مہناز اختر

جب سے بیاہ کر لاہور آئی ہوں گھر کے ساتھ ساتھ پورا کراچی میکہ ہوگیا ہے۔ دور پردیس بیاہ کر جانے والیوں کے دل میں ماں اور میکے کی کیسی ہوک اٹھتی ہے وہ تو بس دور بیاہنے والیاں ہی سمجھ سکتی ہیں یا پھر پردیسی۔ میکے جانے کے لیئے سورج کا ایک چکر ہی بہت ہے، بارہ مہینے سے زیادہ کا انتظار مجھے اندر سے دیمک کی طرح چاٹنے لگتا ہے، گویا میں اپنی ماں سے نہیں اولاد سے دور ہوگئی ہوں، اس بار حالات واقعات ایسے ہوتے گئے کہ کراچی کا سالانہ چکر نہ لگ سکا اور دسمبر کے بجائے مئی کے مہینے میں امی کے گلے لگ پائی۔ شیریں کی پیدائش کے بعد پہلی بار، تب جب شیریں دسواں ماہ ہنستے کھیلتے پار کرچکی تھی۔  

کہتے ہیں سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سفر آپ کے شعور کی پرتیں کھول دیتا ہے۔ تو میں بھی شعور کے  بہت سے رازواسرار دل میں دبائے اس انتظار میں بیٹھی تھی کہ ذرا سنبھل جاؤں تو اپنی انگلیوں کو جنبش دوں اور اپنے خیالات اپنے پڑھنے والوں سے بانٹوں،

لیکن کل صبح ہی صبح ایک خبر نے جھنجھوڑ دیا۔ یوں لگا کہ کراچی تا لاہور سفر میں میرے خوف اور اندیشوں نے کہیں دور زکریا ایکسپریس پر حقیقت کا روپ دھار لیا ہو۔

میں 7 مئی، بذریعہ ڈائیوو ایکسپریس (بس) لاہور سے  کراچی روانہ ہوئی۔ زندگی میں پہلی بار تنہا سفر کررہی تھی اور ساتھ میں شیریں، تھوڑی نروس تھی لیکن چوہدری صاحب نے ہمت بندھائی۔ شام چھ بجے بس روانہ ہوئی بس میں خواتین کی تعداد مناسب تھی اور دل میں کراچی جانے کی ایسی امنگ تھی کہ کچھ الٹا سیدھا خیال ہی نہیں آیا، بلکہ میں تو خود کو اچھا خاصا پراعتماد محسوس کرنے لگی کہ بھئی اب زمانہ بدل گیا اور خواتین کے لیئے سفر محفوظ ہے تو اب تو مجھے بھی تنہا سفر کرنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ جن لوگوں نے ڈائیوو کا سفر کیا ہے انہیں معلوم ہوگا کہ ڈائیوو بس اپنے مخصوص ٹرمینلز پر ہر دو ڈھائی گھنٹے بعد رکتی میں۔ دوسرے مسافروں کی طرح میں بھی ہر ٹرمینل پر اترتی، شیریں کے ساتھ تھوڑی چہل قدمی کرتی، یوں سفر اچھا کٹ گیا۔

27 مئی، رات 8 بجے کی میری واپسی کی بکنگ تھی لیکن ڈائیوو ایکسپریس نے میری 8 بجے کی بکنگ کینسل کرکے 10 بجے کردی، اور اس کا پیغام مجھے 7 بجے فون پر ملا، میں نے پیغام دینے والے ڈائیوو نمائندے کو اچھی خاصی باتیں سنائیں۔ رات دس بجے کی بس پر مسافر اکثر کم ہوتے ہیں، اس وجہ سے اکثر لوگ اس وقت کی بکنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔ 

خیر میں شیریں کے ساتھ اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی، معلوم ہوا کہ میری والدہ جیسی خاتون میرے ساتھ والی سیٹ پر موجود ہیں، دل کو تسلی سی ہوئی کیونکہ ہمارے علاؤہ وہاں باقی سارے مرد مسافر تھے، لیکن یہ جان کر بے چینی سی محسوس ہونے لگی کہ خاتون نے تو حیدرآباد اتر جانا ہے، پھر اتنا طویل سفر وہ بھی تنہا۔۔۔۔۔

