عاطف توقیر

گزشتہ برس امریکن پروڈیوسر اور ادکارہ ایلیسا میلانو کا جنسی ہراسانی اور تشدد کے حوالے سے کیا جانے والا ہیش ٹیگ MeToo پر مبنی ایک ٹویٹ آج پوری دنیا میں حقوق نسواں کی ایک بہت بڑی تحریک بن گیا ہے۔ اس ٹویٹ کے بعد پوری دنیا میں خواتین نے سوشل میڈیا کے ذریعے بتایا کہ وہ بھی دوران ملازمت جنسی ہراسانی یا تشدد کا شکار ہوچکی ہیں۔ اس تحریک کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ دنیا نے اس بات پر سوچنا شروع کیا کہ ملازمت کرنے والی خواتین کس قدر غیر محفوظ ماحول میں سخت ذہنی دباٶ میں رہ کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

اس کے علاوہ سنجیدہ اور اعلی کردار کے حامل مردوں نے خواتین کے لیۓ ورک پلیس کے ماحول کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیۓ کوششیں شروع کیں اور کچھ ایسے مرد بھی سامنے آئے، جنہوں نے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ ماضی میں وہ بھی اپنے ساتھ کام کرنے والی خواتین کو جنسی ہراسانی یا تشدد کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

”می ٹو موومنٹ“ کی اصل خالق سیاہ فام امریکن سماجی کارکن ترانہ برک ہیں۔ ترانہ متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیٸے کام کرتی ہیں جنہیں جنسی تشدد, ہراسانی یا رنگ و نسل کی بنیاد پرتعصب کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ ایسی خواتین جواس معاملے میں مدد طلبی کے حوالے سے خوف اورعدم اعتماد کا شکار ہیں۔

ترانہ نے یہ سماجی مہم 2006 میں شروع کی تھی اور اس مہم کو”می ٹو“ کا عنوان دیا تھا۔ اس عنوان کی وجہ جنسی زیادتی کا شکار ایک تیرہ سالہ لڑکی تھی جو خوف اور جھجھک کے باعث اپنی بات کہنے سے قاصر تھی۔ ترانہ کے مطابق جنسی ہراسانی یا تشدد کا شکار خواتین ان دو لفظوں کو اظہار کا ذریعہ بنا سکتی ہیں۔ ایسی خواتین صرف ”می ٹو“ کہہ کر دنیا کو بتاسکتی ہیں کہ وہ جنسی زیادتی یا ہراسانی کا شکار ہوچکی ہیں۔ اب جبکہ اس تحریک کو پوری دنیا میں شہرت مل چکی ہے تو ترانہ نے اس خدشہ کا اظہار بھی کیا ہے کہ اس مہم کو میڈیا میں نامناسب طریقے سے پیش کیا گیا ہے جسکا نقصان ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والی عام خواتین کو ہوگا اور انکی بات کو توجہ سے نہیں سنا جاٸے گا۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جاۓ تو ترانہ کے خدشات درست ثابت ہوۓ ہیں کیونکہ یہ مہم شوبز کی خواتین تک محدود ہوگٸی ہے۔ پاکستان میں اس مہم کے ثمرات متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین سے کوسوں دور ہیں۔ میں نے اس موضوع پر اپنے حلقہ احباب میں کٸی نوجوان ملازمت پیشہ خواتین سے بات کی تو انہوں نے مجھے اپنے اپنے تجربات بتائے۔

مکحمہ پولیس میں خدمت انجام دینے والی ایک لڑکی نے بتایا کہ ملازمت کے ابتدائی دنوں میں ایک مرتبہ ہماری ڈیوٹی ایک جلسے میں لگا دی گٸی۔ جلسے کا اختتام تاخیر سے ہوا۔ ہمارے گھروں سے مستقل فون آرہے تھے اور کچھ لڑکیوں کے گھر والے ہیڈ کواٹر پہنچے ہوئے تھے۔ اس خوف سے کہ اکیلی لڑکیاں اتنی رات کو گھر واپس کیسے پہنچیں گی۔ میں اور میری ایک ساتھی گھر کے لیۓ اکیلے ہی نکل پڑے اور ایک رکشہ پر بیٹھ گٸے۔ اس رات اس رکشہ والے نے ہمیں کس طرح ہراساں کیا وہ بس ہم ہی جانتے ہیں۔ جنسی ہراسانی صرف چھو کر ہراساں کرنے کا نام نہیں بغیر ہاتھ لگاٸے بھی ہمارے معاشرے میں گھر سے باہر نکلنے والی لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاسکتا ہے۔ ہم پولیس میں ہیں لیکن وردی,ہتھیار اور ٹیم کے بغیر ہم بھی خود کو عام لڑکیوں کی طرح خوفزدہ اور غیر محفوظ سمجھتے ہیں ۔

اسی طرح اندرون سندھ کے سرکاری ہسپتال میں ہاٶس جاب کرنے والی ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ رات کے وقت ڈیوٹی کے دوران ہمیں کوٸی تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ڈاکٹرز اور کنسلٹنٹ آپ کو جان بوجھ کر اسطرح ہاتھ لگاتے ہیں جہاں آپ جنسی ہراسانی محسوس تو کرسکتے ہیں لیکن ثابت نہیں کر سکتے۔ جب ہم نے ہاٶس جاب کے لیۓ ہسپتال جانا شروع کیا تو وہاں فیمیل ڈاکٹرز کے ریسٹ روم میں کنڈی نہیں تھی اور کٸی بار خاکروب اور دیگر عملہ جان بوجھ کر بغیر اجازت اندر آجاتے تھے۔ جب ہم نے اس بات کی شکایت انتظامیہ سے کی تو جواب ملا کہ دروازے میں لاک کا نہ ہونا بہتر ہے اسطرح کوٸی روم اندر سے لاک کر کے موقع کا فاٸدہ نہیں اٹھا سکتا اور آپ آسانی سے باہر آسکتی ہیں۔

