احمد جمیل یوسفزئی

ہندوستان کی تحریکِ آذادی کے ایک نامور رہنماء، اور ’اسلام کے عدم تشدد کے سپاہی‘ کی حیثیت سے جانے جانے والے پختونوں کی جدید تاریخ کے ایک درخشاں باب خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان نے سیاسی، معاشرتی اور معاشی مفادات کی تسکین کے لئے مذہب کے نام پہ درندگی کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا:”خدا کا مذہب امن اور محبت کا مذہب ہے۔ یہ جو تمہارے دلوں میں مذہب کے نام پہ نفرت بھرتے ہیں یہ خدا کے نہیں شیطان کے نمائندے ہیں”۔ 

ہمیں ہمیشہ سکولوں، کالجوں، حتٰی کہ یونیورسٹی تک میں ‘مطالعہ پاکستان’ نامی مضمون میں یہ بار بار پڑھایا گیا کہ یہ مملکت خداداد ہے اور اسے اسلام کے نام پہ حاصل کیا گیا تاکہ اس میں اُن سارے قوانین کا نفاذ کیا جاسکے جو کسی بھی جمہوری، ترقی پسند اور تہذیب یافتہ معاشرے میں رائج ہوتے ہیں۔ مگر یہ بات کسی المیے سے کم نہیں کہ پچھلے ستر دہائیوں سے اسی ‘اسلامی جمہوریہ پاکستان’ میں سیاسی اور معاشی مفادات کی تسکین کے لئے اسی مذہب کے استعمال کو صوابدیدی اختیار مان کر اس کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔

 اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم ترقی تو خیر کیا کرتے الٹا وہ پالیسیاں سانپ بن کر ہمی کو ڈسنے لگی اور قتل و غارت کا وہ بازار گرم ہوا کہ رکنے کا راستہ اپنی ہی راہ بھول گیا۔عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں 13 اپریل 2017 کو جرنلزم کے ہونہار طالبعلم مشال خان کا دردناک قتل ایسا ہی ایک قیامت سوز واقعہ ہے جس نے جہاں انسان دوست، باشعور اور پڑھے لکھے طبقے کو جنجھوڑ کر رکھ دیا وہی دوسری طرف انسان دشمن، شعور سے عاری اور بظاہر پڑھے لکھے مگر انسانیت کی الف ب سے بھی نا اشنا ایک طبقے کو عوام کے زہنوں پہ ایک بار پھر مسط کیا۔مشال خان پہ سوشل میڈیا پہ قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں توہین مذہب کا مرتکب مان کہ کچھ انتہا پسندوں نے یونیورسٹی میں پہلے پروپگینڈہ کیا اور جب طلباء کی اچھی خاصی تعداد جمع ہوئی تو مشال خان کو خود سزا دینے ایک جم غفیر ہاسٹل پہنچا۔ ان کو کمرے کا دروازہ توڑ کے باہر نکالا اور پھر درجنوں انسان نما وحشییوں نے لاتوں اور گھونسوں کے ساتھ ہر وہ چیز اٹھا کے مشال خان کو دے ماری جو ان کے ہاتھ لگی؛ لاٹھیاں، گملے، اینٹیں اور پستول کا استعمال۔ اور باقی کئی سو کا مجمع کھڑا یا تو ویڈیوز بناتا رہا اور یا تماشہ دیکھتا رہا۔

مشال خان بار بار کہتا رہا کہ اس پہ غلط الزام لگایا گیا ہے اور یہ کہ وہ خود ایک صوفی ہے اور نبیِ مہربان صل اللّہ علیہِ واٰلہِ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس نے کلمہ پڑھا مگر ثواب اور نیکی کی لالچ میں اندھے ہوچکے وہ درندے اسے مارتے رہے یہاں تک کہ مشال کو شہید کر کے ہی دم لیا۔ یہاں پہ بس نہیں ہوا۔ لاش کی بے حرمتی کی گئی اور اسے جلانے کی نیت سے بعد میں یونیورسٹی سے نکلنے والی ہر گاڑی چیک کی گئی تاکہ لاش کو باہر نہ جانے دیا جائے۔ تدفین کے بعد بھی مشال خان کی قبر پہ کئی دنوں تک پہرہ دیا جاتا رہا کہ کہیں لاش قبر سے نکال کہ نہ جلائی جائے۔ یہ سب کچھ اس قدر اندوہناک تھا کہ جب یہ وقعہ ہوا ان دنوں میں اپنے پیپرز دے رہا تھا۔ نہ مجھ سے اس کے بعد کسی بھی پیپر کی تیاری کے لئے پڑھا جا سکا، نہ کئی ہفتوں تک کھانا حلق سے آسانی سے اترا اور نہ کئی مہینوں تک دماغ اس کے علاوہ کچھ اور سوچ سکا کہ ہم بحیثیت معاشرہ اتنے ظالم، بے حس اور انسانیت سے عاری کیسے ہوگئے؟ اسلام کو امن کا دین سمجھنے والے اتنا بڑا ظلم کیسے کر سکتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر ‘رحمت اللعالملین، نبی کریم، نبی مہربان، اور نبی رحمت صل اللّہ علیہِ واٰلہِ وسلم’ کے امتی ہونے کے دعویدار اور ان کی سنت کو نجات کا راستہ سمجھنے والے اتنے عقل سے عاری، سنگدل، اور ظالم کیسے ہو سکتے ہیں کہ ان کی محبت کے نام پہ امن اور محبتیں پھیلانے کی بجائے اس درندگی سے انہی کے نام لیوا کے خون سے مٹی کو رنگین کرے؟پولیس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ مشال خان توہین مذہب کا مرتکب نہیں ہوا تھا۔

