وقاص احمد

اپوزیشن کی زبانیں کنگ اور حلق خشک ہیں۔
عمران خاں صاحب کا دورہ امریکہ ظاہری طور پر کامیاب جا رہا ہے۔ خاں صاحب کی صدر ٹرمپ سے خوش گپیاں، پریس کانفرنس میں اسامہ بن لادن اور شکیل آفریدی کے موضوع پر ہوش ربا تبصرہ، وائٹ ہاؤس کی سیر، کشمیر کے موضوع پر مبینہ سفارتی چھکا اور واشنگٹن میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب پر ہر طرف واہ واہ چل رہی ہے۔

صافہ بردار صحافیوں نے تو خاں صاحب کی “کرشماتی شخصیت” کی دیومالائی کہانیاں سنا دی ہیں جن کی تاب نا لاتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ بچھ بچھ جارہا ہے۔ سرکاری نمائندے اور پریس میں پاک امریکہ تعلقات کے اس عروج پر پہنچ جانے کی نوید ہے جس عروج تک یہ تعلقات۔۔۔۔۔۔۔ (یہ جملہ میں مضمون کے آخر میں مکمل کروں گا)

اللہ رے اللہ یہ کیسی چنگاری ہماری خاکستر میں تھی۔ غیر جانبدار صحافی منہ میں انگلیاں دبائے بیٹھے ہیں۔ سچ حلق میں اٹکا ہے، حقیقت زبان کی نوک پر تڑپ رہی ہے لیکن آواز ہے کہ نکلنے کا حوصلہ ہی نہیں پکڑ پا رہی۔ پاک امریکہ تعلقات کے سائیبیریا کا یکایک محبتوں کے آتش فشاں میں تبدیل ہو جانے کی وجہ اس ملک کے ہر سرکاری و غیر سرکاری سیاست دان اور اس ملک کے صافہ بردار صحافیوں سے لیکر آذاد و غیر جانبدار تجزیہ نگاروں تک سب ہی کو معلوم ہے مگر بولنے کے حوصلہ نہیں۔
ایسا بھی نہیں کہ سچ بالکل بھی نہیں بولا جا رہا۔ ادھورا سچ تو سب ہی بول رہے ہیں۔ حکومت ہو، اپوزیشن ہو، میڈیا ہو سب کھلے عام یہ سچ بول رہے ہیں کہ اس مبینہ کامیاب میچ کے مین آف دا میچ خاں صاحب نہیں بلکہ جنرل باجوہ صاحب ہیں لیکن “کیوں ہیں” جیسا سوال مشترکہ طور پر سب گول کر جاتے ہیں۔

کیا یہ سچ نہیں کہ دورہ امریکہ سے پہلے امریکیوں کے پتھر دل کو پگھلانے کے لیے ابتدائی “بھینٹ” اسی اسٹریٹریجک اثاثے بنام حافظ سعید کی چڑھائی گئی ہے جس حافظ سعید کی “چلی ملی مسلم لیگ” کو اب سے صرف ایک سال قبل زبردستی اور غیر قانونی طور پر ایک سیاسی جماعت کے طور پر انتخابات میں انجنئیرنگ کے واسطے رجسٹر کروایا گیا۔ مسلم لیگ ن کا دائیں بازو کا ووٹ توڑا گیا، کم از کم 15 نشستوں پر اسٹیبلشمنٹ کی ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک نے مسلم لیگ ن کی ہار میں کلیدی کردار ادا کیا اور انتخابات کے فوراً بعد ہماری سوئی ہوئی عدلیہ اور الیکشن کمشن کو یکایک خیال آیا کہ یہ جماعتیں تو غیر قانونی ہیں اس لیے پابندی عائد کی جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ سوئی ہوئے عدلیہ کے اس جاگے ہوئے جج کو اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں گھسیٹا جارہا ہے جس نے یہ گستاخ سوال اٹھانے کی ہمت کی تھی۔

میں کیسے مان لوں کہ 2018 کے جولائی تک “اثاثہ” قرار پایا جانے والا ایک شخص یکایک کسی “پالیسی تبدیلی” کا شکار ہوگیا ہے؟

