وقاص احمد

مملکت ناپرساں میں “مائی لارڈ” اور “مائی باپ” دو ایسی مقدس ہستیاں ہیں جن کو “معصوم عن الخطا” اور “مقدس”  تصور کیا جاتا ہے۔ ہرچندکہ ان کے مبینہ تقدس کی بنیاد کسی ان دیکھی روحانیت پر نہیں بلکہ ان کی نقصان پہنچانے کی صلاحیت پر استوار ہے۔ پھر بھی “مائی باپ”  کو اس معاملے میں “مائی لارڈ” پر ایک ایسی “تزویراتی برتری” حاصل ہے جس کی وجہ سے مائی باپ مائی لارڈ کی طنابیں بھی کس سکتے ہیں۔ اس لیے اس جنگل کے بے تاج بادشاہ بلاشبہ “مائی باپ”  ہی ہیں۔ مملکت ناپرساں کی جڑوں میں یہ مقدس ہستیاں اس کے قیام کے دن سے بیٹھی ہوئی ہیں اور اب اپنی اپنی جگہ تناور درخت بن چکی ہیں۔ ہر درخت کی طرح اس درخت پر بھی پھل اگتے ہیں۔ چونکہ یہ پھل، جو کہ بیالوجی کے مطابق اسی مقدس درخت کے بچے ہیں سو اسی مناسبت سے یہ پھل بھی مقدس ہی کہلاتے ہیں لیکن بیالوجی کا علم ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ پھل جب پک کر میٹھا ہوجاتا ہے تو درخت سے جدا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اس مقدس درخت پر لگنے والے کچھ پھل پک کر اور میٹھے ہوکر اس سے جدا ہوجاتے ہیں۔ کچھ پھل نشوونما کی کمی یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر اس درخت کے ساتھ جڑے جڑے ہی گل سڑ جاتے ہیں۔ جدا ہوجانے والے پھل چونکہ مقدس نہیں رہتے اس لیے ان کا آپ اچار، مربہ، چٹنی یا رائتہ کچھ بھی بنا سکتے ہیں۔ جس سے حضرت اقبال کی یہ بات بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ امیدبہار صرف اور صرف شجر سے پیوستہ رہنے کی شرط سے ہی منسلک ہے۔

چلیں تمثیلات میں کافی بات ہوگئی ہے۔ اب آپ کو مائی لارڈ اور مائی باپ کے کچھ بچوں کا تعارف ایک دفعہ پھر کرواتے ہیں۔ ان سے ملیے! یہ ایک وفاقی وزیر ہیں، غالباً سوات کے رہنے والے تھے اسی لئے نام کے آخر میں سواتی آتا ہے۔ مملکت ناپرساں آنے سے پہلے امریکہ میں کسی مالی فراڈ کی وجہ سے پکڑے گئے۔ انہی صلاحیتوں کی وجہ سے وفاقی وزیر بنے۔ کسی غریب کی گائے کی وجہ سے پورے خاندان پر تشدد کروانے کی وجہ سے خبروں کی زینت بنے۔ مائی لارڈ نے ایکشن لیا۔ وہ ایکشن کیا تھا یہ مجھے یاد نہیں۔ اتنا یاد ہے کہ ایکشن سے پہلے یہ وفاقی وزیر تھے اور ایکشن کے بعد بھی وفاقی وزیر ہیں۔

