عاطف توقیر

سب سے پہلے تو میں دو باتیں آپ کو بتا دوں۔ پہلی بات یہ ہے کہ آج کا وی لاگ پی ٹی آئی کے دوستوں کے لیے ہے کیوں کہ کسی بھی دوسرے فرد کی بجائے سب سے پہلے انہیں کچھ سوالات خود سے کرنے کی ضرورت ہے، اور دوسری بات جو میری نگاہ میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ وہ یہ ہے کہ عدالتی ذریعے سے، کیسز سے یا کسی بھی قانون یا دیگر طریقوں سے کسی سیاسی رہنما کو نااہل کرنا یا کسی سیاسی جماعت کو بین کرنا ایک تباہ کن عمل ہے اور اس سے جمہوریت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ کسی سیاسی رہنما یا جماعت کی قسمت کے فیصلے کا اختیار صرف اور صرف عوام کو ہونا چاہیے۔

لیکن بدقسمتی سے دائروی گردش کرنے والے معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا۔ وقت کے چھوٹے بڑے دائروں میں قید کچھ دائرے ہر چند برس بعد گھوم کر ایک چکر مکمل کر لیتے ہیں اور کچھ دائرے کچھ دہائیوں بعد اپنا ایک گھماؤ پورا کرتے ہیں۔

پاکستان کی پوری تاریخ اور خصوصاﹰ نوے کی دہائی میں عدالتوں کا استعمال کر کے سیاسی حکومتیں گرانے کی ایسی روایت پڑی کہ آج تک وہ ہمارا تعاقب کر رہی ہے۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان ججوں میں سے کبھی کسی کی جرات نہیں ہوئی کہ ایسی ہی سختی کسی فوجی جرنیل کے خلاف دکھاتا۔ یہ جج جرنیلوں کے کہنے پر اس ملک کے وزیراعظم کو سزائے موت بھی سنا چکے ہیں اور آئین کا حلف اٹھا کر عہدہ منصفی سنبھالنے والے دستور شکن جرنیلوں کے پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر اپنے دستوری حلف کی پامالی کے مرتکب بھی ہو چکے ہیں۔

مثال کے طور پر صرف دس برس قبل نواز شریف سوئس حکام کو آصف زرداری کی مبینہ کرپشن کے پیسے واپس لینے کے لیے خط نہ لکھنے پر سپریم کورٹ کے راہداریوں میں سیاہ کوٹ پہنے دوڑ رہے تھے، اسی معاملے پر یوسف رضا گیلانی کی حکومت ختم ہوئی۔ مزے کی بات دیکھیے کہ عدالت نے دس منٹ کی سزا سنائی اور ساتھ ہی کہا کہ دس منٹ کی سزا ہی سہی مگر   چوں کہ آپ پر جرم ثابت ہو گیا ہے، اس لیے آپ وزیراعظم کے عہدے اور پارلیمان کی رکنیت کے لیے نااہل ہو گئے ہیں۔ اس وقت ن لیگ کے کیمپ میں شادیانے بج رہے تھے اور مٹھائیاں تقسیم ہو رہی تھیں جب کہ جمہوریت کا کیمپ سوگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔

پھر یہ دائرہ سن 2017 میں دوبارہ گھوم گیا، اس بار عمران خان جرنیلی چابی پر پانامہ پیپر لہراتے ہوئے سیاسی کی منڈی میں اپنا سودا بیچنے پہنچ چکے تھے۔

نواز شریف کو دی جانے والی سزا بالکل عجیب تھی۔ تب ثاقب نثار کی بابا رحمتے کی چابی والی عدالت لگی ہوئی تھی۔ ملک کے منتخب وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرپشن تو کوئی ثابت نہیں ہو سکی اس لیے اس پر مزید تفتیش نیب کرے، مگر اس تفتیش کے دوران نواز شریف کے پاس سے متحدہ عرب امارات کی ریزیڈنسی ملی ہے یعنی اقامہ۔

نواز شریف نے گو کہ اپنے بیٹے کی کمپنی کے بورڈ ممبر کے بہ طور تنخواہ نہیں لی، مگر چوں کہ وہ اس عہدے کی وجہ سے تنخواہ لے سکتے ہیں، اور چوں کہ وہ تنخواہ لے سکتے تھے، اس لیے انہیں اس تنخواہ کی بابت تفصیلات جمع کرانا چاہیے تھیں جو انہوں نے نہیں کروائیں اور چوں کہ انہوں نے نہ لی گئی تنخواہ کی بابت یہ تفصیلات جمع نہیں کروائیں کہ وہ تنخواہ لے سکتے تھے۔ اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے اور چوں کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے اس لیے وہ وزیراعظم کے عہدے پر نہیں رک سکتے، چوں کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے اس لیے وہ پارلیمان کی رکنیت سے بھی فارغ کیے جاتے ہیں اور چوں کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے اس لیے وہ اپنی جماعت کی سربراہی سے بھی نااہل کیے جاتے ہیں۔

