وقاص احمد

پچھلے دو تین دن میں اوپر تلے دو تین خبریں ایسی پڑھیں کہ سوچ لیا کہ اپنا قبلہ درست کرنے کا ٹائم آگیا ہے۔ ظاہر ہے مجھ جیسے پارٹ ٹائم انقلابیے تو بنیادی طور پر ڈرپوک سے بندے ہوتے ہیں۔ کسی نے ہلکا سا دبکا مارا اور سارا انقلاب بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔ تینوں خبریں فیس بک پر پڑھیں۔ آپ کو بھی سنا دیتا ہوں۔ پہلی خبر کے مطابق ہمارے وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا ہر بیہودہ زبان کے استعمال اور اداروں یا وزیراعظم کے بارے میں غیر شائستہ الفاظ (بہ الفاظ دیگر کسی قسم کی کوئی بھی تنقید) برداشت نہیں کیے جائیں گے اور سخت کارروائی ہوگی۔ اب جیسا کہ گزارش کی کہ ہم تو کاروائی کے لفظ سے ہی ڈر جاتے ہیں چہ جائیکہ نوبت “سخت کاروائی” تک پہنچ جائے۔ اس خبر کے نیچے ہی کسی ظالم شخص نے مثال دیکر مجھ جیسے جاہلوں کو سمجھایا تھا کہ نازیبا اور غیر شائستہ الفاظ کیسے ہوتے ہیں۔ اس شخص نے مثال ہمارے اسی نجیب الطرفین وزیر اطلاعات کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی ایک پرانی ٹویٹ کی مدد سے پیش کی جس میں محترم فواد چوہدری نے صاحب نے آل یوتھ کی ماؤں کے بارے میں کچھ “خوش گفتاری” کی تھی۔ اب میں وہ ٹوئٹ یہاں لکھ نہیں سکتا کہ مجھے ڈر لگتا ہے۔ لیکن یقیناً آپ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ فواد چوہدری جیسے حلیم انسان کے منہ سے آل یوتھ کی ماؤں کے بارے کیسی گل افشانی ہوگی۔

خیر میں تو اس خبر سے خوفزدہ ہوکر فوری طور پر اپنا قبلہ درست کرنے کے لیے بابا کوڈا اور پاکستان ڈیفینس وغیرہ کے پیج سے تعلق جوڑ کر زبان دانی، شائستہ پن، قومی مفاد، حب الوطنی، شرافت و حلاوت، خوش گفتاری اور اعلیٰ اخلاق پر کلاسز لینے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک “میرے کپتان” کی ایک پوسٹ میری نظر سے گزری۔ میرے کپتان نے واشگاف لکھا ہوا تھا کہ “حکومت منفی ہتھکنڈے اپنا کر آذادی اظہار رائے کو کچلنے کے لیے حیلے بہانے بنا رہی ہے۔ ہم یہ برداشت نہیں کریں گے”۔ سچ مانیں اتنا پڑھ کر میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ میرا ایک دوست پاس سے گزرا۔ میرے آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر گھبرا کر میرے پاس آیا کہ خیر تو ہے۔ میں نے کہا کہ یار اپنی کم ظرفی اور کوتاہ نظری پر رو رہا ہوں۔ جس بندے کو میں برا بھلا کہتا رہا، اس کے بارے غلط سلط سوچتا رہا وہ اتنا اصول پسند، جمہوریت پسند اور کھلے دل کا انسان ہے کہ اس نے اپنی ہی حکومت اور اپنے وفاقی وزیر اطلاعات کے بیان پر شدید ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آذادی اظہارِ رائے پر کوئی قدغن برداشت نہیں کریں گے۔ واقعی خاں صاحب ایک اصول پرست اور کھرے بندے ہیں۔ میرے دوست نے بے یقینی کے عالم میں میرا موبائل مجھ سے چھینا، خبر پڑھی اور ایک چپت میرے سر پر دھر کر بولا، زیادہ جذباتی نا ہو، یہ پرانی پوسٹ ہے خاں صاحب کی جب وہ اپوزیشن میں تھے۔ اور میں شرمندہ سا ہو کر اپنے آنسو پونچھنے لگا۔

