مہناز اختر

یہ تنقیدی جائزہ لکھنے سے پہلے میں نے آئینِ پاکستان کے باب چہارم “نظامِ عدالت کی بابت عام احکام” کا مطالعہ اس خدشے کے پیشِ نظر کیا کہ کہیں یہ تنقید توہینِ عدالت کے زمرے میں نہ آتی ہو ، پر بنیادی حقوق اور مذکورہ باب کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ ہمارا آئین ہمیں مہذب طریقے سے مثبت تنقید اور اظہار راۓ کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ یہ فیصلہ سترہ ابواب اور پچپن مفصل نکات پر مبنی ہے۔ اس کیس میں ادراروں کے کردارواختیارات، عوامی حقوق اور اسلامی عقائد کی وضاحت کی گئی ہے۔

فیض آباد دھرنا کیس فیصلے کے دو زاویے ہیں، اگر آپ نے یہ فیصلہ نہیں پڑھا ہے تو ضرور پڑھیے، یہ فیصلہ آپکو بنیادی آئینی انسانی حقوق، اداروں کے اختیارات اور اسلامی اخلاقیات سے متعلق آگہی دیتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ سیاست میں مذہب بطور ہتھیار استعمال ہوتا ہے۔ جیسے کہ فیصلے میں باب “اسلام” میں قرانی آیات کی روشنی میں مولوی خادم حسین(نام لیۓ بغیر) کی شخصیت کے تناظر میں رسالت مآب ﷺ سے کے اخلاق کو بیان کیا گیا ہے اور ساتھ ہی میں سورہ الفرقان کی آیت 19 کا حوالہ دیا گیا ہے جسمیں اونچی اور کرخت آواز کو گدھے کی آواز سے تشبیح دی گئی ہے۔ اسکے علاوہ یہ فیصلہ ان لوگوں کو بھی پڑھنا چاہیے جو افواج پاکستان اور انٹیلیجنس ایجنسیز کو ہر پابندی یا جوابدہی سے ماورا سمجھتے ہیں، اور یہ فیصلہ ان لوگوں کو بھی ضرور پڑھنا چاہیے جنہیں یہ غلط فہمی ہے کہ آئین پاکستان اسلام سے متصادم ہے یا غیر اسلامی ہے۔

اگر آپ مذکورہ تمام پہلوؤں سے پہلے ہی واقف ہیں تو پھر میرے خیال سے آپکو یہ فیصلہ تنقیدی نگاہ سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ میرا اشارہ فیصلے کے دوسرے زاویے کی طرف ہے۔ اس فیصلے کے بغور مطالعے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ انتہائی مبہم اور نامکمل ہے جسکا فائدہ اس ملک پر حاوی وہی قوتیں اٹھائیں گی جنکے خلاف یہ ازخود نوٹس لیا گیا تھا۔ اب ہم اس کیس کے مبہم پہلوؤں کا باری باری جائزہ لیتے ہیں:

● جیسا کہ اس کیس میں بھی بتایا گیا ہے کہ آئین ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس کے نتیجے میں عوام اپنی علمی اور فکری استعداد میں اضافہ کر سکے۔ اس حوالے سے دیکھیں تو یہ عدالت کی ذمہ داری تھی کے جہاں اس فیصلے کی نقول ریاست کے بیس سے زائد دفاتر کو بھجوانے کی ہدایت کی گئی وہیں دفترِعدالت عالیہ کو یہ احکام بھی جاری کرتی کہ اس فیصلے کا کم ازکم اردو ترجمہ بھی ساتھ کروایا جاۓ تاکہ عوام کی اکثریت جو انگریزی زبان سے نابلد ہے وہ اسے پڑھ سکیں۔

● اس فیصلے میں “آئین کا آرٹیکل 184 (3) اور سپریم کورٹ کی کاروائی” کے عنوان سے ازخود نوٹس کے قانونی جواز پر بات کی گئ ہے۔ عدالت عالیہ کا مؤقف ہے کہ اگر معاملہ “عوامی اہمیت” کا ہو تو آئین عدالت عالیہ کو یہ اختیار عطا کرتا ہے کہ وہ کسی معاملے پر ازخود نوٹس لے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عدالت عالیہ کی جانب سے مخصوص معاملات پر لیۓ جانے والے ازخود نوٹس کہیں انصاف کے ساتھ معتصب ہونا تو نہیں ہے کیونکہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں ہزاروں کیسس پہلے ہی زیرالتواء ہیں ایسے میں درمیان سے کسی کیس پر فوری کاروائی کرنا اور عدالتی مشینری کو اس میں مصروف رکھنا کہیں ان سائلین کہ جنکے کیس پہلے ہی عدالت میں زیرسماعت ہیں، کے انفرادی حق کی نفی تو نہیں۔ دوسری جانب مذکورہ کیس کے ازخود نوٹس پر ایک سوال اور بھی اٹھتا ہے کہ اس کیس میں بار بار فیض آباد دھرنے کا موازنہ PTI کے دھرنے سے کیا گیا ہے اور قوم یہ جانتی ہے کہ PTI کے دھرنے سے قوم کو نسبتاً زیادہ معاشی اور سیاسی نقصان اٹھانا پڑا لیکن ہماری معزز عدالت عالیہ نے اس سلسلے میں نہ پہلے اور نہ ہی فیض آباد دھرنا کیس کے دوران کسی ازخود نوٹس یا قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔

