عاطف توقیر

شام میں گزشتہ کئی سالوں سے جاری مسلح تنازعے میں نصف ملین سے زائد افراد ہلاک جب کہ کئی ملین بے گھر ہو چکے، مگر ہم مکمل خاموش۔

عراق میں امریکی مداخلت سے لے کر اب تک لاکھوں افراد جان سے گئے، مگر کوئی مذمت نہیں۔

شدت پسند گروہ داعش نے شام اور عراق میں ہزاروں افراد خصوصاﹰ اقلتی مذاہب کے افراد کا قتل عام کیا، ہزاروں عورتوں کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور جنسی غلامی پر مجبور کیا، عورتوں کی خرید و فروخت کے لیے منڈیاں لگائی جاتی رہیں، مگر ہم مکمل چپ۔

یمن میں ایران اور سعودی عرب کے خطے میں اثر و رسوخ کے چکر میں ہزاروں افراد مارے گئے۔ ایران حوثیوں کو ہتھیار فراہم کرتا رہا اور سعودی عرب کی قیادت میں عرب طیارے وہاں آگ برساتے رہے، مگر ہماری جانب سے سناٹا۔

نائجیریا میں بوکوحرام کے ہاتھوں ہزار ہا افراد جان سے گئے، لاکھوں بے گھر ہو گئے مگر ہم مکمل طور پر بے حس۔
خود پاکستان میں ایک طرف دہشت گردوں کے ہاتھوں ہمارے بیس ہزار فوجی جوانوں کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر ستر ہزار انسان مارے گئے، مگر ہمارے مذمتی بیانات اگر مگر کی نذر۔

فلسطین میں اسرائیلی بربریت کا نشانہ بننے والے افراد کی مذمت مگر ترک فوج اور طیاروں کے ہاتھوں کردوں کے قتل اور ان کے گھروں کی تباہی پر ہم خاموش۔

میانمار میں برمی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں استحصال کی شکار روہنگیا آبادی کے قتل عام کا ماتم تو زور و شور سے، مگر سینکیانگ میں چینی فورسز کے ہاتھوں ایغوروں کے قتل اور بنیادی حقوق کی پامالی پر ہم چپ۔

بھارت میں مسلمانوں پر شدت پسند ہندوؤں کے حملوں پر تو شور مگر اپنے ملک میں اقلیتوں کے حقوق کی پامالیوں پر آواز اٹھانے والوں کی جبری گم شدگیوں پر سناٹا۔

حالت یہ ہے کہ نہ صومالیہ میں بھوک اور قحط سے مرنے والے لوگوں پر کوئی بات کرتا نظر آتا ہے، نہ افغانستان میں طالبان یا غیرملکی فورسز کی کارروائیوں میں مرنے والے معصوم شہریوں پر۔ نہ اپنے ہاں اپنے ہی طیاروں کے حملوں میں عام انسانوں کا قتل نظر آتا ہے نہ ہمارے مفادات کی بھینٹ چڑھتے ہزاروں انسانوں کے مستقبل۔

سعودیوں اور ایرانیوں سے یاریوں میں یمن کے ہزاروں انسانوں کے دکھوں پر بات نہ کرنا۔ شام میں لاکھوں انسانوں کی میتیوں کا غم نہ کرنا، چینیوں سے دوستی میں سینکیانگ کے ایغور مسلمانوں کے بنیادی حقوق سلب کر لیے جانے پر بھی ظالم کا ساتھ دینا اور صومالیہ میں قحط کے شکار افراد کو کوئی مالی فائدہ نہ ملنے کی بنیاد پر یک سر بھلا دینا یہ بتا رہا ہے کہ ظلم کے خلاف ہماری مذمت ہمارے ذاتی عقیدوں، مسالک، مالی فائدوں اور سیاسی مقاصد کے تحت ہوتی ہیں۔ تمام انسان برابر ہیں، تو تمام مظلوم بھی برابر ہونا چاہیئں۔

کچھ روز قبل افغان صدر اشرف غنی کا ایک اچانک ٹوئٹ سامنے آ گیا کہ انہیں پاکستان میں صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر تشویش ہے۔ گزشتہ روز ہلمند سے تعلق رکھنے والے ایک سینیٹر ہاشم الکوزئی نے بین الاقوامی خبررساں اداروں کو بتایا کہ جمعے کو ہلمند صوبے میں دو فضائی حملوں میں اکیس عام شہری مارے گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ اشراف غنی صاحب کی ٹوئٹر فیڈ کو دیکھا تو نہ کوئی مذمت نہ تشویش حتیٰ کہ متاثرین کے ساتھ یک جہتی یا افسوس تک کا اظہار بھی نہیں۔

