ڈاکٹر نازش امین

عجیب خیال ہے جو ہم ڈاکٹر  صاحبان کو اکثر تنگ کرتا ہے۔ کیا میڈیکل سائنس ظالم ہے؟ اس قدر ظالم کہ کسی ڈاکٹر کو اتنا سفّاک بنا سکتی  ہے کہ وہ اوزاروں سے لیس ہو کر مریض کو آپریشن ٹیبل پر لٹا کر طبع آزمائی شروع کر دے۔ اتنا بے حس کہ وہ کسی مریض کے منہ کا معائنہ کر کے اس کو یہ بتا دیے کہ بابا جی ، آپ کے منہ کے اندر جو زخم ہے وہ ایک بڑی خراب بیماری  ہے، جسے کینسر کہتے ہیں۔ biopsy  اس قدر بے حس ہے مگر  رپورٹ میں کینسر کی تشخیص کرتے ہوئے، ایک پتھولوجسٹ کے ہاتھ نہیں کپکپاتے۔

ہاں میڈیکل سائنس ظالم ہے کہ اب وہ اتنی ترقی کر چکی ہے کہ جہاں اس دنیا میں آنے والے بچوں کو پیدائش کے بعد ممکنہ بیماریوں کے بارے میں ان کے والدین کو مطلع کر دیتی ہے۔

یہاں تک کہ خون میں موجود رطوبتوں کو جانچ کر یہ پتا بھی لگا لیتی ہے کہ مستقبل قریب میں کسی شخص کو کب دل کا مرض یا ذیابیطس کا مرض لاحق ہو جائے گا۔ اچھا خاصا ہنستا کھیلتا، کھاتا پیتا انسان، فکروں میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اسے زندگی کی فکر ستانے لگتی ہے۔ ہم بزرگوں سے یہ بھی سنتے آئے ہیں کہ ان کے بزرگ، بہت سی بیماریاں اپنے اندر لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

کچھ کے جانے کے بعد علم ہوا کہ انہیں کسی قسم کا کینسر یا دل کا مرض لاحق تھا اور کافی لوگوں کی بیماریاں ان کے ساتھ ہی خاموشی سے روپوش ہو گئیں۔

اور کبھی یونہی اپنے آس پاس وقوع پذیر ہوتے بیماریوں کے نتائج دیکھتے ہوئے دل کو یہ خیال آتا ہے کہ کیا وہی دور ٹھیک تھا جب لوگ بیماریوں سے بےخبر، اس دنیا سے رخصت ہو جایا کرتے تھے۔ جب میڈیکل سائنس ابھی اتنے جدید تشخیصی مرحلوں سے دور تھی، یا پھر لوگوں تک ان تشخیصی سلسلوں کی رسائی نہ ممکن تھی۔

اور ایک یہ دور ہے جس میں ہم زندہ ہیں، جب ہم  ڈی این اے کو مختلف طریقوں سے جانچ کر ایک پورے خاندان میں جینیاتی طور پر گردش کرنے والی بیماری تک کا پتا لگا لیتے ہیں۔ آپ کے ذہن میں یہ خیال ضرور آئے گا کہ اس ساری محنت کا حاصلی وصول کیا ہے۔ میں ایک مثال دے کر آپ کو سمجھانا چاہوں گی۔ یہی مثال میں اپنے میڈیکل کے طلبہ کو کینسر کے بنیادی مراحل سمجھاتے ہوئے دیتی ہوں۔ آپ میں سے اکثر انجلینا جولی سے واقف ہوں گے۔ کئی تو اس کے مداح بھی ہوں گے۔

اس کی والدہ اور نانی کی وفات کا سبب چھاتی کا سرطان تھا، جو ایک قسم کی جینیاتی تبدیلی کی وجہ سے نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا  ہے۔ انجیلینا نے جب اپنے خون کے ٹیسٹ کروائے تو اسے علم ہوا کہ وہی mutated BRCA gene  اس کے اندر بھی موجود ہے۔ اس جین کی موجودگی سے چھاتی کے سرطان کا امکان اسی فیصد اور اووری کے سرطان کا خطرہ قریب پچاسی فیصد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کے مشورے سے جولی نے کینسر ہونے سے قبل ہی اپنے سینے اور اوری کی سرجری کر والی۔ کیوں کہ وہ زندہ رہنا چاہتی تھی۔

اب یہ فیصلہ کون کرے کہ میڈیکل سائنس کی ترقی سے ہم فائدہ میں ہیں یا نقصان میں؟

تو پھر کیا سرجن، انکولوجسٹ (جو کینسر کا علاج کرتے ہیں)  یا پتھولوجسٹ جو کینسر کی تشخیص کرتے ہیں ، وہ ظالم ہیں؟

کیا وہ واقعی بے حس ہیں یا انہیں روزمرہ کی ان بیماریوں کے مسلسل سامنے نے دکھ کی حس سے محروم کر دیا ہے۔

اگر ایک سرجن، جراحی نہ کرے تو زندگی بچانے والے آپریشن کون کرے گا؟

مگر کسی سرجن سے پوچھیے کہ کیا وہ اپنی اولاد کو آپریشن ٹیبل پر لٹا سکے گا؟

ایک پتھولوجسٹ سے پوچھیے کہ کسی بہت اپنے کی کینسر کی تشخیصی رپورٹ کیسے اس کے دل کو دکھ اور آنکھ کو آنسوؤں سے بھر دیتی ہے؟

ایک میڈیکل کے طالب علم سے پوچھیے کہ اپنے والدین کی خون کی رپورٹ جو ذیابیطس یا ہارٹ اٹیک کی تصدیق کر رہی ہو، اس سے اس کے دل کے کتنے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔

یقین کیجیے یہ میڈیکل سائنس نہ ہوتی تو زندگی کو طول دینے اور اپنوں کی صحت سے متعلق یہ ساری کوششیں بھی نہ ہو پاتیں۔

میڈیکل سائنس ظالم ہے نہ ڈاکٹر بے حس۔ یہ ان کی پیشہ ورانہ مجبوری ہوتی ہے کہ وہ ایک ایسے شعبے سے منسلک ہوتے ہیں، جہاں انہیں مریضوں سے ملنا بھی، ان کے دکھ بھی سننے ہیں  اور آنسو بھی نہیں بہانے۔ اور وہیں کافی بھی پینا ہے، کھانا بھی کھانا ہے  اور کسی ساتھی  کو سالگرہ کی مبارک بھی دینا ہے

اور کسی بہت اپنے کے دکھ کو اندر اتار کر مسکرانا بھی ہے۔