مہناز اختر

یہاں فوجی پالیسیوں پہ تنقید کرنے پر آپ کو غدار وطن قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ کچھ یوں وقوع پذیر ہوتا ہے کہ اگر آپ نے اپنی کسی تحریر میں فوج پر تنقید کی ہے تو یہاں ایک طبقہ ایسا موجود ہے جو آپ کے ساتھ مدلل گفتگو کرنے کے بجائے نعرہ تکبیر کی طرز پر “پاک فوج زندہ باد” کا نعرہ بلند کرکے آپ کو بہ یک وقت غدار اور کافر قرار دے دیتا ہے۔ دوسرے مرحلے پر لعن طعن تک بات پہنچ جاتی ہے، مثلاً  “آپ کو کبھی پاک فوج زندہ باد کہتے نہیں سنا، ظاہر سے بات ہے کہ آپ کو پاک فوج پر بھونکنے کے پیسے ملتے ہیں” اور تنقید کرنی والی خاتون ہو تو سب سے پہلے اسے دوکوڑی کا بتا کر جسم فروشی  سے جڑی موٹی سی گالی دی جاتی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ “پاک فوج” کا نقاد  قاعدے کی رو سے  “ناپاک” تصور کیا جاتا ہے۔

مجھے “پاک فوج” کی اصطلاح کے استعمال پر کچھ تحفظات ہیں۔ میرے خیال سے ہمیں اپنی فوج کے لیئے  “پاکستانی فوج” کی اصطلاح استعمال کرنی چاہیے۔ اس سے اپنائیت کا احساس پیدا ہوگا  کیونکہ یہ پاکستانیوں کی فوج ہے۔ اس فوج کو ہماری حفاظت کی ذمہ داری ہم نے سونپی ہے، یہ ہمارے لوگ ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم پاکستانی فوج کو “پاک فوج” قرار دے کر اس پر تنقید کا راستہ بند کردیتے ہیں۔ پاک فوج کی اصطلاح پاکستانی فوج کو مقدس گائے کا درجہ دلا دیتی ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں توہین مذہب یا توہین رسالت قابل  سزاجرم ہے پر اب تو پاک فوج کی بلامشروط حمایت کو بھی  ایمانِ مجمل کا حصہ قرار دیا جاچکا ہے۔

جنرل ضیاالحق نے اپنے دور میں مخصوص نظریاتی مفادات کے حصول کی خاطر نسیم حجازی کے ناولوں اور جماعت اسلامی کے نظریات کا ملغوبہ تیار کرکے پاکستانی فوج کے کردار کو ایک دیومالائی رنگ دے کر اسے واقعتاً  “پاک فوج” میں تبدیل کردیا۔ آج کل آپ زید حامد کے خطبات اور بیانات میں یہ دیومالائی کہانیاں سن سکتے ہیں۔ ایک ایسی فوج جسے اللہ، رسول اور ملائکہ کی نصرت و حمایت حاصل ہو اس پر تنقید کیونکر کی جاسکتی ہے۔ بہ حیثیت مسلمان یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے غزوہ ہند سے متعلق احادیث کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیئے پڑوسی ملک کے خلاف استعمال کیا اور کشمیر کی آزادی کی سیاسی جدوجہد کو جہاد اور دہشت گردی  سے جوڑ دیا۔ نتیجتاً کشمیر کا عام نوجوان بھی عام پاکستانی کی طرح جہاد اور دہشت گردی میں فرق کرنے سے قاصر ہے۔ پاکستان میں چونکہ صرف فوج پاک ہے بقیہ  عوام اور تمام تر سیاست دان  اور ادارے ناپاک ہیں تو آج تک  جنرل ضیاء اور اس سے قبل کے جرنیلوں اور ان کے ہاتھوں ملک و ملت کو پہنچنے والے عظیم ترین نقصانات کی تحقیقات کرانے کی ہمت سویلین ادارے  اب تک پیدا  نہیں کرپائے۔ ورنہ ملک کا دولخت ہوجانا، امریکہ کی پرائی جنگ میں اسلام اور عوام کو جھونک کر طالبان جیسا فتنہ پیدا کرنا اور امریکہ سے پیسے لے کر اپنی ہی عوام کو امریکہ کے حوالے کرنا کیا معمولی جرائم تھے کہ ان پر بحث تک نہ کی جائے؟

کہنے کو تو افواج پاکستان کا ادارہ  وزارتِ دفاع کے ماتحت ہے لیکن میں نے آج تک کسی وزیراعظم یا وزیر دفاع کو دفاعی یا عسکری پالیسیوں  پر یوں خوداعتمادی سے بات کرتے نہیں دیکھا جس طرح  نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سیمینار میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ ماہرین معیشت سے خطاب کررہے تھے۔ مجھے جنرل باجوہ کے خطاب پر کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ میرا تو اس بات پر ایمان ہے کہ معاشرے میں ہر موضوع پر گفتگو اور مکالمت کو فروغ دینا چاہیے۔ جنرل قمر باجوہ نےحکومت کی معاشی ٹیم اور دیگر ماہرین معاشیات سے خطاب کرتے ہوئے کہا  ”معاشی خودمختاری کے بغیر کسی بھی قسم کی خودمختاری کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے معاشی اقدامات کی بھرپور سپورٹ کرنی چاہیے۔ ملک پر اس وقت مشکل وقت ہے اور ہمیں ایک قوم بننا ہے۔ قومی امور پر کھل کر بات چیت ضروری ہے۔“  سوال بس یہ  ہے کہ کیا پاکستان کے کسی سویلین ادارے یا جامعہ میں کوئی ایسا سیمینار منعقد کرایا جاسکتا ہے جہاں مختلف ماہرین اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد  افواج پاکستان کے کردار یا کارکردگی پر کھل کر بات کرسکیں؟