ہماری اپنی حکومتوں اور حکم رانوں کا حال بھی آپ کے سامنے ہے۔ دنیا کے کسی خطے میں انسانی حقوق کی پامالی ہو، تو انسانیت کا درد پورے زور و شور سے بیانات میں پھوٹ پڑتا ہے، مگر یہی انسانیت بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان یا دیگر مقامات پر اچانک کہیں غائب ہو جاتی ہے۔ اصل میں یہ مذمت نہیں مفاد کی دنیا ہے اور یہاں انسانیت نہیں سیاست مقدم ہے۔یعنی کسی ظلم پر تشویش کا اظہار کرنا تو یقیناً اچھی باتُ ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ اصل میں دنیا بھر کی اشرافیہ کو تشویش ظلم پر نہیں ہوتی بلکہ خواہش اس ظلم سے تمام ممکنہ سیاسی یا مالی فائدہ اٹھانے کی ہوتی ہے۔

یہاں ترکی کی مثال نہایت اہم ہے۔ سن 2016 کے جولائی کے وسط میں وہاں ناکام فوجی بغاوت ہوئی۔ اس کے بعد سے خصوصی قوانین بنا کر صحافیوں کو خاموش کرایا گیا۔ ایردوآن کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے سینکڑوں صحافی انسداد دہشت گردی کے الزامات میں جیلوں میں ہیں اور درجنوں صحافتی ادارے بند کیے جا چکے ہیں، مگر ٹھیک وہی ترکی جلاوطن سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی حکمرانوں کو آزادیء اظہار پر پابندیاں لگانے اور صحافی کے قتل کا براہ راست مجرم قرار دینے عالمی سطح پر آگے آگے رہا۔ ادھر ریاست کے اعلیٰ عہدیداروں کے ہاتھوں اس بہیمانہ قتل پر سعودی حکم رانوں کا رویہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی عرب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کا نہ صرف رکن ہے بلکہ اس کونسل کی صدارت بھی کر چکا ہے۔ یہی سعودی عرب یمن میں اپنے طیاروں کی بمباری سے ہلاک ہونے والے ہزاروں اور متاثر ہونے والے لاکھوں افراد پر کبھی نادم دکھائی نہیں دے گا، تاہم اسے ایران کی جانب سے مشرق وسطی کے مختلف ممالک میں مداخلت اور علاقے میں عدم استحکام کی وجہ ضرور دکھائی دے گی۔ ادھر ایران یمن میں سعودی عسکری مداخلت پر بھرپور تنقید کرے گا، مگر ملک کے اندر اقلیتوں اور ملک کے باہر دیگر ممالک میں اس کی اپنی مداخلت اسے ایک درست عمل لگے گی۔ ہمارے ہاں بھی عمومی طور پر فرقہ وارنہ بنیادوں پر ایران یا سعودی عرب کی حمایت یا مذمت کا فیصلہ کیا جائے گا۔

پھر اسی فرقہ واریت کی بنیاد پر یہ طے کیا جائے گا کہ پاراچنار یا کرم میں بم دھماکے میں عام انسان مریں تو ہمیں مرنے والوں کو شیعہ سمجھ کر حملہ آوروں کو اپنی اگر مگر میں چھپانا ہے، یا خود شیعہ ہونے کی بنیاد پر ان کے لہو پر آنسو بہانا ہے؟

اب حالت کچھ یوں ہے کہ مہاجروں کے ساتھ زیادتی ہو، تو مہاجر اس زیادتی پر بلبلاتا نظر آئے، باقی خاموش ہو جائیں بلکہ زور زور سے نعرے لگائیں کہ انڈین ایجنٹ ہیں ٹھیک ہوا۔ سندھی لاپتا ہوں یا ان کے ساتھ کوئی اور سانحہ پیش آئے، تو آواز بھی وہ خود اٹھائیں، باقی دوسرے جانب منہ کر لیں بلکہ وقتاً فوقتاً جملہ داغ دیں کہ ایسے ہی کوئی لاپتا نہیں ہوتا، ایجنسیاں کسی کو یوں ہی نہیں مار دیتیں۔ قبائلی اور دیگر پشتون اپنی تباہ کاریوں پر احتجاج کریں، تو سرکار کا رٹا رٹایا یا ٹی وی چینلوں پر پہلے سے تیارکردہ پروپیگنڈا بیان حرف بہ حرف سنا دیا جائے کہ احتجاج کرنے والے پشتون پاکستانی نہیں افغانی ہیں۔ کیوں کہ احتجاج کرنے والوں میں آب پشتون نظر آ رہے ہیں اور ان میں افغان بھی شامل ہیں۔