● اس فیصلے میں “گزشتہ مظاہرے اور TLP کا دھرنا” اور ” TLP کا طریقہ کار” کے عنوانات کے تحت اس دھرنا کا موازنہ پاکستان تحریک انصاف – پاکستان عوامی تحریک دھرنا اور کراچی کے 12 مئی کے واقعے سے کیا گیا لیکن یہ واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ عدالت عالیہ کی جانب سے TLP دھرنے اور کراچی کے 12 مئی کے واقعے کے حوالے سے جو سخت رویہ روا رکھا گیا اسکے برعکس PTI-PAT کے دھرنے کے حوالے سے نسبتاً نرم رویہ رکھا گیا ہے۔ جبکہ دیکھا جاۓ تو PTI-PAT دھرنے نے بھی ملک کو ایک لمبے عرصے تک افراتفری میں مبتلا کررکھا تھا۔ اعلیٰ قائدین کی جانب سے شدید اشتعال انگزیزی کی گئی تھی۔ پھر ایک اور بات قابل توجہ ہے کہ PTI-PAT دھرنے کے ایک اور اہم کردار کینیڈین شہری ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہیں ذکر تک نہیں کیا گیا ، جو اشتعال انگیزی میں پیش پیش تھے اور ان پر اور انکی جماعت کے حوالے سے غیر ملکی فنڈنگ کا سوال بھی نہیں اٹھایا جو سوال عدالت عالیہ نے تحریک لبیک پاکستان کی فنڈنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن سے کیا۔ تو بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس موازنے میں بھی عدالت عالیہ نے PTI-PAT کے قائدین کے ساتھ انکے دھرنے کے حوالے سے نرم رویہ روا رکھا ہے۔ ایک اور بات جو بہت زیادہ محسوس ہوئی کہ اس کیس کے موازنے کے طور پر کراچی کے 12 مئی کے واقعے کے نتیجے میں ہونیوالے نقصانات کا موازنہ تفصیل سے کیا گیا ہے۔ فیض آباد دھرنے کی نتیجے میں ہونے والے ایک دن کے شٹ ڈاؤن کے نقصان کی مالیت بھی بتائی گئی ہے مگر اس موازنے میں PTI-PAT کے طویل دھرنے کے نتیجے میں ہونیوالے نقصان کی مالیت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

● اسی فیصلے میں احتجاج کے حق پر تفصیلی بات کی گئی ہے، احتجاج کے مشروط حق کو تسلیم کیا گیا ہے اور عوامی اہمیت یا دلچسپی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسکے علاوہ میڈیا پر کسی قسم کے غیراعلانیہ غیر آئینی دباؤ، بندش اور سینسر شپ کی بھی مذمت کی گئی ہے لیکن کہیں بھی حکومت کو یہ تلقین نہیں کی گئی ہے کہ اگر کوئی برادری یا گروہ کسی مسئلے پر احتجاج کرنا چاہے تو انہیں احتجاج کے لیۓ مناسب جگہ فراہم کی جاۓ اور میڈیا کو اسکی کوریج سے ہرگز نہ روکا جاۓ۔ یہ بہت ضروری تھا کہ معززعدالت تنقید، شکوہ یا فریاد اور غداری و بغاوت کے درمیان کا فرق بھی واضح کرتی کیونکہ اس مبہم فیصلے کی آڑ لے کر حکومت یا دیگر ادارے خاص طور پر انٹیلیجنس ایجنسیاں مخصوص مفادات کے تحت اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو بغاوت کہہ کر دبا سکتی ہیں کیونکہ پورے فیصلے میں غیرمحسوس طریقے سے مشروط حقوق کی بات بار باردہرائی گئی ہے۔

● سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ تفتیش اور تحقیقات سے صاف معلوم ہوا کہ TLP کے دھرنے کے ختم ہونے پر ایک باوردی شخص کو دھرنا شرکاء میں رقوم بانٹتے دیکھا گیا تھا، اسکے باوجود آرمی یا انٹیلیجنس ایجنسیوں پر اس شخص کی شناخت سامنے لانے پر زور نہیں ڈالا گیا جیسا کہ شیخ رشید کی دھرنا قائدین سے ملاقات کا بالخصوص ذکر کیا گیا اور یہ معلوم ہونے کے باوجود بھی کہ دھرنا پر تنقیدی نگاہ رکھنے والے چینلز کی نشریات کو پورے ملک میں کنٹونمنٹ کے علاقوں میں کیبل آپریٹرز کی مدد سے بند کروایا گیا، اسکی تحقیقات پر بھی زور ڈالنے اور ذمہ داران کا نام سامنے لانے پر بھی زور نہیں ڈالا گیا، بس واجبی سے احکامات دے دئیے گۓ۔

