حیدر راجپر

گزشتہ روز فیاض الحسن چوہان نے ایک ہندو مخالف بیان دیا جس سے ملک میں بسنے والے ہندوؤں کی دل آزاری ہوئی ۔ ان ہندوؤں کی جو ریاستی اور عوامی سطح پر امتیازی سلوک کا نشانہ بننے کے باوجود بھی ہمیشہ “پاکستان زندہ باد” نعرہ لگاتے رہے ہیں۔

چوہان صاحب کو شاید یہ معلوم نہیں تھا کہ ان سے کئی گنا زیادہ حب الوطنی کا جذبہ رکھنے والے ہندو نوجوان اس وقت پاک فوج کا حصہ بھی ہیں اور ان کو شاید یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ دو ملکوں کے درمیان تنازع ہے ، دو مذاہب درمیان نہیں۔

افسوس اس بات کا ہے کہ جب بھی پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کوئی کشیدگی ہوتی ہے تو ہمارے نام نہاد محب وطن لوگ ہندوستان کی مخالفت کرنے کی بجائے ہندوؤں کو گالی دینا شروع کردیتے ہیں ۔ اس کی ایک بڑی وجہ مطالعہ پاکستان کے ذریعے ہمارے ذہنوں میں ڈالا گیا زہر ہے ، اور اس زہر کا شکار کوئی ایک شخص نہیں ، بلکہ ملکی اکثریت ہے۔

اب تحریک انصاف کا یہ وزیر جس طرح صحافیوں اور گلوکاروں کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے بعد معافی مانگ کر جان چھڑانے لیتا ہے ، ٹھیک اسی طرح ایک مزید معافی مانگ کر جان چھڑا لے گا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک کا قانون صرف ایک مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے لئے بنایا گیا ؟ جس انداز سے چوہان نے ہندو مذہب کی توہین کی ہے ۔ اگر کوئی ہندو اس انداز سے اسلام کی توہین کرتا تو اب تک جیل میں ہوتا ۔ اس وقت ملک کے تمام باشعور لوگوں چاہیے کہ چوہان کو وزارت سے برطرف کرنے اور سزا دینے کا مطالبہ کریں تا کہ آئندہ کوئی شخص کسی مذہب کو نشانہ بنانے سے پہلے یہ بات ضرور یاد رکھے ۔