گلگت بلتستان میں سینکڑوں سماجی کارکن اور پرامن آوازوں بہ شمول باباجان کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ کوئی اس پر دھیمی آواز میں بولتا نظر آئے تو غور سے دیکھیے گا وہ گلگت بلتستان ہی کا ہو گا، بہت کم ہی ممکن ہے کہ ان کے دکھوں پر بولنے والا کسی دوسرے علاقے کا شہری ہو یا افسوس اور دکھ کا اظہار کسی دوسرے تعلق کے بغیر کیا جا رہا ہو۔ ایسے میں کتوں کے کاٹنے اور بلی کےُ مار دیے جانے پر رپورٹیں کرنے والا میڈیا آپ کو کہیں آس پاس دکھائی نہیں دے گا۔

کوئی کشمیری دکھ میں ہو تو کشمیری روئے۔ کسی سرائیکی کو روتے دیکھیے تو ڈھارس بھی سرائیکی بند جائے۔کسی بلوچ کا گھر تباہ ہو، مسخ شدہ لاش ملے، کوئی لاپتا ہو تو شور بھی بلوچ ہی منائے، باقی سب انہیں ملک دشمن قرار دے کر ایک طرف ہو جائیں۔ ایسی ہر صورت حال میں اصل مسئلہ نہ ظلم ہے، نہ مظلوم بلکہ واحد شے تعلق، رشتہ داری، رنگ، نسل، مفاد، سیاست یا قومیت بن کر رہ جاتے ہیں۔

پنجاب میں ساہیوال واقعے میں ایک گھر کے تین افراد بہ شمول ایک چھوٹی بچے کے مارے گئے، تو لاہور میں شہری تحفظ موومنٹ کا مارچ شروع ہو گیا۔ یہ نہایت خوش آئند بات ہے۔ بے گناہوں کے قتل پر ضرور پرامن اور موثر احتجاج ہونا چاہیے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ احتجاج اسے پہلے کسی اور علاقے میں ساہیوال سے بھی زیادہ بھیانک جرائم پر کیوں نہیں ہوا؟ ساہیوال واقعے جیسے سانحے تو روز اس ملک میں ہو رہے ہیں۔

کراچی میں ارشاد رانجھانی کا سرعام قتل ہوا، تو اس وقت سیکھ لیجیے، اس ظلم ہر احتجاج کرنے والے بھی سندھی ہی ملیں گے۔ باقی نہایت ہے دھرمی سے اس واقعے کو اگر مگر کے سپرد کرنے کے لیے کبھی مقتول پر ڈکیتی کا الزام عائد کریں گے کبھی قتل کی کوئی اور تاویل نکال لائیں گے۔ کیا یہ سمجھنے کے لیے الجیربا سیکھنا ہو گا کہ کسی کو جرم پر پولیس کے حوالے کی اب جاتا ہے سڑک پر گولیاں نہیں ماری جاتیں یا کوئی زخمی ہو تو ہسپتال کتب جایا جاتا ہے تڑپ تڑپ کر مرنے نہیں دیبا جاتا، یا جرم اور بے گناہی کا فیصلہ ہجوم نہیں عدالت کرتی ہے، یا ایساُ کوئی واقعہ ہو تو قتل کرنے والے کو گرفتار کر کے واقعے کی تفتیش کی جاتی ہے۔

بات یہ ہے کہ ہماری مذمتیں بھی ہماری منافقتوں کی عکاس ہیں۔ جب ظالم اور مظلوم کے درمیان فرق بھی اپنے مفادات کی بنیاد پر ہونے لگے، تو سمجھیے آپ کے لفظوں سے تاثیر گئی۔ جب تک آپ ہر ظالم کو ظالم اور ہر مظلوم کو مظلوم سمجھنے کے لائق نہیں، اس وقت نہ آپ کی بات میں کوئی اثر ہے اور نہ ہی آپ کی مذمت میں۔

1 COMMENT

Comments are closed.