وقاص احمد

مضمون “کمر” میں ترے شاعر
کیا بال کی کھال کھینچتے ہیں

استاد محترم نے کلاس میں داغ دہلوی کا شعر پڑھا اور بولے “اب آپ لوگ متوجہ ہوں کہ شاعر اس شعر میں کہنا کیا چاہ رہا ہے”۔ اس کے بعد استاد محترم نے محبوب کی کمر کے نقشے سے لیکر بال کی کھال کھینچنے کے محاورے تک تفصیلاً سمجھایا کہ “اس شعر میں شاعر کہنا کیا چاہ رہا ہے”۔
پھر استاد محترم گویا ہوئے، “اب میں غالب کا ایک شہرہ آفاق شعر پیش کرنے لگا ہوں”۔

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے، ہوتا ہے شب وروز تماشہ مرے آگے

پھر استاد محترم نے اس شعر کی تشریح کی، ظاہری و باطنی مطالب پر روشنی ڈالی غرض ہر پہلو سے شاگردوں کو سمجھایا کہ “شاعر اس شعر میں کہنا کیا چاہ رہا ہے”۔ اب کی بار استاد محترم نے شاگردوں کو کہا کہ اب آپ لوگ کوئی شعر پڑھیں اور پھر ہم مل کر کوشش کرتے ہیں کہ جانیں کہ شاعر اس شعر میں کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ بلکہ بہتر ہوگا کہ آپ اس شعر کو بورڈ پر لکھیں، اتنی دیر میں، میں سٹاف روم سے پانی پی کر آیا۔
5 منٹ بعد استاد محترم جب کلاس میں واپس آئے تو بورڈ پر کچھ یہ اشعار لکھے دیکھے۔

کنے کنے جانا اے بلو دے گھر، اساں تے جانا اے بلو دے گھر، ٹکٹ کٹاؤ نالے لین بناؤ، ٹکٹ کٹاؤ نالے لین بناؤ۔

استادِ محترم کو ابرار الحق کے شہرہ آفاق گانے کے یہ اشعار پڑھ کر غصہ تو بہت آیا مگر کہنے لگے کہ چلیں آئیں کوشش کرتے ہیں کہ جان سکیں کہ شاعر اس شعر میں کہنا کیا چاہ رہا ہے، مگر اگلے ایک گھنٹے کی سر توڑ کوشش کے باوجود ایک تجربہ کار پی ایچ ڈی اردو پروفیسر اور اس کے ذہین طالب علم یہ ناں جان سکے کہ شاعر ابرار الحق اس شعر میں دراصل کہنا کیا چاہ رہا تھا۔

غرض 1995 میں کی گئی اس شہرہ آفاق شاعری کا بھید کبھی نا کھل پایا کہ شاعر کہنا کیا چاہ رہا تھا حتیٰ کہ 2011-2018 کا دور آگیا۔ ایک ایسے لیڈر معرض وجود میں آئے جنہوں نے “کنے کنے جانا اے بلو دے گھر” کا نعرہ لگا کر لوگوں کی اچھی خاصی تعداد کو ناصرف پائیڈ پائیپر کی طرح اپنے پیچھے لگا لیا بلکہ “بلو کے گھر” کی آسان فہم تشریح بھی اپنے تقریری نعروں میں ایسے عالمانہ انداز میں کی کہ قوم کے ایک مخصوص حصے کے بچے بچے کو یقین ہوگیا کہ اگر کوئی شخص ان کو بلو کے گھر پہنچا سکتا ہے تو وہ یہی ذات بابرکت ہے۔

نیا پاکستان بنانے چلو، دو نہیں ایک پاکستان، کرپشن کے خلاف جہاد، کنے کنے جاناں اے بلو دے گھر
کے پی کے باقی پاکستان کو بجلی بیچے گا، 350 ڈیم، ڈیڑھ ارب درخت، مثالی پولیس، کنے کنے جانا اے بلو دے گھر، جس دن خاں صاحب آئے گی، 200 ارب ڈالر لائے گی، 100 ارب ڈالر باہر کی دنیا کے منہ پر مارے گی۔ ۔سو ارب آپ لوگوں پر لگائے گی۔


کنے کنے جانا اے بلو دے گھر، یکساں نظام تعلیم، صحت کا انصاف، انصاف کا انصاف، ریاست مدینہ بنائیں گے، کنے کنے جانا اے بلو دے گھر، کرپشن کرپشن کا راگ الاپتے، غداری کے تمغے بانٹتے، کفر کے فتوے لگاتے، حب الوطنی کے ٹیکے لگواتے، مودی کی یاری کے نغمے گاتے گاتے، کلبھوشن کلبھوشن کے بینڈ بجاتے بجاتے، کنے کنے جانا اے بلو دے گھر، بھیک نہیں مانگوں گا، خودکشی کر لوں گا، پاسپورٹ کی عزت بڑھاؤں گا۔ چوروں کو لٹکاوں گا، اتنا ٹیکس بڑھاؤں گا، اتنی ایکسپورٹ بڑھاؤں گا، 50 لاکھ گھر بناؤں گا
ایک کروڑ نوکریاں دلواوں گا۔ کنے کنے جانا اے بلو دے گھر۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 1995 میں جیسے ابرار الحق کا یہ گانا بلاک بسٹر ثابت ہوا تھا اور ابرار کو شہرت کی بلندیوں تک لے گیا تھا اسی طرح خاں صاحب کا تبدیلی کی گاڑی میں بیٹھ کر بلو کے گھر جانے کا آئیڈیا بھی کلک ہوا، ایلیکٹیبلز دھڑا دھڑ بلو کے گھر جانے کے لیے خاں صاحب کے گرد جمع ہوئے اور خاں صاحب بھی وزارت عظمیٰ کی کرسی تک پہنچا دیے گئے۔ لیکن پھر 2018-2019 کا وہ روشن دور آیا جب پورے ملک کو مکمل تشریح کے ساتھ یہ معلوم ہوگیا کہ تبدیلی کی گڈی میں بیٹھ کر بلو کے گھر جانا بنیادی طور پر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کا مترادف تھا اور حقیقت میں نا کوئی بلو تھی نا ہی اس کا کوئی گھر تھا۔ نیا پاکستان بھی نا ملا اور پرانے پاکستان کو بھی تباہ کر بیٹھے۔ بقول شاعر