مبشر علی زیدی نے حال ہی میں ایک فیس بک گروپ بنایا ہے جہاں وہ دوستوں کے ساتھ پی ڈی ایف کتابیں شیئر کرتے ہیں۔ اب چونکہ لاہور تا کراچی سفر کافی خوشگوار تھا اور شیریں نے زیادہ تنگ بھی نہیں کیا تھا تو میں نے وہاں سے جارج اورویل کی ‘اینیمل فارم’ کا اردو ترجمہ ‘چوپایوں کی حکومت’ از پروفیسر جمیل اختر ڈائونلوڈ کرلیا تاکہ راستے میں پڑھ سکوں۔ 

خیر حیدرآباد پہنچتے ہی وہ مہربان اور خوش اخلاق خاتون بس سے اتر گئی اور ساتھ ہی تین نوجوانوں کا چھوٹا سا گروپ اور پچھلی نشست پر بیٹھے دو بزرگ بھی اتر گئے۔ میں شیریں کو لے کر ٹرمینل پر اتر کر چہل قدمی کرنے کی ہمت نہیں کرپائی، حالانکہ بس کے سارے مسافر اتر چکے تھے۔ دس منٹ کے وقفے کے بعد سارے مسافر دوبارہ سے بس پر آ بیٹھے اور بس پھر سے منزل کی طرف چل پڑی۔ بس کی روشن لائٹیں بند کردی گئیں اور سرخ، خوابناک لائٹیں جلا دی گئیں تاکہ مسافر آرام کرسکیں۔ شاید چوہدری صاحب ساتھ ہوتے تو میرے لیئے بھی لگژری بس کا یہ ماحول خوابناک اور آرام دہ ہوتا لیکن اس لمحے ایک خیال نے میرے رونگٹے کھڑے کردئیے کہ میں اور شیریں بس پر اتنے مردوں کے درمیان بالکل تنہا رہ گئے ہیں، ذہن میں عجیب عجیب سے خیالات اور خبریں گردش کرنے لگیں، سرفہرست بھارتی دارالحکومت دہلی میں رونما ہونے والا ‘نیربھیہ واقعہ’، میں نے جھرجھری سی لی اور چوہدری صاحب کو ویڈیو کال کردی، چوہدری صاحب کے ساتھ بات چیت میں جان بوجھ کر اس بات کا احساس باقی مسافروں کو دلاتی رہی کہ میں چوہدری صاحب کے ساتھ پورے سفر میں رابطے میں رہونگی۔

میرے دائیں جانب والی  قطار کی دو سیٹوں پر سفید رنگ کی شلوار قمیض پہنے ایک پینتیس چالیس کی عمر کا ایک سادہ، دیہاتی سا جوان شخص براجمان تھا، اس کی اگلی سیٹوں پر رنگین پرنٹ کی شرٹ میں ملبوس بیس پچیس کا ایک داڑھی والا نوجوان، اور ان کی پچھلی قطار میں ایک بیس اکیس سال کا، دبلا پتلا، گہرے رنگ کا لاابالی سا نوجوان، جس نے سیاہ اور زرد چوڑی افقی لائنوں والی، پورے بازؤں کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی اور کانوں میں ائیر پیڈ ٹھونس رکھا تھا، اور قطار میں سب سے آگے ادھیڑ عمر کا، خوش اخلاق ڈرائیور تھا، جو ہر تھوڑی دیر بعد کسی نہ کسی رشتہ دار یا جاننے والے سے کال پر بات کرتا اور اپنا حال چال یوں بتاتا کہ مسافروں کو بھی اس کا شجرہ معلوم ہوگیا۔ 

میری قطار میں، میری اگلی نشستوں پر دو بھاری بھرکم، تروتازہ سے، سرمئی اور سفید رنگ کی لٹھے کی شلوار قمیض میں ملبوس دو کاروباری اشخاص تھے، دونوں کی داڑھی تھی، ان کی بات چیت سے ایسا محسوس ہوا کہ دونوں رشتے دار ہیں اور گوادر میں مشینری سپلائی کرنے کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان سے آگے خیر پور سے تعلق رکھنے والا(یہ بات ڈرائیور کی گفتگو سے معلوم ہوئی، اسنے دوران گفتگو بتایا کہ میرے ساتھ خیرپور کا لڑکا ہے)، یونیفارم میں ملبوس دبلا پتلا، گورا چٹا، دھیمے مزاج کا ہوسٹ بیٹھا تھا۔ 

