عابد حسین

5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاالحق کا ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کے بعد قوم سے پہلا خطاب

 

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

نحمدہ و نصلی علی رسوله الکریم۔

 

خواتین و حضرات السلام علیکم !

میں آج اس عظیم ملک کی عظیم قوم سے خطاب کرنے کا اعزاز حاصل کرنے پر اللہ تعالی کا شکرگزار ہوں ۔ آپ لوگ یہ اعلان تو سن ہی چکے ہوں گے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کر دی گئی ہے ۔ ملک میں مارشل لا لگا دیا گیا ہے اور اہم قومی مسائل کے حل کےلیے چار ارکان پر مشتمل فوجی کونسل قائم کر دی گئی ہے۔

یہ کارروائی گزشتہ شب آدھی رات کو شروع ہوئی اور آج صبح پرامن طور پر ختم ہوگئی ۔ یہ تمام کارروائی میرے حکم پر عمل میں آئی ۔ سابق وزیراعظم بھٹو اور ان کے رفقاء اور قومی اتحاد کے تمام عمائدین کو ماسوائے بیگم ولی خان کے حفاظت میں لے لیا گیا ہے۔ اب تک اس اقدام کے بارے جو تاثرات موصول ہوئے ہیں وہ حسبِ توقع بہت حوصلہ افزا ہیں۔

مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کی طرف سے مبارکباد کے پیغامات کی بھرمار ہو رہی ہے جس پر میں عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں،تاہم چند حضرات نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ یہ کارروائی کسی ایماء پر تو نہیں کی گئی؟ کہیں سابق وزیراعظم سے میری ملی بھگت تو نہیں؟ لیکن حقائق بہت دیر تک چھپے نہیں رہ سکتے۔

پچھلے چند ماہ کے تجربے سے اچھے بھلے لوگ شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں ۔ آج صبح آپ نے سن لیا کہ فوج نے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا ہے۔ یہ کوئی مستحسن اقدام نہیں،کیونکہ فوج چاہتی ہے کہ ملک کی باگ ڈور عوام کے نمائندوں کے ہاتھ میں ہو۔

عوام کو اپنے نمائندوں کے انتخاب کا جمہوری حق ہوتا ہے جس کےلیے ہر ملک میں انتخاب ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی گزشتہ مارچ کو انتخاب ہوئے تھے لیکن ایک فریق نے اس کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس فریق نے انتخاب میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دوبارہ انتخاب کا مطالبہ کیا،جس کے لیے تحریک چلائی گئی۔ اس دوران میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی گئیں کہ پاکستان میں جمہوریت نہیں چل سکتی لیکن میں تہہ دل سے کہتا ہوں کہ اس ملک کی بقا صرف جمہوریت میں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تحریک کے دوران ہنگاموں میں جب مسلح افواج نے نظم و نسق سنبھالا تھا فوج نے ہنگاموں میں ملوث ہونے سے حتی الامکان گریز کیا ۔

مسلح افواج کی یہ کوشش رہی کہ باہمی مسائل کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔

فوج نے سابق وزیراعظم بھٹو پر ہمیشہ زور دیا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین سے جلدازجلد تصفیہ کر لیں ۔ اس کےلیے وقت درکار تھا چنانچہ مسلح افواج نے نظم و نسق رکھ کر یہ وقت مہیا کیا۔

بعض حلقوں نے فوج کے کردار پر نکتہ چینی بھی کی لیکن یہ سب اس امید پر برداشت کرتے رہے کہ قوم ہیجانی جذبات سے نکل جائے گی تو فوج کے بارے میں اس کے شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے ۔ میں نے آپ کے سامنے حالات و واقعات کا اجمالی نقشہ پیش کیا ہے، جس سے آپ پر یہ واضح ہوگیا ہے کہ فوج اقتدار پر قبضہ نہیں کرنا چاہتی لیکن جب ملکی سیاست دان ناکام ہوجائیں تو مسلح افواج کےلیے خاموش تماشائی بنے رہنا ناقابلِ معافی ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ فوج نے یہ اہم کارروائی صرف ملک بچانے کےلیے کی ہے ۔ مجھے فریقین کے درمیان سمجھوتے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا اس کی وجہ ایک دوسرے سے بدگمانی ہے ۔ اس صورتحال میں ملک ایک بار پھر سنگین ترین بحران کا شکار ہوجاتا ۔ یہ خطرہ سہنا قوم اور ملک کے مفاد میں نہیں تھا ۔

