چند روز قبل ایس پی طاہر داوڑ کی لاش کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، تو وفاقی وزراء کو یہ کہتے سنا گیا کہ یہ تصاویر ’فوٹوشاپ‘ یعنی جعلی ہیں۔ اور اس کے بعد اچانک یہی وزرائے بہ شمول وزیراعظم عمران خان روتے پیٹتے نظر آئے کہ پاکستان ایک عظیم پولیس اہلکار سے محروم ہو گیا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان کے اندر دو طرح کی آرا موجود ہیں۔ ایک سرکاری بیان ہے کہ ممکنہ طور پر دہشت گرد گروہ نے افغانستان کی ریاستی مدد کے ذریعے طاہر داوڑ کو اغوا کیا اور پھر انہیں قتل کر دیا گیا۔ دوسری طرح متضاد رائے ہے، جو یہ کہہ رہی ہے کہ اس قتل میں خود پاکستانی ایجنسیاں ملوث ہیں۔ اس سلسلے میں حقائق تو یقیناﹰ وقت گزرنے کے بعد سامنے آئیں گے۔ مگر چند ایک معاملات ایسے ہیں، جن پر تفصیلی نگاہ کی ضرورت ہے۔

پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ طاہر داوڑ کون تھے اور ان کا بیانیہ کیا تھا۔ اس قتل کی حکومت کی جانب سے تصدیق کے بعد میری نگاہ طاہر داوڑ کی فیس بک پر پڑی۔ میں اصل میں جاننا چاہتا تھا کہ یہ پولیس افسر کون تھا اور اسے کیوں قتل کیا گیا۔

طاہر داوڑ کی فیس بک وال واضح کر رہی تھی کہ وہ انسانوں اور ریاست سے محبت کرنے والا شخص تھا اور قانون کی بالادستی اور مساوی حقوق کا مضبوط حامی تھا۔ رواں برس جنوری میں طاہر داوڑ نے خود میری ایک ویڈیو شیئر کی ہوئی تھی، جس میں اس نے لکھا تھا کہ توقیر صاحب ہم میں سچ کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہے، ایسا نہ ہو آپ کو بھی لاپتا کر دیا جائے۔

اس جملے سے خود ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ ایک سینیئر پولیس افسر کس کی جانب اشارہ کر رہا ہے؟ اور وہ میری زندگی سے متعلق کیوں خوف زدہ تھے؟ کیا افغانستان کی ایجنسیوں سے مجھے خطرہ تھا؟

طاہر داوڑ کی فیس بک ٹائم لائن پر دو چیزیں بڑی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھیں، ایک تھی ریاست کے لیے ان کی محبت اور دوسری جانب انسانی حقوق خصوصاﹰ پشتونوں کے حقوق سے متعلق ان کی فکر۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ طاہر داوڑ کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا، انہیں ملک کے مختلف علاقوں سے گزارتے ہوئے افغان صوبے ننگرہار میں لے جا کر قتل کر دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر طاہر داوڑ کا قتل ہی مقصود تھا، تو ان قاتلوں کو اتنی مشقت کی ضرورت کیا تھی اور خصوصاﹰ اگر اس میں افغان ایجنسیاں ملوث ہوتیں، تو یہ تو نہایت بے وقوفی کی بات ہے کہ وہ طاہر داوڑ کو اسلام آباد سے اغوا کر کے اتنا بڑا خطرہ مول لے کر ملک کے مختلف علاقوں سے گزارتے ہوئے ننگر ہار لے جا کر قتل کریں، قتل کی تصدیق کریں، پاکستان کو مطلع کریں اور سارا الزام ان پر آ جائے۔

اس سے بھی زیادہ خوف ناک بات یہ ہے کہ جس علاقے سے طاہر داوڑ کو اغوا کیا گیا، اس علاقے کے کیمرے ناکارہ تھے۔ یعنی واردات کے وقت کی فوٹیج موجود نہیں تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اغواکاروں نے پہلے اس پورے علاقے کے سکیورٹی کیمروں کو ناکارہ بنایا۔

یہ معاملہ اس لیے بھی خوف ناک ہے کہ کیوں کہ اگر اس میں کوئی غیرملکی خفیہ ادارہ شامل ہے، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں کون سا شہری محفوظ ہے؟ اگر ایک ایس پی کو ملک کے دارالحکومت سے اغوا کیا جا سکتا ہے، متعلقہ علاقے کے کیمرے خراب کیے جا سکتے ہیں، موبائل فون ٹریسنگ نظام معطل کیا جا سکتا ہے، ملک کے مختلف علاقوں سے باآسانی گزارا جا سکتا ہے، جگہ جگہ موجود فوج اور سکیورٹی چوکیوں کو چکمہ دیا جا سکتا ہے اور بغیر ویزا سرحد عبور کر کے افغان پہنچا جا سکتا ہے، تو پھر پاکستان کی کیا شے اور کون سا شہری محفوظ ہے؟

