عابد حسین

راقم نے مذکورہ موضوع پر کئی بار لکھنے کی کوشش کی ہے۔ متبادل کے پلیٹ فارم سے بھی اس موضوع پر کئی ایک آرٹیکل پبلش ہوچکے ہیں لیکن یہ معاملہ نہایت اہم اور سنجیدہ ہونے کی وجہ سے اس سے بے اعتنائی اور لاپرواہی نہیں برتی جاسکتی بلکہ صحافت اور سیاست کے طالب علم اور ریاست سے وفادار شہری کی حیثیت سے یہ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ جو بھی سامنے سے گزرے گا اس کے بارے میں قارئین کو وقتاً فوقتاً آگاہ کرتا رہوں گا، ہمیشہ صحیح اور غلط کے درمیان لکیر کھینچوں گا تاکہ کسی بھی بڑی تباہی سے بچنے کی درست منصوبہ بندی کی جاسکے اور عوام الناس کسی کے فریب کا شکار نہ ہوں۔ متبادل ہی کے پلیٹ فارم سے پچھلے سال “پرانا جہادی بیانیہ اور مخصوص نصاب ” کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اس کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان کے دوبارہ زور پکڑنے کے حوالے سے بھی قلم اٹھایا تھا۔ مزید یہ کہ احسان اللہ احسان کے فرار اور ملک کے اندر طالبان کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی اپنے خدشات کا اظہار کرچکا ہوں۔ تو اب آتے ہیں اصل مدعے کی طرف!

عید کے تیسرے روز جب چند پرانے دوستوں اور میٹرک لیول کے کلاس فیلوز نے فون کے ذریعے رابطے کیئے اور ان دوستوں کی کوششوں سے تقریباً 15 سال بعد ہماری ری یونین ممکن ہوسکا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ پہاڑوں پر جاکر وہاں پر پرانی یادیں بھی تازہ کریں اور کچھ پیٹ پوجا بھی کرلی جائے۔ خیر جب ہم طے شدہ پروگرام کے تحت طے شدہ مقام کے لیئے روانہ ہوئے تو راستے میں ایک جگہ پر جہادی تنظیم  “البدر مجاہدین ” کے اشتہارات دیکھنے کو ملے۔ ذہن میں رکھیں کہ میرا آبائی قصبہ ضلع مالاکنڈ ہے۔ جب ہم دوست تفریح کے لیئے گاؤں س نکلے تو ہمارے گاؤں سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر جو وادی پڑتی ہے اس کو آگرہ کہا جاتا ہے۔ ہمارا پروگرام وہیں جانے کا تھا۔ جب سڑک کنارے میری نظر “البدر مجاہدین” کے ان تشہیری نعروں پر پڑی تو دوست کو گاڑی روکنے کو کہا اور قریب جاکر اچھے سے پڑھا بھی اور ان کی تصاویر بھی لی۔ البدر مجاہدین کا نام ہم سب کے لیئے کوئی نیا نام نہیں ہے۔ اس گروپ کا قیام جون 1998 میں عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے خلاف لڑنا ہے۔

