مہناز اختر

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک بین الحکومتی ادارہ ہے۔ یہ ادارہ عالمی مالیاتی نظام کو دہشت گردی اور کالے دھن کو سفید کرنے والے عناصر اورخطرات سے محفوظ رکھنے کے لیئے کام کرتا ہے ۔ یہ ادارہ اس امر کویقینی بناتا ہے کہ دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیئے ٹھوس قانونی اقدامات کیے جائیں اور ایسے تمام ممالک پر دباؤ بنایا جائے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ دہشتگردوں کی مالی معاونت اور کالے دھن کو سفید کرنے میں ملوث ہیں۔ یہ تنظیم 35 رکن ممالک اور دو علاقائی تنظیموں پر مشتمل ہے جس میں بھارت،چین اور ترکی بھی شامل ہیں۔ دو علاقائی تنظیموں میں سے ایک تنظیم GCC (گلف کوآپریشن کاؤنسل) ہے جسکے رکن ممالک بحرین،کویت،عمان،قطر،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ اس تنظیم میں انڈونیشیا،اسرائیل اور سعودی عرب فی الحال مشاہدہ کار کی حیثیت سے شامل ہیں۔ FATF کے ساتھ نو ایسوسی ایٹ تنظیمیں بھی منسلک ہیں ۔ پاکستانFATF کا براہ راست ممبر نہیں ہے بلکہ ایک ایسوسی ایٹ تنظیم APG (ایشیا پیسیفک گروپ آن منی لاؤنڈرنگ) کا ممبر ہے۔ اسکے علاوہ کئی بین الاقوامی ادارے اس تنظیم کا حصّہ ہیں جیسے اقوام متحدہ اور اسکی ذیلی تنظیمیں UNODC (اقوام متحدہ کی ٹیم برائے منشیات)، UNCTED (اقوام متحدہ کی ٹیم برائے کاؤنٹر ٹیررازم) اور اقوام متحدہ کی القائدہ،داعش اور طالبان اور انکے سہولت کاروں کی مالیاتی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی مانیٹرنگ ٹیم ۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس مالیاتی نظام سے متعلق تجاویز پیش کرتی ہے جن پر عمل درآمد کرانا ممبر ممالک اور اسکے مالیاتی اداروں خصوصاً مرکزی بینک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ FATF کی جاری کردہ انتہائی خطرناک ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نام کوریا، ایتھوپیا،ایران،سری لنکا،سیریا،یمن وغیرہ کے ساتھ شامل ہے ۔ ادارے کے مطابق یہ وہ ممالک ہیں جو دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق سنجیدہ اور خاطر خواہ اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ پاکستان عالمی مالیاتی اداروں کواس امر کی یقین دہانی کرانے میں ناکام رہا ہے کہ ملک میں مالیاتی گردش کی مکمل اور مؤثر مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ غور طلب نکتہ یہ ہے کہ اب تک پاکستان میں گرتی ہوئی معاشی صورتحال اور FATF کے فیصلہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ہے ۔ اگر مسقبل میں پاکستان کو بلیک لسٹ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں پاکستان کو مختلف اقسام کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جسکا منفی اثر براہ راست پاکستان کی معیشت پر پڑے گا۔ دوسری جانب حالیہ وقتوں میں پاکستان تاریخ کے بدترین معاشی بحران اور مالیاتی خسارے کا سامنا کررہا ہے ۔ اسٹیٹ بینک کہ مطابق برآمدات میں کمی اور درآمدات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 16 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ان حالات میں ریاستی معاملات کو چلانے کے لیئے پاکستان کا IMF سے رجوع کرنا ناگزیر ہے اور یہ طے ہے کہ IMF کی طرف سے جاری کردہ سخت شرائط اور تجاویز کا اثر عوام کے لیئے کڑی آزمائش ثابت ہوگا۔
امریکہ،برطانیہ اور بھارت تواتر کے ساتھ پاکستان پر دہشت گردوں کی معاونت کا الزام لگا رہے ہیں۔ دہشت گردی پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی ادارے پاکستان میں بالخصوص تین جماعتوں لشکرطیبہ،لشکرجھنگوی اور جماعت الداعوۃ کی طرف انگلیاں اٹھارہے ہیں اور ساتھ ساتھ پاکستان میں IS یا داعش کی موجودگی کا دعویٰ بھی کررہے ہیں۔ خود ریاست کا بیانیہ اس معاملے میں تضادات کا شکار ہے ۔سال 2016 میں جہاں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارپاکستان میں داعش کی موجودگی سے سرے سے انکاری تھے وہاں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل انٹیلجنس بیورو آفتاب سلطان نے پاکستان میں داعش کے متحرک ہونے کا اشارہ دیا تھا ۔ پاکستانی فورسز نےگزشتہ سال آپریشن میں داعش کا نیٹ ورک ختم کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ اس آپریشن میں میں داعش سندھ اور بلوچستان کے سربراہ غلام مصطفیٰ مزاری کوسات ساتھیوں سمیت ہلاک کردیا گیا تھا۔

