مہناز اختر

لاطینی زبان میں لفظ mortem ”موت“ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اصطلاحی معنوں میں موت کی وجوہات جاننے کے لیۓ لاش کے مکمل طبی معاٸنے کو پوسٹ مارٹم کہتے ہیں۔ میڈیکل ساٸنس کی اصطلاح میں اس عمل کو Autopsy کہتے ہیں۔ لفظ آٹوپسی کا تعلق یونانی زبان سے ہے، جسے ”گواہ“ یا ”مشاہدہِ ذات“ کے معنوں میں لیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم کی تاریخ قدیم مصری اقوام سے جاکر ملتی ہے۔ قدیم مصری لاشوں اور مختلف اعضاءِ بدن کو حنوط کرنے میں کمال مہارت رکھتے تھے اور یہ مصری ہی تھے جنہوں نے انسانوں کے علاوہ دیگرحیوانات کےاعضاء کا بھی انتہاٸی عمیق مشاہدہ کیا تھا۔ آٹوپسی ماہر اورسرٹیفاٸڈ پیتھالوجسٹ کے زیرنگرانی کی جاتی ہے۔ طبّی تحقیق و تفتیش کے حوالے سے کیۓ جانے والے پوسٹ مارٹم کو کلینیکل/ پیتھالوجیکل آٹوپسی کہتے ہیں اور قتل کی تحقیقات اور قانونی معاملات کے حوالےسے کیۓ جانے والے پوسٹ مارٹم کو میڈیکولیگل آٹوپسی یا فارینسک پیتھالوجی کہا جاتا ہے، جبکہ انسانوں کے علاوہ دیگر حیوانات کے پوسٹ مارٹم کے لٸے Necropsy کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

پوسٹ مارٹم کے آغاز پر باڈی کا ظاہری معاٸنہ کیا جاتا اور تفصیلات نوٹ کی جاتی ہے اور دوسرے مرحلے میں باڈی پر سینے سے ناف تک انگریزی حرف ”Y“ کی شکل کا چیرہ لگا کر اندرونی اعضاء کو جسم سے الگ کرکے انکا مکمل معاٸنہ کیا جاتا ہے اور سیمپل لیۓ جاتے ہیں، اسکے علاوہ دماغ کو کوپڑی سے باہر نکال کر اسکا بھی تفصیلی معاٸنہ کیا جاتا ہے، بعد ازاں تمام اعضاء کو انکی جگہ پر واپس رکھ کر ٹانکے لگا دیۓ جاتے ہیں۔ اس دوران اگر کسی عضو یا ٹشو کو مزید تحقیق کے لیۓ محفوظ کرنے کی ضرورت پیش آۓ تو یہ عضو یا ٹشو صرف اور صرف ورثاء کی اجازت سے محفوظ کیۓ جاتے ہیں۔ کیس کی نوعیت کے اعتبار سے مکمل آٹوپسی کے بجاۓ جسم کے کسی مخصوص حصے کی آٹوپسی بھی کی جاسکتی ہے۔ آٹوپسی کا طریقہ کار عالمی طبّی معیار کے اصولوں کے مطابق طے کیا گیا ہے، اس میں انسانی بدن کی تکریم اور ورثاء کے جذبات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ مزید یہ بھی کہ آٹوپسی کے بعد اس امر کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ لاش کی ظاہری حالت میں کوٸی فرق نہ آۓ ۔

پوسٹ مارٹم کیوں ضروری ہے؟

طبّی تحقیق کے میدان میں کلینیکل آٹوپسی انتہاٸی اہم ہے اور اس مقصد کے لیۓ مغربی ممالک میں ورثاء کی جانب سے لاش کا عطیہ کرنا فلاحِ انسانیت کی مد میں کارِعظیم سمجھا جاتا ہے۔ ایسی اموات جہاں موت کی وجہ مشکوک ہویا قتل کا امکان موجود ہو وہاں فارینسِک پوسٹمارم کی اہمیت مسلِّمہ ہے۔ اسکے ذریعے موت کی وجہ اور قتل کے طریقہ کار کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے اور انصاف کے تقاضوں کو سچاٸی کے ساتھ پورا کیا جاتا ہے۔ فارینسِک پوسٹمارم کی ضرورت حادثاتی موت، کسی غفلت کی وجہ سے ہونے والی موت اور قتل کی صورت میں پیش آتی ہے۔

