مہناز اختر

 ایک پاکستانی نجی ٹی وی چینل پر ترکی کا ڈرامہ  ’’ارمان‘‘ چل رہا ہے۔ اشرافیہ کی شان دار شادی کی تقریب کا منظر دکھایا جارہا ہے۔ مردوں نے پرتکلف تھری پیس سوٹ زیب تن کر رکھے ہیں اور خواتین نے گھٹنوں تک بغیر بازوؤں والے خوبصورت ’’ون پیس‘‘  ملبوسات پہن کر تقریب کو رونق بخشی ہوئی ہے۔ گوری چٹی ترک خواتین کی ٹانگیں بھلی بھلی سی لگ رہیں ہیں۔ تقریب جاری ہے، ایک منظر میں چند مرد و خواتین ہاتھوں میں جام تھامے خوش گپیوں میں مصروف ہیں۔ اچانک اسکرین پر نیچے  اِک جملہ  “شراب حرام ہے”  ضمیر کی طرح نمودار ہوا  اور چند ہی لمحوں میں غائب ہوگیا۔

یہ منظر دیکھتے ہوئے میرے دماغ میں کہیں یہ شائبہ تک نہ تھا کہ ان جاموں میں مے ہوگی۔ میں تو سمجھی بیٹھی تھی کہ شاید پیپسی یا کوکا کولا نوش فرمائی جارہی ہے۔ کھلی منافقت ہے بھئی جس منظر میں خواتین نے  بغیر بازوؤں والے مختصر لباس پہن رکھے تھے اس وقت تو ایسا کوئی انتباہ دکھائی نہ دیا جیسے کہ “اسلام میں فحاشی حرام ہے”، “اسلام خواتین کو مکمل ستر پوشی کا حکم دیتا ہے”  یا  “مومن مرد اپنی نگاہیں نیچی کرلیں کیونکہ نامحرم خاتون کو مختصر لباس میں دیکھنا حرام ہے”  لیکن ایک ایسا معاملہ جو مبہم تھا اور نظرانداز کیا جاسکتا تھا وہاں ہمیں حلال و حرام  کا سبق پڑھایا گیا۔ یوں تو تمباکو نوشی کو بھی اکثر علماء حرام قرار دیتے ہیں لیکن اس پر لکھی انتباہ پر حرام یا مکروہ کے بجائے یہ درج ہوتا ہے “تمباکونوشی صحت کے لیے مضرہے”۔

چند سال قبل پاکستان میں ایک منافقانہ ثقافتی ہنگامی حالت نافذ کردی گئی۔ ہرطرف سے صدا آنے لگی کہ بھارتی چینلز سے دکھائے جانے والے ڈراموں سے اسلامی اقدار اور پاکستانی ثقافت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ہندی اور ہندوانہ تمدن کے بارے میں تحقیر آمیز باتیں میڈیا پر کھلے عام کی جانے لگیں اور بھارتی اداکاراؤں کے میک اپ اور ساڑھی سے پاکستانی عوام کا ایمان خراب ہونے لگا۔

میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افراد نے ریاستی بیانیے کی ہاں میں ہاں ملائی۔ تمام ہندوستانی چینلز اور ڈرامے بند کر کہ غریب اور متوسط طبقے کی خواتین سے ان کی سستی تفریح کو چھین کر ٹی وی کے تفریحی تنوع کو ختم کردیا گیا۔  یہ پابندی بھارت سے خراب  سیاسی اور سفارتی تعلقات کے سبب لگائی جاتی تو شاید بات سمجھ میں آتی لیکن اِدھر انڈین میڈیا پر پابندی لگائی گئی اُدھر پاکستان میں ترکی ڈراموں کی بھرمار ہوگئی۔ مجال ہے کہ کسی نے آواز اٹھائی ہو کہ ترکی کے ڈراموں میں خواتین کی کم لباسی یا کھلے عام مرد و خواتین کے بغلگیر ہونے یا ترک بادشاہوں کی حرم کی عیاشیاں نشر کیئے جانے سے پاکستانی تہذیب و ثقافت  کو خطرہ  ہے۔  دوسری جانب ٹی وی  پر سیدھی سادھی شلوار قمیض اور دوپٹے میں ملبوس آئیڈیل پاکستانی لڑکی کا کردار ادا  کرنے والی اداکاراؤں نے کھل کر اپنے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے دوست احباب کی مہندیوں اور ڈھولکیوں کی ویڈیوز شیئر کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔

ان نجی محافل میں یہی پاکستانی ادکارائیں پاکستانی کلچر کا پاٹ پڑھانے والے اداکاروں کے ساتھ ناف سے نیچے بندھا لہنگا اور چودہ انچ کی “آلموسٹ بیک لیس”  بغیر آستین والی بلاؤز  پہن کر ڈانس فلور پر انڈین گانوں پر بے حال ہوکر رقص کرتی دکھائی دینے لگیں اور ملک میں مہندی شہندی اور گرینڈ ویڈنگ کا فیشن چھا گیا۔ ہماری ادکارائیں سوشل ایونٹس پر “ترک اسلام” سے متاثر ہوکر چھوٹے چھوٹے کپڑے  خود اعتمادی سے پہننے لگیں لیکن عام عوام بدستور انڈین ڈراموں کی تفریح سے محروم رہی۔ سونے پر سہاگہ ایمن اور منیب کی گرینڈ سے بھی وڈِّی والی مہنگی گرینڈ شادی اور ہنی مون والے عمرے کی تصاویر نے نوجوان نسل کو “اسلامی”  ثقافت کے جدید رنگوں سے روشناس کروادیا۔ یاد آیا اسی دوران جیو کہانی سے “میڈ ان پاکستان”  ڈرامہ  سیریل  “ناگن”  نشر ہوتا رہا۔

