مہناز اختر

ہیش ٹیگ “حامد حرامی میر” کیا آپ کو  “حرامی” نام کی  “حلال” گالی پڑھنے میں بری لگی؟ یقین جانیے مجھے یہ گالی لکھتے ہوئے شدید کراہت ہورہی تھی لیکن جب تک ہم معاشرے میں موجود گند اور تعفن کا سامنا نہیں کریں گے اس کی صفائی نہیں کی جاسکتی۔ ہم جو گالیوں کو حرام سمجھ کر بڑے ہوئے آج کچھ مولویوں کی زبانی معلوم ہوا گالیاں بھی حلال ہوتی ہیں۔ میں سینئیر صحافی حامد میر کو ذاتی طور پر نہیں جانتی اس لیے میں یہ طے نہیں کرسکتی کہ وہ ’’حرامی‘‘ ہیں یا نہیں اور جس بات کا مجھے علم نہیں اس کا بہتان کسی کی ذات پر باندھ کر میں کیوں خود کو گناہ گار کروں۔ میں حامد میر کو ہیش ٹیگ کی شکل میں باقاعدہ مہم چلا کر دی جانے والی گالی سے بریت کا اعلان کرتی ہوں۔ البتہ میں یہ ضرور کہہ سکتی ہوں کہ حامد میر  کم از کم اپنے پیشے کے ساتھ حرام خوری نہیں کررہے ہیں اور انجام کی پرواہ کیئے بغیر سچ بولنے اور بار بار حکومت کو للکارنے کا فریضہ بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ سچائی، درستی اور مقصدیت  صحافت کے تین بنیادی اصول ہیں۔ دی ایلیمنٹ آف جرنلزم کے مصنیفین بِل اور ٹام اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’’صحافت کا مقصد عوام سے وفاداری ہے اور خود کو پابند کرنا ہے کہ عوام کو ہمیشہ سچ بتایا جائے۔ صحافی کا کام بااثر اشرافیہ اور اداروں پر نگرانی رکھنا ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ صحافی کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام تک مصدقہ معلومات اور اطلاعات پہنچائے۔‘‘  حامد میر پر لگائے جانے والے الزامات اور ان کو دی جانے والی گالی سے بریت یوں بھی ضروری ہے کہ انہوں نے خود اپنے ویڈیو پیغام میں ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے انہیں جھوٹا ثابت کیا ہے۔

اب رخ کرتے ہیں دوسرے ہیش ٹیگ  ’’اریسٹ اینٹی پاک جرنلسٹس‘‘ کی جانب  آسان الفاظ میں کہا جائے تو یہ ہیش ٹیگ چلانے والے ’غدارِ وطن یا پاکستان مخالف‘ صحافیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آئین پاکستان کی رو سے سنگین غداری کیا ہے پہلے یہ جان لیتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 6 کے مطابق “کوئی شخص جو طاقت کے استعمال یا طاقت سے یا دیگر غیر آئینی ذریعے سے دستور کی تنسیخ کرے یا تنسیخ کرنے کی سعی یا سازش کرے، تخریب کرے یا تخریب کرنے کی سعی یا سازش کرے سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔ کوئی شخص جو مذکور افعال میں مدد دے گا یا معاونت کرے گا اسی طرح سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔ پارلیمنٹ بذریعہ قانون ایسے اشخاص کے لیے سزا مقرر کرے گی جنہیں سنگین غداری کا مرتکب قرار دیا گیا ہو۔” اب ساری ذمہ داری عوام کی ہے کہ وہ آئین کی اس شق کی روشنی میں طے کرے کہ آیا پاکستان کی مخالفت اور فوج کی ریاست و سیاست میں دراندازی کی  مخالفت ایک بات ہے یا یہ دو متضاد باتیں ہیں۔ قارئین کو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ آپ ایک بار آئین کی شق تین تا دس کا مطالعہ کریں اور خود سے دو سوالات  کریں، کیا اس وقت پاکستان میں یہ شقیں عملی طور نافذالعمل ہیں یا انہیں   آیات منسوخہ کی حیثیت دے کر آئین میں سجاوٹ کے طور پر باقی رہنے دیا گیا ہے؟