مذہبی عقاٸد کی بنیاد پرپوسٹ مارٹم کے حوالےسے پایا جانے والا منفی تاثر

روایت پسند مذہبی افراد پوسٹ مارٹم کو لاش کی بے حرمتی سے تعبیرکرتے ہیں خاص طور پر مسلمان اور یہودی، اس لیۓ انکے یہاں اکثر اوقات ورثاء کی جانب سے پوسٹ مارٹم کی اجازت نہیں دی جاتی یا انتہاٸی مجبوری کی حالت میں دی جاتی ہے۔ حالانکہ طبّی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ علماء دین کو پوسٹ مارٹم کے حوالے سے اپنا رویہ اور نظریہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ پوسٹ مارٹم لاش کی بے حرمتی نہیں بلکہ طبّی و قانونی تحقیق اور خدمت کے حوالے سے عین تکریم انسانی ہے اور دنیا کو اس حوالے سے علمی رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان تحقیق اور تفتیش کے دوسرے میدانوں کی طرح فارینسِک کے میدان میں بھی دیگر اقوام سے بہت پیچھے ہے۔ اسکی بڑی وجہ علماء دین اور عوام النّاس کی ساٸنسی علوم سے دوری ہے۔ یہاں میں پوسٹ مارٹم سے متعلق مختلف مکاتبِ فکر کے چند فتووں اور آراء کو نقل کرنا ضروری سمجھتی ہوں تاکہ مضمون کا مقصد مزید واضح ہوسکے۔

اہلِ حدیث مکتبہ فکر: ” پوسٹ مارٹم کیونکہ مردے کی بے حرمتی کا باعث ہے اس لیۓ عام حالت میں اسکی قطعی کوٸی گنجاٸش نہیں ہے۔ البتہ اگرکوٸی مخصوص صورتحال پیش آجاۓ جیسے کسی خاص مقدمے کی تحقیق کے لیۓ موت کی وجہ معلوم کرنی ہوں تو ایسی صورت میں پوسٹ مارٹم کی گنجاٸش معلوم ہوتی ہے، ورنہ نہیں“
دیوبندی مکتبہ فکر: ” پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار کو ظلم اور فحاشی میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ جب ایک آدمی مرگیا اور اسکے قاتل کا بھی پتا نہیں تو لاش کی بے حرمتی کا کیا فاٸدہ؟ بہتر ہے کہ لاش کی تدفین کردی جاۓ، بہرحال برہنہ پوسٹ مارٹم حد سے زیادہ تکلیف دہ اور قباحتوں کا مجموعہ ہے۔ گورنمنٹ کو چاہیے کہ ازروۓ قانون اس پر پابندی لگادی جاۓ“

سنّی/بریلوی مکتبہ فکر: ”مسلمان میّت کی لاش کا احترام مثلِ زندہ کے احترام کے ہے بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ۔ پوسٹ مارٹم کا اہتمام شرعی ضرورتوں اور ستر کا احترام کیۓ بغیر کیا جاتا ہے۔ اس میں کوٸی شبہ نہیں کہ میت کے جسم کو چیرنا پھاڑنا اسکے احترام کے منافی ہے اور جب تک کوٸی قوی وجہ اجازت کی نہ ہو تب تک چیر پھاڑ مباح نہیں ہوسکتا“

کیا علماۓ دین سے پوسٹ مارٹم کے حوالے سے تنگ نظری اور کم علمی پر مبنی رویے کی تبدیلی اور دورِجدید کے مساٸل کے حل کے لیۓ اجتہادِ نو کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے؟