لکس اسٹائل ایوارڈ کی تقریب میں اداکار یاسر حسین نے اداکارہ اقراء عزیز کو انگوٹھی دیتے ہوئے شادی کا پیغام دیا جواباً اقراء عزیز نے حامی ظاہر کرتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور یاسر نے شرافت کے ساتھ اسے انگوٹھی پہنا دی اور گلے لگا کر بے حد گرمجوشی سے اقراء کے گالوں اور پیشانی پر  دوستانہ، مشفقانہ، معصومانہ اور محبتانہ بوسہ دیا۔ ہم ٹہرے  پاکستانی قوم ہمیں تو بے رحمانہ اور سنگدلانہ بوسے دیکھنے کی عادت ہے شاید اس لیے ہمیں خوبصورت سے شادی کے پیام و اعلان میں بھی فحاشی نظر آئی۔  پورے پاکستان میں بھونچال آگیا اور صحافی سے لے کر شرابی تک ملک میں بڑھتی ہوئی بے حیائی کا رونا ڈال  کر ریاست مدینہ کے والی کے حضور عرضی پیش کرنے لگے کہ فوراً ہی کوئی کاروائی کی جائے کیونکہ یہ دونوں  پاکستانی نوجوانوں کو کھلے عام بوس کنار کی ترغیب دے رہے ہیں۔

 ہمارا مسئلہ درحقیقت بوس و کنار یا پپی جھپی نہیں ہے۔ مسئلہ اقراء اور یاسر کے چہرے کی جگماتی مسکراہٹ تھی۔ ہمیں لوگوں کو خوش دیکھنا اچھا نہیں لگتا۔ ورنہ یہ ہنگامہ تب کیوں نہ مچا جب چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال صاحب  کی کال ریکارڈنگ منظر عام پر آئی تھی اور عزت مآب جیتندر اور ونود کھنہ کے انداز میں طیبہ نامی شادی شدہ خاتون کے ساتھ عشق فرمارہے تھے اور “سر سے لے کرپاؤں”  تک چومنے کی معصومانہ خواہش کا اظہار فرما رہے تھے۔ پھر جھپی والی ویڈیو بھی آگئی لیکن اس وقت قوم نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ذمہ دار ترین شخص جو خیر سے شادی شدہ بھی ہیں سے کوئی سوال نہ کیا بلکہ ویڈیو بنانے اور سامنے لانے والوں کو کوسنے دینے لگے کہ بھلا ایک بھلے مانس کے آفس کی خلوت کے مشاغل کو جلوت میں لانے کی کیا ضرورت ہے، اب کیا کوئی شریف اور شادی شدہ آدمی ایک پرائی لیکن من بھائی عورت کو سر سے پاؤں تک چومنے کی خواہش کا اظہار بھی نہیں کرسکتا ؟

عجیب منطق ہے کہ ایک طرف تو دباؤ والی ویڈیو سامنے آنے پر جج برطرف کیا جارہا ہے اور دوسری طرف مجال ہے کہ چیئرمین نیب سے کوئی پوچھے کہ کہیں آپ کو  “پپی جھپی”  رشوت کے طور پر تو نہیں دی جاتی؟

پاکستانیوں کو ریاست مدینہ کا خواب بیچنے والے وزیراعظم محترم عمران خان جو قریب ارسٹھ برس کے ہوچکے ہیں اور تین تین نکاح بھی فرماچکے ہیں ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ میاں! چلو جوانی کی غلطیوں پر مٹی ڈالو جو ہوا سو ہوا لیکن  “ڈیلی میل” اخبار نے 26 ستمبر 2018 میں سیتا وائٹ کی بیٹی ٹیرن وائٹ کو آپکی اور سیتا وائٹ کی محبت کی اولاد لکھا تھا اور آپکی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ اس لڑکی کو اپنے بیٹوں کی سوتیلی بہن کہتی ہے اس لڑکی کا کیا سوچا آپ نے؟ آپ کے ماضی کے قصوں سے نوجوانوں کو غلط پیغام جارہا ہے۔

بدقسمتی سے  ہم مذہبی منافقت کی انتہا پر پہنچی ایسی گھن چکر قوم ہیں کہ جہاں سوال اٹھانے چاہیے وہاں مصلحت اور تاویلیں گھڑلیتے ہیں اور جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنا چاہیے وہاں ہمیں یاد آجاتا ہے کہ صیہونی ایجنڈے کے تحت اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے بے حیائی پھیلائی جارہی ہے۔  جناب!  جس ملک کے موجودہ چیئرمین نیب اور وزیراعظم کے ماضی وحال اس قدر رنگین ہوں وہاں آپ کو ایک جوان اور غیر شادی شدہ جوڑے کے شادی کے پیغام اور محبت کے اظہار کے خوبصورت طریقے میں بے حیائی نظر آرہی ہے یاں پھر لوگ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو کچھ کرنا ہو چھپ کر کرو “اسلامی طریقے”  سے کرو بس دھیان رکھنا کہ کوئی ویڈیو نہ بنے ورنہ نوجوانوں کو غلط  پیغام جائے گا۔