُنہوں نے ہی اِس جھیل کو بھی دریافت کیا۔ فوجی جوانوں کی رجمنٹ کا نام سویک تھا اور اُسی مناسبت سے اُس کو نیشنل لیول پر سویک جھیل (Swaik Lake ) کا نام دے دیا گیا۔

واپسی پر ہم ایک بار پھر سے اُسی تنگ راستے پر گامزن تھے۔ اور اب ٹریک کا بھی جائزہ لے رہے تھے۔ پہاڑوں کے بیچوں بیچ ایک کھاڑی بنا دی گئی ہے جہاں سے جھیل کا پانی ایک سمت میں ہو جاتا ہے اور یہ پانی آب پاشی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیپ ڈرائیور ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ہم چونکہ جھیل میں بھیگ گئے تھے تو شام کے وقت ہوا مزید ٹھنڈی ہو گئی تھی اور باقاعدہ سردی محسوس ہونے لگی۔ سویک جھیل کے ارد گرد پہاڑوں سے کوئلہ بھی نکالا جاتا ہے۔

جب ہم پارکنگ میں آئے تو ہمراہی نے مزے دار چکن بریانی وہیں پر تیار کی اور تیاری میں مقامی لوگوں نے کافی مدد کی۔ پہاڑ پر سے گائے بھینسوں کے نیچے اترنے کا وقت بھی ہو چکا تھا اور میں نے دیکھا کہ بکریاں بھی نیچے اتر رہی ہیں جو بلندی پر ہونے کے سبب پہلے میں دیکھ نہیں پائی تھی۔ بکریوں نے کھانا کھاتے ہوئے ہمیں کافی تنگ کیا تو مجھے کھیوڑا سالٹ مائن کی بکریاں یاد آ گئیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں پر بھکاری نہیں بلکہ بکریاں تنگ کرتی ہیں۔

کھانے کے بعد ہم واپس لاہور کی طرف گامزن تھے۔ میں سوچنے لگی کہ اتنی خوبصورت جھیل کے بارے میں انٹر نیٹ پر معلومات نا ہونے کے برابر کیوں ہیں۔ انٹرنیشنل سیاح نہیں تو کم از کم پاکستانی سیاحوں کے لئے راہنمائی ملنی چاہئے۔ ہم کس قدر بد نصیب قوم ہے کہ اپنے ہی ملک میں چند گھینٹوں کی دوری پر (پنجاب کے باسیوں کے لئے چند گھنٹے کی دوری) قدرت کا حسن دیکھنے سے قاصر ہیں کیونکہ اُس کے بارے میں معلومات ہی نہیں ہیں۔ پارکنک ایریا اتنا وسیع اور خوبصورت ہے کہ وہاں سیاحوں کی سہولت کے لئے کھانے پینے کا انتظام بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن وہاں پر صرف جیپ ڈرائیور ہی تھے جنہوں نے کھانا بنانے میں مدد کی۔

آخر میں یہ کہنا چاہوں گی کہ اِس عید پر اگر آپ ایک دِن کا ٹور پلان کر رہے ہیں تو سویک جھیل کو بھی اپنی فہرست میں شامل کریں۔ خوبصورت جگہ ہے اور دیکھنے کے قابل بھی۔