اس اغوا کے وقت حکومت اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے مکمل خاموشی بلکہ نادرست بیانات اس بابت مزید سوالات پیدا کر رہے ہیں۔ مختلف حکومتی عہدیداروں کی جانب سے کئی بیانات ایسے دیے گئے، جو خوف ناک حد تک گم راہ کن تھے۔ پھر لاش کی حوالگی کے حوالے سے بھی افغان اور پاکستانی رہنماؤں اور میڈیا کے ذریعے اپنے اپنے ملک کے بیانیے کا پرچار کیا گیا، مگر اس میں بنیادی انسانی اقدار کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔

افغان رہنماؤں کی جانب سے قتل کا براہ راست الزام پاکستان پر عائد کیا گیا اور کہا گیا کہ لاش پاکستانی حکومت کے حوالے نہیں کی جائے گی، دوسری جانب پاکستان کی جانب سے قتل کا الزام افغانستان پر لگایا گیا۔ حتیٰ کہ وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار صاحب نے بھی اس معاملے پر متعدد متضاد بیانات دیے۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ اس قتل کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ سے وابستہ اور رکن قومی اسمبلی سمیت دیگر پشتونوں کی جانب سے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاستی اداروں پر سنگین نوعیت کے الزامات یا کم از کم ان کی تفتیش پر عدم اطمینان کے بیانات سامنے آئے۔ حتیٰ کے محسن داوڑ نے اس سلسلے میں ملکی تحقیقات کی بجائے بین الاقوامی تفتیش کا مطالبہ کیا۔

سوال یہ ہے کہ اگر ریاستِ پاکستان یا ادارے واقعی اس واقعے میں ملوث نہیں اور واقعی کوئی دہشت گرد گروہ یا افغانستان کی ریاست یا ایجنسیاں اس کے پس پردہ ہیں، تو ایسی صورت میں تو یہ مطالبہ خود پاکستانی حکومت اور اداروں کو کرنا چاہیے تھا، تاکہ اس قتل میں ملوث افراد کے تعین کے ساتھ ساتھ پاکستان میں کسی غیرملکی ایجنسی کے ایسے مکروہ کردار کو دنیا کے سامنے لایا جاتا۔

کم زور اور ذہنی طور پر نابلد قوموں کی یادداشت کبھی اچھی نہیں ہوتی۔ طاہر داوڑ کا معاملہ بھی سردخانے ہی کی نذر ہو جائے گا۔ اس ملک کی تاریخ میں پچھلے ستر برسوں میں ایسے کئی سانحات، کئی حادثات، کئی قتل اور کئی واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ یہاں کیا اہم ہے اور کیا اہم نہیں ہے۔ کم از کم میں نے آج تک ایسے کسی ایک بھی سانحے یا واقعے کی تفصیلات حکومت کی جانب سے عوام سے بانٹتے نہیں دیکھی، جس کے بارے میں ’حساس‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ پاکستان میں آپ جب بھی ’حساس‘ یا ’وسیع تر قومی مفاد‘ کا لفظ سنیں، سمجھ جائیں کہ اس معاملے پر کوئی معلومات کم از کم اس کی زندگی میں اس تک نہیں پہنچے گی۔ اس لیے طاہر داوڑ کا کیس بس بند سمجھا جائے۔

پشتون ہوں یا سندھی، بلوچ ہوں یا کشمیری، گلگت بلتستان کے باسی ہو یا سرائیکی اور مہاجر،، حتیٰ کے پنجابی جہاں جہاں آپ حقوق کی بات کریں گے، آپ کو ٹھیک وہی کچھ سننے کو ملا تھا، جو آج سے نصف صدی قبل ہم بنگالیوں کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ پاکستان کی تاریخ میں فاطمہ جناح سے لے کر آج تک کوئی ایک بھی شخص یا قوم یا تحریک یا تنظیم یا گروہ ایسا نہیں، جس نے شہری آزادی، حقوق، قانون کی بالادستی، جمہوریت یا مساوات کا مطالبہ کیا ہو اور غدار اور غیرملکی ایجنٹ قرار نہ پایا ہو۔ اس لیے کہ ریاست کو حقوق مانگنے والوں کی نہیں غلاموں کی ضرورت ہے اور وجہ یہ ہے کہ ہم دھرتی پر بسنے والی قوموں کو پاکستانی نہیں سمجھتے بلکہ ان کے علاقوں کو پاکستان کہتے ہیں۔ سو قومی بیانیہ یہ ہے کہ طاہر داوڑ کے قتل میں غیرملکی ایجنسیاں شامل ہیں اور طاہر داوڑ کے قتل کی تحقیات کا مطالبہ غیرملکی ایما پر کیا جا رہا ہے۔