حامد میر اور دیگر صحافیوں کو گرفتار کیوں کیا جائے، کیا واقعی انہوں نے اپنے وطن سے غداری کی ہے یا پھر ان کا جرم بس اتنا ہے کہ اب انہوں نے جی ایچ کیو کے احکامات کے آگے سرتسلیم خم کرنے سے انکار کردیا ہے؟

آئین کی شق 243 اور 245 پر بھی ایک نظر ڈالیے اور خود سے ایک اور سوال کیجیے کہ اس وقت کون سا ادارہ کس ادارے کے ماتحت ہے۔ بس ڈنڈے اور کوڑوں کی جگہ بلیک میلنگ نے لے لی ہے ورنہ ملک میں مارشل لاء عملاً نافذ ہے۔ ترجمان افواج پاکستان وقفے وقفے سے ریاستی پالیسیوں کی  بابت عوام کو بریفنگ دیتا ہے، آرمی چیف معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے ماہرین معیشت کی رہنمائی کرتے ہیں، وزیر مملکت کے برابر میں بیٹھ کر ایک آرمی آفیسر پریس بریفنگ دیتا ہے اور ستم بالاہائے  ستم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس آف پاکستان کی سربراہ آمنہ مسعود بھی جنرل آصف غفور کے ساتھ کھڑے ہوکر کہتی ہیں کہ گمشدگی کے تمام واقعات کو فوج اور خفیہ اداروں کے کھاتے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ ٹی وی پر جی ایچ کیو سے منظورشدہ بیانیہ چل رہا ہے۔ مطیع اللہ جان، طلعت حسین، عاصمہ شیرازی، حامدمیر اور دیگر صحافی عوام کو چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ آپ کے ساتھ دھوکا ہورہا ہے، آپ کے فکری اور سیاسی حقوق غضب کیئے جارہے ہیں لیکن نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔

کہتے ہیں کہ بد سے بدنام برا تو اس وقت ریاست کی عمارت کے تینوں ستونوں پارلیمان، عدلیہ اور میڈیا کو اس قدر مشکوک بنادیا گیا ہے کہ عوام صرف کلف لگی وردی والے فوجی  افسران  کو ہی اپنا پالن ہار سمجھ رہی ہے۔ پارلیمان، عدلیہ اور صحافت کی عمارت کو عسکری دیمک نے چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کردیا ہے بس ایک بوٹ والی لات صحیح وقت کی منتظر ہے کہ کب پارلیمانی نظام کی عمارت کو گرا کر صدارتی نظام کا محل پاکستان میں کھڑا کردیا جائے۔ کرائے کے مولویوں نے تو پہلے سے ہی جمہوریت کو غیراسلامی قرار دے کر اپنا ہوم ورک پورا کر رکھا ہے اور اب عوام کو سیاستدانوں کے کرتوت دن رات دیکھا دیکھا کر جمہوریت بیزار کیا جارہا ہے۔ اسلامی ریاست اور خلافت کا خواب دیکھنے والی بھولی بھالی عوام یوں بھی صدارتی نظام کو اسلامی نظام گردانتی ہے اور سپہ سالار کو سربراہ مملکت بنانے کو شرعی طور پر جائز سمجھتی ہے۔