اس کے بعد نیب کی عدالتوں میں ویڈیو زدہ ججوں کے ذریعے فیصلوں کی کہانی آپ اور ہم سب جانتے ہی ہیں۔

ہم تب بھی چیختے رہے کہ خدا کے بندوں یہ کام نہ کرو۔ اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے، تو اسے پاکستان کے قانون کے مطابق سزا دو تاہم تاحیات نااہلی یا نااہلی جیسی سزائیں عدالتوں کو نہیں دینا چاہیں۔ کون سا سیاست دان اہل ہے اور کون سا نااہل یہ فیصلہ پاکستانی عوام کو کرنا چاہیے۔

تاہم شور ایسا تھا کہ ہم جیسی آوازیں کسی کو سنائی ہی نہ دیں۔

اور اب ہم پھر اسی دائرے پر کھڑے ہیں۔

اب معاملہ ہے پی ٹی آئی کی ممنوعہ فنڈنگ کا۔ اس قانون کے تحت کسی بھی پاکستانی رہنما اور پاکستانی جماعت کو کسی بھی غیرملکی سے فنڈ وصول کرنے پر پابندی عائد ہے۔

تاہم الیکشن کمیشن کے سنائے گئے فیصلے کے مطابق 13 ایسے کھاتے ملے جن کی بابت عمران خان اور پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں جھوٹ پر مبنی ڈیکلریشنز جمع کرائیں۔

اس حوالے سے ابھی ایک برطانوی اخبار نے بھی ایک تفصیلی مضمون شائع کیا ہے کہ کس طرح دو ہزار دس اور دوہزار بارہ کے درمیان عمران خان کے قریبی دوست عارف نقوی نے شوکت خانم کے لیے ڈونیشنز جمع کیں تاہم انہیں پی ٹی آئی کو منتقل کیا گیا۔

 تاہم یہ بات بھی یاد رکھیے کہ یہ ٹھیک وہ عرصہ ہے جب پاکستان میں اٹھارہویں ترمیم منظور ہونے پر فوجی جرنیل سخت غصے میں تھے کہ ملک میں مارشل لا کے راستے دشوار تر بنا دیے گئے ہیں اور ساتھ ہی یکم اور دو مئی دو ہزار گیارہ کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی وجہ سے فوج تنقید کی زد میں تھی۔ ایسے میں عمران خان  کو تیسری قوت کے بہ طور میدان میں اتارا جا رہا تھا۔

اگر ایسا ہے، تو ظاہر ہے ہر عام شخص یہی کہے گا کہ باقیوں کو بھی مساوی قانونی سختی سے گزارنا چاہیے۔

ملکی قانون کے درست یا غلط ہونے پر رائے اپنی اپنی ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں کئی ایسے قوانین ہیں جن کو میں درست نہیں سمجھتا، لیکن درست نہ سمجھنے کے باوجود آپ وہ قانون توڑتے نہیں ہیں۔ قانون میں سقم ہو تو اسے تبدیل کرنے کا طریقہ بھی قانون ہی کے تحت ہوتا ہے۔ یعنی جہاں قانون بنا ہے، تبدیل بھی وہیں ہو گا۔ پارلیمان قانون بناتی ہے، تبدیلی کا اختیار بھی پارلیمان ہی کو ہے۔

پی ٹی آئی نے اس ممنوعہ فنڈنگ سے تو انکار نہیں کیا ہے، تاہم کہا ہے کہ دوسری جماعتیں بھی ایسی ہی ممنوعہ فنڈنگ میں ملوث ہیں۔

خیر یہاں کچھ سوالات ہیں، جو ہم سب کو اور خصوصاﹰ پی ٹی آئی کے دوستوں کو خود سے کرنا چاہئیے۔

پہلی بات الیکشن کمیشن میں جھوٹی ڈیکلریشن جمع کرانا عمران خان اور پی ٹی آئی کا کیسا عمل تھا۔ اور جو آپ کا اس بابت ری ایکشن ہے، اگر کسی دوسرے سیاسی رہنما پر اسی طرز کا جرم سامنے آتا تو ری ایکشن تب بھی یہی ہوتا؟

