عابد حسین

علماء کے بارے میں کہیں پڑھا تھا کہ ان کی آپس میں بلکل  نہیں بنتی۔ بندہ پریشان ہوجاتا ہے کہ کس کی مانیں اور کس کی نہ مانیں۔ تبلیغی جماعت، دیوبندی، بریلوی حضرات کی یا پھر لبرل مولویوں کی۔  دھرنے میں جے یو آئی کے اسٹیج سے مولانا طارق جمیل کو کتا اور کتے کا بچہ کہا جارہا تھا اور ورثاءِ انبیاء پیچھے کھڑے تالیاں بجارہے تھے اور گالیاں بھی دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ایک عالم دین مولانا منظور مینگل دے رہے تھے۔ جو ایک معتبر عالم دین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اسلامی سیاست کے داعی سیکولر سیاست اور ذاتی بغض وعناد میں میں اتنا آگے جاچکے ہیں کہ ان کو تمیز ہی نہیں رہی کہ ایک تبلیغی جماعت کا نمائندہ ایک سیکولر بندے کو سپورٹ کررہا ہے۔ جسکی وجہ سے وہ اپنے ہم خیال مذہبی جماعت کے نمائندے کو “کتے کا بچہ”  کہہ رہا ہے۔ کل کو اگر آپ اپنے سیاسی مخالف کے ساتھ کوئی ڈیل کرتے ہیں اور دوستی ہوجاتی ہے، اقتدار میں حصہ مل جاتا ہے تو کیا پھر آپ کو “سور کا بچہ” کہنا ٹھیک رہے گا۔ خود کو انبیاء کا وارث کہنے والا سرعام دوسروں کو گالیاں دے رہا ہے پھر مسجد کے منبر پر بیٹھ کر وعظ بھی کرتا ہے کہ گالی نہ دو، اگر آپ کو کوئی ایک  تھپڑ مارے تو دوسرا گال بھی آگے کرو، برداشت کرو لیکن دوسری جانب پگڑی اور داڑھی والا نبی کا وارث کنٹینر پر کھڑے ہوکر نبی کے دوسرے وارث کو کتے کا بچہ کہہ رہا ہے۔

 ایک عام  آدمی اگر ایک عالم دین کا ایسا سیاسی رخ  دیکھے گا کہ سیاسی جلسے میں گالی دو اور مسجد میں گالی سے منع کرو یا مدرسے میں طلباء کو کچھ اور سکھایا جارہا ہو اور عملی زندگی میں کچھ اور تو وہ کس طرح ان پر بھروسہ کرے گا اور کیسے ان کو نبی کا وارث مانے گا۔ دیوبند اہلسنت والجماعت والوں کا اہل تشیع کے بارے میں کیا عقیدہ ہے، پنج پیر کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، بریلوی حضرات کے بارے میں کیا نظریہ رکھتے ہیں یہ تو عیاں تھا ہی لیکن اب آخر میں تبلیغی جماعت والے بھی زیرعتاب آگئے ہیں۔

منافقت کیا ہے؟  

منافقت یہ ہے کہ آپ کسی فرد، گروہ یا مذہبی ٹولے کے بارے میں ایک رائے رکھتے ہیں لیکن زبان سے کچھ اور کہہ رہے ہو،  آپ کے قول و فعل میں تضاد ہو، اپنے مفادات کی خاطر کسی کو یہودی، کسی کو قادیانی، کسی کے فسقِ نکاح کا فتوی، کسی کو کتا تو کسی کو کتے کا بچہ کہنا۔ اگر یہ آپ کا دین ہے تو معاف کیجئے گا کہ  ہم جس دین کو جانتے ہیں وہ اس منافقت اور مفاد پرستی سے پاک ہے۔ 

ہم نہ دیوبندی ہیں, نہ بریلوی, نہ شیعہ بلکہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا دین ہمیں انسانیت کا درس دیتا ہے۔ مساوات اور برابری کی تلقین کرتا ہے۔ گالی گلوچ سے روکتا ہے۔  منافقت سے دور رہنے کا درس دیتا ہے۔ اپنی خواہشات کو اللہ کی خوشنودی کے لیئے ترک کرنے کا درس دیتا ہے۔  

تیسری دنیا کے پسماندہ اور ترقی پزیر معاشروں میں جو لادینی سوچ پروان چڑھ رہی ہے اس کی بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ایک فرقہ والے دوسرے فرقے والوں  کو کافر اور دین سے خارج سمجھتے ہیں۔ علماء کرام کو مذہبی ہم آہنگی، رواداری، عدم تشدد اور پیار محبت کے پیغام کا پرچار کرنا چاہیے نا کہ نفرت کے بیج بونے چاہیے۔ ہر انسان کسی نا کسی مذہبی یا سیاسی جماعت کا ہم خیال ہوتا ہے لیکن اگر ایک مذہبی ٹولے کا رکن اسٹیج پر کھڑے ہوکر دوسرے مذہبی ٹولے کے سربراہ کے بارے میں کھلے عام گالی گلوچ پر اتر آئے گا تو سامنے والا بھی چپ نہیں بیٹھے گا۔ اگر مذہبی سیاسی جماعتوں کا رویہ یہی رہا تو وہ دن دور نہیں کہ لوگ  مذہب سے بھی بیزار ہوجائینگے، معاشرے میں مذہبی عدم برداشت کو فروغ ملے گا، فتووں کے کاروبار کی چاندی ہوجائے گی اور ایک فرقے والا دوسرے فرقے والے کو کافر اور لادین سمجھے گا اور اس قسم کی صورتحال کی ساری ذمہ داری مذہبی سیاسی جماعتوں، ان کے نمائندوں اور منبر ومحراب کی وراثت کے دعوےداروں کے سر ہوگا۔