عاطف توقیر

یہ سوال بے حد تواتر سے پوچھا جاتا ہے اور کئی پڑھے لکھے دوست بھی اس موضوع پر بات کرتے ہوئے یا تو خودساختہ حب الوطنی کے جذبات کے بہاؤ میں غرق ہو جاتے ہیں اور یا پریشانی سے اپنے بال نوچنے لگتے ہیں۔

سچائی یہ ہے کہ کشمیر اور کشمیریوں کے مسئلے کا حل جنوبی ایشیا کے سمٹ کا ایک یونین بن جانے سے جڑا ہے۔ یہ بات سطحی طور پر چوں کہ سمجھی نہیں جا سکتی۔ اس لیے اس کچھ تفصیل سے سمجھتے ہیں۔

کشمیر پر بات ہوتی ہے تو بھارت میں بہت سے لوگ یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ اگر کشمیر کو آزادی دی جاتی ہے، تو بہت سے دیگر بھارتی صوبے بھی آزادی مانگنے لگیں گے۔ یہ جملہ کہتے ہوئے ان کے چہرے پر خوف کا ایک عجیب سا تاثر ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان اور ہندوستان کے تمام صوبے خودمختاری کے حامل ہوں؟ اگر ہندوستان اور پاکستان ایک ڈھیلی ڈھالی فیڈریشنز کی طرح ہوں، تو مضائقہ کیا ہے؟ یعنی تمام علاقے اپنے اپنے وسائل کے خودمالک ہوں، تاہم چند بنیادی نوعیت کی وزارتیں مرکز میں ہوں۔

دنیا میں ساورینٹی یا خودمختاری صرف ایک تصور ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ سرمایہ داری نظام میں سرمایہ مالک ہوتا ہے اور ہر ریاست بالکل ہر فرد اس سے جڑا ہوتا ہے۔ ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ کوئی ریاست یا کوئی فرد کوئی بھی فیصلہ آزادانہ طور پر کر سکے۔ کیا امریکا کو بھی مکمل خودمختاری حاصل ہے؟ ظاہر ہے بالکل نہیں ہے۔

23 مارچ 1940 کی قراردادِ لاہور جسے ہم قراردادِ پاکستان بھی کہتے ہیں، ایک نہایت عمدہ دستاویز ہے۔ اس میں ہندوستان کے مسلم علاقوں کو مکمل خودمختاری دینے اور ہندوستان کی مرکزی حکومت کو فقط چند بنیادی نوعیت کی وزارتیں دینے کا کہا گیا تھا۔

اس کلیے پر پاکستان بننے کے بعد عمل کیا جاتا، تو نہ مشرقی پاکستانی کی علیحدگی کا کوئی معاملہ پیش آتا اور نہ باقی بچ جانے والے پاکستان میں مختلف اکائیاں اپنی اپنی ثقافتی بقا کی جنگ لڑتی نظر آتیں۔

اسی طرح اگر اس دستاویز کو ذرا سا وسیع کر کے برصغیر کے تمام علاقوں اور تمام مذاہب تک پھیلا دیا جائے، تو ہندوستان اور پاکستان کے تمام علاقے مکمل خودمختار، اپنے وسائل کے مالک، اپنی اپنی روایات کے مطابق قانون سازی، اپنی اپنی زبانوں کے تحفظ کے اقدامات اور اپنے اپنے انداز سے ترقی کی جانب بڑھ سکتے ہیں، جب کہ مرکز میں ان کے نمائندے دیگر اکائیوں کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر دفاع، مواصلات اور خارجہ امور جیسی وزارتیں چلا سکتے ہیں۔

یورپی یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہاں تین اطراف سے فرانس اور چوتھی جانب سمندر کے ساتھ لگا ملک مناکو بھی ہے، جس کی کل آبادی چھتین ہزار ہے۔ اسی طرح جرمنی اور فرانس کے درمیان لکسمبرگ جیسا ملک بھی ہے، جس کی آبادی چھ لاکھ ہے۔

یہ ممالک اپنی قانون سازی خود کرتے ہیں، اپنی ثقافت، زبان اور دیگر امور خود دیکھتے ہیں مگر وسیع تر مفادات کے لیے یورپی یونین کے پرچم تلے بھی جمع ہیں۔

برصغیر میں کیوں ایسا ممکن نہیں کہ تمام اکائیاں اسی یا ملتے جلتے اصول پر اپنی اپنی آزاد ثقافتی حیثیت کی حامل بھی ہوں اور پاکستانی اور ہندوستانی فیڈریشن اور مستقبل کی کسی جنوبی ایشیائی یونین کے ساتھ جڑ جائیں؟

کشمیر کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان اگر کشمیر کے لوگوں کی مرضی کے مطابق اس مسئلے کا حل کرتے ہیں تو یہ جھگڑا نہ صرف درست اور پرامن انداز سے حل ہو جائے گا بلکہ اس کے اثرات خطے کی مجموعی ترقی کے لیے دور رس ہوں گے۔