کیا یہ سچ نہیں کہ ریاست پاکستان کا یہ موجودہ عزم کہ وہ ہر طرح کی انتہا پسند تنظیموں کا مکمل قلع قمع کرے گی، یہی عزم ایک دفعہ پہلے ایک ٹاپ لیول اندرون ملکی فورم پر دہرائے جانے کو “ڈان لیکس” کا نام دیا گیا تھا اور ریٹائرڈ اسٹیبلشمنٹی گھوڑے بمعہ صافہ بردار صحافی بمعہ اعلیٰ حضرت عمران خاں صاحب اس “قومی راز” کے افشاء ہونے پر ایک سال تک بین ڈالتے رہے تھے؟ جس موضوع پر بند کمروں میں صرف گفتگو ہی دو حکومتی وزراء اور ایک سینئر بیوروکریٹ کا سر لے گئی تھی، میں کیسے مان مان لوں کہ وہی موضوع اب ہماری “تبدیل شدہ پالیسی” ہے؟

میں کیسے مان لوں کہ خواجہ آصف کے دورہ امریکہ کے دوران ایک انٹرویو میں کہا جانے والا ایک شہرہ آفاق جملہ “ہمیں اپنے گھر کو صاف کرنے کی ضرورت ہے” پر طوفان بدتمیزی برپا کرنے والی پی ٹی آئی اور اس پر شدید برہمی کا اظہار کرنے والی ٹویٹری سرکار کے نمائندے آج برملا اسی امریکہ میں بیٹھ کر اپنے گھر کو صاف کرنے کی باتیں کرنے پر ایسے سادھو بن کر بیٹھ گئے ہیں جیسے کسی نگاہ درویش نے ان کی ہیت قلب تبدیل کر دی ہے؟

کیا یہ سچ نہیں کہ خارجہ امور کے ہر اس پہلو پر حکومت پاکستان کو زچ کر دینے والی اسٹیبلشمنٹ آج انہی شرائط پر امریکہ اور بیرونی دنیا سے تعلقات استوار کرنے کی متمنی ہے جن شرائط کو پہلے “غداری” کہا جاتا تھا؟

کیا یہ درست نہیں کہ آج ریاست پاکستان ان شرائط پر بھی انڈیا سے بات چیت کا راستہ کھولنے کے لیے تگ و دو کر رہی ہے جن سے کم تر شرائط پر پہلے “مودی کی یاری” کے ٹویٹر ٹرینڈ چلا کرتے تھے اور وہ ٹرینڈ کس کے ایما پر چلائے جاتے تھے وہ بھی سب کو معلوم ہے۔

کیا یہ حیران کن نہیں کہ ایک سال کا عرصہ بیت گیا ہے جب سے وزیراعظم پاکستان مودی سرکار سے مذاکرات کی کوششیں کر رہا ہے لیکن نا کوئی پٹھان کوٹ ہو رہا ہے، نا اڑی، نا ہی پلوامہ؟ یہ اچانک “بھارت” کی کایا پلٹ کیسے ہوگئی ہے کہ پاکستان سے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے وہ “اپنے ہی ملک میں خود ہی حملے” کیوں نہیں کروا رہا؟

اب آپ اوپر دیے گئے چند موٹے موٹے سوالات کا جواب ڈھونڈیے اور پھر پی ٹی آئی حکومت کے اس راگ درباری کو سنیے جو دن کے چوبیس گھنٹے میڈیا پر سنایا جاتا ہے کہ “حکومت اور فوج ایک پیج پر ہے”۔

اگر آپ چھٹانک بھر بھی تجزیاتی دماغ رکھتے ہیں تو آپ کو یہ سمجھنے میں لمحہ بھر بھی نہیں لگے گا کہ یہ “مبینہ کامیابی” درحقیقت حکومت اور فوج کے “ایک پیج” پر ہونے باعث ممکن ہوئی. ویسے تو کسی بھی مہذب ملک میں فوج کا حکومت سے الگ پیج پر ہونے کا تصور بھی ممکن نہیں مگر اب یہ سوال اٹھانا جائز بنتا ہے کہ پاکستان میں ان معاملات پر فوج پہلے حکومت کے “پیج” پر کیوں نہیں تھی؟ اور امریکہ سے تعلقات میں یہ اچانک بدلاؤ کیسے آرہا ہے؟