آئی جی پولیس نے کہا، “ہمیں کوئی ایسا ٹھوس ثبوت نہیں ملا جس کے بل پہ مشال، عبداللّہ یا زبیر (مشال کے باقی دو دوست جن پہ بھی یہ الزام لگایا گیا) کے خلاف تحقیقات یا قانونی کاروائی کا آغاز کیا جا سکے”۔ سپریم کورٹ کی طرف سے تشکیل دی گئی 13 رکنی JIT نے 3 جون 2017 کو اپنے رپورٹ میں مشال خان اور اس کے دوستوں کے خلاف تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور مشال کے قتل کو مخصوس طلبا اور یونیورسٹی انتظامیہ کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ قرار دیا۔ رپورٹ نے وقوعے کے وقت پر موجود پولیس اہلکاروں کے کردار اور مردان پولیس کے ردعمل پر بھی سوال اٹھا دئے۔ان سب سے اس کیس سے متعلق کچھ اہم سوال پیدا ہوتے ہیں:1۔ اگر مشال نے کوئی بلاسفیمی نہیں کی تو وہ کون تھے جن کو مشال کی موت سے فائدہ ہوا؟2۔ الزام کس نے لگایا اور اس الزام کو ہوا دینے میں یونیورسٹی انتظامیہ نے کیوں کردار ادا کیا؟3۔ اگر ایسا کوئی الزام تھا بھی تو پولیس کو کیوں اطلاع دے کے مقدمہ درج نہیں کروایا گیا؟4۔ پولیس کے بیس اہلکار موقع پر موجود تھے۔ وہ ہجوم کو مشال کو مارتے ہوئے دیکھتے رہے۔

نہوں نے کیوں ہوائی فائرنگ کرکے ہجوم کو منتشر کرنے کو کوشش نہیں کی؟ اور اگر ہجوم کو کنٹرول کرنا ان کے بس میں نہیں تھا تو انہوں نے کیوں ہنگامی طور پہ اضافی نفری نہیں بلوائی؟

مشال خان کے کیس نے افسوس کن حقیقت کو مذید تقویت دی کہ؛1۔ مذہب کے ٹھیکیدار ایک جاہل، اور ان پڑھ معاشرے میں اس کو ایک مضبوط ہتھیار کے طور پر اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کرتے ہیں۔2۔ پاکستان میں مذہب کی نہایت سطحی تشریح کی جاتی رہی ہے جس سے عوام اسلام کی اساس اور تعلیمات کو سمجھ کر اس سے بہرور ہونے کی بجائے اس کے بارے میں جذباتیت کا شکار ہیں۔ جس کا یہ نتیجہ نکلا ہے  کہ ہر دوسرہ بندہ اسلام کی باتیں کرتا ہے مگر اس کے عمل میں اسلامی تعلیمات نظر نہیں آتی۔ مثلاً اگر مشال کو مارنے والوں کو 49 ویں سورہ الحجرات کے چَھٹی آیت کریمہ (ترجمہ: اے ایمان والوں! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لو (ف ۹) کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ) کا پتہ ہوتا تو وہ کبھی بھی اس گناہ کبیرہ میں اپنا حصہ نہیں ڈالتے۔3۔ ریاستی پالیسیوں کا مذہبی انتہا پسندی کے فروغ میں ایک اہم کردار رہا ہے۔ جس کا اثر معاشرے کی مجموعی سوچ اور انداز فکر پر پڑا ہے۔ پہلے ہندؤں سے مذہب کے نام پہ خود کو الگ کہا گیا؛ پھر کشمیری مسلمانوں کی مدد کے نام پہ انتہا پسند سوچ کو پروان چڑھایا گیا؛ پھر ایران کے مقابلے میں سعودی ریال کی خاطر وہابی نظریے کو فروغ دیا گیا جس سے لشکر جھنگوی جیسی فرقہ وارانہ دہشتگرد تنظیمیں وجود میں لائیں گئیں اور  ملک کی شیعہ آبادی خون میں نہلا دی گئی اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے جس کی تازہ مثال کل کے کوئٹہ کے ہزار گنجی سبزی مارکیٹ میں ہزارہ برادری کے محنت کشوں پر خودکش دھماکہ ہے جس میں بیس بے گناہوں کی جان چلی گئی؛ پھر افغان جہاد کے نام پہ امریکہ کے ساتھ مل کر قبائلی علاقوں میں طالبان کو تیار کیا گیا جنہوں نے نائن الیون کے بعد پاکستانی بچوں کو خود کش بمبار بنا بنا کے پاکستانیوں ہی کے خون سے ہولی کھیلی۔