ان سے ملیے! ان کا نام مجھے یاد نہیں رہتا اس لیے آسانی کے لیے برج خلیفہ کی نشانی رکھی ہوئی ہے۔ ایسا ہی کچھ بھلا سا نام ہے “برج یا ابراج”  دنیا کی تاریخ کے چند سب سے بڑے مالیاتی اسکینڈلز میں سے ایک اسکینڈل ان کا ہے۔ مائی باپ کے چہیتے بچے کی پارٹی کے اکلوتے بڑے فنانسر ہیں۔ ظاہر ہے کاروباری شخصیت ہیں۔ بچوں پر پیسے انویسٹ نہیں کرتے لیکن مائی باپ کی گارنٹی ہوگی جبھی تو خرچہ کیا۔ آج کل اپنے “ثابت شدہ جرائم”  پر بیرون ملک گرفتار ہیں۔ گرفتار ہونے پر اپنے تعلقات اور اپروچ کی دھونس جمانے کے لیے ہمارے مائی باپ کے لاڈلے کا فون نمبر تک دے دیا لیکن ظالموں نے ایک ناں سنی۔ مالیاتی فراڈ کی لسٹ میں ایک اور بڑا اسکینڈل مملکت پرساں کا توانائی سے متعلق ایک ادارہ سے متعلق تھا۔ جسے بینک کرپٹ کرنے کے بعد یہ کسی کو بیچنے کے چکر میں تھے۔ لاڈلے نے اپنے فنانسر کی فنانسنگ کا احسان برابر کرنے کے لیے حکومت ناپرساں کے سربراہ کی حیثیت سے بیرون ملک کسی کمپنی کو ذاتی طور پر “چونا لگانے” کی کوشش کی۔ ملاقات کی تفصیلات اور تصویری ثبوت اخبارات میں چھپ گئے۔ سودا نا ہوسکا مگر آج تک اس عالمی فراڈیے کے خلاف پاکستان میں ایک ایف آئی آر تک درج نا ہوسکی کہ کوئی سراغ لگائے کہ اس عالمی فراڈیے کے جرائم کا دائرہ کار پاکستان میں کہاں کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔

ان سے ملیے! یہ ایک مشیر بدرجہ وزیر مملکت ہیں۔ ان کی زلفیں بہت خوبصورت ہیں اس لئے نام کے ساتھ زلفی لگاتے ہیں۔ ان کے باپ اور چچا انسانی اسمگلنگ کے قبیح مقدمات میں پاکستان میں مطلوب اور مفرور تھے اور اس کاروبار میں اربوں روپیہ بھی کمایا تھا لیکن چونکہ زلفی صاحب غالباً ناں اپنے چچا کے بھتیجے لگتے ہیں نا ہی اپنے باپ کی بیٹے سو اسی اسمگلنگ کے اربوں روپے   کو بذریعہ زلفی استعمال کرنا جائز بلکہ ضروری سمجھا گیا۔ زلفی صاحب کی دہری شہریت کی بنیاد پر اعتراض ہوا تو مائی لارڈ نے آگے بڑھ کر دست شفقت سر پر رکھ کر معاملہ رفع دفع کیا۔ پھر مملکت ناپرساں کے کچھ کم مقدس اداروں نے اسمگلنگ کے اس کاروبار کی تحقیقات کے لیے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا تو مائی باپ نے لسٹ میں نام ڈالنے والے ڈپٹی سیکریٹری کو مرغا بنا کر ہوائی اڈے بھیجا کہ جاؤ خود ہمارے بالک کو جہاز میں بٹھا کر آؤ۔ وہ دن اور آج کا دن کسی کو مزید اعتراض کی ہمت نہیں ہوئی۔

