احمد جمیل یوسفزئی

’’میں آپ سے معافی مانگتی ہوں میں قصوروار ہوں۔ آپ کا نیوزی لینڈ میں تحفظ نہیں کر سکی۔‘‘ یہ ہیں نیوزی لینڈ کی 38 سالہ خاتون وزیر اعظم جسینڈرا ارڈن کے وہ الفاظ جو انھوں نے انتہائی دکھ میں کرائسٹ چرچ کے دہشتگردی کے حملے میں شہید ہونے والے مسلم مقتولین کے لوحقین سے کہے۔ کرائسٹ چرچ میں ہونے والے دہشتگردی کے اندوہناک واقعے پر وہاں کے غیر مسلم شہریوں اور خصوصاً وزیراعظم کا رد عمل قابل تعریف ہی نہیں بل کہ قابل تقلید بھی ہے۔

وقوعے کے اب تک سوشل میڈیا پر عام لوگوں اور خود وزیر اعظم جسینڈرا ارڈن کے رد عمل کی شیر کی جانے والی تصویروں اور ویڈیوز سے صاف ظاہر ہے کہ نیوزی لینڈ کے عیسائی شہری کس طرح سے مسلمانوں کے دکھ کو محسوس کر رہے ہیں اور کس طرح وہ اس ظلم کے خلاف ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
سب سے ضروری چیز جو نوٹ کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ظلم کو ظلم کہنے والوں اور مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو نہ کوئی غدار کہہ رہا ہے اور نہ کسی مسلم ملک )سعودی عرب یا پاکستان) کا ایجنٹ۔
اب آتے ہیں پاکستان اور دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں لوگوں اور حکمرانوں کا رویہ کسی بھی اس طرز کے واقعے کے بعد کیسا ہوتا ہے۔

نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ میں نے جب سے حوش سنبھالا ہے اور اچھے برے کی تمیز آئی ہے تب سے اب تک کسی بھی اس طرح کے واقعے پر حوش مندانہ اور قابل تعریف (کجا قابل تقلید) رد عمل نہ تو عام لوگوں کا دیکھا اور نہ ہی حکومتی ارکان کا۔

ہماری نسل بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کو دیکھتے اور خود اس کا شکار ہوتے ہوئے یا تو مر رہی ہے یا بال بال بچ کر جوان ہوئی ہے۔ میں اپنے کئی استادوں اور دوستوں کو کھو چکا ہوں اور ایک سے زائد مرتبہ میں خود یا میرے بھائی مرتے مرتے بچے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں وکلاء پر ہونے والا خود کش دھماکہ ہے۔ اپنوں کے جانے کا درد تو تھا ہی، یہ درد مذید بڑھا جب صوبائی وزیر داخلہ نے واقعے کے دس منٹ کے اندر اندر اپنی اور سیکیورٹی اداروں کی شہریوں کے تحفظ میں ناکامی کو تسیلم کرنے کی بجائے اس کا ذمہ دار ہندوستان کو قرار دیکر خود کو بری الزمہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔ یہ پہلی بار نہیں تھا۔ اس سے پہلے ہر دہشتگرد حملے کا ذمہ دار یا تو ہندوستان اور یا پھر افغانستان کو قرار دیکر حکومت اور شہریوں کے تحفظ کی قسم کھانے والے سیکیورٹی ادارے خود کو بری الزمہ قرار دیتے رہے اور ہر حملے کے بعد دوسرا حملہ ہوتا اور بے گناہ جان سے جاتے۔ اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ ایک طرف ہم بے گناہ شہریوں کو کھوتے رہے اور دوسری طرف ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات مذید بگاڑ بیٹھے۔

مسلمان ہو، ہندو ہو یا عیسائی؛ ہزارہ برادری ہو، بلوچ بہن بھائی ہو یا پھر پشتون؛ کراچی سے لیکر خیبر تک اور (سابقہ) فاٹا سے لیکر کوئٹہ تک یہاں کوئی قوم ایسی نہیں جس کے ہزاروں پیارے دہشتگردی کی نظر نہ ہوئے ہو۔ آج تک نہ تو کسی واقعے کی انکوئری ہوئی، نہ کوئی ایک بھی مجرم پکڑا گیا، نہ سزا ہوئی اور نہ مقتولین کے لاحقین کو انصاف مل سکا۔

اے پی ایس کے بچے، مشال خان، نقیب اللّہ محسود، باچا خان یونیورسٹی میں قتل کئے گئے، کوئٹہ کے سول ہسپتال کے مقتول وکلاء، پولیس ٹریننگ سنٹر کوئٹہ کے مقتول کیڈٹس، طاہر داوڑ، سانحہ ساہیوال کے بچے، ابراہیم ارمان لونی اور ہزاروں دیگر بے گناہ قتل کئے گئے یا پورے ملک سے جبری لاپتہ کئے گئے نوجوان ابھی تک انصاف کے منتظر ہیں۔

ہم وہ قوم ہے کہ جس کے ستر ہزار سے ذائد بے گناہ شہری اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار مذہب کے نام پہ برپا کئے گئے نفرت انگیز نظریے کی نظر ہوگئے مگر ہم کبھی کھل کر اس کے خلاف متحد نہ ہو سکے۔ الٹا ہمارے ملک پر انھی دہشتگردوں کی پشت پناہی کے الزامات لگتے رہے، ہمارا قومی میڈیا ان دہشتگردوں کے موقف کو پیش کرتا رہا اور ہمارے حکمران ان کے خلاف ایک بیان تک دینے کی بھی سکت نہ رکھ سکے۔ امت جیسے اخبار، جس نے افغانستان اور کہیں اور ہونے والے ہر قتل عام پہ خوشیوں کا اظہار کیا، نے کرائسٹ چرچ پہ حملہ کرنے والے دہشگرد کو فوراً “عیسائی دہشتگرد” لکھا۔ مگر اسی اخبار نے آج تک پاکستان میں ہونے والے کسی بھی دہشتگردانہ حملے کرنے والے طالبان کے حملے کو “مسلمان دہشتگرد” نہیں لکھا۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اسے ایسا لکھنا چاہیے بل کہ اس سے مراد وہ نفرت انگیزی ہے جو ایسے اخبار پھیلا رہے ہیں اور حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پر آنکھیں بند کرکے ریت میں سر دے کر بیٹھے ہوئے ہیں اور عام لوگ بنا کسی جرم کے مر رہے ہیں۔

جن قوموں انسانیت زندہ ہو وہ تہذیب یافتہ کہلاتی ہیں۔ بے شک نیوزی لینڈ زندہ انسانوں کا ملک ہے جو انسانوں پہ ہونے والے ظلم سے ہوئے درد کو محسوس کرتے اور انسان دوستی کا ثبوت دیتے ہیں۔

میں ذاتی طور پہ نیوزی لینڈ کے لوگوں اور خصوصاً ان کی وزیر اعظم جسینڈرا ارڈن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انھوں نے اپنائیت اور محبتیں بانٹی ہیں اور ہم جیسوں کو انسانیت کا سبق یاد دلایا ہے۔

خوش رہیں اور جیتے رہیں۔ رب کریم آپ اور آپ کے خوبصورت دیس کو محفوظ رکھے اور اللّہ ہمیں بھی آپ جیسا درد رکھنے والا دل عطا کرے۔ آمین



1 COMMENT

Comments are closed.