سہیل افضل خاں

اگر ہم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پہ امید لگا کے بیٹھیں رہیں جو کہ خود اپنے اچھے وقتوں کے لوٹ آنے کی امید میں محکمہ زراعت والوں سے امید لگا کے بیٹھے ہیں تو امید ہے کہ راقم سمیت آپ سب کو اس ملک کے حالات اچھے دکھائی دیں گے۔امریکی سنڈی سے بچنے کیلیے حکومت کے بر وقت اقدامات ، ڈیم کیلیے چندہ جمع کرنے کے بابا جی کے احکامات کو جس احسن طریقے سے موجودہ میڈیا ہاؤسز نے بخوبی عوام کو دکھایا ہے اس پہ تمام میڈیا ہاؤسز اور محکمہ زراعت والے شاباش کے مستحق ہیں لیکن ان میڈیا ہاؤسز کیلیے گھر کے اس حصے کے دروازے بند ہیں جس حصہ کو آپ اور میں بلوچستان کے نام سے جانتے ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے حامد میر صاحب بلوچستان کے شاید کسی بڑے شہر کے پریس کلب کے باہر کھڑے یہ کہتے ہوئے دکھائی دئیے کہ پریس کلب کئی سالوں سے بند پڑا ہوا ان کے ایک ہاتھ میں بولنے کیلیے مائک جبکہ دوسرے ہاتھ میں پریس کلب کے مین گیٹ پہ لگا ہوا تالہ میڈیا کی آزادی کا منہ بولتا ثبوت پیش کر رہا تھا۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی خالی کردہ جگہ اب مکمل طور پہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس نے لے لی ہے جو کہ گھر کے ہر حصے کے بارے میں کھول کھول کر بیان کرتا ہے چاہے وہ حصہ ہم نے مصلحتا چھپا رکھا ہو یا پھر اسکو چھپانے کے احکامات اوپر سے صادر کیے گئے ہوں۔

گزشتہ کئی روز سے کچھ لوگ کوئٹہ پریس کلب کے باہر دھرنا دئیے بیٹھے ہیں ۔مطالبات ان کے تحریک لبیک والوں سے تھوڑے مختلف ہیں کیونکہ تحریک لبیک والے آسیہ نامی بی بی کی پھانسی چاہ رہے تھے لیکن یہ اپنے پیاروں کے غائب ہونے کا رونا رو رہے ہیں ۔اب ان کے پیارے اگر غائب ہو گئے ہیں تو اس میں ڈھنڈورا پیٹنے کی کیا بات ہے پنجاب کے لوگوں کو سوشل میڈیا پہ یہ سب کچھ ڈال کے ان کے جاگتے ہوئے ضمیروں کو بار بار جگانے کی کیا ضرورت ہے ۔ہم لوگ تو پہلے ہی حضرت خادم نامی بیماری سے تنگ ہیں اور اوپر سے آپ لوگوں کا رونا ۔جتنی دفعہ مرضی آپ فیسبک ۔وٹس ایپ یا ٹویٹر کو ریفریش کر کے دیکھ لیں ۔بار بار انھی لوگوں کے رونے والی پوسٹس سامنے آرہی ہیں ، ٹویٹر پہ تو یہ ٹرینڈ بھی ساتھ میں چل رہا ہے کہ شبیر کو بچاؤ ، شبیر کو بچاؤ
ابھی ان لوگوں کا رونا دھونا کم نہیں ہوا تھا کہ ساتھ میں ایک اور ٹرینڈ دیکھنے کو ملا کراچی کے نصراللہ نامی بزرگ صحافی کو بھی کسی نے غائب کر دیا یا پھر وہ خود گھر والوں سے لڑ جھگڑ کر کسی مزار پہ بیٹھ گئے ہوں گے۔

شاید ابھی پنجاب کے لوگوں کو ایسے سانحات دیکھنے کو کم ملتے ہیں جن میں انکا کوئی اپنا پیارا ، کسی بہن کا بھائی یا پھر کسی بیوی کا خاوند گھر یونیورسٹی یا پھر دفتر سے واپسی پہ اٹھا لیا جائے اور اسکے واپس آنے کی آس لگائے یہ لوگ یا تو عدالتوں میں ذلیل ہوں یا پھر سڑک کنارے آنسو بہاتے ہوئے ، نعرے لگاتے ہوئے گزرتے لوگوں کو اپنی بے بسی کا نغمہ سنائے یا پھر پنجاب کے باسی یہ نہیں چاہتے کہ ان پہ ایسی آفات نازل ہوں جن کی وجہ سے صوبہ پنجاب کا نام بدل کے بلوچستان رکھنا پڑے،خدا یہ وقت کسی کو نہ دکھائے۔

کوئٹہ پریس کلب کے باہر دھرنا دئیے کوئی اور نہیں بلکہ حوا کی بیٹیاں بیٹھی ہیں ۔ ریاست کی بسی کا رونا رو رہی ہیں ۔انکے خاندان کا اکلوتا کمانے والا انکا بھائی شبیر بلوچ دو سال پہلے زبردستی طور پہ اغوا کر لیا اور آج تک واپس نہ آیا یا پھر ابھی اس کے گناہوں کا کفارہ ٹھیک سے ادا نہیں ہوا جو اسے ابھی تک ناحق قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑ رہی ہیں ۔آج صبح ایک اور نو سالہ بچی اس دھرنے میں شامل ہوئی ، نام شاید زینب ہے اور وہ بھی اپنے بھائی کے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے اس دھرنے میں شامل ہوئی
زینب ہر بیٹی زینب ہوتی ہیں قصور کے زینب کی مردہ۔

لاش تھی کوئٹہ کے زینب کی زندہ لاش ہے فرق صرف اتنا ہے کہ قصورکی زینب پرمیڈیا انسانی حقوق کی تنظمیں اورہرانسانی دوست اداس تھالیکن کوئٹہ کے زینب کی زندہ لاش پر میڈیا سمیت تمام انسان دوست بھی اور ان کے آنسو بھی غدار ہیں۔

معصوم بلوچ بیٹی تعلیمی مکتب کے بجائے اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کے لئے احتجاجی کئمپ میں بیٹھی ہے ان کے آنسوؤں سے زمین پر ہمیں کچھ نہیں چائیے غیرت مند بہنوں اور ماؤں کے بیٹے اور بھائی کئی سالوں سے منظر عام سے غائب ہیں ان کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اس بے بسی کے عالم میں سڑکوں اور گلیوں کی زینت نہ بن پائیں
ان کے آنسوؤں سے زمین پہ سرکشی کی تخم ریزی ہوگی….! خدارا اس ملک پر رحم کریں۔

(متبادل مختلف موضوعات پر متنوع خیالات اور نکتہ ہائے نگاہ سے ماخوذ ہے۔ کسی مصنف کی رائے سے متبادل کا متفق یا نا متفق ہونا ضروری نہیں۔)