مظفر نقوی

جب بھی آپ گوشت لینے جائیں تو زیادہ تر قصاب آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ بھائی کہ بوٹی چھوٹی رکھوانی ہے کہ بڑی۔اب آپ کی مرضی ہے کہ آپ کو کیا چاہیے چھوٹی یا بڑی بوٹی مگر وہ پوچھتا ضرور ہے۔مگر مہذب دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ سے پوچھے بغیر ہی آپ کی بوٹیاں بنا دی جاتی ہیں۔

یہ کس نے، کب اور کیسے کیا ، کس کی بوٹی بنی ؟ یہ مت پوچھیے گا بس میرا ذہن ایسے ہی کسی قصاب کے دورے کی وجہ سے میں دل کے دورے کے قریب پہنچ گیا تھا ۔ بس کیا کروں منتشر ذہن کا بندہ ہوں نا باقی چھوڑیں یہ بتائیں کہ بوٹیوں کے ساتھ شوربا بھی کھاتے ہیں کیا آپ؟

اور آج کل یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ یمن میں بچے کیوں زیادہ موٹاپے کا شکار ہیں ہو سکتا ہے آج کل زیادہ کھا پی رہے ہوں ۔آخر ان کے پاس ہی تو ایک مقدس سرزمین ہے۔ اور اس پے اس کے والی امت مسلمہ کے عظیم لیڈر جناب حضرت محمد بن سلمان العزیز والی مکہ و مدینہ سرکار عرب وعجم فاتح یمن غازی بحر و برجو موجود ہیں۔ تو کون ان کے ہوتے دنیا میں مر سکتا ہے۔ ممکن ہی نہیں ہے۔۔ویسے میرے دل میں بھی نا کبھی کبھی عجیب درد اٹھتا ہے محلے کا پتا نہیں ہوتا کہ کون بھوک سے مر رہا ہے مگر ہزاروں کلومیٹر دور کا درد اٹھ پڑتا ہے،کیا کروں جب ہمارے لیڈر ہی سارا دن دنیا کی ثالثی کرواتے پھریں تو آپ کو مجھ سے کیا تکلیف ہے۔میں کیا کسی سے کم ہوں۔

ویسے مجھے تو سبزیاں زیادہ پسند ہیں کیونکہ کب بڑی چھوٹی بوٹی کی غلطی میں آپ کا قیمہ بن جائے کوئی پتا تھوڑی چلتا ہے۔آپ ہوتے ہیں اور پھر آپ، آپ نہیں ہوتے پھر آپ شیعہ ، سنی ، پشتون ، بلوچ ، سندھی اور کبھی کبھی آپ پنجابی مسنگ بھی بن جاتے ہیں۔ مسنگ مطلب یاد آنے ولا آپ بھی نا پڑھتے پڑھتے لگتا ہے غلط سوچنے لگ جاتے ہیں۔
مگر میرا تو کوئی قصور نہیں صاحب ۔

اچھا حضور جانیے دیجیے سنا ہے کہ خان صاحب ریاست مدینہ بنانے کے لئے اُلٹے پاؤں لوٹ رہے ہیں ابھی ریاست آل سعود کا افتتاح ہوا چاہتا ہے.بس 13 سوسال اور انتظار کر لیں۔اور ہاں آپ نے گھبرانا نہیں ہے بس زبان بند رکھنی ہے ۔

اور خاص طور پر شیعہ کمیونٹی پلیز شٹ اپ

ان کو سمجھ نہیں آتی کہ یہ اپنی بکواس بند کیوں نہیں کرتے یہ ایران کیوں نہیں چلے جاتے ۔میرا بس چلے تو سب کو ایران بھیج دوں ۔مگر میرے اماں ابا بھی چلے گئے۔ تو میں اکیلا کیا کروں گا ۔بس یہی سوچ کہ چُپ ہو جاتا ہوں۔مگر آپ اپنی کوشش جاری رکھیے ان کو ملک سے نکالتے رہیں۔

اور تو اور آج تو وزارت داخلہ نے بھی باقاعدہ ایک نوٹس دیا ہے کہ شیعہ کمیونٹی اپنی اوقات میں رہے۔ ٹھیک ہے ان پے ظلم ہوئے ہیں ان کو مارا گیا ہے مسجد امام بارگاہوں میں دھماکے ہوئے ہیں سنچریاں بنائی گئیں ہیں۔مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ مہمان کی شان میں گستاخی کی جائے اور اپنے بکواس پیجیز سے مہمانوں کے خلاف زہر اگلا جائے۔وہ بھی وی وی آئی پی کے خلاف۔

ایس نہیں چلے گا جناب اب اگر آپ کو دُکھ ہے کہ یمن میں بچے بُھوک سے مر رہے ہیں تو شکر کرو تمہارے بچے تو پیٹ بھر کے کھاتے ہیں ۔کبھی کبھی بس بارود کی خوشبو بھی سونگھ لیتے ہیں۔اور اگر سعودی عرب میں کسی 6 سال کے بچے کا قتل اس کے شیعہ ہونے پے ہوا ہے تو کیا ہوا ؟

کونسی قیامت آ گئی ہے۔حوصلہ رکھو سکون سے رہو۔
اور پلیز شٹ اپ زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں زیادہ دل میں درد ہے تو ایران چلے جاؤ۔