اب مسٹر بھٹو کی حکومت ختم ہو چکی ہے،سارے ملک مین سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دی گئی ہیں اور وفاقی اور صوبائی وزراء برطرف کر دئیے گئے ہیں ۔

البتہ آئین کو منسوخ نہیں کیا گیا صرف اس کے بعض حصوں پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے ۔ اس آئین کے تحت صدر فضل الہی چوہدری سربراہ مملکت کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے ۔

اہم ملکی مسائل کے حل کےلیے چار ارکان پر مشتمل فوجی کونسل قائم کر دی گئی ہے،جس میں چئیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی بری،بحری اور فضائی فوجوں کے سربراہ شامل ہیں ۔ میں بری فوج کے چیف آف سٹاف اور چیف آف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے فرائض جاری رکھوں گا ۔ آج صبح میں چیف جسٹس یعقوب علی سے ملا ہوں اور میں ان کی رہنمائی اور مشوروں کا بے حد مشکور ہوں ۔ میں یہ بات بالکل واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میرے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں مجھے صرف اس خلا کو پُر کرنے کےلیے آنا پڑا ہے جو سیاست دانوں نے پیدا کیا ہے ۔

میں نے یہ چیلنج اسلام کے ایک سپاہی کی حیثیت سے قبول کیا ہے ۔

میں عام انتخاب کراؤں گا جو انشاءاللہ اسی سال اکتوبر میں ہوں گے ۔ انتخاب مکمل ہوتے ہی میں اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کر دوں گا ۔

آئندہ تین مہینوں میں میری ساری توجہ صرف انتخاب پر ہوگی ۔

ملکی نظم و نسق چلانے کےلیے جو عبوری حکومت قائم کی گئی ہے اس کی شکل یہ ہے،

صدر فضل الہی چوہدری ملک کے آئینی سربراہ ہوں گے ۔ اہم ملکی مسائل کےلیے چار ارکان پر مشتمل ملٹری کونسل قائم کی گئی ہے، جس میں چئیرمین چیفس آف سٹاف کمیٹی کے علاوہ تینوں مسلح افواج کے سربراہ شامل ہوں گے ۔ بری فوج کے چیف آف سٹاف چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر،

ڈیفنس کے جنرل سیکرٹری غلام اسحاق خان مقرر کیے گئے ہیں، جو تمام وفاقی محکموں کے درمیان رابطہ کے ذمہ دار ہوں گے ۔ چاروں صوبوں کے چیف جسٹس قائم مقام گورنر ہوں گے اور وفاقی سیکرٹری مرکزی محکموں اور صوبائی سیکرٹری،صوبائی محکموں کے سربراہ ہوں گے ۔

صوبے کی انتظامیہ کے سربراہ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیے جائیں گے ۔ میری یہ خواہش ہوگی کہ سول انتظامیہ پوری دیانتداری سے اپنے فرائض سرانجام دے ۔

میری یہ بھی خواہش ہے اخبارات آزادی صحافت کے علمبردار ہوں مگر اخلاقی ضابطوں سے انحراف نہ کریں ۔

آخر میں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کی سرحدیں آج بھی پہلے کی طرح محفوظ ہیں اور مسلح افواج یہ فرائض خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہے ۔ حالیہ تحریکوں میں جو جذبہ دیکھنے میں آیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے ۔ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا اور اسی کے نام پر قائم رہے گا ۔ شکریہ ۔

 

اسلام زندہ باد، پاکستان پائندہ باد‘‘

کہتے ہیں کہ ایک بار پٹڑی سے اکھڑے معاشروں اور کھونٹے سے اکھڑے اداروں کو پوری طرح سنبھلنے میں پوری توانائی کے ساتھ مخلصانہ کردار کرتے ہوئے بھی برس ہا برس لگ جاتے ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ اجتماعی طور پر قوم کا ضمیر زندہ ہے یا مردہ،جانچنے کا درست پیمانہ یہ ہے کہ کیا وہ آمریت کی زنجیر کو ٹھکراتے ہیں یا قبول کرتے ہیں، کیونکہ ایک آئین شکن جرنیل جب قوم کی باگ ڈور سنبھال لے تو پھر اس قوم کا مقدر تباہی و بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ہوا کرتا اگر حقائق دیکھے جائیں تو پاکستان شروع آزادی سے اسی آشوب میں مبتلا نظر آتا ہے کہ محافظ اداروں کے سربراہ ہمیشہ سرحدوں کی بجائے معاملاتِ اندروں میں زیادہ دلچسپی لیتے رہے، کاغذی جمہوری رہنماؤں اور عارضی جماعتوں کی تشکیل کی کوششیں کرتے رہے پھر ان کی کامیابی و ناکامی کی فکر بھی ان کی مصروفیت کا حصہ بنی رہی ۔

