عاطف توقیر

کل ایک شخص نے آن لائن پیغام بھیجا کہ منظور پشتین غدار ہے اور آپ کو اس کی حمایت نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے کہا، منظور پشتین پر کوئی مقدمہ؟ کہنے لگا نہیں۔ میں نے کہا تو پھر یقیناﹰ منظور پشتین نے آئین سے بغاوت کا نعرہ لگایا ہو گا؟ کہنے لگا نہیں؟ میں نے کہا تو پھر منظور پشتین نے پاکستانی دستور کو ماننے سے انکار کیا ہو گا؟ بولا نہیں۔ میں نے کہا تو پھر یقیناﹰ وہ ہتھیار اٹھا کر ریاست کے خلاف جنگ کر رہا ہو گا؟ کہنے لگا نہیں۔ میں نے کہا تو پھر یقیناﹰ کسی جرم میں ملوث ہو گا؟ بولا نہیں۔ میں نے کہا تو پھر یقیناﹰ کسی دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہو گا؟ بولا نہیں۔ میں نے کہا تو پھر؟ کہنے لگے کہ مجھے منظور پشتین کی باتوں سے غداری کی بو آتی ہے اور مجھے اس کی نیت پہ شبہ ہے۔

اب باتوں سے غداری کی بو اور نیت کے شبے کو الگ الگ کر کے تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں۔ پہلی بات ہے غدار کی۔ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل چھ کے مطابق غدار کی تعریف یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یا گروہ ملکی دستور کو معطل کرے، اس کی تنسیخ کرے یا طاقت کے زور پر اسے غدار سمجھا جائے گا۔ اس تعریف کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں جس جس نے دستور توڑا ہو، معطل کیا ہو یا اس کی تنسیخ کی ہو، اسے غدار کہا جا سکتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں دستور بار بار توڑا گیا۔ بار بار معطل کیا گیا۔ بار بار طاقت کے زور پر اسے بوٹوں تلے کچلا گیا، مگر دستور توڑنے والے، اسے معطل کرنے والے، اس کی تنسیخ کرنے والے یا اسے پامال کرنے والے کسی ایک بھی شخص کو سزا ملنا تو دور کی بات ہے، آج تک غدار تک نہیں پکارا گیا۔

کیا آپ نے کبھی کسی ٹی وی مزاکرے میں پرویز مشرف، جس پر باقاعدہ طور پر غداری کا مقدمہ چل رہا ہے، اسے ’غدار‘ پکارتے سنا؟ کیا پاکستان کے کسی چوک کسی چوراہے، کسی بازار یا کسی بجلی کے کھمبے پر آپ کو کوئی ایسا بل بورڈ یا پوسٹر دیکھا، جس میں لکھا گیا ہو کہ پرویز مشرف غدار تھا؟

یا ضیاالحق، یا یحیٰ خان یا ایوب خان ملک کے غدار تھے یا ان آمروں نے ملکی دستور توڑ کر ریاست کے ساتھ غداری کی؟

غدار کی دوسری تعریف دستور پاکستان کے اسی ارٹیکل کی ذیلی شق میں درج ہے، جس کے مطابق ہر وہ شخص جس نے دستور توڑنے، اسے معطل کرنے، اس کی تنسیخ کرنے یا طاقت کے زور پر اسے پامال کرنے میں مدد دی ہو، اسے ملک کا غدار سمجھا جائے گا۔