یقین مانیے کہ اس وقت عوام دال روٹی اور گیس بجلی کے جس عذاب سے گزر رہی ہے وہاں اکثریت کی سیاستدانوں کے بارے میں ایک ہی رائے ہے کہ “ان سے نا ہوپائے گا یہ گورمنٹ بک چکی ہے” عوام شکوہ کرتی ہے کہ ہم سیاستدانوں یا صحافیوں کا ساتھ کیوں دیں؟ بلاول بھٹوزرداری یا مریم نواز کی آوازوں میں یہ گرج تب کیوں نہیں ہوتی جب عوام پر کوئی آفت آتی ہے یا پھر یہ صحافی مہنگائی یا لوڈ شیڈنگ جیسے عوامی مسائل پر اتنی ہی شدت سے آوازکیوں نہیں اٹھاتے جیسے آج اٹھا رہے ہیں۔ عوام کا شکوہ بجا ہے کیونکہ شروع سے ہی ہمارے ملک میں صحافت اور سیاست کا قبلہ عوام کے بجائے اقتدار و ایوان رہا ہے۔ آج پاکستان کے عوامی ادارے بے بسی کی انتہا پر کھڑے ہیں۔ عدالتی فیصلے اور ججز قسمیں کھا کھا کر عوام کو سچائی بتا رہے ہیں کہ  وردی والے آپ کے معاملات میں مداخلت کررہے ہیں، صحافی اور سیاستدان چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ہم پر وردی والے ڈنڈا بردار مسلط ہیں لیکن عوام مایوس ہے، بے اعتبار ہے کیونکہ انہیں کسی مسیحا کا انتظار ہے۔  بھلے سے وہ مسیحا وردی پہن کر جی ایچ کیو کی عمارت سے کیوں نہ نمودار ہو۔ اس وقت صحافیوں اور لکھاریوں کے کندھوں پر دوگنی ذمہ داری ہے۔ انہیں تحمل کے ساتھ بار بار عوام کو یہ سمجھانا ہوگا کہ آپ کی نجات کا واحد راستہ  جمہوریت ہے۔ معتوب سیاستدانوں کی حمایت اور عسکری حمایت یافتہ حکمرانوں کی مخالفت جمہوریت کی بقا کے لیے ناگزیر ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ججز کو یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ ہم  نے جرنیلوں سے این آراو لے کر جمہوریت کے تابوت میں اپنے حصے کی کیل ٹھونکی، نواز شریف سمیت تمام سیاستدانوں کو بھی اپنا جرم تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم نے بھی ماضی میں جی ایچ کیو کے سائے میں پناہ لے کر جمہوریت اور مخالف سیاستدانوں کی سیاست کی قبر کھودی تھی۔ اس کے علاوہ  تمام بڑے صحافیوں کو عوام کے آگے اپنا جرم قبول کرنا ہوگا کہ ہم نے بھاری تنخواہوں اور مراعات کے لالچ میں عوامی مسائل کو پس پشت ڈال کر کئی سالوں تک اسٹوڈیوز میں سیاستدانوں کو ریٹنگ کے حصول کے لیے کتوں کی طرح لڑوایا ہے۔ صحافیوں کو کراماً کاتبین کی طرح سچا اور غیرجانبدار ہونا چاہیے۔

قائداعظم محمد علی جناح نے 12 مارچ 1947 کو بومبے پرووینشل مسلم جرنلسٹ ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا  “آپ کے پاس ایک عظیم طاقت ہے، آپ لوگوں کی رہنمائی  یا  انہیں گمراہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، آپ  کے پاس کسی کی  شخصیت کو سنوار کر یا بگاڑ کر پیش کرنے کی طاقت ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ طاقت بھروسے کی طاقت ہے اور اس طاقت کو قوم کی فلاح کے لیے استعمال کرنا آپ کا فرض ہے۔ میں آپ سے بہادری کی توقع کرتا ہوں۔ میں آپ کی جانب سے کی گئی تنقید کو خوش دلی سے قبول کروں گا۔ میں آپ سے یہ توقع کرتا ہوں کہ اگر میں یا مسلم لیگ غلطی پر ہو یا ہماری پالیسیاں غلط سمت میں جاتی دیکھائی دیں تو ایک ایماندار دوست کی طرح آپ ہم پر تنقید کریں گے۔”  اس وقت حامد میر سمیت چند دیگر صحافی عین وہی کام کررہے ہیں جس کا مطالبہ بابائے قوم نے صحافیوں سے کیا تھا، تو پھر غدّار کون ہے اس کا فیصلہ آپ خود کیجیے۔