بہرحال جو بھی ہو۔ میں فواد چوہدری صاحب کی وارننگ کے بعد سہم گیا ہوں۔ اب آپ چاہے زہر ہلاہل کو مجھ سے قند کہلوا لیں۔ میرے اندر کا انقلابی کیڑا سر نہیں اٹھائے گا۔

کچھ دن پہلے میں نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ “چینج کے لیے نکلے تھے اور واقعی اب گلی گلی ریزگاری (چینج) کی بھیک مانگتے پھر رہے ہیں۔ لوگ غلطی کھا گئے کہ خاں صاحب چینج سے مراد تبدیلی لیتے ہیں۔ اصل میں چینج سے مراد ریزگاری ہی ہے جو دے اسکا بھلا جو نا دے اس کا بھی بھلا۔”

فواد چوہدری صاحب کی دھمکی کے بعد میں نے ڈائری سے وہ صفحہ پھاڑ کر چبا کر کھا لیا ہے تاکہ کوئی ثبوت بھی نا رہے۔
میری توبہ جو میں نے خاں صاحب کو منگو اعظم، ڈونکی راجہ یا بھکاری اعظم کہا۔ میں ان کو یوٹرن نیازی بھی نہیں بولوں گا۔ نا ہی ان کو نالائق، نااہل، بدتمیز، جھوٹا، فراڈیا، کرپٹ، زکوٰۃ چور، صدقات کھانے والی بلا اور بد کردار کہوں گا۔میری لاکھ لاکھ توبہ اگر میں نے خاں صاحب کو بوٹ پالشیا، فوجی چمچہ گیر اور کٹھ پتلی وزیراعظم کہا۔ میرے منہ میں خاک۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں خاں صاحب کے کالے دھن والی اے ٹی ایمز کا نام تک نہیں لوں گا بلکہ میں اس بات کا پرچار کروں گا کہ چاہے خاں صاحب کرپٹ لوگوں کے مال پر عیش کرتے ہیں مگر خود تو ایماندار ہیں ناں. میں دلائل سے ثابت کروں گا کہ کرپشن صرف وہی ہوتی ہے جس کو خاں صاحب کرپشن کہیں باقی سب بکواس۔ میں بلاناغہ خاں صاحب کی دو موریہ قمیض، نماز والا فوٹو سیشن اور چائے بسکٹ سے مہمانوں کی تواضع والی تصویریں شئیر کیا کروں گا۔

اس کے علاوہ فواد چوہدری صاحب کی تنبیہہ میں دیگر اداروں کے عزت و احترام کا ذکر ہے۔ اب یہ تو حقیقت ہے کہ پاکستان میں احترام کے قابل صرف دو ہی تو ادارے ہیں باقی تو سب کچرا کنڈی کی پیداوار ہیں جن کو گالی نکالنا عین حلال ہے۔ اب اگر ان دو ہیروں کو بھی ہم تنقید کا نشانہ بنائیں تو ہمارے پلے کیا رہ جائے گا؟ حالانکہ میں پہلے بھی شدید احتیاط برتتا ہوں لیکن اب تو میں باقاعدہ اعلان کرتا ہوں کہ میں دنیا کے سب سے ٹاپ کے جاسوسی ادارے کو “نمبر ون” کہہ کر بلانے سے اجتناب کروں گا۔ میں تمام چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرز کو عزت و تکریم سے پکاروں گا۔ ان کی خدمات کو سراہوں گا۔ میں نا تو 30 بلین ڈالر کی ملٹری ان کارپوریشن کا ذکر چھیڑوں گا، نا ہی ان “مس ایڈونچرز” کا جو ہمیشہ الٹا ہمارے گلے ہی پڑے۔ میں 65 کے جنگ میں آسمان سے اترتے “سبز ہلالی پرچم میں لپٹے فرشتوں کی فوج کی کہانیاں سنایا کروں گا۔