اس گروپ کا ہیڈ کوارٹر مانسہرہ میں واقع ہے۔ جہاں انہیں پاکستانی افواج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے زیر نگرانی تربیت دی جاتی ہے۔ البدر مجاہدین کے علاوہ لشکر طیبہ، حزب المجاہدین، حرکتہ المجاہدین جیسی جہادی تنظیموں کے ہیڈکوارٹرز بھی ضلع مانسہرہ میں واقع ہیں۔ مذکورہ بالا تنظیموں کا البدر مجاہدین کے ساتھ باقاعدہ طور پر اتحاد ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ایک ہی تنظیم کو مختلف ناموں کے ساتھ چلایا جاتا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ ان جہادی تنظیموں کو سرکاری سطح پر فنڈز اور تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ ہمارے اسکول کے زمانے میں ہر سال گرمیوں کے چھٹیوں سے پہلے ان تنظیموں کے نمائندے اسکول میں آتے تھے، پرجوش تقریر کرتے، چندہ اکھٹا کرتے، نوجوانوں کو جہادی تربیت کی تلقین تھے کرتے۔ پھر جب جنرل پرویز مشرف پاکستان کا حکمران بنا تو کئی ایک تنظیموں پر پابندی عائد کردی گئی۔ پیپلز پارٹی کے دور میں تو باقاعدہ طور پر امریکہ کے ڈر سے ان تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں بھی ان پر پابندی عائد تھی کہ نہ تو یہ تنظیمیں چندے اکھٹے کریں گی اور نہ ہی اپنے نظریات کا پرچار کریں گی لیکن جیسے ہی موجودہ حکومت آئی تو البدر مجاہدین اور ان سے منسلک جہادی تنظیموں نے پھر سے اپنی سرگرمیاں شروع کردی ہے۔ اگرچہ امریکہ اور دنیا کے لیئے یہ تنظیمیں کالعدم ہیں اور ان کا کوئی وجود باقی نہیں ہیں لیکن اصل میں یہ اب بھی موجود ہیں، سرگرم ہیں اور چندہ اکھٹا کرنے کے ساتھ ساتھ تربیت بھی فراہم کررہی ہیں۔

وہاں “البدر مجاہدین 313 گروپ مردان زون”  کو جلی حروف میں لکھا گیا تھا اور ساتھ میں جہاد فی سبیل اللہ اور کشمیر کی آزادی کے نعرے درج تھے. اب ہوسکتا ہے کہ بعض قارئین یہ سوال کریں کہ جہاد سے مجھے کیا مسئلہ ہے؟ تو میرے خیال میں کسی بھی مسلمان کو جہاد سے کوئی بھی مسئلہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی انکار مگر اب ماشاءاللہ جیسی بھی ہے پر اب ہم ایک آزاد اسلامی ریاست کے باسی ہیں۔ جو باقاعدہ طور پر ایک نظام کے تحت چلتی ہے۔ اسلامی افواج موجود ہیں۔ جن کے پاس ہر قسم کے جنگی سازوں سامان، تربیت، مہارت اور وسائل ہیں۔ ریاست انہیں باقاعدہ طور پر ان ہی حالات کے لیئے پالتی ہے اور معاوضہ دیتی ہے تو پھر جہادی تنظیموں کی کیا ضرورت ہے، چندے اکھٹے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے، مساجد و مدارس میں کیوں چندہ دینے، تربیت حاصل کرنے اور کشمیر کے محاذ پر لڑنے کا پرچار کیا جاتا ہے ؟

بقول ریاست پاکستان کے سرکاری بیانیے کے کشمیر ہمارا شہ رگ ہے۔ کشمیری ہمارے اپنے ہیں۔ تو اگر آپ کشمیریوں کی ہر طرح سے مدد بھی جائز سمجھتے ہیں تو پھر یہ دوغلا پن کیوں؟ کیونکہ امریکہ اور اقوام متحدہ کے کہنے پر تو البدر سمیت کئی جہادی تنظیمیں کالعدم قرار دی جاچکی ہیں۔ دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ ان تنظیموں کا اب کوئی وجود نہیں لیکن یہاں معاملہ الٹا ہے۔ آپ کے پاس وسائل ہے، فوج ہے، کشمیر آپ کی شہ رگ ہے تو پھر کیوں نہ کھل کر ہندوستان سے دو دو ہاتھ ہو جائے لیکن نہیں آپ خطے میں امن کے خواہاں ہیں۔ ہرسال اسلحے کے انبار لگانے ہیں پر جنگ نہیں کرنی- دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی سکت بھی ہے لیکن جنگ تو کرنی ہی نہیں۔ کشمیر کی حیثیت بدل دی گئی لیکن آپ نے صرف جدوجہد جاری رکھنے ہی کی قسم کھائی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان کا سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ صرف دعویٰ نہیں تھا۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ آپ کہاں پر البدر مجاہدین سمیت دوسری جہادی تنظیموں کو تربیت فراہم کرتے ہیں۔ یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ان تنظیموں کا بسیرا کہاں ہے اور ان کے ٹھکانے کہاں پر ہیں۔ پہلے تو یہ طے کرلیں کہ آپ نے ہندوستان کے ساتھ جنگ کرنی ہے کہ نہیں اگر کرنی ہے تو جب وہ ہر بار ابتداء کرتے ہیں تو آپ کیوں کشمیر کے لیئے حتمی فیصلے کی طرف نہیں بڑھتے؟ اور اگر جنگ نہیں کرنی آپ امن کے حامی ہیں، اور یہ کہ مسئلہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعے سے حل کرنا ہے تو پھر اسلحے کے انبار لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر جنگ نہیں کرنی تو پھر جہادی تنظیموں کو تربیت فراہم کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر جنگ ہی نہیں کرنی تو پھر کالعدم تنظیموں کے نمائندے کیوں مساجد میں چندہ اکھٹا کرنے اور کشمیر میں لڑنے کا اعلان کررہے ہیں؟ کیوں ہمارے سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنایا جارہا ہے؟ کیوں ہمارے لوگوں کو جہاد کے نام پر لوٹا جاتا ہے؟ کیوں ہماری نوجوان نسل کو تعلیم و تربیت کے بجائے لڑنے پر اکسایا جارہا ہے ؟ آج خیبرپختونخوا میں بلعموم اور ضلع مالاکنڈ اور ضلع دیر میں بلخصوص جہادی تنظیموں کے پوسٹرز، بینرز، وال چاکنگ اور اشتہارات نظر آرہے ہیں؟