پھر سوال یہ ہے کہ اگر یہ جرم ہے، تو کیا عمران خان اور پی ٹی آئی کو اس کی سزا ملنا چاہیے؟

پھر سوال یہ ہ پی ٹی آئی نے اس ممنوعہ فنڈنگ سے تو انکار نہیں کیا ہے، تاہم کہا ہے کہ دوسری جماعتیں بھی ایسی ہی ممنوعہ فنڈنگ میں ملوث ہیں۔

اس ملک کے زیادہ تر مسائل کی وجہ یہ ہے کہ یہاں قانون مساوی انداز سے لاگو نہیں ہوتا بلکہ متوازی انداز سے استعمال کیا جاتا ہے۔

گزشتہ روز خان صاحب کا ایک کلپ نگاہوں سے گزرا جس میں وہ فرما رہے تھے کہ عارف نقوی نے معمولی سی منی لانڈرنگ کی ہے۔

اس وقت ملک کی سیاسی حالت کی وجہ سے جس انداز کا معاشی عدم استحکام ہے، ایسے میں انتہائی ضروری تھا کہ تمام سیاسی قائدین مل بیٹھتے اور ایک تیس چالیس سالہ پالیسی بناتے، جس میں معاشی اصلاحات، جمہوریت اور دستوری بالادستی، پارلیمانی تسلسل، تعلیم، صحت، زراعت اور زمینوں سے جڑی اصلاحات وغیرہ طے کی جاتیں کہ حکومت کسی کی بھی آئے کچھ اہم موضوعات پر پالیسیوں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے۔

تاہم ابھی خان صاحب کا ایک اور کلپ دیکھنے کو ملا جس میں حضرت فرما رہے تھے کہ ٹی ٹی پی سے بات چیت ہو سکتی ہے، علیحدگی پسندوں سے بات چیت ہو سکتی ہے، تاہم کسی سیاسی جماعت سے بات چیت نہیں ہو سکتی۔

ٹی ٹی پی جو پاکستان کے دستور ہی کو نہیں مانتی، ستر ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں بہ شمول فوجیوں کو قتل کر چکی ہے، ملک کے اربوں ڈالر کے نقصان کا باعث بنی ہے اس سے بات چیت ہو سکتی ہے، تاہم سیاسی جماعتیں جن پر عمران خان چور اور ڈاکو کے لیبل لگا رہے ہیں، وہ لیبل جو ابھی تک کسی عدالت سے ثابت بھی نہیں ہوئے، ان کے ساتھ بات چیت نہیں ہو سکتی۔

حالاں کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ سیاست دانوں کا نکتہ نظر یہ ہوتا کہ کسی نے بھی جرم کیا ہو گا تو اسے ہر حال میں انصاف کے کٹہرے میں لا کر ملک کے قانون کے تحت سزا دلوائی جائے گی اور اگر کسی نے جرم نہیں کیا ہے، تو اسے کسی بھی صورت میں سزا ہونے نہیں دی جائے۔ کیوں کہ یہ معاملہ کسی بھی صورت ذاتی دشمنی، ذاتی عناد، ذاتی مفاد یا سیاسی گول کا نہیں بلکہ قانون کی بالادستی کا ہے۔

لیکن ایسی سیاسی بالیدگی ابھی شاید دور دکھائی دیتی ہے۔ حالات اس وقت جہاں ہیں، وہاں میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا کل ہمارے آج سے زیادہ گمبھیر اور مشکل ہونے والا ہے۔

اگر آج سیاست دان مل بیٹھ کو ایک بہتر راستہ اختیار کرتے ہوئے ملک میں سیاسی استحکام پیدا نہیں کرتے، تو نیچرل طریقہ خاصا سفاک ہے اور وہ ہے سکون سے پہلے شدید خانہ جنگی اور تقسیم کا۔

تخریب بھی تعمیر ہی کا ایک روپ ہے۔ ٹوٹ پھوٹ سے بھی تعمیر کی نئی راہیں نکلتیں ہیں، تاہم کاش کہ ہم ٹوٹ پھوٹ اور تخریب کے ذریعے تبدیلی کی بجائے، دوراندیشی اور باہمی اشتراک عمل کے ذریعے کسی راستے پر پہنچ جائیں اور لاکھوں انسانوں کا خون بہنے سے بچ جائے۔

 

 

 

1 COMMENT

Comments are closed.