آصف خان بنگش

پہلا منظر:
جرمنی اور فرانس کے مابین جنگ چھڑ چکی ہے، جرمن سپاہی جوق در جوق ٹرین میں سوار ہو رہے ہیں۔ ان کے گھر والے جھنڈیاں لہرا کر اور ہونٹوں کو چوم کر انہیں رخصت کر رہے ہیں، ایک عجیب سماں ہے۔ جہاں سپاہیوں کا جوش عروج پر ہے وہیں ان کے چاہنے والے بھی ان پر فخر کر رہے ہیں، ہر طرف جھنڈیاں لہرا رہی ہیں۔ جس گھر سے کوئی جنگ میں حصہ نہیں لے رہا وہ جیسے اپنے آپ کو ادھورا محسوس کر رہا ہے۔ اس تمام گہما گہمی میں سپاہیوں سے لدھی ٹرین سرحد کی طرف دھواں اڑاتی روانہ ہو گئی ہے۔

دوسرا منظر:
جنگ کے شروع کے دن دونوں افواج کا جزبہ دیدنی ہے۔ دونوں افواج میں ایک دوسرے کے لئے شدید غصہ ہے، دونوں موقع ملتے ہی ایک دوسرے پر آگ برساتی ہیں۔ سپاہی جنوں میں دشمن کی خندقوں کی طرف دیوانہ وار بھاگتے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مشین گنیں آگ برساتی ہیں اور دونوں خندقوں کے بیچ انسانی جسم بکھرے نظر آتے ہیں۔ کماندان گرتے سپاہیوں کو ہیروز قرار دیتے ہیں۔ پیچھے رہ جانے والوں کی عزت و ناموس کی حفاظت کیلئے انہیں ثابت قدمی کا بھاشن دیتے ہیں۔ سپاہی ملی نغمے گا کر اپنا لہو گرماتے ہیں۔

تیسرا منظر:
جنگ کو جاری ہوئے تین سال ہو چکے ہیں۔ دونوں افواج کو کیچڑ سے بھری، خون آلود خندقوں میں اپنے ساتھیوں کی لعشوں کو گلتے دیکھتے ہوئے عرصہ بیت گیا ہے۔ وہ جنگ سے اکتانے لگے ہیں۔ ان کی گھر والیاں ان کی راہ تکتے عاجز آگئی ہیں۔ وہ بھی تو انسان ہیں ان کو تو معلوم بھی نہیں ان کے ساتھی نے واپس آنا بھی ہے یا نہیں۔ اناج ختم ہو چکا ہے۔ ایک ڈبل روٹی کے لئے دن بھر لائن میں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں کچھ تو اپنی عزت بیچ کر بچوں کا پیٹ کاٹنے پر مجبور ہیں۔ کچھ آج بھی جنگ میں لاپتہ اپنے پیاروں کی راہ دیکھ رہی کہ شائد جنگی قیدی بنا لئے گئے ہونگے کبھی تو واپس آجائینگے۔

چوتھا منظر:
جنگ میں اصلحہ بنانے کے لئے وسائل ختم ہو چکے ہیں، تین سو سالہ پرانے چرچ کا گھنٹہ اتار کر لے جایا جا رہا ہے، گولیاں بنانے کے لئے برلن کی گلیوں سے سیسے کا پائپ اکھاڑے جارہے ہیں۔ بھوک و افلاس بیماری سے بچے بلبلا رہے ہیں۔ اپنی ہی فوج اور حکومت کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ایک سپاہی ساتھیوں کے روکنے کے باوجود خندق سے باہر نکل آتا ہے اور دشمن کی گولی اس کی ٹانگ میں پیوست ہو جاتی ہے۔ ہسپتال سے بیوی کو لکھتا ہے ٹانگ کٹنے کا دکھ نہیں خوشی ہے اب اس جہنم سے نکل کر واپس گھر آ سکوں گا۔

پانچواں منظر:
مشرقی سرحد پر روس کو شکست ہوئی ہے۔ جرمن فوجی واپس ٹرینوں میں بیٹھ کر جارہے ہیں۔ لیکن ان کی امیدوں کے برعکس وہ جہاں سے بھی گزرتے ہیں لوگ نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور گلے پر ہاتھ پھیر کر ان سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ کوئی بھی اس فتح پر خوشی نہیں منا رہا۔ مغربی سرحد پر دونوں افواج ایک دوسرے پر گولی چلانے سے کترانے لگے ہیں۔ اگر ایک طرف سے سکون ہوگا تو دوسری طرف والے بھی سکون کریں گے۔ کبھی ایک آدھ سرپھرا کھانا کھانے دشمن کے مورچہ میں چلا جاتا ہے۔ اب انہیں خون بہانے سے متلی آنے لگی ہے۔ اعلی افسران جب دشمن پر گولہ باری کرنے کا حکم دیتے ہیں تو وہ انہیں بتا دیتے ہیں تا کہ کسی کی جان نہ جائے۔

آخری منظر:
آج جنگ ختم ہونے کی پانچویں برسی ہے۔ فرانس اور جرمنی کی حکومتیں ایک دوسرے پر غلبہ پائے بغیر، امریکہ و برطانیہ کی مقروض ہو کر امن معاہدہ کر چکی ہیں۔ سب کچھ پھر پہلے جیسا ہونے لگا ہے، شہروں میں رونق واپس آنے لگی ہے۔ ایک بوڑھی فرانسیسی خاتون وہیل چیئر پر اپنے جواں سال بیٹے کو لئے قبرستان جارہی ہے۔ بڑھیا کے پانچ بیٹے جنگ کی نظر ہو گئے تھے۔ جہاں کچھ لوگوں کیلئے زندگی پھر سے رواں ہوئی ہے وہیں کچھ کی زندگی ہمیشہ کیلئے بدل گئی ہے۔