احمد جمیل یوسفزئی

جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت کے خلاف کامیاب تحریک چلانے والے بیسویں صدی کے ایک عظیم انسان نیلسن منڈیلہ نے کہا تھا، “اگر تم کسی شخص سے اس زبان میں بات کرو جس کو وہ سمجھتا ہے تو وہ بات اس کے زہن میں اتر جائے گی۔ اگر تم اس سے اس کی (مادری) زبان میں بات کرو تو وہ اس کے دل میں اتر جائے گی۔”

ہر سال 21 فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ مادری زبانوں کی نا صرف اہمیت کو اجاگر کیا جاسکے بلکہ پوری دنیا میں بچوں کو ان کی مادری زبانوں میں تعلیم دینے کی ضرورت و اہمیت کے حوالے سے ٹھوس اقدامات بھی کئے جا سکے۔ گو کہ زبان کو محض الفاظ اور جملوں کا مجموعہ کہا جا سکتا ہے لیکن زبان ایک فرد کو اپنے خاندان، تاریخ، عقائد، رسم و رواج، پہچان اور ادب سے جوڑے رکھنے کا سب سے اہم عنصر ہے۔ بلاشبہ زبان کی برکت سے ہی ایک نسل اپنی تاریخ، روایات اور بڑوں کے کارناموں کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرتی ہے۔

یہ تو ایک عام فہم ضرب المثل ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ بچہ اپنی ماں سے بالخصوس اور والد سے بالعموم محبت، شفقت اور باڈی لینگویج کے ذریعے ایک مظبوط تعلق قائم کر لیتا ہے۔ یونیورسٹی آف ٹورانٹو کے پروفیسر ڈاکٹر جِم کیومِنز بچوں کے لئے مادری زبان کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے اپنے تحقیقی مقالے ’’دو لسانی بچوں کی مادری زبان: یہ بچوں کی تعلیم کے لئے کیوں اہم ہے؟‘‘ میں لکھتے ہے، ’’وہ بچے جن کی مادری زبان کی بنیاد مستحکم ہوتی ہے وہ دوسری زبانوں میں بہتر ادبی مہارت کے حامل ہوتے ہیں۔ بچے کی مادری زبان جتنی مظبوط ہوگی وہ اتنی ہی آسانی سے دوسری زبانیں سیکھ پائیں گے۔ بچوں کی حوصلہ افزائی، ان کے لئے داستان گوئی، ان کے ساتھ مباحثیں، کتب بینی، اور مدد کی پیشکش اگر ان کی اپنی مادری زبان میں ہو تو یہ ان کی کئی دوسری زبانوں کے سیکھنے کے سفر کو آسان کرے گی۔‘‘

پاکستان میں مادری زبانوں کی ترویج اور تحفظ کے حوالے سے قابل تعریف اقدامات نظر نہیں آتے۔ اکییس کروڑ سے ذائد کی آبادی میں سرکاری زبانوں، اردو اور انگریزی، سمیت 72 علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے، پارلیمانی کاغذات کے مطابق، دس زبانیں معدوم ہونے کے خطرے سے دو چار ہیں۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک خاص نقطہ ہائے نظر کو لوگوں، خصوصاً چھوٹی قوموں، پر مسلط کرتے کرتے ریاست نے ان کے مادری زبانوں کی ترویج اور تحفظ کو بھی ریاستی بیانیے کے لئے خطرہ سمجھا جس کی بدولت مختلف قومیتوں کے لوگ اپنی مادری زبانوں سے ناوقف ہوتے چلے گئے اور اکہتر سال بعد اب ایک ایسی سوچ پروان چڑھی ہے جو مادری زبانوں کو کمتر اور مادری زبان بولنے اور ان پر فخر کرنے والوں کو پسماندہ سوچ کا حامل سمجھتی ہے۔

