وقاص احمد

مجھ سے بڑے دو خالہ ذاد کزن ہیں میرے۔ ہماری عمروں میں ایک ڈیڑھ سال کا فرق ہے اور ہم بہت اچھے دوست تھے۔ اب تو روزگار کے چکروں میں ایسے بندھے ہیں کہ سالوں سال ملاقات نہیں ہوتی۔ خیر، ان کے ساتھ گزرے وقت کا ایک دلچسپ واقعہ یاد آیا۔ جو لوگ تاش کھیلنا جانتے ہیں وہ تاش کی ایک مشہور گیم “بلف (bluff) سے واقف ہوں گے۔ تو ایک دن میں اپنے دونوں کزنز کے ساتھ بلف کھیل رہا تھا، دونوں نے مجھے کہا کہ ہم ایک چال میں پوری گیم ختم کرسکتے ہیں۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ 52 پتوں کو برابر بانٹیں تو 17-18 پتے ایک بندے کے پاس ہوں گے۔ یہ ایک چال میں کیسے ختم ہوسکتے ہیں۔

میں نے کہا ناممکن۔ انہوں نے کہا لو پھر کر کے دکھاتے ہیں۔ ہم تینوں اس طرح بیٹھے کہ ایک بھائی کے بعد دوسرے بھائی کی باری تھی۔ پہلے بھائی نے اپنے ہاتھ میں موجود 17 کارڈ ٹیبل پر رکھ کر کہا All jack (تمام جیک).  میں حیرت زدہ اس کی طرف دیکھنے لگا کہ یہ کتنا کھلا جھوٹ ہے (تاش میں تو ایک طرح کے صرف چار پتے ہوتے ہیں). اگلی باری میں دوسرا بھائی بولا، چیک۔۔۔مطلب اس نے کارڈ اٹھا لیے۔ پہلے بھائی کے ہاتھ کے تمام کارڈ ایک ہی چال میں ختم اور ساتھ ہی بلند قہقہوں میں گیم بھی ختم۔ کیونکہ بظاہر یہ ایسا جھوٹ تھا کہ کوئی بچہ بھی پکڑ لے لیکن ٹیکنیکلی سب گیم کے رولز کے مطابق ہوا۔ بس اس میں یہ سب پہلے سے طے تھا کہ دونوں بھائیوں کا کردار کیا ہے۔آج برسوں بعد یہ واقعہ اس طرح یاد آیا کہ حسب معمول کسی اہل انصاف سے نواز شریف کی مبینہ “کرپشن” کے حوالے سے بحث ہوگئی۔

اس کی ادھر ادھر کی چند بونگیاں سننے کے بعد جب میرا سوال مستقل یہی رہا کہ کسی بھی عدالت کا وہ فیصلہ بتا دو جس میں نوازشریف پر کرپشن کا الزام ثابت کرنا تو درکنار، کرپشن کا کوئی الزام لگایا بھی گیا ہو تو اس انصافی بھائی نے وہی گھسی پٹی جگت دہرا دی کہ “ہاں جی سپریم کورٹ اور نیب سے چور، نااہل، خائن، جھوٹا اور بے ایمان تو نواز شریف کو ویسے ہی کہا گیا تھا اور جیل میں تو وہ بھینس چوری کے الزام میں ہے.” بس اسی جملے پر مجھے وہ بلف گیم یاد آگئی۔ سپریم کورٹ میں بھی یہی ہوا تھا، عائلی مقدمات لڑنے والا ایک غیر معروف وکیل لیکن ایک معروف ترین میڈیا پرسن، شیخ رشید جیسے چند بھونپووں کے ساتھ ان چند ججز کے سامنے جو بھی جھوٹ(bluff) بول دیتا وہ سپریم کورٹ کے جج بنا کسی ثبوت، کسی وجہ، کسی گواہی کے “آہو نی آہو” کہہ کر تسلیم کر لیتے۔ حالانکہ وہ کہانیاں اتنی بے تکی، بے بنیاد اور الزامات اتنے بونگے تھے کہ اسی سپریم کورٹ نے اس کیس کو مضحکہ خیز قرار دیکر سننے سے بھی انکار کردیا تھا قانونی تاریخ کا وہ منفرد مقدمہ جس میں “ملزم” کو عدالتی ریمارکس اور فیصلے میں اتنے جرائم کے الزام کا سامنا نہیں تھا جتنے تھرڈ کلاس ریمارکس، گالیوں، کوسنوں، گھرکیوں اور طعنوں کا سامنا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ ملک کی اعلی ترین عدالت نہیں بلکہ بھانڈوں کا میلہ سجا ہوا ہے۔