یعنی پچاس سیٹوں والی بس پر سات مردوں کے درمیان، میں اور شیریں تنہا تھے۔ بس پر اے سی  کی ٹھنڈک کے باوجود میرے چہرے پر پسینہ آگیا اور میں نے سوتی ہوئی شیریں کو اپنے بازوؤں میں مزید کس لیا۔ بس کی خوابناک سی سرخ روشنی اس لمحے مجھے کسی ہارر فلم جیسی محسوس ہوئی اور یوں محسوس ہوا کہ بس کے تمام مرد مسافر بس اگلے ہی لمحے انسانی چولا اتار کر ڈریکولا بن جائیں گے اور مجھ پر اور شیریں پر ٹوٹ پڑیں گے۔ میں دل ہی دل میں خود کو کوستی رہی کہ دوپہر والی بس کیوں نہیں کروائی، کہ رات تک پنجاب پہنچ جاتی اور رحیم یار خان سے مسافروں کا آنا جانا لگا رہتا۔ میں نے کسی ٹرمینل پر اترنے کی ہمت نہیں کی۔ حتی کہ صبح چھ ساڑھے چھ کے درمیان بس رحیم یار خان پہنچی۔ بیٹھے بیٹھے میری ٹانگیں سن ہوچکی تھیں، رحیم یار خان ٹرمینل پر صبح کی روشنی تسلی دیتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ میں شیریں کو لے کر بس سے اتری اور ایک گہری سانس لی۔

دس منٹ بعد بس منزل پر دوبارہ رواں دواں تھی۔ میں دل ہی دل میں تمام ساتھی مرد مسافروں کی شکر گزار تھی کہ انہوں نے دوران سفر ایک خاتون مسافر کے ساتھ شرافت پر مبنی لاتعلقی کا اظہار کیا، جی لاتعلقی! جیسے کہ میں ان کے لیئے صرف اور صرف ایک مسافر تھی کوئی عورت، کوئی گوشت کا ٹکڑا نہیں۔ میرا ان مرد مسافروں کو شکریہ کہنا بنتا ہے کیونکہ ایسا معاشرہ جہاں عورت کی بو سونگھتے خون آشام انسانی کھال میں پھرتے ہوں، جہاں آئے روز خواتین اور چند ماہ کی بچیوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوتے ہوں وہاں اگر  مرد اپنی مردانگی کے بجائے شرافت اور انسانیت کا مظاہرہ کریں تو بحیثیت خاتون ان کا شکر ادا کریں کیونکہ ان کی شرافت رضاکارانہ ہوتی ہے، مستحب اعمال یا نفل عبادت جیسی کیونکہ معاشرہ ان پر شرافت واجب نہیں کرتا۔

اس بس پر بیٹھے مردوں کے ذہنوں میں شاید غم حیات اور غم روزگار گردش کررہے ہوں گے لیکن وہ نہیں جانتے کہ ان کے ساتھ موجود خاتون مسافر کے دل و دماغ میں  حیات اور غم روزگار کے علاؤہ بھی کئی طرح کے خوف موجود تھے۔

 میں ان سب سے خوف زدہ تھی!

کیوں؟

کیونکہ ہمارے یہاں مرد، مرد کو کچھ ایسا ہی پیش کرتے ہیں کہ خواتین ان سے ڈریں۔ کل جب زکریا ایکسپریس (ٹرین) پر خاتون کے ساتھ زیادتی کی خبر پڑھی تو ایک لمحے کو خوف پورے وجود میں کرنٹ کی طرح دوڑنے لگا کہ یہ بھیانک حادثہ میرے ساتھ بھی ہوسکتا تھا۔ میں اس بس پر ‘اینیمل فارم’ پڑھنے والی کوئی دانشور نہیں بلکہ صرف اور صرف گوشت پوست کی ایک ‘عورت’ تھی۔

پاکستان میں خواتین غیر محفوظ ہیں، ہم مردوں کے رحم و کرم پر ہیں، ہمارا احترام واجب نہیں بلکہ نفل نماز جیسا ہے، جس نے ادا کی وہ ثواب کا مستحق اور نہ کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں۔ 

آخر میں ستائیس سے اٹھائیس مئی کی درمیانی شب، رات دس بجے کی بس پر، کراچی تا لاہور سفر کرنے والے، ڈائیوو ایکسپریس کے ان سات مرد مسافروں کا شکریہ!

1 COMMENT

Comments are closed.