جی ہاں بالکل کیا جاسکتا ہے، خاص طورپر جہاں پوسٹ مارٹم نہ کرانے کیوجہ سے قتل کے مقدمات میں مجرم کو فاٸدہ حاصل ہوتا ہے اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوپاتے اور بعض اوقات اصل مجرم اور حقاٸق ہمیشہ راز ہی رہ جاتے ہیں۔
آپکو یاد ہوگا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر انکے خاندان نے خاندانی عزت و وقار کے پیش نظر محترمہ کا پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کردیا تھا۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تفتیشی ٹیم نے بھی پوسٹ مارٹم نہ کراۓ جانے کی وجہ سے تفتیش کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کا ذکر کیا تھا۔ اس دوران محترمہ کی شہادت پر پولیس کی جانب سے جاۓ وقوعہ کے دھو دیۓ جانے پر تو بہت واویلا مچایا گیا اور اسے سازش قرار دیا گیا جبکہ محترمہ کے خاندان سے یہ سوال کسی نے نہیں پوچھا کہ “کیوں وہ پوسٹ مارٹم نہ کروا کر محترمہ کے قاتلوں کو فاٸدہ پہنچارہے ہیں؟ “
ایسے ہی مولانا سمیع الحق کے قتل کے بعد انکے خاندان نے بھی شرعی وجوہات کی بنیاد پر پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کردیا تھا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ مولانا کہ قتل کے بعد انکے حوالے سے کٸی افوہیں بھی گردش کرنے لگیں تھیں۔ جیسے کہ مولانا ”حرام“ مشروبات اور تعلقات کا شوق رکھتے تھے اور قبل از قتل بھی یہی شوق فرما رہے تھے۔ ایسی صورت میں اگر مولانا کا پوسٹ مارٹم کرایا جاتا تو یہ افوہیں غلط ثابت ہوجاتیں لیکن اگر پوسٹ مارٹم کے نتاٸج سے یہ افواہیں درست ثابت ہوتیں تو قاتل تک پہنچنے میں مدد ملتی اور قتل کے محرکات کا پتا چلتا دوسری طرف ہمیں نام نہاد مذہبی رہنماٶں کے سحر سے نجات بھی مل جاتی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کے ہاٸی پروفاٸل کیسس میں ریاست مقتول کے ورثاء کے آگے بے بس کیوں ہوجاتی حالانکہ شرعی طور پر ریاست یہ حق رکھتی ہے کہ ورثاء کے انکار کے باوجود بھی تفتیش کے تقاضے پورے کرنے کے لیۓ مقتول کا پوسٹ مارٹم کرواۓ۔

پوری مسلم دنیا خاص طور پر پاکستان میں مذہب کو جہالت اور تنگ نظری کا جواز بنایا جاتا ہے۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ علماء دین اور مذہبی طبقے کی جدید ساٸنسی اور عصری علوم سے ناواقفیت ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جہاں انفرادی فواٸد کی بات ہو تو یہ روایت پسند مذہبی طبقہ ساٸنس اور ٹیکنالوجی سے بھرپور فواٸد اٹھاتا ہے لیکن جہاں فلاح انسانیت اور تحقیق کی بات ہو تو یہی طبقہ مذہب کو جواز بناکر بہت سارے اعمال و افعال کو حرام قرار دے دیتا ہے۔ حقیقت میں علم کے رد اور اسکی تکفیر کو حرام قرار دیا جانا چاہیے لیکن پاکستان جیسے مذہبی ملک میں معاملات الٹے ہیں۔

(متبادل مختلف موضوعات پر متنوع خیالات اور نکتہ ہائے نگاہ سے ماخوذ ہے۔ کسی مصنف کی رائے سے متبادل کا متفق یا نا متفق ہونا ضروری نہیں۔)