حسن مسعود

پچھلے کچھ عرصے سے مجھے اعتدال پسندانہ خیالات رکھنے کے باعث مسلسل غدار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ آج میں یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ ہاں! میں واقعی ایک غدار ہوں۔ میں غدار ہوں کیونکہ میں پاکستان کو ترقی کی بلندیوں پر گامزن دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں ایک جمہوریت پسند انسان ہوں، جو ہمیشہ سے پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا قائل رہا ہے، اور “خاکیوں” کی حکمرانی کا مداح نہیں ہے۔ یہ میرے غدار کہلاۓ جانے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ میں اس وجہ سے غدار ہوں کیونکہ میں معاشرے کے تمام طبقات کو انصاف اور مساوی حقوق کی فراہمی کے لئے چلائی جانے والی ہر تحریک کی حمایت کرتا ہوں۔ مجھے غدار ہونے کے ساتھ ساتھ اس بناء پرمرتد بھی ٹھہرایا جاتا ھے کہ میں مذہب کا لبادہ اوڑھ کر شدت پسندی کی ترغیب دینے والے عناصر کا شدید ناقد ہوں۔ میں جبری گمشدگیوں کا شدید مخالف ہوں اور لاپتہ افراد کو انصاف کی عدالتوں میں پیش کیے جانے پر یقین رکھتا ہوں، لہذا میں غدار ہوں۔ میں اس لیے غدار ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ آمرانہ حکومتیں اس ملک کے لئیے زہر قاتل ہیں۔ میرے نزدیک اس ملک کی فلاح اور ترقی کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کریں اور کسی دوسرے ادارے کے اختیارات میں مداخلت نہ کریں۔ ایسے ہی خیالات رکھنے کے باعث مجھے قومی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ میں قبائلی عوام کے خلاف روا رکھے جانے والے مظالم کے خلاف بولتا ہوں، اسی لئے میں غدار ہوں۔ مختصر یہ کہ میں ایک غدار ہوں کیونکہ میں سویلین بالادستی پر شدت سے یقین رکھتا ہوں۔

ترقی پسند آوازوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ سے نوازنے کا یہ سلسلہ آزادی کے فوراً بعد شروع ہوا۔ یہاں تک کہ بانیان پاکستان بھی اس کا شکار رہے۔ اس سلسلے میں بہت ساری مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن سب سے اہم مثال قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کی ہے، جن پر فوجی آمر ایوب خان نے ہندوستانی ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کے بعد تو فوجی آمروں کی جانب سے اپنے حریف سویلین سیاستدانوں پر غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے کا الزام لگانا جیسے ایک معمول بن گیا۔ ترقی پسند اور لبرل دانشوروں کو بھی ملک کے لئے خطرہ سمجھا گیا۔ اسی بنا پر آزادی کے بعد سے لے کر اب تک ہمارے یہاں ادبی حوالے سے کچھ زیادہ خاص کام نظر نہیں آتا۔ ادب کی جو تھوڑی بہت ترویج و ترقی ہوئی ہے اس میں بھی حکومتوں کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔

حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے اس طرز عمل کی حوصلہ شکنی کی اشد ضرورت ہے۔ اس رویے کی وجہ سے ہی ہم نے آدھا پاکستان گنوا دیا اور دیگر کچھ علاقوں میں بھی اسی باعث علیحدگی کی چنگاریاں بھڑکیں۔ عوامی سطح پر بیداری آنا شروع ہوچکی ہے کیونکہ عوام کی اکثریت جان چکی ہے کہ پیارے پاکستان میں مختلف ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لئے جمہوریت ناگزیر ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے جیسے ثقافتی طور پر منقسم ملک کے لئے جمہوریت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ بعض طبقات کی جانب سے اختلافی رائے رکھنے کے عمل کو ملک دشمنی سمجھنے  کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