اصل جمہوری رہنماؤں کو دیوار سے لگانے کی کوشش،

ملک میں مذہبی انتہاء پسندی کو توانا رکھنا،

کالعدم تنظیموں کی سرپرستی،

ڈالروں کی خاطر ہمہ وقت خود کو بطور کرایہ دار مزدور پیش کیے رہنا، یہ سب وہ پالیسیاں تھیں کہ جنہیں عوام آج بھی جھیل رہے، یہی وجہ ہے کہ ملکی سیاسی ڈھانچہ اب بے پتوار کی کشتی بن چکا ہے اور ادارے اپنا اعتبار تک گنوا چکے ہیں، جبکہ آئینی و قانونی نظام مسلسل ہچکولے کھا رہا ہے ۔

پاکستان کو اس کیفیت سے دوچار کرنے کے اور بھی بیسیوں عوامل ہیں مگر ان میں سب سے بڑی اور اہم وجہ ملکی سلامتی اور سیاسی عدم استحکام کے نام پر ہمارے جنرلوں کا مارشلائی ناٹک ہے ۔

خطاب بالا میں جنرل ضیا جس کارروائی کے پرامن ہونے اور انجام بخیر ہونے کی خوشخبری سنا رہے تھے اگر تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو یہ کارروائی جہاں جنرل ضیا کےلیے ناقابل معافی جرم بنی وہیں عوام کےلیے ناقابلِ تلافی نقصان بھی ثابت ہوئی، جمہوریت کا شب خون کرنا، عوامی اقتدار یعنی عوامی حق پر ڈاکہ ڈالنا خوشخبری نہیں بلکہ ایک تاریخی ظلم تھا جسے آج ہر کوئی تسلیم کررہا ہے ۔

بقول جنرل ضیا تو یہ پرامن کارروائی تھی لیکن اس پرامن کارروائی کے دلدوز منظر کچھ یوں تھے کہ رات کے پچھلے پہر ایک احسان فراموش جنرل نے دختر مشرق کی چھاتی پر ریوالو تان کر محترمہ کو دھکے دئیے جس سے وہ کئی بار زمین پر گر گئیں،ان کے چہرے تھپڑ مارے گئے،دختر مشرق کے کپڑے تک پھٹ گئے ۔

ڈیوٹی پر تعینات جنرل چشتی کے انکشاف کے مطابق انہیں اس کارروائی(آپریشن) میں بھٹو خاندان کی اہم شخصیات کو جنرل ضیا نے گولی مارنے کے احکام بھی دئیے ہوئے تھے ۔

ایک عوامی منتخب نمائندے کی حکومت کا تختہ الٹ کر، سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کر کے اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا کر قوم سے کہا جا رہا تھا کہ وہ ملک کی بقا جمہوریت میں سمجھتا ہے اور اس مارشل لا نافذ کرنے کی جھوٹی وجہ یہ گھڑی کہ ملک میں سیاسی خلا پیدا ہو چکا ہے جبکہ تاریخ واضح کر چکی کہ ان کا اصل مقصد اقتدار کی رنگینیوں کا مزہ لینا تھا اور اسی لیے انہوں نے کبھی کسی پالیسی میں ملکی استحکام اور عوام کی بھلائی کو پیشِ نظر نہ رکھا ۔ نوے دن میں الیکشن کرانے اور پھر ملکی نظم و نسق منتخب عوامی نمائندوں کے حوالے کرنے کا جھوٹا وعدہ کیا مگر تاریخ ہمیشہ لمحہ با لمحہ سچائی کو اپنے اندر جذب کررہی ہوتی، یہ جھوٹ اور ڈھونگ بھی عوام پر یوں آشکار ہوا کہ جنرل کے نوے دن، نوے ماہ گزرنے کے بعد جا کر مکمل ہوئے جبکہ انہوں نے یہ وعدہ قرآن پر ہاتھ رکھ کے قسم اٹھا کردیاتھا۔ خدا کا نام لے کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا یہ ناٹک ملک اور عوام کو کتنا مہنگا پڑا اس کا ازالہ ابھی جاری ہے۔