ان سے ملیے! دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے جعلی ڈگری اسکینڈل کے مرکزی کردار۔ (ویسے یہ ہمارے لیے قابلِ فخر بات ہے کہ دنیا کی تاریخ کے بڑے مالیاتی اسکینڈل اور بڑے جعلی ڈگری اسکینڈل کے روح رواں ہمارے مائی باپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایویں تو نہیں کہتے کہ نمبرون نے پوری دنیا کو نتھ ڈال کر رکھی ہے). جعلی ڈگری اور بلیک میلنگ کے کاروبار میں مبینہ طور پر اربوں کھربوں روپیہ کمانے کے بعد اس کالی کمائی کو سفید کرنے کے لیے ان صاحب (بلکہ ان کے آقا) نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کھول لیا۔ پیسے کی بہتات کا اندازہ اس سے لگائیں کہ بی بی سی نے اپنی دیڑھ سو سال کی تاریخ میں جتنے اسٹوڈیوز کھولے ہیں ان صاحب نے اپنے کاروبار کا آغاز ہی اس سے زیادہ اسٹوڈیوز سے کیا۔ مائی باپ کے منظورِنظر صحافیوں کو کروڑوں روپے ماہانہ کی تنخواہوں پر بھرتی کیا گیا اور مائی باپ کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیوں کو خبروں، تجزیوں، خواہشوں اور حقائق کا رنگ دیکر پرچار شروع کیا گیا۔ چند برس قبل ان صاحب کا گروہ بیرون ملک پکڑا گیا۔ اعتراف جرم ہوا، سزا ہوئی، مملکت نا پرساں میں تحقیقات کا ڈول ڈالا گیا لیکن کچھ عرصے میں ہی پتہ چل گیا کہ حکومت نے جس تحقیقات کا ڈول اس اندھے کنوئیں میں ڈالا ہے اس ڈول کی رسی مائی باپ نے کاٹ دی ہے۔ چینل بند ہوا تو مائی لارڈ نے حکم امتناعی دے دیا۔ این او سی کینسل ہوا تو  نامقدس اداروں کے متعلقہ افسران کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیکر کھلوا لیا گیا۔ کیبل آپریٹرز کی آواز تو ان کے حلق سے نکلنے سے پہلے ہی روک دی گئی۔ ایک سرکاری تحقیقاتی ادارے کے پانچ پراسیکیوٹرز جو اس کیس کی تحقیقات کر رہے تھے، یکے بعد دیگرے جان سے مارے جانے کی دھمکیوں کی وجہ سے کیس کی پیروی چھوڑ گئے۔ ایک پراسیکیوٹر تھوڑا ڈھیٹ نکلا تو اس کے گھر پر دستی بموں سے حملہ ہوگیا۔ ایک چھوٹے مائی لارڈ نے 50 لاکھ روپیہ رشوت لیکر کیس داخل دفتر کردیا لیکن خدا برا کرے کچھ صحافیوں کا کہ انہوں نے اس واردات کی خبر دے دی۔ چھوٹے مائی لارڈ استعفیٰ دیکر گھر چلے گئے اور بڑے مائی لارڈ نے مملکت ناپرساں کی عزت اور حمیت کو نقصان پہنچانے والے مجرموں کو “عبرت کا نشان” بنانے کی تڑی لگاتے ہوئے اس کیس کو اپنے دفتر میں لگوایا اور پھر تمام “قانونی تقاضوں” کو مدنظر رکھتے ہوئے اتنی خوبصورتی سے اس کیس کو ٹھکانے لگایا کہ لوگ ششدر ہیں کہ ایک کمپنی کہ جو بیرون ملک اعتراف جرم کے بعد جرمانے، بندش کی سزا بھگت رہی ہے، جس نے جعلی ڈگری اور بلیک میلنگ کے پیسے منی لانڈرنگ کرکے مملکت ناپرساں میں پہنچائے ہیں وہ اس ملک میں کیسے معصوم ثابت ہوگئی ہے؟

ان سے ملیے! ان کا حدود اربعہ ہمیں اتنا ہی پتہ ہے کہ یہ صاحب چائلڈ پورنو گرافی، بچوں کے ساتھ زیادتی اور ایسی ہی چند قبیح حرکات میں ملوث اور مطلوب ہیں۔ چونکہ بچوں کے شعبے میں ان کی “خدمات، تحقیقات اور معلومات”  کا دائرہ کار بہت وسیع ہے اس لیے ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے لیے مملکت ناپرساں کے ایک صوبے میں یہ بچوں ہی کے حقوق اور تحفظ کے لیے قائم ایک ادارے کے مشیر ہیں اور لاکھوں روپے کی تنخواہ لیتے ہیں۔