یعنی کسی فوجی آمر کو دستور توڑ کر جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے میں کسی بھی طرح کی مدد فراہم کرنے والے ملک اور قوم کے غدار ہوں گے۔ حکومت کا تختہ الٹنے میں مدد دینے والے کون کون تھے اور کتنے تھے؟ اس تعریف کے مطابق تو ہر وہ اہلکار، جس نے دستور کی تنسیخ کو روکنے میں کوئی کردار ادا نہ کیا ہو، یا وہ جج جس نے نظریہ ضرورت کے تحت اسے جائز قرار دیا ہو یا وہ صحافی جس نے اس عمل کو جائز سمجھا ہو، یا وہ سیاسی رہنما جس نے ایسے دستور پامال کرنے والے آمروں کے ان غیردستوری اقدامات کو جائز قرار دینے کے لیے منعقد کروائے جانے والے ڈھونگ ریفرنڈم میں معاونت کی ہو، وہ سب غدار ہیں۔ مشرف ہی کی مثال لے لیجیے۔ اس دستوری شق کے مطابق، مشرف نے دستور توڑا تو وہ بھی اور جس جس جرنیل یا سپاہی نے اس کے اس عمل کو ہونے دیا یا اس میں اس کی معاونت فراہم کی وہ بھی اس ملک کا غدار ہے۔ اسی طرح وہ جج جس نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا وہ بھی اور جس نے ریفرنڈ میں ایک باوردی شخص کو صدر منتخب کرانے میں مدد دی، وہ بھی اس ملک اور قوم کا غدار ہے۔ مشرف کے ریفرنڈم میں مدد فراہم کرنے والے عمران خان اور ایم ایم اے کے قائدین کو یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہیے۔

اب اسی دستوری شق کو سامنے رکھ کر منظور پشتین کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ نہ اس نے دستور معطل کیا، نہ دستور کی تنسیخ کی، نہ اس نے دستور کو ماننے سے انکار کیا اور نہ اس نے کوئی غیردستوری مطالبہ کیا۔ تو پھر اسے غدار کیسے کہا جا سکتا ہے؟

اب دوسرا معاملہ ہے کہ شاید یہاں غدار سے مراد باغی کے ہیں۔ یعنی دستوری طور پر ہتھیار اٹھانے یا طاقت کا استعمال کرنے کا واحد اختیار ریاست کے پاس ہوتا ہے اور کسی بھی فرد یا تنظیم یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ریاست کی مرضی کے بغیر ہتھیار اٹھا لے۔ اس تعریف کے مطابق طالبان ملک کے باغی ہیں، کیوں کہ انہوں نے ریاست کے خلاف مسلح اعلان جنگ کر رکھا ہے۔ اسی طرح ہر وہ گروہ باغی ہے، جو طاقت پر ریاست کے غیرمشروط اختیار کے علاوہ کوئی بھی دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے۔

اب اس قانونی تعریف پر منظور پشتین کو رکھ کر دیکھتے ہیں۔ کیا اس نے ریاست کے خلاف کوئی مسلح جدوجہد کی ہے یا کیا وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہے جو پرتشدد انداز سے ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہی ہیں۔ جواب ہے ایسا بالکل نہیں۔ اب تک نہ منظورپشتین نے کوئی پرتشدد اقدام کیا ہے، نہ کسی ریاستی اہلکار یا عمارت پر کوئی مسلح حملہ کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ مسلح انداز سے ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہا ہے۔ تو ایسی صورت میں قانون کی کون سی شق کے مطابق اسے باغی سمجھا جائے؟

اب تیسری بات یہ پیدا ہوتی ہے کہ منظور پشتین کا کوئی ایسا اقدام جو دستور یا آئین کے منافی ہو؟ یا کسی جرم کے زمرے میں آتا ہو؟ اس بات کے دو جوابات ہیں۔ ایک تو یہ کہ یقیناﹰ اس نے دستور پاکستان یا قانون پاکستان کے تحت کسی ایسے اقدام کا ارتکاب نہیں کیا، جو جرم کے زمرے میں آتا ہو۔ تاہم اس نے ایک جرم ضرور کیا ہے، جو ہماری پچھلی ستر سال کی تاریخ میں ہمیشہ سے جرم نہ ہو کر بھی جرم سمجھا گیا ہے اور وہ ہے، ریاست سے دستور کے مطابق اپنا حق طلب کرنا۔

پاکستان کی تاریخ میں ہر وہ شخص جس نے یہ راستہ اپنا، اسے غدار، باغی اور مجرم ہی سمجھا گیا، چاہے وہ فاطمہ جناح ہی کیوں نہ تھیں۔

