سلمان درانی

کریم سروس میں خواتین کا روزگار بھی لگا ہوا ہے اس بات کا علم تو تھا، یہ معلوم ہرگز نہیں تھا کہ وہ روز کن تکالیف سے گزر کر یہ سب کر پاتی ہیں۔ میں نے آج شام میں کریم پر گھر جانا تھا تو اتفاق سے ہی ایک نوجوان لڑکی نے رائڈ لے لی اور میری بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گئی۔ اس نے فرنٹ سیٹ پر اپنا پرس رکھا ہوا تھا تاکہ مرد حضرات کو پیچھے ہی بیٹھنا پڑے۔ہم وہاں سے منزل کی جانب چل پڑے اور ہلکی پھلکی بات چیت بھی شروع ہوگئی۔ میں نے جہاں جانا تھا وہاں وہ لڑکی آج سے پہلے کبھی نا گئی تھی،اسے گاڑی تو چلانا آتی تھی مگر راستوں میں ابھی وہ اتنی پکی نہیں تھی۔ خیر وہ تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ مسئلہ جہاں کھٹکنا شروع ہوا وہ اس کو بار بار غیر متعلقہ کالز کا آنا تھا۔

بار بار کوئی سی بھی بات بنا ئی جاتی اور بات کرنے کا بہانہ ڈھونڈا جاتا۔ وہ الجھی الجھی سی محسوس ہوئی پھر میں نے ہی پوچھ لیا کہ کیا ماجرا ہے، معلوم ہوا کہ پتہ نہیں کیا چاہتا ہے،بار بار فون کرکے کہہ رہا ہے کہ میں وہی ہوں جو کل آپ کے ساتھ رائیڈ پر تھا۔

وہ بہانہ یہ بنا رہا تھا کہ اس کو کچھ پیسے اضافی دینا پڑے۔ گاڑی اسلام آباد کی مرکزی شاہرہ پر تھی اور وہ اس پریشانی میں ٹھیک سے ڈرائیو بھی نا کر پارہی تھی۔ غالباً اس کو اسکے گھر سے بھی کالز آرہی تھیں۔ خیر میں نے مزید پوچھا تو بتایا کہ کچھ ٹھرکی لوگ ہوتے ہیں اور بیٹھتے ہی تنگ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ زیادہ تر اوباش دوستی کی آفر کرتے ہیں۔ وہ کہہ رہی تھی کہ وہ مجبوری میں یہ کام کررہی ہے اور اس کو، ساتھ ہی اس کی ساتھی کپتان کو روز ہی ایسی ہراسگی کا سامنا رہتا ہے۔

المیہ تو یہ کہ مزاحمت کرنے پر کسٹمر کوئی سا بھی بہانہ بنا کر کریڈٹس میں اسٹار کم دیتا ہے اور یہ بات کریم انتظامیہ سے پوچھی جائے تو کہتے ہیں کہ آپ نےکسٹمر کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔ بعض اوقات تو آئی ڈی بھی بلاک کردی جاتی ہے، بونس کی رقم مار لی جاتی ہے۔ کیا اتنا کچھ روز مرہ میں ہوتے ہوئے آپ اس سروس کو ملک کے ہر باشندے کے لیئے یکساں مفید قرار دے سکتے ہیں؟ خواتین کے ساتھ ایسے سلوک پر مجبور خواتین احتجاج بھی کریں تو یہ کہہ کر گھر بٹھا دی جائیں کہ خواتین کا ٹھکانہ گھر کی چار دیواری ہی بھلی؟

بلند و بانگ دعوے کرنے والے کریم کمپنی کے عہدیداروں سے میری درخواست ہے کہ ملک بھر کی خواتین کپتانوں کو ایک جگہ اکٹھا کریں اور ان سے ان کے مسائل سُنیئے، خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیئے جلد سے جلد کوئی لائحہ عمل ترتیب دیں۔