جن لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ فوجی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے پاکستان زندہ باد  یا  پاک فوج زندہ باد نہیں کہ سکتے تو میں ایسے لوگوں کی شکایت کو رد کرتی ہوں۔ جب جب افواج پاکستان نے اپنی آئینی حدود میں رہ کر اپنے فرائض کی انجام دہی کی ہے پاکستان کی پاک عوام نے یک زبان ہو کر پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگایا ہے۔ دور کیا جانا ماضی قریب میں جب پاکستانی فضائیہ نے بھارتی طیارہ MiG-21 مار گرایا اور اس کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو زندہ گرفتار کرلیا تو پورے پاکستان نے پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ جب جب کسی قدرتی آفت سے نمٹنے اور بحالی کے کام کے لیئے پاکستانی فوج کو طلب کیا گیا اور ہماری فوج نے اپنے فرائض انجام دئیے قوم نے  پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ جب جب ہماری افواج نے اپنی زندگیاں قوم پر نچھاور کیں ہم سب نے پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ وہ اس لیئے کہ یہی وہ آئینی ذمہ داریاں ہیں جو ہم نے افواج پاکستان کے سپرد کی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 243 کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس مسلح افواج کی کمان اور کنٹرول ہوگا۔ صدر کو قانون کے تابع یہ اختیار ہوگا کہ وہ پاکستان کی برّی، بحری اور فضائی افواج کے دستے قائم کرے اور ان کی دیکھ بھال کرے۔ آئین کے آرٹیکل 245 کی شق اول کے مطابق مسلح افواج وفاقی حکومت کی ہدایت کے تحت بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کے خلاف پاکستان کا دفاع کریں گی اور قانون کے تابع شہری یا حکام کی امداد میں جب ایسا کرنے کے لیئے طلب کی جائیں کام کریں گی۔

پاک فوج زندہ باد کہنے سے کسی نقاد کی زبان نہیں جلنی چاہیے لیکن پاک فوج پر تنقید کرنے کے جرم میں کسی کی زباں بندی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ اس وقت دنیا کے نقشے پر پچاس سے زائد اسلامی ممالک موجود ہیں، ایسے میں صرف پاکستانی فوج کو پاک فوج یا اسلامی فوج قرار دینے کو کیا کہا جائے۔  پاکستان میں احتساب کے نام پر بڑی سیاسی پارٹیوں کی اعلی قیادت کو لائن میں لگا دیا گیا ہے۔ چلیں خیر ہے تبدیلی آتی ہے تو سیاسی منظر نامے کا تبدیل ہونا فطری بات ہے لیکن کوئی قوم کو یہ بھی تو سمجھائے کہ تبدیلی کی سونامی فوج کے احتساب سے قاصر کیوں ہے؟

میں جب فوج کے احتساب کی بات کررہی ہوں تو سمجھیں کہ میں جنرل ایوب خان تا جنرل پرویز مشرف تک کہ عسکری کارناموں پر مٹی ڈال کر صرف اور صرف پاکستان کی حالیہ سیاست میں عسکری مداخلت پر احتساب کی بات کررہی ہوں۔ احتساب کے اسی مطالبے  پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف پاکستان تحریک انصاف اور وزارت دفاع کی جانب سے ریفرنس دائر کروا دی گئی ہے۔ ورنہ وزارت دفاع اور حکومتِ وقت کی یہ ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ آرمی چیف پر زور ڈالیں کہ وہ فوج میں موجود سازشی عناصر کو بے نقاب کرکے فوج کو اس کی آئینی ذمہ داریوں تک محدود رکھے۔  اب جب پاکستانی جرنیل یوں پاکستان کے سیاسی، معاشی اور مذہبی معاملات میں کھل کر مداخلت کریں گے تو ایسے سوالات تو اٹھیں گے کہ اس معاملے میں بھی حکومت اور وزارت دفاع کی ڈوریاں جی ایچ کیو سے ہلائی جارہی ہیں۔ موجودہ حالات میں معاملہ کچھ یوں ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ حکومت اور اس کی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کررہے ہیں اور دوسری جانب عوام میں گزشتہ الیکشن میں ہونے والی سیاسی انجنئیرنگ اور “سلیکٹیڈ” وزیراعظم والا تاثر زور پکڑتا جا رہا ہے۔ آرمی چیف  حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے معاشی اقدامات کی بھرپور سپورٹ  کی باتیں کررہے ہیں دوسری طرف مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر عوام کی چیخیں نکلنا شروع ہوگئی ہیں۔ سیاسی اور معاشی حالات سے تنگ آکر اب جو کوئی تنقید کرے تو  “پاک فوج”  کی غیررسمی فوج آکر اسے  “پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد”  کا سبق پڑھانا شروع کردیتی ہے۔ ویسے اگر میرے زندہ باد کہنے سے پاکستان کے معاشی و سیاسی حالات میں واقعی کچھ بہتری آسکتی ہے تو پھر میں بھی کہہ دیتی ہوں کہ پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد، پاکستانی عوام پائندہ باد۔