میں پاکستان ٹوٹنے کا ذمہ دار ان تمام سولین اشخاص کو ٹھہراؤں گا جو اس وقت کسی عہدے پر بھی نہیں تھے۔ میں جنرل ایوب کو فیلڈ مارشل، جنرل یحیٰی کو ولی دوراں، جنرل ضیاء کو امیر المومنین اور جنرل مشرف کو اتاترک کہوں گا۔ میں کارگل میں اٹھائی سبکی کو نواز شریف کا قصور کہوں گا اور پچھلے 70 سال میں پھیلی ہوئی تباہی کو چن چن کر صرف اور صرف سولین لیڈرز کے کھاتے میں ڈالوں گا۔ میں جنرل ایوب کے دریا بیچنے، جنرل یحیٰی کا ملک توڑنے، جنرل ضیاء کا اسلام بیچنے اور جنرل مشرف کا پاکستانی بیچنے کا الزام اپنے سر لے لوں گا۔ اور ان تمام جرنیلوں کے بیچ آنے والے وہ تمام جرنیل جو الیکشن خریدنے بیچنے کا کام دھندہ کرتے رہے ہیں ان کے اس عمل کو قومی مفاد کا نام دوں گا۔ میں دلائل سے ثابت کروں گا کہ ریاست مدینہ فلاحی ریاست نہیں بلکہ سکیورٹی ریاست تھی اس لیے بجٹ کا کم از کم 80 فی صد سکیورٹی پر لگا کر ہمیں دنیا اور آخرت میں سرخروئی کا انتظام کرنا چاہیے۔

میرے بڑوں کی توبہ اگر میں نے عصر حاضر کے مجاہد اعظم جنرل راحیل شریف کو “ریال شریف” کے نام سے پکارا یا واٹس ایپ پر اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو کیسز کے بارے احکامات دینے والے جرنیلوں کے بارے کوئی لاف زنی کی۔ آخر وہ جو بھی کر رہے تھے اس قوم کے عظیم تر مفاد میں ہی کر رہے تھے ناں۔ میری توبہ اگر میں نے 1100 ارب روپے کے دفاعی بجٹ کو، 1700 ارب میں تبدیل ہونے یا پھر اس کے مذید بڑھائے جانے پر کوئی سوال کیا۔ میں تو بلکہ حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ پرویز مشرف کے دور سے اب تک نئے عالیشان جی ایچ کیو بمعہ ہاوسنگ سیکٹرز کا جو منصوبہ فنڈز کی کمی کی وجہ مسلسل نظر انداز ہوتا آرہا ہے اس کے 1000 ارب جلد سے جلد جاری کئے جائیں۔ میرے چھوٹے دماغ کی بتی تو اب جلی ہے اور اب مجھے احساس ہوا ہے کہ نیا جی ایچ کیو ہی اصل میں وہ منصوبہ ہے جس کی اس قوم کو اشد ضرورت تھی۔ اور ویسے بھی اس منصوبے کے لیے خاں صاحب کی حکومت 1000 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کر کے اپنے انتخابی منشور کے اس عہد کو پورا کر چکی ہے کہ قومیں پل اور میٹرو بنانے سے نہیں بلکہ انسانوں پر پیسہ لگانے سے بنتی ہیں۔ اور ظاہر ہے پاکستان میں “انسان” تو یہی 6-7 لاکھ ہیں۔ باقی 21 کروڑ 93 لاکھ میں کچھ چوپائے ہیں اور کچھ کیڑے مکوڑے۔

