فطرت۔۔۔

عفاف اظہر

جیسے ایک  انڈے کے اندر چوزہ بنتا ہے۔ ذرا غور کریں تو کس قدر نازک اور حساس ترین زندگی ایک انڈے کے اندر جنم لے رہی ہوتی ہے۔ اس پلتی زندگی کے گرد باریک سی جھلی اور پھر اس جھلی کے اوپر انڈے کا خول۔ بہ ظاہر دیکھیں تو انڈا توڑنا ہمارے لیے ایک معمولی سی بات ہے۔ ایک کم زور سا چھلکا، مگر اگر انڈے کے اندر پلتی اس حساس اور نازک سی جان کی طرح محسوس کریں تو اس کے گرد یہ خول  جسم و جان کی حفاظت کا ایک مضبوط قلعہ ہے، ایک آہنی حصار۔

اور پھر کچھ ہی دیر بعد ایک ایسا وقت بھی آ جاتا ہے۔ جب یہ نازک جسم و جان ایک معصوم سا چوزے میں بدل جاتی ہے۔ ایک انفرادی وجود، جس کے لیے اب اس انڈے کے خول میں گویا اسی حفاظتی قلعہ کے حصار میں مزید رہنا اس کی موت کا سبب بن سکتا ہے۔ وہ پھر اندر ہی اندر سے اپنی پوری طاقت آزماتا ہے، اپنے ہاتھ پاؤں مارتا ہے، انہی جھلیوں سے نکلنے اور حفاظتی خول کو توڑنے کے لیے۔ اپنا وجود پانے کے لیے، دنیا میں آنے کے لیے، سانس لینے کے لیے، زندہ رہنے کے لیے۔

ہو بہ ہو یہی حال ایک انسان کا بھی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ چوزہ جسمانی طور پر انڈے کے اندر سے نکلتا ہے، تو انسان ذہنی طور پر اپنے گرد لپٹی ان ’حفاظتی جھلیوں‘ سے آزاد ہوتا ہے۔ بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کے والدین، گھر، خاندان اور سماج اپنے طور اور اپنی سوچ کے مطابق اس کے ساتھ حفاظتی جھلیاں لپیٹنے اور حفاظتی بند باندھتے چلے جاتے ہیں۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ زندگی کے اس نرم و نازک مراحل میں یہ اس جان کی حفاظت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے، ہاں مگر پھر وہ وقت آنا بھی عین فطری ہے کہ یہی حفاظتی بند توڑنے کی کاوشیں کرنا، جھلیوں سے نکلنا اور  یوں اپنے انفرادی وجود کو پانے کی سعی کرنا۔

ہم سماجی سطح پر انسان کی زندگی کے اس فطری موڑ کو کبھی سمجھ نہیں پائے، تو قبول کیا خاک کریں گے ؟؟ ہمیں لگتا ہے کہ جو روایات و نظریات ہم اپنے بچوں کو وراثت میں دیتے ہیں وہی ان کی زندگی کا کل سرمایہ ہیں۔ جبکہ قطعی طور پر یہ ایک نادرست اور فطرت سے متصٓادم عمل ہے اور ایسا ممکن ہی نہیں ہو سکتا۔ سبھی سماج کے لپیٹے عقائد و روایات کے حفاظتی بند توڑنا، بوسیدہ نظریات کی جھلیوں سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا۔ درحقیقت ہر انسان کا اپنے انفرادی وجود کو پانے کا، کھلی فضا میں سانس لینے کا، زندہ رہنے کا اور خود کو گھٹن آمیز اس ذہنی موت سے بچانے کا واحد اور فطری طریق یہی ہے۔