عابدحسین

دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کے بانی بھی کسی وقت میں فوجی جرنیل کے چہیتے تھے، ہاں بعد میں انہوں نے اپنی پارٹی قائم کی۔  نون لیگ کے بانی کو تو لاٶنچ ہی فوجی جرنیل نے کیا تھا۔ ”تاریک وطویل“  انصاف والے تو ”ان“ کی مرضی کے خلاف کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ تو اس مسٸلہ پر غوروخوض سے ثابت ہوا کہ اس ڈنڈے کے سائے تلے ہم سب ایک ہیں۔ اچھا جناب اب تھوڑا پچھلے ادوار پر نظر دوڑائیے!  یہ تحریک انصاف والے پارلیمنٹ کو جعلی اور دھاندلی زدہ کہتے تھے۔ خان صاحب کے مسنداقتدار پر بیٹھنے کے بعد نون لیگ اور پی پی پی سمیت جمیعت علماء اسلام اور اے این پی والے بھی ووٹ چوری کا الزام لگا رہے ہیں بلکہ کھلم کھلا فوج کی مداخلت کی بات کررہے ہیں۔

ایکسٹینشن والے معاملے پر اگر نون والے یا پی پی پی والے تحریک انصاف کی حمایت کرتے ہیں بھی تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ انکے کھانے کے دانت اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں کیونکہ یہ ہمیشہ مینڈیٹ چوری ہونے کا الزام لگاتے ہیں لیکن جب کبھی  ”ڈھیل“ کا موقع آتا ہے تو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اچھا اب آتے ہیں عوامی نیشنل پارٹی کی طرف جس کے ووٹر ہم (لکھاری) بھی ہیں اور سپورٹر بھی۔ اے این پی کی لیڈرشپ نے بھی مینڈیٹ چوری، فوجی مداخلت اور دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔ اب تحریک انصاف کی دھاندلی زدہ پارلیمینٹ کی دلیل کہاں ہے جب فوج ”مداخلت“ کر کے تحریک انصاف کو الیکشن میں کامیابی دلواتی ہے۔ مینڈیٹ چوری ہوتا ہے تو بھائی بقول آپکے جعلی حکمران اور جعلی پارلیمنٹ کو اب  کیسے مانا جاسکتا ہے؟ اب یہ کیا نیا ڈرامہ ہے کہ ایکسٹینشن کا معاملہ پارلیمنٹ میں آیا ہے اور اب پارلیمنٹ ”سپریم“ ہے تو اس لیئے آرمی چیف کے مدت ملازمت میں توسیع کے قانون کی حمایت کی جارہی ہے۔ حضور! یا تو آپ جو پہلے کہہ رہے تھے وہ جھوٹ تھا کہ فوجی مداخلت، جعلی پارلیمنٹ، مینڈیٹ چوری، جعلی حکمران، سلیکٹیڈ، سلیکٹرز یا پھر اب آپ منافقت اور ابن الوقتی دکھارہے ہیں۔

کوئی مذہب پر عوام کو ورغلا رہا ہے، کوئی تبدیلی پر، کوئی روٹی کپڑا مکان پراور کوئی ہم پختونوں کو بیوقوف بناکر۔  اور تو اور فرزند ارجمند پہلے کہا کرتے تھے کہ پی ٹی ایم کو ایجنسیوں کا سپورٹ حاصل ہے۔ بعد میں تشدد پسندی کا الزام بھی لگایا۔ خیر وہ ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں، پی ٹی ایم جیسی بھی ہے اچھی یا بری اس سے قطع نظر اب ہم سب جان گئے ہیں کہ بوٹ پسند کون ہے اور جمہوریت پسند کون ہے؟