اوہ۔۔۔ “اعلی” عدلیہ کا ذکر کیا تو یاد آیا کہ میں یہ بھی توبہ کرتا ہوں کہ میری مجال نہیں کہ آئیندہ میں قاضی القضاء کو “چیپ جسٹس” کے نام سے پکاروں۔ یا پھر ان کی “شان” میں کوئی گستاخی کروں۔ میں ان کو محسن پاکستان کے نام سے بلاؤں گا۔ محافظ ڈیم کے نام سے پکاروں گا۔ صحت و تعلیم کے ریفارمر کے طور پر یاد کروں گا۔ آخر ہماری عدلیہ کی “اعلیٰ ترین” روایات جسٹس منیر، جسٹس مولوی مشتاق، جسٹس افتخار چودھری کے بعد اگر کسی نے بام عروج سے بھی پرے پہنچائی ہیں تو وہ یہی اعلیٰ حضرت ہیں۔ میری کج فہمی کہ میں ان کے فیصلوں کو قانون پر پرکھتا رہا حالانکہ وہ تو دل، جگر، گردے، ضمیر اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے والے عظیم جج تھے۔ میں مانتا ہوں کہ میں نے اس بندے کی قدر ناں کی جس نے اپنا تن من (دھن نہیں) اس قوم کے مستقبل کی فکر میں ایسا لگا دیا کہ ان کے پاس اپنی اصل نوکری کرنے کا ٹائم نہیں بچا۔

اس سے زیادہ اپنی ذات اور اپنے کیریئر کی قربانی کون دے سکتا ہے۔ کم از کم میں تو نہیں۔ ویسے بھی اگر میں اپنے ادارے میں اس کام کے علاوہ کوئی اور کام کروں یا کسی ایسے مسئلے میں ٹانگ پھنساوں جس کا میں ایکسپرٹ نہیں تو میری کمپنی مجھے دو جوتے لگا کر نوکری سے فارغ کر دے گی۔ عزت کا فالودہ الگ۔ آپ اس عظیم شخص کو دیکھیں جس نے ان ممکنہ جوتوں اور اپنی عزت کی پرواہ کیے بنا ہر وہ کام کیا جو اس کا اپنا نہیں تھا۔ کس کے لیئے؟ صرف اور صرف اس نگوڑی قوم کے لیے جو ان کی قدر نا کر سکی۔ ارے نالائقو! تمہیں تو چاہیے تھا کہ جس دن چیپ صاحب، معاف کیجیے گا چیف صاحب ریٹائر ہوئے تھے اسی دن ان کو سپریم کورٹ کے باہر سے دبوچتے، میرا مطلب ہے انہوں پلکوں پر بٹھاتے اور انہیں وہ عزت و تکریم سرعام دیتے جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے۔ مگر آفرین ہے اس شخص پر کہ خود نمائی اور شہرت کی طلب اس درویش کے قریب سے نہیں گزری۔

ادھر ریٹائر ہوئے اور ادھر اس طرح غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ محاورہ کچھ غیر مناسب ہے لیکن کم علمی کے باعث اس کا بہتر مترادف ڈھونڈ نہیں پایا۔ سنا ہے ابھی پاکستان کا چکر لگایا تو اس فقیر درویش چیپ، معاف کیجیۓ گا چیف جسٹس نے ہدایات جاری کروائیں کہ کسی کو کان و کان خبر نا ہو کہ میں پاکستان آیا ہوں۔ کجا ان کا کوئی عقیدت مند ان کو ہار پہنانے نا پہنچ جائے۔ میں مانتا ہوں کہ میری ناقص عقل میں اس وقت یہ بات نہیں بیٹھی کہ منرل واٹر کا ریٹ، پرائیویٹ سکول کی فیس طے کرنا، کراچی کا کچرا اٹھانا یا پنجاب کے ہسپتالوں پر چھاپے مارنا وقت کی اشد ضرورت تھی۔ اگر اس اثناء میں چند بے گناہ پھانسی چڑھ گئے، 19-20 ہزار کیسز لٹک گئے یا پھر کوئی بے گناہ عورت کیس کی باری نا آنے کی وجہ سے 18 سال تک جیل میں پڑی رہی تو کیا فرق پڑتا ہے؟ قوم کے وسیع تر مفاد میں یہ قربانیاں بہت چھوٹی ہیں۔

تو بھائی میں تو اعلانیہ توبہ تائب کر رہا ہوں۔ اپنے تئیں انقلابی بنے دیگر دوستوں کو بھی ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ فواد چوہدری کی اس وارننگ کو سنجیدگی سے لیں۔ پی ٹی آئی کی شہرت ہی یہ ہے کہ یہ جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ یوٹرن تو صدر پوٹن کی چھیڑ ہے۔