ماسٹرز کرنے کے بعد جب میں نے بڑے بھائی کے مسلسل اصرار پر کمیشن کے پیپرز دینے کا فیصلہ کیا تو پشتو پیپر رکھنے پہ شش وپنج کا شکار ہوگیا کیونکہ اپنے پورے تعلیمی کریر میں پشتو کبھی پڑھی نہیں تھی۔ خود پر نادم تھا کہ پشتو جو میری مادری زبان تھی اگرچہ سلیبس میں پوری زندگی نہیں پڑھائی گئی مگر مجھے خود سے پڑھنے لکھنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ پھر خیال آیا کہ پڑھتا بھی تو کہا پڑھتا ماحول ہی نہیں تھا اس لئے طے کیا کہ اب خود پڑھوں گا۔ کچھ دوستوں سے جو پشتو میں اچھے تھے پڑھنا شروع کیا۔ جب میں پشتو میں کتابیں پڑھنا شروع کی تو مجھے بے حد محسور کن احساس ہوا کیوں کہ وہ انداز، لہجہ اور الفاظ بہت مانوس لگے، ایسا لگا جیسے میرے اور ہمارے ماحول کے بارے میں بات ہورہی ہو۔ ان تین چار سالوں میں کئی ناولز اور کتابیں پڑھی۔ خصوصاً محمد گل نوری کی “ملی هنداره” وہ کتاب جو میں آجکل پڑھ رہا ہوں بہت مزیدار کتاب ہے جس میں پختونوں میں مشہور فوک لوری کہانیاں شاعری کے انداز میں بیان کی گئی ہیں۔

‏جن دنوں میں کمیشن کے امتحان کی تیاری کر رہاتھا تو اُن بورنگ کتابوں سے تنگ آکر میں پلیژر ریڈنگ کے لئے ایک آدھ گھنٹہ باچا خان کی آپ بیتی “زما ژوند او جدوجهد” (میری زندگی اور جدو جہد) پڑھ لیتا تھا۔ بڑے بھائی کو پتہ چلا تو مجھے بلا کر کہا ایسی کتابیں مت پڑھو، انکو پاکستان میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اور باچا خان کا view point کہیں پیپر میں نہ لکھ دینا۔ بس وہی لکھنا جو کمیشن کی تجویزکردہ کتابوں میں بتایا گیا ہے۔ اس وقت شدت سے احساس ہوا کہ اس طرح ‏لوگوں کو انکی تاریخ اور محسنوں سے نابلد رکھ کر انکے دلوں میں پاکستان سے زبردستی کیسے محبت پیدا کی جا سکتی ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جب کمیشن کے پشتو پیپر میں سوال آیا کہ اپنی مرضی کےکسی کتاب پہ جو آپ نے پڑھی ہو نوٹ لکھو تو میں نے باچا خان کی آپ بیتی “زماژوند او جدوجهد” پہ ہی لکھا۔

بنگالیوں کے معاشی استحصال کے ساتھ ساتھ ہم نے ان کے اپنی بنگالی زبان کو سرکاری زبان بنانے کے مطالبے کو ردی کے ٹوکرے میں پھینکا تو نتیجتاً انھوں نے بھی ہمارا بوریا بستر گول کرکے وہاں سے چلتا کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہمارا مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔

ہمارے مقتدر حلقوں اور وزارت تعلیم کو یہ بات سمجھ کر زہن میں بٹھا لینی چاہیے کہ علاقائی زبانوں کو اہمیت دے کر اور بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دے کر ہی آپ اس ملک اور اس میں بسنے والے لوگوں کا بھلا کریں گے نا کہ ان کی شناخت کو دبا کر ان کی زبانوں پہ پابندی لگا کر۔

پشتو کے بابائے غزل اور پشتو زبان سے عشق کرنے والے ھمزہ بابا (ھمزہ خان شنواری) نے پختونوں اور پشتو سے اپنی ایک غزل میں محبت کا اظہار کیا تھا جس کے کچھ اشعار نظر کر رہا ہوں۔
پشتو کے ساتھ اردو ترجمہ کر رہا ہوں۔ اردو کمزور ہونے کی وجہ سے ممکنہ غلطیوں پر پشتون اور شاعری و ادب سے شغف رکھنے والے دوستوں سے پیشگی معزرت خواہ ہوں۔

تل به په لار د میړنو سره ځم۔۔۔
یمه پښتون د پښتنو سره ځم
(میں ہمیشہ راستے میں غیرت مندوں کے ساتھ چلوں گا
میں پختون ہوں اور پختونوں کے ساتھ چلوں گا)

وایی اغیار چې د دوزخ ژبه ده۔۔۔
زه به جنت ته د پښتو سره ځم
(اغیار کہتے ہیں کہ یہ (پشتو) دوزخ کی زبان ہے
میں جنت میں اسی پشتو کے ساتھ جاوں گا)

کړمه جهان چې د پښتون ځلمې۔۔۔
د خپلو پیغلو حوصلو سره ځم
(جب میں دنیا میں ایک پختون نوجوان ہوا
تو میں اپنے جوان حوصلوں کے ساتھ چلوں گا)