عدالتی ریمارکس بواسطہ میڈیا چینلز اس وقت تک بوفر توپوں کے گولوں کی طرح برستے رہے جب تک ملک کی غالب اکثریت کو یہ یقین نا دلوا دیا گیا کہ ملک کی 70 سالہ تاریخ کے سب سے بڑے اور واحد ڈاکو کو دھر لیا گیا ہے اور اب بس کسی بھی لمحے انصاف کی گھنگھور گھٹاؤں میں سے اربوں کھربوں روپے کی ریکوری کی ژالہ باری برسنے کو ہے۔ لیکن شومئی قسمت، جب فیصلہ لکھنے کا ٹائم آیا تو چور، ڈاکو، سسلین مافیا، گارڈ فادر، جھوٹا، بد دیانت اور خائن کے الفاظ کو قانونی فیصلے کے اندر مقید کرنے کے لیے کچھ موجود نا تھا، سو فوری طور پر آقاؤں کے حکم کی تعمیل کے لیے ہرکارے دوڑائے گئے، کہیں سے کوئی غیر معروف سی ڈکشنری اٹھا کر اس کی گرد جھاڑی گئی۔ اس میں اثاثہ جات کی درجنوں تعریفوں میں سے ایک تعریف ایسی لگی جسے “ملزم” کی ایک غیر وصول شدہ تنخواہ کے ساتھ جوڑ کر اسے کم از کم نااہل کیا جا سکتا تھا۔ “باتیں کروڑوں کی اور دکان پکوڑوں کی” کا محاورہ حقیقت کی شکل میں ڈھل گیا اس فیصلے کی صورت میں. جیلوں میں ڈالنے کی کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں تھی اس لیے نواز شریف نامی اس بھاری پتھر کو چوم کر نیب کے حوالے کر دیا گیا کہ اس کا کچھ کرو۔ آگے نیب کے فیصلوں اور ہائیکورٹ میں اڑتی ان فیصلوں کی دھجیوں کا ذکر کرنا غیر ضروری ہے۔

اس واقعے میں سب سے زیادہ نقصان کس کا ہوا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے میں سب سے زیادہ نقصان نواز کا ہوا جبکہ میں بصد احترام اختلاف کروں گا اور کہوں گا کہ میری نظر میں اس فیصلے کا سب سے بڑا نقصان سپریم کورٹ کے ادارے کا ہوا۔ ایک شخص کو لٹکاتے لٹکاتے قانون کی سب سے بڑی عدالت بے وقعت ہوگئی۔ ادارے کی کریڈیبیلیٹی داؤ پر لگ گئی۔ لوگوں کا اعتبار اٹھ گیا، وقتی طور پر چند سیاسی وابستگیاں رکھنے والے لوگوں نے بہت واہ واہ کی مگر اس ایک مخصوص جماعت کو چھوڑ کر باقی پورے پاکستان میں ن لیگ کے حمایتیوں سمیت دیگر پڑھے لکھے اور سنجیدہ طبقات نے اس مقدمہ بازی کو قابلِ نفرین سمجھا۔ ظاہر ہے کہ سپریم کورٹ کی کریڈیبیلیٹی کدھر گئی جب وہ خود جس بات کا پروپیگنڈا کرتی رہی اسی چیز کو خود مخالف فریق بن کر بھی ثابت نا کر پائی؟ وہ کریڈیبیلیٹی کدھر گئی جب نیب نے ہائیکورٹ کے ایک سوال پر ایک ریفرنس دائر کرنے کی واحد وجہ یہ بتائی کہ سپریم کورٹ نے ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا ورنہ ہمارے پاس تو کوئی مواد نہیں تھا۔ جب حدیبیہ کیس کو جسے “کرپشن کے کیسوں کی ماں” کہا جاتا تھا اس میں مسلسل چوتھی دفعہ نواز شریف کے حق میں (ایک مختلف بینچ) سے فیصلہ آگیا اور حدیبیہ کیس کو کھولنے کا حکم دینے والے جج بعد میں صاف مکر گئے کہ انہوں نے تو کیس کھولنے کا حکم دیا ہی نہیں تھا۔ چلیں چھوڑ دیتے ہیں دو منٹ کے لیے سازش وغیرہ کی بات, جمہوریت آمریت کی بحث بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ صرف دستیاب حقائق پر رہ کر پرکھیے کہ کریڈیبیلیٹی کس کی خراب ہو رہی ہے اور کس کی بہتر؟ ہر آئے روز پنجاب میں پچھلے 5-10 سال میں لگے بیسیوں منصوبوں، جن کو خصوصاً خاں صاحب کرپشن کرنے کے منصوبے قرار دیتے تھے، وہ منصوبے یا تو عدالتوں سے شفافیت کی سند پا رہے ہیں یا پھر خود خاں صاحب کی حکومت کو طوعاً و کرہاً ان کی شفافیت کا اقرار کرنا پڑ رہا ہے۔یہی حال اس موجودہ مسلط کردہ حکومت کا ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ یہ حکومت ایڈہاک ازم جسے “ڈنگ ڈپاو پروگرام” بھی کہتے ہیں کی بنیاد پر چل رہی ہے۔

یہ حکومت 15-20 دنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی شوشہ چھوڑتی۔ ان کے چاہنے والے ان 15-20 دن کے لیے ٹرک کی اس بتی کے پیچھے لگتے ہیں اور اس سے پہلے کہ بے چینی شروع ہو، تحریک انصاف کی عالی دماغ قیادت ان کے لیے اگلا ٹرک ڈھونڈ چکی ہوتی ہے۔ جھوٹ پر چلی انتخابی مہم کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے پاس اپنے بچاؤ کے لیے مذید جھوٹ بولنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ نوازشریف پر بھارت 5 بلین ڈالر منی لانڈر کرنے کا پروپیگنڈا کرنے والی نیب خود ہی اپنے جھوٹ سے مکر چکی، 200 ارب ڈالر کی کہانیوں کو اسد عمر جھوٹ مان چکے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ڈالر برسنے کی امید پر ٹھینگا مل چکا، “ایماندار قیادت” کے آتے ہی ٹیکس نیٹ بڑھ جانے کی وعیدیں دم توڑ چکیں، آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے خودکشی کر لینے کے دعوے ہوا ہوچکے۔ نوازشریف کے مبینہ 300 ارب روپے ڈھونڈے سے نہیں مل رہے، “کھربوں روپے” کے لندن فلیٹس بحق سرکار ضبط کرنے کی درخواست حکومت برطانیہ کو بھیجے جانے کے انتظار میں دیمک زدہ ہوچکی، روزانہ 10-12 ارب روپے کی کرپشن بظاہر رک چکی لیکن وہ بچا ہوا پیسہ نجانے کہاں غائب ہورہا۔ سال میں 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ رک چکی مگر یہ حکومت ایک ایک دو دو ارب ڈالر کی بھیک مانگنے کے لیے اپنے لیڈر کو فقیروں کا چوغہ پہنا کر دینا کے چکر لگا رہی ہے۔ ادھار پر تیل لینے کے لیے وزیراعظم پاکستان، ولی عہدوں کی ڈرائیوری کر رہا ہے۔ صاف شفاف بلند کردار قیادت کا خوف ایسا ہے کہ سٹاک مارکیٹ سر کے بل نیچے جا رہی ہے اور ڈالر ناک کی سیدھ میں اوپر بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ہر روز ہمیں چین کے پیکج، سعودی پیکج، ملائیشیا پیکچ، یو اے ای پیکج کی کہانیاں اسی حکومت کے وزیر سناتے ہیں۔ پھر انہی وزیروں کا وزیر اعظم کہتا ہے کہ ہماری تو ایسی کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔ کیا خاں صاحب کو لگتا ہے کہ یہ سب جھوٹ، یہ سب فراڈ، یہ سب دروغ گوئی ان کی کریڈیبیلیٹی کو کوئی نقصان نہیں دے رہیں؟ جب ایک مہینے میں جھوٹ پکڑے جانے کی شرح حد سے بڑھنا شروع ہو تو پھر عجیب و غریب مخولیا حرکتیں۔ کبھی کوئی بد زبان وزیر اپنے منہ سے کف اڑاتا ملتا ہے، کبھی کوئی ایک چرب زبان خاں صاحب کو اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے برگزیدہ ہستی بتاتا ہے، کبھی سوشل میڈیا پر خاں صاحب کی پھٹی ہوئی قمیض دکھا کر واہ واہ کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں، کبھی بارشوں اور برف باری کو ولی صفت حکمران آنے کی نشانی بتایا جاتا ہے اور کبھی بحیرہ عرب میں ڈرلنگ سے ممکنہ طور پر تیل اور گیس کے ذخیرہ مل جانے کا مژدہ اس تاثر کے ساتھ سنایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ( نعوذباللہ) اپنے انعام و کرم کے لیے خاں صاحب جیسی “باکردار اور دیانت دار” قیادت کے منتظر تھے مبادا کہیں شریف یا بھٹو تیل نکال کر اپنے گھر میں نا چھپا لیتے۔ کب تک؟؟ کب تک یہ چل سکے گا؟  کب تک آپ آل یوتھ کو کھٹی میٹھی گولیاں کھلا کھلا کر بہلاتے رہیں گے؟ اول تو ایسے زرخیز سبز باغ آئیڈیاز ہی رفتہ رفتہ ختم ہوتے جائیں گے، دؤم آپ اپنے مقلدین کو آخر کتنا ہی بیوقوف سمجھتے ہوں، ہیں تو وہ انسان ہی ناں؟ یقیناً دماغ بھی ہوگا؟ اور دماغ ہوگا تو اس میں دیر ہی سے سہی، کبھی نا کبھی تو سوال بھی اٹھے گا کہ وعدوں کی ایک لمبی لسٹ میں سے کچھ تو ہو جو پورا ہوتا نظر آئے۔

سنا ہے ایک انصافی بھائی نے خاں صاحب کے منتخب ہونے کے بعد فرط جذبات میں خاں صاحب کا ایک “وعدوں کا پیمانہ” بھی بنایا تھا۔ اس میں خاں صاحب کے وعدوں کو ان کی تکمیل کے سٹیٹس کے ساتھ ماپا جانا تھا۔ وہ میٹر حال ہی میں نظر سے نہیں گزرا لیکن خاں صاحب کے وعدے تو ہر ایک کو زبانی ازبر ہیں۔ ہر ایک کا سٹیٹس “صفر” پر کب تک برداشت ہوسکے گا آپ کے چاہنے والوں سے۔ آپ کا اپنا دعویٰ ایمانداری اور اخلاص کب تک آپ کے متاثرین کو روک پائے گا کہ وہ پوچھیں کہ مالم جبہ کیس نیب میں کیوں گیا؟ آپ کا فین کلب آپ کی ہینڈسم لکس کو دیکھ کر کب تک یہ سوال روکے رکھے گا کہ کے پی کے سرکاری سکولوں میں 21 ہزار جعلی داخلوں اور سینکڑوں جعلی سکولوں کا معاملہ کیا ہے اور اس ضمن میں لوٹے جانے والے لاکھوں روپے کس کی جیب میں گئے؟ کیوں اس سکینڈل کو منظر عام پر لانے والے ایم ڈی کو معطل کیا گیا ہے؟ آپ کی قمیض کی موریاں کب تک ان کو 4 ارب میں میٹرو بنانے کے دعووں کے بعد 100 ارب میں بھی میٹرو نا بنا پانے کے بارے میں سوال کرنے سے روک پائیں گی؟ یہ انصافی آپ کے جتنے مرضی بڑے فین ہوں، کیا آپ کے خیال میں یہ آپ سے کبھی بھی بلین ٹری سونامی کی کرپشن پر بنے نیب ریفرنس کے بارے میں سوال نہیں کریں گے؟ کیا یہ آپ سے کبھی 350 ڈیمز کا سوال نہیں کریں گے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے ووٹرز اتنے الو ہیں کہ جہانگیر ترین نامی سپریم کورٹ سے سزا یافتہ اور ثابت شدہ بدعنوانی پر جرمانہ یافتہ مجرم کو کابینہ اجلاس میں بٹھانے پر ان کے ذہن میں یہ سوال نہیں آئے گا کہ خاں صاحب کے وہ بلند دعوے کدھر گئے؟ جہانگیر ترین ہاتھ پر ہاتھ مار کر اپنے شوگر گینگ کے لیے 18 ارب کی سبسڈی منظور کروا گیا، کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے حامیوں کے ذہن اتنے ناکارہ ہیں کہ ان کو آپ کی ان اے ٹی ایمز کے اصل کردار کے بارے میں معلوم نہیں ہوگا؟ آپ کب تک اپنی اس بلواسطہ کرپشن کو چھپا پائیں گے جس میں آپ کی گاڑیوں، جہازوں، ہیلی کاپٹروں، عمروں، شادیوں، طلاقوں، کچن، عیاشیوں اور حکومت بنانے کے لیے ممبران اسمبلی خریدنے کی انوسٹمنٹ جہانگیر ترین، علیم خان، زلفی بخاری اور فیصل واڈوا جیسے لوگ کرتے ہیں اور بدلے میں اپنے لیے اربوں کی سبسڈیوں، کروڑوں کے ٹھیکوں اور وزیروں مشیروں کے عہدے پاتے ہیں۔

خاں صاحب آپ اپنی کریڈیبیلیٹی بہت تیزی سے کھو رہے ہیں۔ آپ نے چند لوگوں کو محدود وقت کے لیے بخوبی بیوقوف بنایا ہے لیکن آپ لامحدود وقت کے لیے لامحدود لوگوں کو کبھی بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ آپ کب تک یہ جھوٹے راگ آلاپتے رہیں کہ پہلے والوں نے ملک کا کچھ ایسا حال کر دیا ہے کہ اسے سنبھالنے کے لیے برسوں درکار ہیں۔ آپ کو تو ملک بہت بہتر حالت میں ملا، آپ سے پہلوں نے تو اسے برسوں کی پھیلی دھشتگردی کی تباہ کاریوں سے نکال کر ٹریک پر چڑھایا لیکن آپ کی طرح رونا دھونا نہیں کیا۔ اور اگر بالفرض آپ کو ملک واقعی تباہ حالت میں ملا ہے تو آپ کو نئے کام کرنے سے روکا کس نے ہے؟ یہ درست ہے کہ آپ کی 90 دن میں تبدیلی والی بات ایک انتخابی بونگی تھی، لیکن اس کے بعد آپ کا کوئی ایک درست قدم، کوئی ایک پالیسی، کوئی ایک فیصلہ، کوئی ایسی قانون سازی کوئی ایک ڈائریکشن کچھ تو ایسا ہو کہ جسے لوگ کہہ سکیں کہ کم از کم قدم تو درست سمت میں اٹھایا۔ لیکن 7 مہینے مکمل ہونے کے بعد بھی اگر آپ کے وزراء کی سب سے بڑی اچیومنٹ نوازشریف کے خلاف بیان بازی اور آپ کا سب سے بڑا چھکا عثمان بزدار عرف وسیم اکرم پلس کی دریافت ہے تو یقین مانیے خاں صاحب، آپ زیادہ دیر تک بلف ( bluff) کا کھیل نہیں کھیل سکیں گے۔ کیونکہ آپ کی کریڈیبیلیٹی بہت تیزی سے ختم ہورہی ہے۔ اپنے آپ پر رحم کریں۔