عشروں پر مبنی ان ریاستی پالیسیوں نے ملک میں نوجوانوں کی ایک بہت بڑی آبادی میں انتہا پسندی کو فروغ دیا۔4۔ اس ملک کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ پہلے تو شرح خواندگی بہت کم ہے اور جن کو ہم خواندہ کہتے ہیں ان کو تعلیم کے نام پہ جذباتیت، شعور کے نام پہ جنگوئزم (Jingoism) اور تاریخ کے نام پہ اپنی پہچان سے دوری پڑھائی جاتی ہے۔ خود کو تمام برائیوں اور خامیوں کے باوجود دنیا کی بہترین قوم اور تمام اخلاقی گراوٹ اور منافقت کے باوجود بہترین مسلمان سمجھ کے ہمارے نوجوان جذباتیت، انتہا پسندی اور عدم برداشت کا شکار ہوچکے ہیں۔ جہاں وہ دوسروں کی بات سننے اور اپنی بات دلیل سے کرنے کی بجائے مار دھاڑ پہ یقین رکھتے ہیں۔5۔ یکساں تعلیمی نظام نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان ایک دوسرے سے الگ الگ سوچ رکھتے ہیں۔ مدرسے کا پڑھا سکول کے پڑھے کو اور سکول کا پڑھا مدرسے سے پڑھے کو برداشت کرنے کا روادار نہیں۔6۔ پچھلے 30 سالوں میں مدرسوں کی تعداد میں بڑی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور ان میں دین کی اصل تعلیمات پہ زور دینے کی بجائے ریاست پالیسی کے تحت جھاد کےنام پہ عدم برداشت کو پروان چڑھایا گیا۔توہین مذہب کے قوانین برطانوی دور میں 1860 میں متعارف کئے گئے۔ 1947 تک توہین مذہب کے محض پانچ مقدمات درج کئے گئے۔ 1947 سے 1980 تک آٹھ مقدمات درج ہوئے۔ ضیاء دور میں توہین مذہب کے حوالے سے تعزیرات پاکستان کے قانون میں پانچ نئے دفعات (295 بی, 295 سی, 298 اے, 298 بی, اور 298 سی) کا اضافہ کیا گیا۔ جس کے بعد 1990 سے 2019 تک توہین مذہب کے الزام میں اکہتر افراد کو عدالت تک پہنچنے سے پہلے موت کے گھاٹ اتارا گیا اور انتالیس لوگ ملک کے مختلف جیلوں میں سزائے موت کا انتظار کر رہے ہیں۔جب تک ریاست دہشتگرد تنظیموں کو سٹریٹیجک اثاثے سمجھتی رہے گی، جب تک ریاست میڈیا پرپگینڈے اور خوف کے ذریعے سچ کو چھپاتی رہے گی اور جب تک ریاست تعلیمی سلیبس میں تبدیلی کر کے حقیقت پسندی اور سچ سے نوجوانوں کو روشناس نہیں کرائے گی تب تک اس ملک میں توہین مذہب کے نام پہ ایک گارڈ گورنر کو؛ نوجوان دوست، کلاس فیلوز اور یونیورسٹی انتظامیہ ایک ہونہار طالبعلم کو تشدد کر کے اور ایک شاگرد اپنے استاد کو قتل کرتا رہے گا اور اس قتال کی حمایت نظر آئے گی۔مخالف خیالات کو سمجھا اور برداشت تب کیا جا سکتا ہے جب یہ سمجھا جائے کہ مذہب کا مقصد دوسروں پہ تنقید نہیں بل کہ خود پہ قابو پانا ہے۔

پشتو شعر:وژل کیده به د رڼا چي به یې خیال ساتلو۔۔۔ځان به تر سو د طوفانونو نه مشال ساتلو
ترجمه:اسے تو مرنا ہی تھا جب وہ روشنی کا محافظ تھا۔۔۔کب تک مشال خود کو ان طوفانوں سے محفوظ رکھ پاتا