وقار صدیقی

ایک ریٹائرڈ برازیلین فٹبال کوچ کا کچھ وقت کے لئے بھارتی پنجاب جانا ہوا۔ فراغت سے بیزار اور عادت سے مجبور ہو کر سوچا کہ مقامی سکھ نوجوانوں کو، جو صحت و جسمانی ساخت میں برازیلی باشندوں سے بھی بہتر ہیں، فٹبال کھیلنے کی تربیت دی جائے۔ تین  مہینے کی کڑی تربیت اور پروفیشنل کوچ کی رہنمائی کے نتیجے میں سکھ نوجوان معیاری فٹبال کھیلنے کے قابل ہوگئے۔ بالآخر ایک دن کوچ نے بائیس بہترین نوجوانوں کا انتخاب کرکے پہلا باقاعدہ میچ ترتیب دیا۔ میچ شروع ہونے سے قبل کوچ نے نوجوانوں کو قریب بلا کر کہا، ”اب جبکہ آپ مناسب فٹبال کھیلنے لگے ہیں، میں آپ کو کھیل کا ایک اھم اور قیمتی راز بتانا چاہتا ہوں۔ یہ کھیل محض لات گھمانے کا فن ہے۔ اگر گیند دسترس میں نہیں تو مخالف ٹیم کے قریب ترین کھلاڑی کو لات ٹکا دو، بس لات چلنی چاہیے۔ اب آپ فٹبال لے آئیں تاکہ میچ کے آغاز کی سیٹی بجائی جائے۔“ کوچ کی بات ذہن میں رکھتے ہوئے نوجوانوں نے للکار ماری، ”او! تسی میچ شروع کرو! گیند دی ایسی کی تیسی۔“

ریاستِ پاکستان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ ہماری  ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے جماعت اسلامی و دیگر مذہبی جماعتوں کی مدد سے، نصاب اور عملی تربیت کے ذریعے نوجوانوں کو جہاد و قتال کی مناسب تربیت دے کر لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد، لشکرِ جھنگوی، سپاہِ محمد، سنی تحریک، جماعت الدعوۃ، تحریکِ طالبان، تحریک لبیک نامی کئی ٹیمیں ترتیب دے دیں۔ توہینِ رسالت و اہانتِ دین کی سزا بھی تاکید سے سمجھا دی۔ لیکن بدقسمتی سے ”حق و باطل“  کے کسی حقیقی مارکے کا میدان جوانوں کا دستیاب نہ ہو سکا۔ لہذا ان تربیت یافتہ اور بقول ایک وفاقی وزیر   ”جوشیلے نوجوانوں“ نے بھی، کچھ مدت صبر سے انتظار کے بعد  اپنے کوچ سے بالآخر وہی کہا جو سکھ نوجوانوں نے اپنے برازیلین فٹبال کوچ سے کہا تھا، ”تسی میچ شروع کرو، گیند دی ایسی دی تیسی“ الحمداللہ! اب ریاست میں جوشیلے نوجوانوں کا میچ زوروں پر ہے۔ دنیا دانتوں تلے انگلی دبائے بیٹھی ہے، تماش بین پریشان ہیں، البتہ کوچ حیران ہے یا پریشان یہ بھگوان ہی جانے۔