کشمیر اگر مکمل طور پر ایک علیحدہ ریاست بھی بن جائے، تو بھی تمام چیزیں تو آپس میں جڑی ہیں؟ اس کی بندرگاہوں تک رسائی ہو سے لے کر درآمدات کے لیے راستے۔

علاقوں پر قبضے فقط ایک خاص طبقہ وسائل لوٹنے اور انسانوں کا استحصال کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ورنہ انسانوں کی آزادی سے کسی دوسرے کو کیا فرق پڑتا ہے؟

اس وقت ہماری حالت یہ ہے کہ ہمارا قریب ہر شخص گلگت بلتستان تو پاکستان کا حصہ سمجھتا ہے اور دستوری طور پر گلگت بلتستان کے شہریوں کو پاکستانی نہیں کہا جا سکتا۔

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں سیاست کا حق صرف اسے دیا جاتا ہے کہ جو ہندوستان کے دستور پر اپنا یقین ظاہر کرے اور وہ علاقہ جسے ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں، وہاں کوئی پارٹی رجسٹرڈ ہی تب ہو سکتی ہے یا کوئی شخص انتخابات میں حصہ ہی تب لے سکتا ہے، جب وہ پاکستان سے الحاق کے دستاویز پر دستخط کرے۔

کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ اور کشمیر پاکستان کی شہہ رگ کے نعرے میں وہاں کشمیریوں کی شہ رگ کٹ رہی ہے اور انگ انگ زخمی ہے۔

کیوں ممکن نہیں ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کی قیادت خودساختہ اور جھوٹی حب الوطنی کی کھوکھلی نعرے بازی سے باہر آ کر کشمیر کے مستقبل بالکل خطے بھر کے مستقبل کا فیصلہ کرے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جنگ اب نہیں ہو سکتی اور ہوئی تو وہ آخری جنگ ہو گی، تو اگر جنگ ہو ہی نہیں سکتی، تو کیوں نہ یہ طے کر لیا جائے کہ اس یوم آزادی کو ہم جنوبی ایشیا میں بسنے والے قریب ڈیڑھ ارب انسانوں کی آزادی، ان کی ثقافتوں کے احترام اور ان کی تہذیب کے تحفظ کے لیے راستہ متعین کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

گورا برصغیر سے جاتے ہوئے ہمیں مذاہب، زبانوں اور نسلوں میں توڑ گیا اور ہم پر وہ لوگ مسلط کر گیا، جنہوں نے برطانوی سامراج کے جانے کے بعد بھی یہ تقسیم ختم کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ کسی نہ کسی صورت میں اس تقسیم کو ہوا دیتا رہا۔ آج ہندوستان کی اقلیتیں بھی خود کو غیرمحفوظ محسوس کر رہی ہیں اور پاکستان کی اقلیتیں بھی خوف زدہ ہیں۔ کیوں ممکن نہیں کہ ہم تمام مذاہب کے بسنے والے اپنے اپنے مختلف نظریات کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ امن اور محبت سے رہ سکیں۔ یہاں علمی مباحث ہوں، یا ثقافتی میلے ہوں، یہاں رنگ اور زندگی ہو۔ یہاں اذان کی آوازیں بھی ہوں اور گرجا گھروں کی گھنٹی بھی بجے، یہاں ہندو بھی تحفظ کے احساس کے ساتھ مندر جائیں اور سکھ بھی امن سے گرونانک کے گیت گائیں۔

ہندوستان اور پاکستان میں دونوں ہی ممالک میں ایک خاص طبقہ یہ نہیں چاہتا کہ خوف، بداعتمادی اور نفرت کی یہ فضا ختم ہو اور خطے کے لوگ ترقی کریں۔ ہمارے ہاں عدم تحفظ کے احساس اور خوف کے سائے ان کے لیے دولت، طاقت اور اقتدار کے منبع ہیں اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا، جب تک خطے کے عوام خود یہ طے نہ کریں کہ ہندوستان کو پاکستان سے یا پاکستان کو ہندوستان سے خطرہ نہیں بالکل اصل خطرہ خوف، بداعتمادی اور نفرت سے ہے اور اس خوف بداعتمادی اور نفرت ہی ہے کہ آج کشمیر ایک قیدخانے میں تبدیل ہو چکا ہے اور جواب میں پاکستان اور ہندوستان کے لوگوں میں ایک دوسرے کے لیے مزید نفرت کا زہر گھولنے کا ذریعہ بھی آن موجود ہوا ہے۔ اس میں ہندوستان میں ہندو انتہا پسندی اور پاکستان میں مسلم انتہا پسندی کا فروغ ہو گا اور ان دونوں انتہاپسندیوں کا میدان جنگ کشمیر کے لوگوں کے سینے ہوں گے، جنہیں اس کی قیمت اپنے خون سے چکانا ہو گی۔