میں نے یہاں انتہاٸ کم شدت کے جنسی ہراسانی کے واقعات کا ذکر کیا ہے ورنہ ہم جس معاشرے کا حصّہ ہیں وہاں ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی طالبہ یا ملازمت پیشہ خاتون کو دوران سفر,کام کی جگہ اور تعلیمی اداروں میں کس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میرا تعلق جس جامعہ سے رہا ہے وہاں وضع قطع کے اعتبار سے ایک ”مولوی“ اسٹنٹ پروفیسر نے صنفی تعصب پر مبنی احکامات جاری کیٸے ہوۓ ہیں کہ کوٸی بھی طالبہ انکے آفس میں اکیلے نہیں آسکتی اور خود میرے استاد نے کٸی بار لیکچرز کے دوران طالبات کو پچھلی نشتوں پر جبکہ طلباء کو اگلی نشستوں پر بیٹھنے کو کہا تھا ,احتجاج کرنے پر انہوں نے نمازوں کی صف بندی کے اصول کی تاویل پیش کی۔ یہ باتیں شاید کچھ لوگوں کے لیۓ معمولی ہو لیکن ہمارے معاشرے میں یہ خواتین سے متعلق صنفی تعصب پر مبنی ایک عام اور قابل قبول رویہ ہے۔

جیسا کہ میں ذکر کرچکی ہوں کہ ترانہ برک کو یہ خدشہ ہے کہ می ٹو کی اس مہم کے غلط استعمال سے اس مہم کو نقصان پہچنے کا خطرہ ہے اور اس صورتحال میں اس مہم کے ثمرات عام خواتین تک پہچانے میں دشواری ہوسکتی ہے۔ دیکھا جاۓ تو میڈیا یا شوبز سے تعلق رکھنے والی خواتین دوسری ملازمت پیشہ خواتین کے مقابلے میں زیادہ مراعت یافتہ ہیں اورعوام تک انکی رساٸی عام خواتین سے زیادہ ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی شوبز اور میڈیا سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنی تواناٸیاں اپنی “جلد اور بالوں” کی رنگت تبدیل کرنے میں خرچ کررہی ہیں۔ اس طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین اور انکا رہن سہن فی الحال پاکستان کی عام خواتین کی نماٸندگی نہیں کرتا۔

پاکستانی شوبز اور میڈیا کی خواتین اس وقت عالمی میڈیا میں اپنی جگہ بنانے میں مصروف ہیں۔ یہاں اس طبقے کی خواتین کو کنگنا رانوت بنے میں وقت لگے گا۔ جس نے فیٸرنس کریم کے اشتہار کی پرکشش آفر کویہ کہہ کر ٹھکرادیا کہ ”ہندوستانی خواتین کی اکثریت کا رنگ گہرا ہے۔ ہمارے یہاں گہرے رنگت والی لڑکیوں کی اچھی جگہ شادی نہیں ہوتی ہے۔ آپ فیٸرنس کریم کے ذریعے یہ پیغام دیتے ہیں کہ گورے رنگ سے ہی زندگی میں خوشی کامیابی اور محبت ملتی ہے۔ ہمارا رنگ اس لیۓ گہرا ہے کیونکہ ہم اس خطے کے لوگ ہیں۔ رنگ انسان کی قابلیت یا خوبصورتی کا معیار نہیں ہے“ کنگنا اپنی سوچ کی وجہ سے جنوبی بھارت کی ایک مہم say no to fairness cream کا حصہ بن گٸ ہیں اور کروڑوں گہرے رنگت والی عام لڑکیوں کی خود اعتمادی کی وجہ بھی۔

ہماری شوبز اور میڈیا کی بے باک اور باصلاحیت خواتین کو صومالیہ سے تعلق رکھنے والی سیاہ فام برطانوی ماڈل وریس دیری سے بھی سیکھنے کی ضرورت ہے جسنے افریقہ میں خواتین کے ساتھ ہونیوالے صنفی اور جنسی ظلم FGM کے خلاف آواز بلند کی اور ایک عالمگیر مہم چلا کر افریقہ کی لاکھوں مظلوم خواتین کو اس ظلم سے نجات دلانے کا بیڑہ اٹھایا۔

اگر آپ کسی عام لڑکی سے سوال کریں کہ رات کے وقت گھر سے باہر نکلنے پر آپ کو کس چیز سے سب سے زیادہ خوف آتا ہے تو یقین کریں کہ سو فیصد لڑکیوں کا ایک ہی جواب ہوگا کہ مردوں سے خوف آتا ہے۔ ”می ٹو“مہم کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اپنے خلاف کسی بھی جنسی یا صنفی زیادتی کو جواز بنا کر معاشرے کو ہیجان اور خوف میں مبتلا کردیا جاۓ۔ می ٹو کا مقصد ظلم و زیادتی اور تعصب کا شکار خواتین کو ہمدردی کے ساتھ خودمختار بنانا ہے انہیں یہ حوصلہ دینا ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونیوالی زیادتی کو دنیا کے سامنے لاٸیں تاکہ ہم اپنے معاشرے کو خواتین کے لیۓ مزید محفوظ اور تعصب سے پاک معاشرہ بنا سکیں۔