دو وجوہات میں آپ کو بتائے دیتا ہوں، ماننا یا نا ماننا آپ کی صوابدید۔

پہلی وجہ: ان مخصوص معاملات پر جو اوپر بیان کئے گئے ہیں۔  آج تک ہماری اسٹیبلشمنٹ کا خیال یہی تھا کہ وہ لامحدود وقت کے لیے لامحدود لوگوں کو یہ کہہ کر بیوقوف بناتے رہیں گے کہ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اور ظاہر ہے دنیا چونکہ روٹی کو چوچی نہیں کہتی اس لیے وہ اس بیانیے کو جھوٹ کہتی تھی اور اس جھوٹ کی بدنامی آتی تھی ہمارے غدار، کرپٹ اور چور سولین حکمرانوں کے حصے میں۔ آپ صدر ٹرمپ کا بیان پڑھیں۔ وہ دہشتگردی کی جنگ کے سیاق میں کہتے ہیں کہ “ماضی کی حکومتوں” نے امریکہ کو وہ احترام نہیں دیا جس کا وہ مستحق تھا۔ ظاہر ہے امریکی صدر جیسے well informed شخص کو یقیناً معلوم ہے کہ معاملات کی خرابی کی اصل جڑ کہاں تھی مگر سرکاری طور پر وہ صرف حکومت پاکستان کو ہی موردالزام ٹھہرا سکتا تھا۔ اب چونکہ حکومت براہِ راست انہی کی ہے جو سول حکومت کے پیج پر آنے کا نام بھی نہیں لیتے تھے اور بدنامی بھی براہِ راست انہی کے حصے آرہی تھی جو پوری دنیا کو بیک وقت بیوقوف بنانے کی کوششوں میں مگن تھے اس لیے اب “پالیسی شفٹ” کی آڑ میں اسی بیانیے کو اپنا لیا گیا ہے جو بیانیہ پیش کرنے پر بے نظیر سکیورٹی رسک اور نوازشریف غدار اور مودی کا یار قرار پایا تھا۔

دوسری وجہ: موجودہ امریکی صدر افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں۔ (میں نے دانستہ طور پر یہ نہیں لکھا کہ امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے). اور یہ بات 80 کی دہائی سے امریکہ کو معلوم ہے کہ افغانستان سے نکلنے کا آزمودہ اور تیز ترین طریقہ پاکستان سے گزرتا ہے۔ اس لیے امریکہ کو فی الوقت پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔ ابھی ہم اس بحث میں بالکل نہیں پڑیں گے کہ یہ کیسا حسین اتفاق  ہے کہ امریکہ کو پاکستان کی مدد کی ضرورت ہمیشہ فوجی حکومت کے دوران ہی پڑتی ہے۔ اور اس بحث سے متعلقہ سوال بھی نہیں اٹھائیں گے کہ آیا کہ یہ محض اتفاق ہے کہ امریکہ کو پاکستان کی مدد کی ضرورت ہمیشہ فوجی حکومت کے دوران پڑتی ہے یا پھر فوجی حکومت کا “بندوبست” ہی تب کیا جاتا ہے جب امریکہ کو پاکستان کی مدد کی ضرورت ہو؟ بہرحال یہ طے ہے کہ امریکہ کو اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے اور اسی وجہ سے پاک امریکہ تعلقات اس وقت اسی عروج پر ہیں جس عروج پر یہ ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں تھے۔ یہ تینوں ادوار اپنے اپنے اوقات میں پاکستان کے لیے ڈھیروں امدادی پیکجز، اسلحہ پیکجز اور معیشت کے لیے طاقت کے انجکشنز لائے جن سے وقتی طور پر ہمیں خوشحالی کا جھانسہ تو ملا مگر ان ادوار کے حتمی نتائج نے پاکستان کو نقصان اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ اس لیے اصل ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ ہم تو نالائق ٹھہرے جو آپ کے ڈاکٹرائن سمجھ نہیں سکتے، آپ بس اتنا خیال رکھیے گا کہ نئے ڈاکٹرائن میں پاکستان کا بھی کچھ تھوڑا بہت بھلا ہوجائے۔ جب تک میں اس مضمون پر اس مہان شخص کے تبصرے کا انتظار کرتا ہوں جو مجھے بتائے گا کہ خارجہ پالیسی، دہشتگردی سے متعلقہ معاملات اور انتہا پسند تنظیموں پر پی پی پی اور ن لیگ کی حکومتوں کے موقف پر اسٹیبلشمنٹ اس لیے ساتھ نہیں دیتی تھی کیونکہ زرداری نے بنا ثبوت کے مقدمے میں گیارہ سال قید کاٹی تھی اور نوازشریف نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے ایک غیر وصول شدہ تنخواہ اثاثوں میں ظاہر نہیں کی تھی۔