عاطف توقیر

اصل پاکستان تو میں ہوں۔ یہاں اس پوسٹ کو پڑھنے والا کوئی مہاجر، کوئی سندھی، کوئی بلوچ، کوئی پشتون، کوئی کشمیری، کوئی گلگتی اور بلتستانی اور کسی بھی قوم، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھنے والا کوئی ایک شخص کم از کم یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ساتھ کوئی ظلم ہوا، تو میں خاموش تھا۔ یا اس کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی، تو میرے قلم نے اس کے زخم پر اپنی مقدس سیاہی سے نکلتے ہم دردی کے لفظوں کا مرہم نہیں رکھا۔

میں جہاں گیا، وہاں پاکستان کی ہر قوم اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مجھے بے انتہا محبت دی۔ ان لوگوں نے بھی جنہیں مجھ سے شدید اختلاف تھا۔ یعنی میرے موقف سے بدترین اختلاف کرنے والوں نے بھی کبھی مجھ سے بدتہذیبی سے بات نہیں کی۔

مجھے لندن کا وہ پشتون بھی یاد ہے، جس کی دکان سے میں نے خریداری کی، تو اس نے مجھ سے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔ مجھے پنجاب کے وہ دو لڑکے بھی یاد ہیں، جو ایک گھنٹے گاڑی چلا کر مانچسٹر کے ایئرپورٹ صرف اس لیے پہنچے کہ مجھ سے مل سکیں اور میرے ساتھ چائے پی سکیں، مجھے وہ بلوچ نوجوان بھی یاد ہے، جو مجھے فرینکفرٹ کے ہوائی اڈے پر ملا اور ٹرینز بند ہونے کی وجہ سے مجھے ڈیڑھ سو کلومیٹر گاڑی چلا کر گھر تک چھوڑنے آیا، مجھے وہ مہاجر بھی یاد ہے، جس نے لندن کے ریستوران میں اپنے کام کرنے والے کو ہٹا کر کہا کہ عاطف بھائی کے لیے روٹی میں خود پکاؤں گا۔ مجھے وہ سندھی خاندان بھی یاد ہے، جس نے مجھے امریکا میں ہوٹل میں ٹھہرنے نہیں دیا بلکہ اپنے گھر میں رکھا۔ مجھے وہ کشمیری بھی یاد ہے، جس نے تمام دن کام کیا تھا اور اگلے روز اسے پھر صبح چھ بجے کام کرنا تھا، مگر وہ رات ڈھائی بجے تک میرے پروگرام سے فارغ ہونے کا انتظار کرتا رہا کہ مجھے ہوٹل تک چھوڑنے آئے۔

یہ وہ لوگ ہیں، جن کے قرض صرف یہاں تک ہی محدود نہیں، وہ آسٹریلیا تھا یا افریقہ، امریکا تھا یا مشرق بعید، یورپ تھا یا مشرقِ وسطیٰ، مجھے اپنی دھرتی کے ان تمام پیاروں پر بے حد ناز ہے۔ اور یہی وہ لوگ ہیں، جن کی وجہ سے تمام تر دباؤ، تمام تر لالچیں، تمام تر دھمکیاں، تمام تر سخت جملے، تمام تر تلخیاں اور تمام تر القابات سنے اور سہے جا سکتے ہیں، جن کے مان کی وجہ سے میرا قلم کبھی کسی سودے بازی یا مصلحت کا شکار نہیں ہوا اور نہ ہو گا۔

یہی وہ لوگ ہیں، جن کی زندگی، جن کے تحفظ اور جن کے حقوق کے لیے میرے قلم نے اپنے ایک ایک لفظ کو مقدس سمجھا ہے۔ میں نے پشتونوں سے اپنے لیے مشر کا لفظ سنا ہے، میں نے بلوچوں سے اپنے لیے واجا کا لفظ سنا ہے، مہاجروں اور کشمیریوں نے مجھے بھائی کہا ہے، پنجابیوں سے میں نے ویر سنا ہے اور سندھیوں سے میں نے ادا کا لفظ سنا ہے اور یہی ہے اصل پاکستان۔ اس ملک کے ہر ادارے، ہر حکومت، ہر سیاست دان، ہر جرنیل اور ہر پالیسی سے ماورا، اس دھرتی پر بسنے والے انسان۔ جو صرف امن چاہتے ہیں، محبت چاہتے ہیں، خلوص چاہتے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی بیٹھے اور ان کے دکھ سنے۔ ان کے ساتھ بیٹھے تو ان جیسا ہو۔ جو بیک وقت سندھی بھی ہو، مہاجر بھی ہو، بلوچ بھی ہو، پشتون بھی ہو، کشمیری بھی ہو، گلگت بلتستانی بھی ہو، سرائیکی بھی، اور پنجابی بھی ہو۔

یہ ہے وہ پاکستان، جسے زندہ باد ہونا ہے۔ یہی ہے وہ قلم جو ترجمانِ ماضی، شانِ حال، جان استقبال سے سایہ خدائے زوالجلال تک جاتا ہے۔ اسی لیے سچائی اور ادارک کا قلم،  سیاہی کو شہید کے خون سے مقدس اور افضل بناتا ہے۔