رواں مہینے پاکستانی فوجی حکام نے ایرانی فوجی حکام سے داعش کے خاتمے کے لیئے مشترکہ کوششوں کے حوالے سے ایک اہم ملاقات کی۔ لیکن پاکستان میں لشکر جھنگوی،طالبان ، داعش خراسان، داعش سندھ و بلوچستان اور دفاع بلوچستان (ڈیتھ اسکوڈ) نامی تنظیم سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والی شخصیت شفیق مینگل کا ہماری ایجنسیوں اور الیکشن کمیشن سے ” cleared” کا سرٹیفکیٹ حاصل کرکے الیکشن میں حصّہ لینا اور لشکر طیبہ و جماعت الدعوۃ کے روح رواں حافظ سعید کا ملی مسلم لیگ قائم کرکے پاکستانی سیاست میں قدم رکھنا ریاست کے متضاد بیانیوں کا ثبوت ہے۔

شدت پسندوں نے ایک بار پھر سے پاکستان میں اپنی موجودگی کا ثبوت دے دیا ہے۔ اس پہلو سے انکار بھی نہیں کہ بھارت،امریکہ اور چین کی خفیہ ایجنسیاں اپنے اپنے مفادات کے لیئے پاکستان اور خصوصاً بلوچستان میں متحرک ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی دونوں ہی اپنے مفادات کے حصول کے لیئے پاکستان میں موجود مذہبی شدت پسند عناصر کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں۔ حالیہ الیکشن میں مذہبی شدت پسندی کا رجحان رکھنے والی جماعتوں کا حصّہ لینا اور عوام میں انکی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمیں مذہبی شدت پسندی کے اس رجحان کے خاتمے کے لیئے ان عناصر اور نظریات کی تہہ تک پہنچنا ہوگا جہاں ایسی تنظیموں کے لئے نرم گوشہ اور قبولیت پہلے سے ہی موجود ہے اور پاکستان کی سادہ لوح مذہبی عوام کی اکثریت انہیں دہشت گرد یا شدت پسند سمجھنے کے بجائے مجاہد اور محب وطن و دین تصور کرکے انکی حمایت کرتے ہیں اور انجانے میں ایسی تنظیموں کے لیئے بطور سہولت کار خدمات بھی انجام دیتے ہیں۔

دہشت گرد تنظیمیں زر کی ترسیل کے لیئے زیادہ تر حوالہ اور ہنڈی کا طریقہ اختیار کرتی ہیں اس لیئے پاکستان میں ایک مؤثر مالیاتی مانیٹرنگ پالیسی کی اشد ضرورت ہے دوسری طرف عوام سے فطرہ اور زکوۃ و خیرات کے نام پر چندہ اکھٹا کرنے والی تنظیموں پر کڑی نظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کے ذرائع آمدن مختلف ہوسکتے ہیں مگر دنیا بھر میں اسلام کے نام سے قائم دہشت گرد تنظیموں کی آمدنی کے سب سے اہم ذرائع چندے کے ذریعے رقوم اکھٹا کرنا اور منشیات کے کاروبار سے پیسہ کمانا ہے۔

آج دنیا کہ کئی ممالک پاکستان پر “دہشت گرد ملک” کا ٹھپہ لگوانے کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی روپے کی قدر امریکی کرنسی کے مقابلے میں خطرناک حد تک نیچے آگئی ہے ۔ میں اسے پاکستانی روپے کی بے قدری سے زیادہ پاکستانی عوام کی بے قدری کے طور پر دیکھتی ہوں ۔ اگر ہم FATF کے پاکستان سے متعلق تحفظات اور پاکستان کی ناگفتہ بہ معاشی صورتحال کو اس طرح دیکھیں کہ ایک امریکی شہری کی قدر و قیمت ایک سو تیس پاکستانی شہریوں سے زیادہ ہے اور پھران ایک سو تیس پاکستانیوں کو عالمی برادری ” potential terrorists and facilitators ” کے طور پر دیکھتی ہے تو شاید ہمیں سخت مگر انتہائی ضروری اقدامات اٹھانے میں آسانی ہو۔ خود ریاست کو بھی شدت پسندوں کو پاکستان کا اسٹریٹیجک اثاثہ قرار دینے سے باز آنا ہوگا کیونکہ ایسی صورت میں یہ عناصر عوام میں بحیثیت مجاہد اور محب وطن کی حیثیت سے ہمیشہ مقبول رہیں گے۔

گزشتہ دس دنوں کے دوران پاکستان میں ہونیوالے پے در پے دھماکے اور ان دھماکوں میں ہارون بلور،سراج رئیسانی اور اکرام اللہ گنڈہ پور جیسی اہم شخصیات کی سینکڑوں بے گناہ شہریوں کے ساتھ ہلاکت بھی پاکستانی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ایک طرف تو IS نے سراج رئیسانی پر ہونیوالے جان لیوا حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور دوسری طرف ہمارے ادارے اپنے بیانیوں کے ذریعے اس حملہ میں بھارت کے ملوث ہونے کا اشارہ دے رہے ہیں۔ حالانکہ اس خطّے میں بھارت اور داعش کے مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ واضح رہے کہ بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیمیں سراج رئیسانی پر ایجنسیوں کی آشیرواد سے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے اغوا برائے تاوان، ٹارچراور قتل کا نیٹ ورک چلانے کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ ایسے حالات میں اگر ہمارے دفاعی ادارے پھر سے “گڈ داعش بیڈ داعش” یا اچھے شدت پسند اور برے شدت پسند کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں تو پھر اس ریاست کا اللہ نگہبان ہے۔