محمد احسن قریشی

دنیا کے ایک حسین ترین ملک کے بدنصیب ترین شہر کی ٹوٹی ہوئی سڑک پر چلتی ہوئی خستہ حال بس میں دو مسافر بحث کر رہے تھے۔ اس بحث کا آغاز تب ہوا جب ایک مسافر نے دوسرے سے اس کا نام پوچھا۔ جس پر اس نے بتایا کہ اس کا نام شجاع ہے تو دوسرے شخص نے فوراً اس کے نام کو رد کر دیا اور ایک غیر اخلاقی بات کرتے ہوئے بولا کہ نہیں! تمھارا نام شجاع نہیں ہوسکتا  اور  سوال پوچھا کہ کیا تم نے کوئی بہادری کا کام کیا ہے؟ کیا تم نے  جنگل میں جا کر شیر سے مقابلہ کیا تھا؟ اگر تم نے کوئی بہادری کا کام نہیں کیا تو تم شجاع نہیں کہلا سکتے۔ شجاع نے کہا کہ میرا تعلق ایک بہادر گھرانے سے ہیں، جس نے انگریزوں سے مقابلہ کیا تھا۔ دوسرے مسافر نے کہا کہ انگریز سے مقابلہ  تمھارے اجداد نے کیا تھا تم نے نہیں لہذا اپنی شناخت شجاع کے نام سے کروانا چھوڑ دو۔ شجاع نے اس شخص کو سمجھانے کی کوشش کی اور کہا، ”میری شناخت میری مرضی“، میں کس نام سے پکارا جانا چاہتا ہوں یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے اور میرا نام نسبتاً شجاع ہے، سو اس پر آپ کا اعتراض غیر اخلاقی ہے۔  یہ جواب سننے کے بعد بھی وہ اس کی شناخت کو تسلیم کرنے سے انکاری رہا اور تمام سفر بحث کرتا رہا، طنزیہ جملے جڑتا رہا اور نفرت کی آبیاری کرتا رہا۔

وہ حسین ملک پاکستان اور اس کا بدنصیب ترین شہر کراچی ہے۔ جہاں اس  طرح کی بحث اور غیر اخلاقی بات ہم مہاجر اپنے اسکول سے سننا شروع کرتے ہیں اور بڑھاپے تک ہر اس موقع پر سنتے ہیں جب ہم سے ہماری شناخت پوچھی جاتی ہے اور کہا ہے کہ تم مہاجر کیسے ہوئے؟ ہجرت تو تمہارے اجداد نے کی تھی۔ ایسے متعصب لوگ اپنے تعصب کا اظہار  لفظ  ”مہاجر“ کے لغوی معنیٰ میں جا کر  سوال اٹھاتے  اور ہماری شناخت کو مسترد کرتے ہیں۔ مگر کبھی اپنی شناخت کے لفظی معنیٰ میں نہیں جاتے۔ شاید وہ اس کے معنیٰ  جانتے بھی نہیں ہیں۔ اگر جانتے تو مہاجروں سے سوالی نہ ہوتے کیونکہ اگر ہم سب لوگوں کی شناخت کے لغوی معنیٰ میں جائینگے تو مہاجروں کا تو کچھ نہیں جائے گا البتہ ان کی شناخت پر سوالیہ نشان ضرور لگ سکتا ہے۔

خیر! مسئلہ تو یہ ہے کہ میں اپنی شناخت کس نام سے کرواتا ہوں  یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے۔ کسی بھی دوسرے شخص کا اعتراض  غیر اخلاقی ہے۔ البتہ اس معاشرے میں جہاں کوٹہ سسٹم جیسا کالا قانون نافذ ہو، ہماری مردم شماری تک میں جعل سازی کی جاتی ہو، اس پر ہمارے دوسرے پاکستانی بھائی احتجاج تک نہ کرتے ہوں، اس ظلم پر اپنے قلم کو حرکت اور ہونٹوں کو جنبش تک نہ دیتے ہوں۔ ایسے معاشرے میں اخلاقیات کا کتنا پاس رکھا جاتا ہوگا اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں۔ جب بانیان پاکستان اس خطے میں ہند کو تقسیم اور پاکستان کو تخلیق کر کے یہاں  اسلام کی خاطر  اور مسلمان شناخت  لے کر پہنچے تب  یہاں کئی کم ظرف لوگوں نے  انھیں خوش آمدید کہنے کے بجائے مکڑ، تلیر  ، پناہ گزین اور نہ جانے کن کن تذلیل  آمیز القاب سے پکارنا شروع کردیا۔ ان طنزیہ پکارے جانے والے کئی القاب میں سے ایک لقب  ”مہاجر“  جس کی نسبت رسولؐ،  آل رسولؐ اور اصحاب  رسولؐ سے ہے، تو ہم نے اس لقب کو اپنے لیئے باعث اعزاز جانا اور اس نام کو اپنی شناخت بنایا کیونکہ ہجرت رسولؐ کی سنت تھی اور ہماری ہجرت سمیت ہر قربانی بھی اسلام کےلیے تھی۔ جو لوگ ہندوستان تقسیم کر کے یہاں آئے ان میں سے اکثر لوگ سید، قریشی، صدیقی، فاروقی، عثمانی، حیدری جیسے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی اسلام کے فروغ کی خاطر انھوں نے ہمیشہ قربانی دی اور ہجرت کی۔ سو ہم تو تاریخی طور پر بھی مہاجر ہیں۔ لہذا ہم مہاجر اپنی شناخت سے نہ صرف نظریاتی  بلکہ جذباتی طور بھی منسلک ہیں۔ اس کا ثبوت  ”مہاجر“ نام پر بنائی جانے والی سیاسی جماعتیں  اور دی جانے والی قربانیاں ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہماری شناخت کو اس طرح تسلیم کیا جائے جیسے ہم بغیر کسی سوال و منطق لگائے دیگر قوموں کی شناخت و وجود کو تسلیم کرتے اور ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔ جب تک ہم پاکستانی  ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے سب کے جذبات کا خیال نہیں رکھیں گے تب تک ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھ کر ایک دوسرے کے مددگار اور معاون  نہیں بن پائیں گے۔ بس ان مسافروں کی طرح نفرتیں بانٹتے بانٹتے اپنا سفر جاری رکھیں گے۔ اس نفرت کے دائرے کا سفر جس کی کوئی منزل نہیں۔