شہزاد فرید

استادِ محترم علامتی افسانہ زبان کررہے تھے، سامعین کے اذہان میں معنوں آہ بھرتے، کروٹ لیتے اور کبھی انگڑائی۔ محفل ہمہ تن گوش تھی، استاد کبھی فاختہ اور سیمرغ سے ہم کلام ہوتے ، کبھی لومڑ کی تندی بیان کرتے اورکبھی ہنس کی ترکیبِ وفا ۔ داد ہر جملے کی مرصعّ کاری کر رہی تھی۔ افسانے کے اختتام پر استا د کی جھولی گنجِ داد سمیٹنے سے قاصر تھی۔

محفل برخاست ہوئی۔ ریاستی بحث نے سر جوڑ لیا۔

آہا بھئی واہ، واہ ، واہ۔ کیا تقریر تھی، میاں اشعار تھے اشعار، جملے کی بنت ، لہجے کا ٹھہرا ؤ، لفظ کے ادا کر نے کا پروٹوکول ، سب التزامات کو خوب نبھا یا برخودار نے۔ نانا کی یاد تازہ کرتے جملے کہے میاں۔استاد نے بلاول کی تقریر پر تبصرہ شروع کیا۔
جی جی حضور، میں سُنتا جاتا ، دل دہلتا جاتا، ظالم نے ضیاء کے ہوا ہوئے ظلم ذہن میں کندہ کردیئے۔ ایک ادیب نے استاد کے جملے پر گرہ لگائی۔

محفل میں ایک شخص اس تقریر پر اپنی وارفتگی کے اظہار کو وجدان سے مثل کررہے تھے۔ ہم نہ کہتے تھے طفلِ شہداء کبھو نہ سنگ ہوگا، دیکھا آپ نے جناب، کیا جملے کہے برخودار نے، اور وہ “منتخب وزیرِ اعظم” بھئی واہ، کند ذہن کی بائیس سالہ نمائش کو ایک دو لفظوں نے کند کر دیا۔بھئی واہ، ہمارا جی للچا رہا تھا، ہم تو سکرین کے بوسے لیتے رہے۔ان جملوں کو ادا کرتے کرتے وہ استادِ محترم کے پہلونشیں ہوئے اور چند مزید جملوں سے بھٹو کا بلاول میں تناسخ ثبت کردیا، جناب کی گفتگو بحرِ بیکراں کی طرح طوالت اختیار کر رہی تھی کہ استاد نے ان کی بات کاٹی اورغیر رسمی سوال داغ دیا۔

ارے میاں، وہ آپ کے بھائی کا کیا حال ہے؟کیسی طبیعیت ہے موصوف کی اب؟

جناب کیا سناؤں، اس ملک کی حالت سے بھی بتر ہوتا جا رہا تھا، اچھے سے اچھے ڈاکٹر کو نذرانہ پیش کرچکے، بہتر سے بہترین نسخہ معدہ کو رسد کیا، جس ڈاکٹر کا بھی طوطی بولتا تھا ہم اس کے در پر ہانکا کئے ۔مگر بیماری ہے کہ رازِ ذنبیل ! کمبخت تشخیص ہونے کو نہ تھی۔

ہمارے خاندان کے فلاں صاحب بھی کچھ ایسے ہی عارضہ میں برسوں مبتلا رہے، استاد صاحب نے بپتا شروع کی، بہت کروفر کیا، بہت بین اُٹھائے، چند برس ہماری حالت ایسی تھی کہ ادھر آوئیں کہ اُ دھر جاویں۔ ہر طبیب کی دہلیز پر سیس نوا کئے مگر لاحاصل، پھر ایک دن اسلام آباد کے فلاں ڈاکٹر کہ ہاں پدھارے۔ وہاں تشخیص بھی ہوئی اور علاج بھی! بہت عمدہ ڈاکٹر ہے، بس کیا تھا کہ ایک ہاتھ انہوں نے بیمار کی نبض پہ رکھا اور دوسری ہماری پیسوں والی پوٹلی پہ، مگر خیر علاج ممکن ہوا۔

جئے بھٹو۔ محفل میں کسی نے فرطِ مسرت میں نعرہ کسا اور پھر بلاول کی تعریف شروع ہوگئی۔ اب نعرے اور تعریف ایک دوسرے کے رو برو تھے۔ جئے بھٹو، بھئی واہ، تقریر، جئے بھٹو، سبحان اللہ ، سُخن کہ آوازِ گذشتہ شنیدم ، جئے بھٹو، جیتے رہو۔

استاد نےاسی تیغ و ثنا میں اپنی شمشیرِ و تسبیحِ سوال نکالی اور مخاطب کے سامنے دوبارہ رکھ دی۔ اچھا پھر کیا ہوا؟

جی پھر ہم اُسے چائنا لے گئے، وہاں کے ڈاکٹر نے تشخیص کرلی، ہم تو شکرانے کے ہو لئے مگر علاج، کمبخت یا جوج ماجوج کے بچے ہیں، ایسے تھوڑی راضی ہوتے۔ کمینوں نے رقم کی پرچی کیا رکھی ہماری موت کا خط تھما دیا۔زمینیں جائیدادیں بھی بیچ دیتے تو علاج سہل نہ تھا۔ہم نے از راہِ معاشی ملال گھر کا رُخ کیا۔

او ہو، بہت جبر ہے میاں۔ ایسا کرو کرانچی لے جاؤ، سندھ حکومت نے بہت کام کیا ہے صحت پر، ابھی اگلے دنوں کی بات ہے کسی دورِ جدید کےآلات و علاج پر بھی گفتگو کی ہے بلاول برخودار نے، اور ہاں وہ ہمارا وزیرِ سندھ بھی تو صحت پہ بڑی توجہ دے رہا ہے۔ وہاں جاؤ ، وہاں ضرور علاج ہو گا۔

جئے بھٹو، محفل میں کسی نے پھر نعرہ لگایا۔ جیتے رہو، استاد نے پیار سے نعرہ گو کی حوصلہ افزائی کی۔

جی ضرور لے جاتا مگر اب اس کی ضرورت نہیں!

کیوں استادِ محترم نے دفعتاً دریافت کیا۔

جی وہ ۔۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔ دراصل۔۔۔۔ اب۔۔۔اب وہ شوکت خانم میں ہے۔

جئےبھٹ۔۔۔۔نعرے کی آواز درمیان میں ہی دب گئی اور حاضریں نے اپنی پتلونیں سیدھی کرنی شروع کردیں۔