اب آخری بات کہ منظور پشتین کی باتوں سے بغاوت کی بو آتی ہے، تو اس کا جواب نہیں علاج ہے اور وہ علاج ہے کہ ناک کے کسی معالج کے پاس چلا جائے۔ کیوں کہ نیت کا حال اگر خدا جانتا ہے، تو کسی انسان کی نیت کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنے کا مطلب ہے کہ آپ خود کو خدا کی کسی صفت کا حامل سمجھتے ہیں۔ ایک ایسی صفت جو عمومی طور پر کسی پیغمبر تک کو ودیعت نہیں کی گئی کہ وہ دلوں کے حال جان سکے۔ ریاست دلوں کے حال سے نہیں دستور اور اقدامات کے تقابل سے انسانوں کی بابت فیصلہ کرتی ہے۔

ریاستی ایوان اور ملک پر قابض اشرافیہ ہر طرح کا پروپیگنڈا کر کے ہر اس شخص کو مجرم اور غدار قرار دے گی، جو ارض وطن پر ارض وطن کا قانون نافذ کرنے کے لیے اور ملک میں مساوات اور شہری آزادیوں کا مطالبہ کرے گا۔ جو لوگ ایسی آوازوں کی مخالفت کر رہے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ لڑائی آپ کے حقوق کی بھی ہے اور اگر ہم آج یہ جنگ جیت گئے، تو اس کا ثمر کل آپ کی اگلی نسلوں کو امن اور بہتر زندگی کی صورت میں ملے گا۔ اگر ہم نے یہ جنگ نہ لڑی اور ستر سال سے اس ملک پر قابض قوتوں کے ساتھ جا کھڑے ہوئے، تو یہ قابض قوتیں اور مضبوط ہوں گی اور ہماری اگلی نسل کو اس سے زیادہ شدید اور خون ریز لڑائی کا سامنا ہو گا۔ اگر ہماری پچھلی نسل یہ لڑائی لڑ لیتی اور جیت جاتی، تو آج ہمیں یہ لڑائی نہ لڑنا پڑتی، بلکہ ہم سکون اور امن کی زندگی ایک جمہوری اور ترقی کرتے ہوئے معاشرے میں جی رہے ہوتے۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار صاحب نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ منظور پشتین ’سرنڈر‘ کر دیں، گلے لگا لیں گے۔ سرنڈر کا مطلب ہے ہتھیار ڈالنا یا خود کو کسی کے حوالے کر دینا۔ سوال یہ ہے کہ کیا منظور پشتین نے ہتھیار اٹھا رکھے ہیں، جنہیں ریاست ڈالنے کا کہہ رہی ہے؟ اور کیا منظور پشتین کسی مقدمے میں مطلوب ہیں اور روپوش یا فرار ہیں، جو ریاست چاہتی ہے کہ وہ گرفتار پیش کر دیں یا خود کو قانون کے حوالے کر دیں؟ جواب ہے ایسا نہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ سرنڈر کیسے کریں؟ جواب یہ ہے کہ اپنے دستوری اور جائز مطالبات اس ریاست کے پیروں میں رکھ کر غلامی کی زندگی گزارتے رہیں۔ یوم آزادی پر گھر جھنڈیوں سے سجائی، سینے پر پرچم کا بیج آویزاں کریں، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائیں، مگر آزادی کے اس تعریف کے مطابق ایک آزاد شہری کی طرح اپنے جائز حقوق کی سوچ ختم کر دیں۔ یا عام لوگوں کے مفادات کی بجائے، کچھ پیسے لیں، اپنا مفاد پورا کریں اور گزر جائیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہم وہ گم راہ لوگ ہیں کہ جن سے سرنڈر کروانا ہے، ان سے مذاکرات کرتے ہیں۔ جن سے مذاکرات کرنا تھے، انہیں سرنڈر کروانا چاہتا ہیں۔ جہاں خود سرنڈر ہونا تھا، وہاں بندوق تان کر کھڑے ہیں اور جہاں بندوق تان کر کھڑا ہونا تھا، وہاں سرنڈر کر آئے ہیں۔