نا خدا ہی ملا نا وصال صنم، نا ادھر کے رہے نا ادھر کے رہے

خیر باشعور لوگ تو اس تشریح سے سخت بدمزہ ہوئے۔ نئی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد مقبولیت کھونے کا ایسا ریکارڈ قائم کیا جسے ہزاروں پوائنٹس گرنے والی سٹاک مارکیٹ بھی نا توڑ سکی۔

مگر۔۔۔۔مگر۔۔۔مگر ابھی بھی، ابھی بھی ایسے نالائق شاگرد موجود تھے جنہوں نے شعر کے پہلے مصرع کی ایسی تباہ کن جامع تشریح کو نظر انداز کرتے ہوئے اصرار کیا کہ شعر کے دوسرے مصرع “ٹکٹ کٹاؤ نالے لین بناؤ” کی تشریح بھی کی جائے تاکہ دل کو قرار آئے تو مورخہ 22 فروری سن 2019 وہ شبھ تاریخ تھی جب پاکستان کے ایک “سابقہ چیپ ترین” انسان نے ایک تقریب میں ٹکٹ کٹوا کر لائن میں لگنے کا مطلب بھی سمجھا دیا۔ محترمی نے فرمایا “ڈیم فنڈ کبھی بھی ڈیم بنانے کے نظریہ سے جمع نہیں کیا گیا تھا بلکہ مقصد تو لوگوں کو شعور دینا تھا”۔ خلاص۔۔۔

تو میرے وہ تمام بے شعور دوست احباب جنہوں نے “شعور” لینے کی خاطر تبدیلی کی ٹرین کا اے سی پارلر ٹکٹ مبلغ 1000 ڈالر اور درجہ بدرجہ سستا ہوتے ہوئے لوئر اکانومی کلاس کا آن لائن ٹکٹ ڈیم لکھ کر 8888 پر میسج بھیج کر مبلغ 10 روپے میں خریدا تھا, انہیں مبارک ہو کہ یہ گڈی کہیں نہیں جا رہی بلکہ ادھر ہی اینٹوں پر کھڑی رہے گی۔ فوری طور پر ٹکٹ کھڑکی سے رابطہ کر کے اپنا ٹکٹ ری فنڈ کروانے کی کوشش کر لیں، ناکامی کی صورت میں دل کو تسلی دے لیں کہ 1000 ڈالر میں شعور مل جانا کوئی گھاٹے کا سودا نہیں۔ کم از کم آپ کو دوبارہ کوئی ابرار الحق مارکہ فنکار ٹکٹ کٹوا کر بلو کے گھر لے جانے کا جھانسہ نہیں دے پائے گا۔ مذید سبق یہ بھی کہ جو “جہلا” آپ کو طرح طرح سے سمجھا کر ادھ موئے ہوئے پھرتے تھے کہ بلو ایک فرضی کردار ہے اور آپ لوگ ٹھگوں کے ہتھے چڑھے ہوئے ہیں، آئیندہ سے ان کی بات غور سے سن لیا کریں۔

آخر میں ایک پرانا لطیفہ، ایک دوست دوسرے دوست سے بہت عرصہ بعد ملا تو باتوں باتوں میں پوچھا کہ “یار مجھے یاد ہے کہ تم نے کسی کے ساتھ مل کر شراکت داری میں کوئی کاروبار کرنے والے تھے۔ کیا بنا اس کا؟”

دوسرا دوست بولا “ہاں یار اس کے پاس تجربہ تھا اور میرے پاس پیسہ، ہم نے مل کر کاروبار شروع کیا تھا”
پہلا دوست بولا “پھر؟”

دوسرا دوست افسردگی سے بولا “پھر آج اس کے پاس پیسہ ہے اور میرے پاس تجربہ”۔

باقی آپ سب لوگ خود سیانے ہیں، پہلا دوست کون تھا؟ دوسرا دوست کون تھا؟ اور دوسرے دوست کا ٹھگ نما پارٹنر کون تھا یہ سب آپ بخوبی سمجھتے ہیں۔ میں تو بس تین دن سے غالب کے اس شعر کا مزہ لے رہا ہوں۔
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے، ہوتا ہے شب وروز تماشہ مرے آگے

وسلام، آپ کا خیرخواہ