راقم کی اپنی دانست کے مطابق  پہلے تو ریاست کو طے کرنا ہوگا کہ آپ نے کشمیر کا مسئلہ کیسے حل کرنا ہے؟ آپ نے جنگ کرنی ہے کہ نہیں اگر جنگ کرنی ہے تو آپ کے پاس وسائل بھی ہیں، افرادی قوت بھی، تجربہ کار فوج اور جنگی سازوں سامان بھی۔ کیوں کہ اسلامی ریاست میں جہاد کا اعلان حکمران کرتا ہے اور جب اسلامی ریاست کے پاس افواج ہوتی ہیں تو پہلے وہ لڑتے ہیں۔ عوام سے چندہ لینے کی ہرچند ضرورت نہیں ہوتی ہوتی کیوں کہ اسلامی فوج تو چلتی ہی شہریوں کے ٹیکس کے پیسوں سے ہے۔ دوسری جانب اگر ریاست اور انتظامیہ نے ان تنظیموں کو کالعدم تنظیموں قرار دیا ہے تو پھر یہ کس حیثیت میں جہاد کا پرچار کررہے ہیں؟ اگر ان پر پابندی ہے تو پھر یہ کس طرح سے چندہ اکھٹا کررہے ہیں؟ اگر ان پر پابندی عائد ہے تو پھر یہ کیوں وال چاکنگ اور اشتہارات چھاپ رہے ہیں ؟ اگر ان پر پابندی ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی ایجنسیاں ان کو منع کیوں نہیں کررہیں ؟ سوات اور مالاکنڈ میں طالبانئیزیشن اور عسکریت پسندی نے اس علاقے کو جتنا نقصان پہنچایاہے ان کے زخم اب بھی باقی ہیں۔ ہمارے علاقے کو دوبارہ عسکریت پسندی اور طالبانئیزیشن کی طرف نہ دھکیلا جائے۔ یہاں کے امن و امان کو غارت کرنے کی کوشش نہ کی جائے- اس مضمون کا مقصد یہ بھی ہے کہ عوام الناس اور خصوصاً نوجوان نسل کو یہ سمجھایا جاسکے کہ نہ تو البدر یا ان جیسے جہادی تنظیموں کو چندہ دیں اور نہ ہی ان کے جھانسے میں آئیں۔ ان جیسی تنظیموں اور ان کے نمائندوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ اپنے محلوں، مساجد، گاؤں اور شہروں میں ان کو آنے، تقاریر کرنے اور چندہ اکٹھا کرنے سے روکا جائے اور نوجوان نسل اپنی تعلیم و تربیت اور حصول علم کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں۔

Previous articleکرپشن کی جڑ کہاں ہے؟
Next articleاحتجاجی تحاریک اور معاشرتی نفسیات