● میرے لیۓ بحیثیت شہری سب سے مشکوک نقطہ یہ ہے کہ دونوں دھرنوں میں سب سے زیادہ شعلہ بیانی کرنے والے اور عوام کو اشتعال دلانے والے تین کرداروں (عمران خان، طاہرالقادری، مولوی خادم حسین) کے نام پورے فیصلے میں کہیں نظر نہیں آۓ۔ کیا میں یہ سمجھوں کہ معزز عدالت کی نگاہ سے یہ نقطہ غور طلبی سے بچ گیا کہ اس چشم پوشی کا فائدہ یہ تینوں حضرات سیاسی طور پر اٹھا سکتے ہیں۔ حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ جس دھرنے کے خلاف معزز عدالت نے ازخود نوٹس لیا اسکے قائد اور سب سے اہم ترین کردار مولوی خادم حسین کا نام کہیں نہیں لیا، صرف اشارے دئیے گۓ۔ جبکہ تین افراد شیخ رشید احمد،اعجازالحق اور شیخ حمید جنہوں نے دورانِ دھرنا قائدین سے ملاقات کی انکا نام اس فیصلے میں بطور خاص موجود ہے۔ مزید یہ کہ اس بات کا بھی کہیں ذکر نہیں کیا گیا کہ جس دن اس کیس کا فیصلہ آیا اس دن تک مولوی خادم حسین قانون کی تحویل میں تھے لیکن PTI کے قائدین ملک میں دھرنے کے ذریعے بدنظمی اور افراتفری پھیلانے کے باوجود بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

شاید میں یہ فرض کرلیتی کہ اس فیصلے کو لے کر میرے تحفظات اور خدشات بے بنیاد ہیں لیکن پاکستان کے سیاسی افق پر اٹھنے والی ایک تحریک PTM اور اسکے قائدین کے ساتھ جو سلوک ریاست کررہی ہے، اسے دیکھ کر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ ریاست نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔ اس کیس میں ائیرمارشل اصغر خان کا حوالہ دے کر اور TLP کے دھرنے کے حوالے سے بھی آرمی اور انٹیلیجنس ایجینسی کی سیاست میں مداخلت اور اختیارات سے تجاوز کا اعتراف کیا گیا ہے لیکن کیا یہ عجیب بات نہیں کہ عوامی اہمیت کے تحت ازخود نوٹس لینے کا جواز رکھنے والی عدلیہ PTM کے حوالے سے چپ ہے، جبکہ PTM کو بھی شکایت فوج سے ہی ہے اور PTM سے معاملات اور مذاکرات بھی سیاسی قائدین کے بجاۓ فوج کررہی ہے۔ اس تحریک کے حوالے سے میڈیا پر ایک جبری اور خود ساختہ سینسر شپ لگائی گئی ہے اور انکے کارکنان کو بھی بغاوت اور فتنہ فساد کی دفعات لگا کر گرفتار کیا جارہا ہے۔ کیا یہ مناسب نہ ہوتا کہ معزز عدالت فیض آباد دھرنا کیس میں ماضی کی مثالوں کے ساتھ ساتھ ایک مثال حال کی بھی لیتی اور اس پر بھی ایک بحث رکھتی کہ فیض آباد دھرنے اور جائز حقوق کا مطالبہ کرنے والی تحریکوں میں فرق کیسے کیا جاۓ گا کیونکہ وکلاء تحریک اور کراچی 12 مئی 2007 کے پرامن عوامی احتجاج کو معزز عدالت عالیہ نے جائز اور درست جبکہ اس وقت کے حکومتی رویے کو غیرآئینی اور ظلم قرار دیا ہے۔

معزز عدالت نے اس فیصلے میں الیکشن کمیشن، پیمرا، آرمی بشمول اٹیلیجنس ایجنسیز جیسے اداروں اور دھرنا کرنے والی جماعت کا نام تو لیا ہے مگر ان کو چلانے والے ان افراد کا نام نہیں لیا جو کہ دراصل قصوروار تھے۔ یہی وہ بنیادی نکات ہیں کہ جنکی بنیاد پر بظاہر شفاف اور انصاف پر مبنی فیصلے کو نامکمل، مبہم اور معتصب کہا جاسکتا ہے۔ اس فیصلے کو اقتدار میں آنے والی ہر حکومت اپنے ناقدین کے خلاف استعمال کرے گی اور دفاع کے ادارے بھی قومی سلامتی کی آڑ میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے رہیں گے اور سیاست پر اپنا اثرورسوخ برقرار رکھیں گے۔ اسی فیصلے کی آڑ میں تنقید کو بغاوت یا غداری سے تعبیر کیا جاۓ گا کیونکہ اس فیصلے میں ذمہ داران کا تعین جان بوجھ کر نہیں کیا گیا ہے۔