عابد حسین

ریاستِ پاکستان کے شمار المیوں مذہبی شدت پسندی ایک بہت بڑا المیہ ہے دراصل یہی وہ آفت انگیز جڑ ہے جس سے مزید مسائل اور تخریب کی کئی زہریلی جڑی بوٹیاں نمو پاتی ہیں۔

اب کیفیت یہ ہے کہ ان زہریلی جڑوں کا جماؤ اتنا مضبوط ہوچکا ہے کہ بین المذاہب باہمی تعلقات کا ذکر اور تصور کرنا بھی جرم ہو چکا ہے۔ جبکہ مذہبی اقلیتیں ان کے سامنے بے بس مجبور اور خوف زدہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کی شرانگیزیوں سے غیر محفوظ ہیں۔

اگر ہم ذرا غور کریں تو محسوس ہوگا کہ چند ناراستوں کی وجہ سے اسلام کا اصلی نظریہء سلامتی دنیا بھر میں مشکوک سمجھا جا رہا ہے اور یہ واویلا بھی غلط نہیں بلکہ کسی حد تک درست ہے کہ ریاست اس وقت تعصب پرستوں کیلئے محفوظ آماجگاہ بن چکی ہے۔

ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی سے بھی نظریاتی اور فکری لحاظ سے مختلف ہونا ایک فطری عمل ہے اور کسی بھی معاشرے میں اختلافات کا پایا جانا قطعاً نقیض و نقصان کا باعث نہیں ہے بلکہ ان فطری اختلافات کو برداشت نہ کرنا معاشروں میں بگاڑ اور خرابے کا کارّن بنتا ہے۔

جیسے ایک تاجر/گوالا پھٹے ہوئے دودھ کو چاہے تو سڑک پر انڈیل کر نہ فقط ضائع کر دے بلکہ کُتوں کو اس پہ جمع ہوتا اور لڑتا بھی دیکھے اور چاہے تو دانشمندی سے کام لے اور اسے ضائع کرنے کی بجائے اسی سے دہی بنا کر اسے مفید بنا لےـ
ہم بھی مثال کے پہلے منظر کی رو سے چاہیں تو اپنے اختلافات کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرکے فتنہ و فساد برپا کریں اور ریاستِ پاکستان کو مزید اندرونی انتشار کا شکار کریں یا مثال کے دوسرے منظر کی رو سے چاہیں تو ان اختلافات کو مثبت عمل میں لے آئیں۔ سوال کرنے کا ہنر سیکھ لیں۔ بہتر سے مزید بہتر کا تجسس پیدا کریں۔ تحقیق کرنے کا شوق زندہ کریں۔ معاشرے میں تنقید برداشت کرنے اور مدلل گفتگو کرنے کا ماحول پیدا کرلیں۔

اس بارے ہر کسی کو اپنے تئیں سنجیدہ ہونا اور فہم سے کام لینا ضروری ہے اور پھر خود سے سوال کرنا ہوگا کہ آخر اختلافات کے مثبت استعمال میں رکاوٹ کون لوگ ہیں۔ جواب یقیناً یہی ہوگا کہ جو اس کا منفی استعمال کر رہے ہیں یعنی جن شر پسندوں کی وجہ سے عبادت گاہیں مندر۔ مسجد۔ چرچ۔ بارگاہیں گُردوارے محفوظ نہیں ہیں۔

جن بد اطوار کج خلق لوگوں کی وجہ سے پُرامن شہر اچانک مشتعل جتھوں کی صورت سڑکوں پہ نکل آتے ہیں۔
جن فسادیوں کی وجہ سے عوام تحمل رحمدلی اور غم خواری کی نعمت سے محروم ہو رہے ہیں۔
جن اشتعال طِبعوں کے شرانگیز بیانیوں کے باعث دوسروں کے گھروں اور املاک کو لوٹ کر نذرِ آتش کردیا جاتا ہے۔
جن بد اندیشوں اور بد بَلاؤں کے محض بے بنیاد جھوٹے الزامات کی وجہ سے زندہ جیوت انسان سنگسار کر دئیے جاتے ہیں۔
وائے مصیبت کہ نیم جان انسان بے قصوری کا یقین دلاتے رہتے ہیں خدا نبی اور ایمان کے واسطے دیتے ہیں مگر اُنہیں کیا خبر کہ رحم تو اُن کے سینوں میں پیدا ہوتا ہے جوسینوں میں دل رکھتے ہوں اور سزا کا تقاضا کرنے والوں میں اکثریت ایسے بدحواسوں کی ہوتی ہے جنہیں جرم کا علم تک نہیں ہوتا۔

(پُرسید، جرم چیہہ؟ گفتند نمیدانم.!۔ ولی باید کُشتہ میشود!)
(پوچھا اس کا جرم کیا ہے؟ بولے نہیں معلوم۔
بس اسے مار دینا چاہیئے)

دکھ کی بات یہ ہے کہ گھناؤنے جرم کبھی جائیدادوں جاگیروں کے نام پہ نہیں کیے جاتے بلکہ ایمان و مذہب کی حفاظت اور رحمت العالمین کی حرمت کے تحفظ اور نبی(ص) کا نام لے کر کیے جاتے ہیں یا جن سے عام لوگوں کومذہبی عقیدت ہوتی ہے ۔

امیرِ شہر غریبِ شہر کو لوٹ لیتا ہے
کبھی باحیلہء مذہب کبھی بنامِ وطن

اگر عوام چاہتے ہیں کہ پُرامن پاکستان کا خواب حقیقت ہو تو پھر ایسی لنگڑی سوچوں اور گندم نما جُو فروش خادموں سے ہرحال بیزاری کرنا ہوگی۔ جبکہ حکمرانوں اور اداروں کو ان زہریلی جڑوں سے وقتی طور چھٹکارا حاصل کرنے کی بجائے انہیں جڑ سے ختم کرنے کے مضبوط اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ نہیں تو مستقبل میں پھر ایسے سنگین مسائل کا سامنا ہوتا رہے گا اور آنے والی نسلوں کو بھی مذہبی شدت پسندی کا عذاب سہنا پڑے گا ۔