تو میرے عزیزو! یہ تھیں چند چیدہ چیدہ کہانیاں مائی باپ اور مائی لارڈ کے ان بچوں کی جن کے بارے میں اداروں سے لیکر اخبارات تک انکشافات، تفصیلات اور حقائق سے بھرے پڑے ہیں، لوگ انہیں جانتے بوجھتے ہیں، ان پر بات کرتے ہیں، حوصلہ ہو تو دو چار کوسنے بھی سنا دیتے ہیں اور ان کی طرف دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں ہنس بھی لیتے ہیں لیکن کیا آپ نے کبھی مائی باپ کے مائی باپ کی ایسی کہانیاں سنی ہیں؟  بھلا کون؟ وہی شخصیت جو ابھی چند دن پہلے بیرون ملک اپنے جرم کا اعتراف کرکے ایک تگڑا جرمانہ بھر کر آئی ہیں۔ شک و شبہ کی گنجائش اس لیے نہیں چھوٹتی کہ وصولی کرنے والے بیرونی ادارے نے اس پر سرکاری اعلامیہ جاری کیا ہے لیکن ادھر مملکت پرساں میں اس معاملے پر موت سا سکوت طاری ہے۔ ظاہر ہے جب معاملہ مائی باپ کے مائی باپ کا ہو تو زبان کیا آنکھیں تک کھلنے سے انکار کر دیتی ہیں۔ ہمارے ٹائیکون نے پچھلے دو عشروں میں درجنوں مائی باپوں اور مائی لارڈوں کو اکاموڈیٹ کیا ہے۔  صحافیوں سے لیکر سیاستدانوں تک اکثریت کے منہ اتنے بھرے ہیں کہ سانس لینے کی جگہ نہیں چھوڑی۔ مائی باپ کی ریٹائرمنٹ کے بعد “سیکنڈ اننگز” کے لیے پہلی ترجیح ان کے اپنے مائی باپ کی نوکری ہوتی ہے۔

ایسا نہیں کہ اس موضوع پر بات نہیں ہورہی۔ اس موضوع پر ہر طریقے سے بات ہورہی ہے۔ ماسوائے اس طریقے کے جس طریقے میں مائی باپ کے مائی باپ کا نام درمیان میں آئے۔ غیر مقدس اور مقدس اداروں کی بولتی بند ہے۔ جن کے ذمے جرم کی تحقیقات ہیں وہ وکیل صفائی بنے پھرتے ہیں۔ وہ صحافی جن کو باڈی لینگویج، مائی باپوں کی کانفرنسوں، کانوں میں کی جانے والی سرگرشیوں اور مائی لارڈ کے چیمبر میں لکھے جانے والے فیصلوں کو جاننے کا بھی دعویٰ ہوتا ہے وہ اس معاملے میں ایسے گھگھوگھوڑے بنے بیٹھے ہیں جیسے کوئی پینڈو پہلی دفعہ شہر کی بتیاں دیکھ رہا ہوتا ہے۔  ریکوری کروانے والے یونٹ کے سربراہ مجرم سے وصول شدہ رقم کو واپس اس کے اکاؤنٹ میں گھسانے کے راستے اور بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ کرپشن کے خلاف جنگوں کے صلاح الدین نیازی صاحب اپنے رفقاء کو ہدایت نامہ جاری کر رہے ہیں کہ خبردار کسی نے اس مقدمے پر زبان بھی کھولی تو زبان گدی سے کھینچ لوں گا۔ یقیناً یہ سب انتظام ضروری ہے۔ آخرکار مائی باپوں کے مائی باپ کا معاملہ ہے۔ کسی کوتاہی، کسی غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ گلشن کا کاروبار ڈالر، پاؤنڈ، روپے اور ریال سے چلتا ہے نا کہ اصول و قاعدے و ضوابط و قانون سے۔ یہ بات ہمیں سمجھانے کا بہت بہت شکریہ۔

وہ ایک گانا ذہن میں مسلسل گونج رہا ہے  “نا بیوی نا بچہ نا باپ بڑا نا بھیا  The whole thing is that کہ بھیا سب سے بڑا روپیہ “